حدیث نمبر: 12500
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12501
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت ان کی مبارک ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12326
حدیث نمبر: 12502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسودُ بن عامر ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الصَّيْقَلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا نَصْرُخُ بِالْحَجِّ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ ، أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً ، وقَالَ : " لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ ، لَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً ، وَلَكِنْ سُقْتُ الْهَدْيَ ، وَقَرَنْتُ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے، مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیں اور فرمایا اگر وہ بات جو بعد میں میرے سامنے آئی پہلے آجاتی تو میں بھی اسے عمرہ بنا لیتا لیکن میں ہدی کا جانور اپنے ساتھ لایا ہوں اور حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى أسماء الصيقل، وانظر: 12447
حدیث نمبر: 12503
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو رَبِيعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ابْتَلَى اللَّهُ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ ، قَالَ اللَّهُ : اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ ، فَإِنْ شَفَاهُ ، غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ ، وَإِنْ قَبَضَهُ ، غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ مسلم کو جسمانی طور پر کسی بیماری میں مبتلاء کرتا ہے تو فرشتوں سے کہہ دیتا ہے کہ یہ جتنے نیک کام کرتا ہے ان کا ثواب برابر لکھتے رہو، پھر اگر اسے شفاء مل جائے تو اللہ اسے دھو کر پاک صاف کرچکا ہوتا ہے اور اگر اسے اپنے پاس واپس بلا لے تو اس کی مغفرت کردیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12504
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، وَثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے سرخ ٹیلے کے قریب گذرا تو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2375
حدیث نمبر: 12505
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ ، وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ ، يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ ، فَرَكِبْتُهُ فَسَارَ بِي حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَرَبَطْتُ الدَّابَّةَ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ فِيهَا الْأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ دَخَلْتُ ، فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجْتُ ، فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ ، وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ ، فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ ، قَالَ جِبْرِيلُ : أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ ، قَالَ : ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ ، قَالَ : مُحَمَّدٌ ، فَقِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ ، قَالَ : قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ ، قَالَ : مُحَمَّدٌ ، فَقِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ ، قَالَ : قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِابْنَيْ الْخَالَةِ يَحْيَى ، وَعِيسَى ، فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ ، قَالَ : مُحَمَّدٌ ، فَقِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ ، قَالَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ ، فَرَحَّبَ ، وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ ، قَالَ : مُحَمَّدٌ ، فَقِيلَ : قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ ، قَالَ : قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، فَفُتِحَ الْبَابُ ، فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ ، فَرَحَّبَ بِي ، وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا سورة مريم آية 57 ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ ، قَالَ : مُحَمَّدٌ ، فَقِيلَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ ، قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ ، فَرَحَّبَ ، وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ ، قَالَ : مُحَمَّدٌ ، فَقِيلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ ، قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى ، فَرَحَّبَ ، وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ ، قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قِيلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ ، قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ ، وَإِذَا هُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ ، وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ ، وَإِذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلَالِ ، فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَهَا ، تَغَيَّرَتْ ، فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصِفَهَا مِنْ حُسْنِهَا ، قَالَ : فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ مَا أَوْحَى ، وَفَرَضَ عَلَيَّ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسِينَ صَلَاةً ، فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، قَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ، وَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، فَقُلْتُ : أَيْ رَبِّ ، خَفِّفْ عَنْ أُمَّتِي ، فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : مَا فَعَلْتَ ؟ ، قُلْتُ : حَطَّ عَنِّي خَمْسًا ، قَالَ : إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَاكَ ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ ، فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ ، قَالَ : فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي وَبَيْنَ مُوسَى ، وَيَحُطُّ عَنِّي خَمْسًا خَمْسًا ، حَتَّى قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، هِيَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، بِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ ، فَتِلْكَ خَمْسُونَ صَلَاةً ، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَشْرًا ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً ، فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَاكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى لَقَدْ اسْتَحْيَيْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج میرے پاس براق لایا گیا جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا جانور تھا، وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ پڑتی تھی، میں اس پر سوار ہوا، پھر روانہ ہو کر بیت المقدس پہنچا اور اس حلقے سے اپنی سواری باندھی جس سے دیگر انبیاء (علیہم السلام) باندھتے چلے آئے تھے، پھر وہاں داخل ہو کردو رکعتیں پڑھیں، پھر وہاں سے نکلا تو جبرائیل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک دودھ کا برتن لائے، میں نے دودھ والا برتن منتخب کرلیا، حضرت جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ نے فطرت کو پالیا۔ پھر آسمان دنیا کی طرف لے کر چلے اور اس کے دروازہ کو کھٹکھٹایا، اہل آسمان نے کہا کہ کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا جبریل، انہوں نے کہا کہ تمہارے ہمراہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، انہوں نے کہا کیا وہ بلائے گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں، انہوں نے دروازہ کھول دیا اور پہلے ہی آسمان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات کی، انہوں نے خوش آمدید کہا اور دعا دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرائیل علیہ السلام لے کر دوسرے آسمان پر چڑھے اس کے دروازے پر بھی فرشتوں نے پہلے آسمان کی طرح سوال کیا کہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا جبریل، انہوں نے کہا کہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے کہا وہ بلائے گئے ہیں ؟ انہوں نے دروازہ کھول دیا، وہاں حضرت یحیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی۔ پھر تیسرے آسمان پر تشریف لے گئے اور وہاں بھی یہی گفتگو ہوئی جو دوسرے میں ہوئی تھی، پھر چوتھے پر چڑھے اور وہاں بھی یہی گفتگو ہوئی، پھر پانچویں آسمان پر پہنچے وہاں بھی یہی گفتگو ہوئی، پھر چھٹے آسمان پر چڑھے وہاں کے فرشتوں نے بھی یہی گفتگو کی، پھر ساتویں آسمان پر پہنچے وہاں کے فرشتوں نے بھی یہی کیا۔ تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی جنہیں اللہ نے بلند جگہ اٹھالیا تھا، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، وہ بیت المعمور سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے جہاں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور دوبارہ ان کی باری نہیں آتی۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ لے جایا گیا جس کے پتے ہاتھی کے کان کے برابر اور پھل ہجر کے مٹکے برابر تھے، جب اللہ کے حکم سے اس چیز نے اسے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپا تو وہ بدل گیا اور اب کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ اس کا حسن بیان کرسکے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی کرنا تھی وہ وحی کی، منجملہ اس کے یہ بھی وحی کی کہ تمہاری امت پر پچاس نمازیں روزوشب میں فرض ہیں۔ پھر رسول انور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نیچے تشریف لائے یہاں تک کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا اور کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تمہارے پروردگار نے تم سے کیا عہد لیا ہے ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر روز و شب میں پچاس نمازیں فرض کی ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تمہاری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی اپنے رب کے پاس واپس جا کر اس سے تخفیف کی درخواست کیجئے، کیونکہ میں بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جناب باری میں گئے اور اسی اپنی جگہ میں پہنچ کر عرض کیا کہ اے پروردگار ! ہم پر تخفیف فرما، اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں معاف فرما دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے، انہوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پروردگار کے حضور بھیجا۔ غرض کہ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام رسول انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! روزانہ دن رات میں پانچ نمازیں ہیں اور ہر نماز پر دس کا ثواب ہے لہٰذا یہ پچاس نمازیں ہوگئیں، جو شخص نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرسکے اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی او ببب
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 349، م: 162
حدیث نمبر: 12506
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَأَخَذَهُ ، فَصَرَعَهُ ، وَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ ، فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ ، ثُمَّ شَقَّ الْقَلْبَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً ، فَقَالَ : " هَذِهِ حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ " ، قَالَ : فَغَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ لَأَمَهُ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ ، قَالَ : وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرَهُ ، فَقَالُوا : إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، قَالَ : فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ ، قَالَ أَنَسٌ وَقد كُنْتُ أَرَى أَثَرَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بچپن میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اچانک ایک شخص آیا اور اس نے مجھے پکڑ کر میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے خون کا جما ہوا ایک ٹکڑا نکالا اور اسے پھینک کر کہنے لگا کہ یہ آپ کے جسم میں شیطان کا حصہ تھا، پھر اس نے سونے کی طشتری میں رکھے ہوئے آب زم زم سے پیٹ کو دھویا اور پھر اسے سی کر ٹانکے لگا دیئے، یہ دیکھ کر سب بچے دوڑتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل ہوگئے، والدہ دوڑتی ہوئی آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو رہا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر سلائی کے نشان دیکھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 162
حدیث نمبر: 12507
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي الطَّبَّاعَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " قُومُوا ، فَأُصَلِّيَ لَكُمْ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لَبِثَ ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ ، فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقُمْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ ، وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی دادی حضرت ملیکہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے پر دعوت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمانے کے بعد فرمایا اٹھو، میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اٹھ کر ایک چٹائی لے آیا جو طویل عرصہ تک استعمال ہونے کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑک دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوگئے، میں اور ایک یتیم بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور بڑی بی ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور واپس تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12081
حدیث نمبر: 12508
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ ، جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نیک مسلمان کا اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6983، م: 2264
حدیث نمبر: 12509
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ تَذَاكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ ، وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا ، لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
علاء ابن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم ظہر کی نماز پڑھ رہے کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، کچھ ہی دیر بعد وہ عصر کی نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان سے کہا کہ عصر کی نماز اتنی جلدی ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مار کر اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 622
حدیث نمبر: 12510
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ ، فَقَالَ : " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا تو فرمایا کہ اس پہاڑ سے ہم محبت کرتے ہیں اور یہ ہم سے محبت کرتا ہے، اے اللہ ! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 3367، م: 1365
حدیث نمبر: 12511
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ ، فَكَأَنَّهُ دَخَلَهُ لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ حَمَّادٍ ، أَوْ فِي الْحَدِيثِ ، فَجَاءَ زَيْدٌ يَشْكُوهَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ ، وَاتَّقِ اللَّهَ " ، قَالَ : فَنَزَلَتْ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ إِلَى قَوْلِهِ زَوَّجْنَاكَهَا سورة الأحزاب آية 37 ، يَعْنِي زَيْنَبَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے، وہاں صرف ان کی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ نظر آئیں، تھوڑی دیر بعد حضرت زید رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کی شکایت لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو، اس پر یہ آیت نازل ہوئی " واتق اللہ وتخفی فی نفسک ''
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وفي متنه غرابة، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، وانظر: 13025 ففيه أن الذى أتى المنزل هو زيد بن حارثة ، وأن الذى دخله - أى وجد فى نفسه شيئا- هو زيد، وهذا هو الصواب، والله تعالى أعلم
حدیث نمبر: 12512
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں سورت اخلاص سے محبت رکھتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اس سورت سے محبت کرنا تمہیں جنت میں داخل کروا دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 774 معلقا
حدیث نمبر: 12513
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَّبَّعُهُ مِنَ الصَّحْفَةِ ، فَلَا أَزَالُ أُحِبُّهُ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برتن میں کدو کے ٹکڑے تلاش کرتے ہوئے دیکھا تو میں اس وقت سے اسے پسند کرنے لگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2092، م: 2041
حدیث نمبر: 12514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَخْبَرْتَهُ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَأَخْبِرْهُ " ، قَالَ : فَلَقِيَهُ بَعْدُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ : أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جا کر اسے بتادو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی ! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12515
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أبو داود ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ مِنْ قُرَيْشٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي بِنَا الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جمعہ کی نماز زوال کے وقت ہی پڑھا دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وانظر: 12299
حدیث نمبر: 12516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَطِيَّةَ يَعْنِي الْحَكَمَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْرُجُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فِيهِ الْمُهَاجِرُونَ ، وَالْأَنْصَارُ ، وَمَا مِنْهُمْ أَحَدٌ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ حُبْوَتِهِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، فَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا ، وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے تو وہاں انصار و مہاجرین سب ہی موجود ہوتے، لیکن سوائے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ کے کوئی اپنا سر نہ اٹھاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکراتے اور وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر مسکراتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحكم بن عطية ضعيف يعتبر به
حدیث نمبر: 12517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْخَزَّازَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَسْوَدَ كَانَ يُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ ، فَدُفِنَ لَيْلًا ، وَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُخْبِرَ ، فَقَالَ : " انْطَلِقُوا إِلَى قَبْرِهِ " ، فَانْطَلَقُوا إِلَى قَبْرِهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مُمْتَلِئَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا " ، فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَخِي مَاتَ ، وَلَمْ تُصَلِّ عَلَيْهِ ، قَالَ : " فَأَيْنَ قَبْرُهُ " ، فَأَخْبَرَهُ ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْأَنْصَارِيِّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک حبشی مسجد کی صفائی کرتا تھا، ایک دن وہ فوت ہوگیا اور لوگوں نے راتوں رات اس کو دفن کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کی قبر پر چلو، چنانچہ وہ اس کے قبر پر گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان قبروں میں رہنے والوں پر ظلمت چھائی ہوئی ہے، میری نماز کی برکت سے اللہ انہیں منور کر دے گا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر جا کر نماز جنازہ پڑھی، اس پر ایک انصاری کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا بھائی فوت ہوا تھا لیکن آپ نے اس کی قبر پر نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قبر کہاں ہے ؟ انصاری نے اس کی نشاندہی کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ بھی چلے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قصة الأنصاري فى بيته، وهذا إسناد حسن، وانظر: 12318
حدیث نمبر: 12518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ أَبِي : وَأَمْلَاهُ عَلَيْنَا يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ ، مَعَ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ ، فَقَالَ شُعْبَةُ : أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ " أَحْسَبُهُ قَالَ : " يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3187
حدیث نمبر: 12519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، سَأَل أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِمَا مَاتَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ ؟ ، فَقَالُوا : بِالطَّاعُونِ ، فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ابن ابی عمرہ کیسے فوت ہوئے ؟ انہوں نے بتایا کہ طاعون کی بیماری سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2830، م: 1916
حدیث نمبر: 12520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَلْيَنْصَرِفْ ، فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہئے کہ واپس جا کر سو جائے یہاں تک کہ اسے پتہ چلنے لگے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 213
حدیث نمبر: 12521
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ : " أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ ، فَإِنَّهُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنی قوم کو میرا سلام کہنا، کیونکہ میں ایسے عفیف اور صابر لوگ نہیں جانتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محمد بن ثابت ابن أسلم البناني
حدیث نمبر: 12522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَهُ نِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ وَخَدَمٌ ، جَائِينَ مِنْ عُرْسٍ ، مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، وَقَالَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انصار کی کچھ عورتیں، بچے اور خادم ایک شادی سے آتے ہوئے گذرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور فرمایا اللہ کی قسم ! میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح،، خ: 3785، م: 2508، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن ثابت، لكنه قد توبع، تابعه حماد بن سلمة فيما سيأتي برقم: 14043
حدیث نمبر: 12523
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ ، فَارْتَعُوا " ، قَالُوا : وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ ؟ ، قَالَ : " حِلَقُ الذِّكْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم جنت کے باغات سے گذرو تو اس کا پھل کھایا کرو، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا جنت کے باغات سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذکر کے حلقے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محمد بن ثابت البناني
حدیث نمبر: 12524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، َأخبَرَنَا عَمَّارٌ يَعْنِي أَبَا هَاشِمٍ صَاحِبَ الزَّعْفَرانيّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ بِلَالًا بَطَّأَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا حَبَسَكَ ؟ " ، فَقَالَ : مَرَرْتُ بِفَاطِمَةَ وَهِيَ تَطْحَنُ ، وَالصَّبِيُّ يَبْكِي ، فَقُلْتُ لَهَا : إِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الرَّحَا ، وَكَفَيْتِنِي الصَّبِيَّ ، وَإِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الصَّبِيَّ وَكَفَيْتِنِي الرَّحَا ، فَقَالَتْ : أَنَا أَرْفَقُ بِابْنِي مِنْكَ ، فَذَاكَ حَبَسَنِي ، قَالَ : " فَرَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نماز فجر میں کچھ تاخیر کردی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے روکے رکھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرا، وہ آٹا پیس رہی تھیں اور بچہ رو رہا تھا، میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آٹا پیس دیتا ہوں اور آپ بچے کو سنبھال لیں اور اگر آپ چاہیں تو میں بچے کو سنبھال لیتا ہوں اور آپ آٹا پیس لیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے بچے پر میں زیادہ نرمی کرسکتی ہوں، اس وجہ سے مجھے دیر ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس پر رحم کھایا، اللہ تم پر رحم فرمائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، عمار- وهو ابن عمارة - لم يدرك أنسا، وهذا الحديث مما تفرد به الإمام أحمد
حدیث نمبر: 12525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ ، يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز مغرب و عشاء اکٹھی پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1110
حدیث نمبر: 12526
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقْبِلُ وَمَا عَلَى الْأَرْضِ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْهُ ، فَمَا نَقُومُ لَهُ ، لِمَا نَعْلَمُ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہماری نگاہوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ تھا، لیکن ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھا نہیں سمجھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12527
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ : أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ ، وَتُشْرَبَ الْخُمُورُ ، وَيَظْهَرَ الزِّنا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا علاماتِ قیامت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ علم اٹھالیا جائے گا، جہالت چھا جائے گی، شرابیں پی جائیں گی اور بدکاری کا دور دورہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 80، م: 2671
حدیث نمبر: 12528
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُخَيْسِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ فُلَانٌ ؟ قَالَ : " كَلَّا ، إِنِّي رَأَيْتُ عَلَيْهِ عَبَاءَةً ، غَلَّهَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا فلاں غلام شہید ہوگیا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں، میں نے تو اس پر ایک عباء دیکھی تھی جو اس نے فلاں دن مال غنیمت میں سے خیانت کر کے حاصل کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى المخيس اليشكري، والحكم بن عطية ضعيف يعبتر به
حدیث نمبر: 12529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَبُو غَالِبٍ الْبَاهِلِيُّ ، شَهِدَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ يَا أَبَا حَمْزَةَ سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بُعِثَ ؟ قَالَ : ابْنَ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، قَالَ : ثُمَّ كَانَ مَاذَا ؟ قَالَ : كَانَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ ، فَتَمَّتْ لَهُ سِتُّونَ سَنَةً ، ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ ، قَالَ : سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ هُوَ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : كَأَشَبِّ الرِّجَالِ ، وَأَحْسَنِهِ ، وَأَجْمَلِهِ ، وَأَلْحَمِهِ ، قَالَ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، هَلْ غَزَوْتَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، غَزَوْتُ مَعَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَخَرَجَ الْمُشْرِكُونَ بِكَثْرَةٍ ، فَحَمَلُوا عَلَيْنَا ، حَتَّى رَأَيْنَا خَيْلَنَا وَرَاءَ ظُهُورِنَا ، وَفِي الْمُشْرِكِينَ رَجُلٌ يَحْمِلُ عَلَيْنَا فَيَدُقُّنَا وَيُحَطِّمُنَا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَزَلَ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَوَلَّوْا ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى الْفَتْحَ ، فَجَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاءُ بِهِمْ أُسَارَى رَجُلًا رَجُلًا ، فَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَلَيَّ نَذْرًا لَئِنْ جِيءَ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمِ يُحَطِّمُنَا لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ ، قَالَ : فَسَكَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجِيءَ بِالرَّجُلِ ، فَلَمَّا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، تُبْتُ إِلَى اللَّهِ ، يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، تُبْتُ إِلَى اللَّهِ ، قال : فَأَمْسَكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يُبَايِعْهُ لِيُوفِيَ الْآخَرُ نَذْرَهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَنْظُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْمُرَهُ بِقَتْلِهِ ، وَجَعَلَ يَهَابُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتُلَهُ ، فَلَمَّا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنه لَا يَصْنَعُ شَيْئًا يَأْتِيهِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَذْرِي ! قَالَ : " لَمْ أُمْسِكْ عَنْهُ مُنْذُ الْيَوْمِ إِلَّا لِتُوفِيَ نَذْرَكَ " فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَلَا أَوْمَضْتَ إِلَيَّ ؟ فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ علاء بن زیاد رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوحمزہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کتنے سال کے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ؟ انہوں نے فرمایا چالیس سال کے، علاء نے پوچھا اس کے بعد کیا ہوا ؟ انہوں نے فرمایا کہ دس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں رہے، اس طرح ساٹھ سال پورے ہوگئے، اس کے بعد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلالیا، علاء نے پوچھا کہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس عمر کے آدمی محسوس ہوتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جیسے ایک حسین و جمیل اور بھرے جسم والا نوجوان ہوتا ہے، علاء بن زیاد رحمہ اللہ نے پھر پوچھا ابوحمزہ ! کیا آپ نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حنین میں موجود تھا، مشرکین کثرت سے باہر نکلے اور ہم پر حملہ کردیا، یہاں تک کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کی پشت کے پیچھے دیکھا اور کفار میں ایک شخص تھا جو کہ ہم لوگوں پر حملہ کرتا تھا اور تلوار سے زخمی کردیتا تھا اور مارتا تھا یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر پڑے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دے دی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے، فتح حاصل ہوتے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور ایک ایک کر کے اسیران جنگ لائے جانے لگے اور وہ آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کرنے لگے۔ ایک شخص نے جو کہ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے تھا اس بات کی نذر مانی کہ اگر اس شخص کو قیدی بنا کر لایا گیا جس نے اس دن ہم لوگوں کو زخمی کردیا تھا تو اس کو قتل کردوں گا۔ یہ بات سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے اور وہ شخص لایا گیا، جب اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اللہ سے توبہ کرلی (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کرنے میں توقف فرمایا اس خیال سے کہ وہ صحابی رضی اللہ عنہ اپنی نذر مکمل کرلے (یعنی اس شخص کو جلد از جلد قتل کرڈالے لیکن وہ صحابی اس بات کے انتظار میں تھے کہ آپ اس شخص کو قتل کرنے کا حکم فرمائیں گے تو میں اس شخص کو قتل کروں اور میں اس بات سے ڈرتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ میں اس شخص کو قتل کردوں اور آپ مجھ سے ناراض ہوجائیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ صحابی کچھ نہیں کر رہے یعنی کسی طریقہ پر اس شخص کو قتل نہیں کرتے تو بالآخر مجبوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیعت فرمالیا۔ اس پر صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری نذر کس طریقہ پر مکمل ہوگی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت تک جو رکا رہا اور میں نے اس شخص کو بیعت نہیں کیا تو اس خیال سے کہ تم اپنی نذر مکمل کرلو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے مجھے اشارہ کیوں نہیں کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیغمبر کے لئے آنکھ سے خفیہ اشارہ کرنا مناسب نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12530
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لَنَا ، نخلٍ لِأَبِي طَلْحَةَ ، يَتَبَرَّزُ لِحَاجَتِهِ ، قَالَ : وَبِلَالٌ يَمْشِي وَرَاءَهُ ، يكرم نبي الله صلى الله عليه وسلم أن يمشي إلى جنبه ، فمر نبي الله صلى الله عليه وسلم بقبر ، فقام حتى لم إليه بلال ، فقال : " وَيْحَكَ يَا بِلَالُ ، هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ ؟ " قَالَ : مَا أَسْمَعُ شَيْئًا ، قَالَ : " صَاحِبُ الْقَبْرِ يُعَذَّبُ " ، قَالَ : فَسُئِلَ عَنْهُ فَوُجِدَ يَهُودِيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغات میں قضاء حاجت کے لئے جارہے تھے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہے تھے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں چلنا بےادبی سمجھتے تھے، چلتے چلتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک قبر کے پاس سے ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی آپہنچے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہائے بلال ! کیا تمہیں بھی وہ آواز سنائی دے رہی ہے جو میں سن رہا ہوں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے تو کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ یہودی تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ ، قَدْ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمِيطِي عَنَّا قِرَامَكِ هَذَا ، فَإِنَّهُ لَا تَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ لِي فِي صَلَاتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا جو انہوں نے اپنے گھر کے ایک کونے میں لٹکا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ پردہ یہاں سے ہٹا دو ، کیونکہ اس کی تصاویر مسلسل نماز میں میرے سامنے آتی رہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 376، وسيأتي مسند عائشة برقم: 24081، وهو فى البخاري: 2105 وفي مسلم: 2107 ولفظ البخاري: "أنها اشترت نمرقة فيها تصاوير، فلما رآها رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على الباب فلم يدخله…." ففیه أنه قام علی الباب ولم یدخله ، وحدیث أنس ھذا یدل أنه أقره وصلي وأمره بنزعه بعد الصلاة ، قال الحافظ في الفتح :10/ 391 "ویمكن الجمع بأن الأول كانت تصاویره من ذات الأرواح، وھذا کانت تصاویره من غیرالحیوان....."
حدیث نمبر: 12532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَعَ ثَابِتٍ ، فَقَالَ لَهُ ثابت : إِنِّي اشْتَكَيْتُ ، فَقَالَ : أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : " قُلْ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ ، مُذْهِبَ الْبَأْسِ ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ ، اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس ثابت کے ساتھ گئے، ثابت نے اپنی بیماری کے متعلق بتایا، انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ منتر نہ بتاؤں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا یوں کہو اے اللہ ! لوگوں کے رب ! تکالیف کو دور کرنے والے ! شفاء عطاء فرما کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی شفاء دینے والا نہیں ہے، ایسی شفاء عطاء فرما جو بیماری کا نام ونشان بھی نہ چھوڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5742
حدیث نمبر: 12533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا سِنَانٌ أَبُو رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ الْمُتَخَلِّفُونَ عَنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الْغَدَاةِ مَا لَهُمْ فِيهِمَا ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر نماز عشاء اور نماز فجر سے پیچھے رہ جانے والوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نمازوں کا کیا ثواب ہے تو وہ ان میں ضرور شرکت کریں اگرچہ گھٹنوں کے بل ہی آنا پڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد الأجل سنان أبى ربيعة الباهلي، وذكره ابن حبان فى الثقات
حدیث نمبر: 12534
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا سِنَانٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ غُصْنًا ، فَنَفَضَهُ ، فَلَمْ يَنْتَفِضْ ، ثُمَّ نَفَضَهُ ، فَلَمْ يَنْتَفِضْ ، ثُمَّ نَفَضَهُ ، فَانْتَفَضَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، تَنْفُضُ الْخَطَايَا كَمَا تَنْفُضُ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی درخت کو پکڑ کر ہلایا لیکن اس کے پتے نہیں جھڑے، دوبارہ ہلانے پر بھی نہ جھڑے، البتہ تیسری مرتبہ ہلانے پر اس کے پتے جھڑنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر سے گناہ اسی طرح جھڑجاتے ہیں جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد من أجل سنان بن ربيعة
حدیث نمبر: 12535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ وَلَدِهِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ، إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَبَوَيْهِ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مسلمان آدمی جس کے تین نابالغ بچے فوت ہوگئے ہوں، اللہ ان بچوں کے ماں باپ کو اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1248، وهذا إسناد رجاله ثقات رجال الشيخين غیر عبدالملک النمیري، فلم نتبینه
حدیث نمبر: 12536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنَ النَّارِ إِبْلِيسُ ، فَيَضَعُهَا عَلَى حَاجِبِهِ ، وَيَسْحَبُهَا مِنْ خَلْفِهِ ، وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ ، وَهُوَ يُنَادِي وَاثُبُورَاهُ ، وَيُنَادُونَ يَا ثُبُورَهُمْ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : قَالَهَا مَرَّتَيْنِ حَتَّى يَقِفُوا عَلَى النَّارِ ، فَيَقُولُ : يَا ثُبُورَاهُ ، وَيَقُولُونَ : يَا ثُبُورَهُمْ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : لا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا سورة الفرقان آية 14 ، " قَالَ عَفَّانُ : " وَذُرِّيَّتُهُ خَلْفَهُ ، وَهُمْ يَقُولُونَ : يَا ثُبُورَهُمْ " ، قَالَ عَفَّانُ : " حَاجِبَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم کا لباس سب سے پہلے ابلیس کو پہنایا جائے گا اور وہ اسے اپنی ابروؤں پر رکھے گا، اس کے پیچھے اس کی ذریت گھستی چلی آرہی ہوگی، شیطان ہائے ہلاکت کی آواز لگا رہا ہوگا اور اس کی ذریت بھی ہائے ہلاکت کہہ رہی ہوگی، یہی کہتے کہتے وہ جہنم کے پاس پہنچ کر رک جائیں گے، شیطان پھر یہی کہے گا ہائے ہلاکت اور اس کی ذریت بھی یہی کہے گی، اس موقع پر ان سے کہا جائے گا کہ آج ایک ہلاکت کو نہ پکارو، کئی ہلاکتوں کو پکارو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 12537
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12538
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ : " اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ ، أَنْ لَا تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء یہ تھی کہ اے اللہ ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1743، وانظر: 12220
حدیث نمبر: 12539
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَهُ ، فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ ، يَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ ، عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا تیار کیا تو کچھ عرصے تک اسے یونہی رہنے دیا، شیطان اس پتلے کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور اس پر غور کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس مخلوق کے جسم کے درمیان پیٹ ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مخلوق اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2611