حدیث نمبر: 12460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْمَعُ بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْخِرْبِزِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے ساتھ خربوزہ کھاتے ہوئے دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12460
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ ، لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَوْ آخِرُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کی مثال بارش کی سی ہے کہ کچھ معلوم نہیں اس کا آغاز بہتر ہے یا انجام۔ گزشتہ حدیث اس دوسرے سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12461
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث قوي بطرقه وشواهده، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12462
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، وَيُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ أُمَّتِي " ، فَذَكَرَهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12462
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرسل، والحسن ھو البصري
حدیث نمبر: 12463
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا ، وَلَا فَحَّاشًا ، وَلَا لَعَّانًا ، وَكَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ مَا لَهُ ، تَرِبَتْ جَبِينُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالیاں دینے والے، لعنت ملامت کرنے والے یا بیہودہ باتیں کرنے والے نہ تھے، عتاب کے وقت بھی صرف ات نافرماتے تھے کہ اسے کیا ہوگیا، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12463
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، خ: 6031
حدیث نمبر: 12464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12464
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ صَلَاةِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا ، لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ ، وَكَانَ عُمَرُ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے متعلق " جبکہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ طویل قرأت نہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن مساحق
حدیث نمبر: 12466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ الْعَطَّارَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ بِيَدِهِ ، وَكَانَ يُكَبِّرُ عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور اس پر تکبیر پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12466
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 12467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ إِذْ مَرَّ بِهِمْ يَهُودِيٌّ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُدُّوهُ " ، فَقَالَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : سَامٌ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَقُولُوا وَعَلَيْكَ " ، أَيْ مَا قُلْتَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا ؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو " صرف وعلیک " کہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12467
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12141
حدیث نمبر: 12468
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : " إِذَا ابْتُلِيَ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ ثُمَّ صَبَرَ ، عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ " ، يُرِيدُ عَيْنَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب کسی شخص کو آنکھوں کے معاملے میں امتحان میں مبتلاء کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو میں اس کا عوض جنت عطاء کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 5653
حدیث نمبر: 12469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عَمْروِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ تَنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنْ جُمْجُمَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا فَخْرَ ، وَأُعْطَى لِوَاءَ الْحَمْدِ ، وَلَا فَخْرَ ، وَأَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا فَخْرَ ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا فَخْرَ ، وَإِنِّي آتِي بَابَ الْجَنَّةِ ، فَآخُذُ بِحَلْقَتِهَا ، فَيَقُولُونَ : مَنْ هَذَا ؟ ، فَأقُولُ : أَنَا مُحَمَّدٌ ، فَيَفْتَحُونَ لِي ، فَأَدْخُلُ ، فَإِذَا الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلِي ، فَأَسْجُدُ لَهُ ، فَيَقُولُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ ، وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ ، وَقُلْ : يُقْبَلْ مِنْكَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ ، فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ شَعِيرٍ مِنَ الْإِيمَانِ ، فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ، فَأُقْبِلُ ، فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ ذَلِكَ ، فَأُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ ، فَإِذَا الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلِي ، فَأَسْجُدُ لَهُ ، فَيَقُولُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ ، وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ ، وَقُلْ : يُقْبَلْ مِنْكَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، أُمَّتِي أَيْ رَبِّ ، فَيَقُولُ : اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ ، فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ نِصْفَ حَبَّةٍ مِنْ شَعِيرٍ مِنَ الْإِيمَانِ ، فَأَدْخِلْهُمْ الْجَنَّةَ ، فَأَذْهَبُ ، فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَلِكَ ، أَدْخِلْتُهُمْ الْجَنَّةَ ، فَإِذَا الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلِي ، فَأَسْجُدُ لَهُ ، فَيَقُولُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ ، وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ ، وَقُلْ : يُقْبَلْ مِنْكَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيَقُولُ : اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ ، فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ الْإِيمَانِ ، فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ، فَأَذْهَبُ ، فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَلِكَ أَدْخَلْتُهُمْ الْجَنَّةَ ، وَفَرَغَ اللَّهُ مِنْ حِسَابِ النَّاسِ ، وَأَدْخَلَ مَنْ بَقِيَ مِنْ أُمَّتِي النَّارَ مَعَ أَهْلِ النَّارِ ، فَيَقُولُ أَهْلُ النَّارِ : مَا أَغْنَى عَنْكُمْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْبَدُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُشْرِكُونَ بِهِ شَيْئًا ؟ ! ، فَيَقُولُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ : فَبِعِزَّتِي لَأُعْتِقَنَّهُمْ مِنَ النَّارِ ، فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ ، فَيَخْرُجُونَ وَقَدْ امْتَحَشُوا ، فَيَدْخُلُونَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ ، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي غُثَاءِ السَّيْلِ ، وَيُكْتَبُ بَيْنَ أَعْيُنِهِمْ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَيُذْهَبُ بِهِمْ ، فَيُدْخَلُونَ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ : هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ ، فَيَقُولُ الْجَبَّارُ : بَلْ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الْجَبَّارِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر کھلے گی اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، مجھے لواء حمد دیا جائے گا میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میں جنت کے دروازے پر پہنچ کر اس کا حلقہ پکڑوں گا، اندر سے پوچھا جائے گا کہ کون ؟ میں کہوں گا محمد صلی اللہ علیہ وسلم چنانچہ دروازہ کھل جائے گا اور میں جنت میں داخل ہوجاؤں گا، اچانک میں پروردگار کے سامنے پہنچ جاؤں گا اور اسے دیکھتے ہی سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھائیے، بات تو کیجئے، سنی جائے گی، کہیے تو سہی، قبول ہوگا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، چنانچہ میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا پروردگار ! میری امت، میری امت، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آپ اپنی امت کے پاس جائیے اور جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جنت میں داخل کر دیجئے، چنانچہ میں ایسا ہی کروں گا اور جس کے دل میں اتنا ایمان محسوس ہوگا اسے جنت میں داخل کرا دوں گا۔ دوسری مرتبہ اسی تمام تفصیل کے ساتھ جو کے نصف دانے کے برابر ایمان رکھنے والوں کو جنت میں داخل کرنے کا حکم ہوگا اور میں ایسا ہی کروں گا، تیسری مرتبہ اسی تمام تفصیل کے ساتھ رائی کے ایک دانے کے برابر ایمان رکھنے والے کو جنت میں داخل کرنے کا حکم ہوگا اور میں ایسا ہی کروں گا، پھر اللہ لوگوں کے حساب کتاب سے فارغ ہوجائے گا اور میری باقی امت کو اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں داخل کر دے گا، جہنمی ان سے کہیں گے کہ تم تو اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، تمہیں اس کا کیا فائدہ ہوا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت کی قسم ! میں ان لوگوں کو جہنم سے ضرور آزاد کروں گا، چنانچہ اللہ انہیں جہنم سے نکال لے گا، اس وقت وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے، پھر انہیں نہر حیات میں غوطہ دلوایا جائے گا اور وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے پر دانے اگ آتے ہیں اور ان کی آنکھوں کے درمیان لکھ دیا جائے گا کہ اللہ کے آزاد کردہ لوگ ہیں، جب یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو اہل جنت کہیں گے کہ یہ جہنمی ہیں، لیکن اللہ فرمائے گا نہیں، بلکہ یہ پروردگار کے آزاد کردہ لوگ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12469
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد بهذه السياقة ، أما قصة إخراج من بقي من أمة محمد صلى الله عليه وسلم من النار فى آخر الحديث فقد أخرجها البخاري: 7510، و مسلم: 193
حدیث نمبر: 12470
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا ، أَنَّهُ قَالَ " كَمَا تَلْبَثُ الْحِبَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12470
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد كسابقه
حدیث نمبر: 12471
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ ، فَأُلْقُوا فِي طُويٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ ، قَالَ : فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَى أَهلِ بَدْرٍ أَقَامَ ثَلَاثَ لَيَالٍ ، حَتَّى إِذَا كَانَ اليومُ الثَّالِثُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشُدَّتْ بِرَحْلِهَا ، ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ ، قَالُوا : فَمَا نَرَاهُ يَنْطَلِقُ إِلَّا لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، قَالَ : حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الطَّوِيِّ ، قَالَ : فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ " يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ ، أَسَرَّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ؟ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ " ، قَالَ عُمَرُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ فِيهَا ؟ ! قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ " ، قَالَ قَتَادَةُ : أَحْيَاهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ ، حَتَّى سَمِعُوا قَوْلَهُ تَوْبِيخًا ، وَتَصْغِيرًا ، وَنَقِيمَةً .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس سے کچھ زائد سرداران قریش کے متعلق حکم فرمایا کہ انہیں کھینچ کر بدر کے ایک کنویں میں ان کی تمام تر خباثتوں کے ساتھ پھینک دیا جائے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ کسی قوم پر فتح حاصل ہونے کے بعد وہاں تین راتیں رکتے تھے، اہل بدر پر فتح پانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بھی تین راتیں رکے رہے، تیسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا، سواری تیار ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف کو چل پڑے، صحابہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، ہمارا خیال تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جا رہے ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں کے دہانے پر پہنچ کر رک گئے اور انہیں ان کے اور ان کے باپوں کے نام سے پکار پکار کر آوازیں دینے لگے اور فرمانے لگے کہ کیا اب تمہیں یہ بات اچھی لگ رہی ہے کہ کاش ! تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی ؟ کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچ پایا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہیں جن میں روح نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، میں ان سے جو کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بات سننے کے لئے دوبارہ زندگی عطاء فرمائی تھی اور اس کا مقصد زجر و توبیخ، ان کی تحقیر اور سزا تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12471
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، والقائل فيه: حدث أنس أن نبي الله صلى الله عليه وسلم ......... ھو أنس نفسه لأنه لم یشهد الوقعة، وقد سمع ھذا الحدیث من أبي طلحة الأنصاري، كما برقم : 16356،16359
حدیث نمبر: 12472
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ ، وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي الَّتِي بِالْمَدِينَةِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ ، وحَدَّثَنَاهُ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ ، وَكَانَ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ ، وَعَظَّمَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمْرَهُ جِدًّا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے مدینہ منورہ والے گھر میں فرمائی تھی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ہم سے یہ حدیث ابو ابراہیم معقب نے بیان کی تھی جو کہ بہترین انسان تھے اور ابو عبدالرحمن نے ان کی بڑی تعریف بیان کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12472
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7340، م: 2529
حدیث نمبر: 12473
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عبد الصَّمد ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12473
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12474
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ يَعْنِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ : هَلْ سَأَلْتَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ؟ ، قَالَ ثَابِتٌ سَأَلْتُ أَنَسًا هَلْ شَمِطَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : لَقَدْ قَبَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَسُولَهُ وَمَا فَضَحَهُ بِالشَّيْبِ ، " مَا كَانَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ يَوْمَ مَاتَ ثَلَاثُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ " ، فَقِيلَ لَهُ : أَفَضِيحَةٌ هُوَ ؟ ، قَالَ : أَمَّا أَنْتُمْ فَتَعُدُّونَهُ فَضِيحَةً ، وَأَمَّا نَحْنُ فَكُنَّا نَعُدُّهُ زَيْنًا .
مولانا ظفر اقبال
ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال سفید ہوگئے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس وقت اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلایا، اس وقت تک انہیں بالوں کی سفیدی سے شرمندہ نہ ہونے دیا، وصال کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ڈاڑھی میں تیس بال بھی سفید نہ تھے، کسی نے پوچھا کہ بالوں کا سفید ہونا باعث شرمندگی ہے ؟ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ اسے شرمندگی کا سبب سمجھتے ہو، ہم تو اسے سبب زینت سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12474
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2341
حدیث نمبر: 12475
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ عَلَى حَصِيرٍ قَدِيمٍ ، قَدْ تَغَيَّرَ مِنَ الْقِدَمِ ، قَالَ : وَنَضَحَتْهُ بشيءٍ مِنْ مَاءٍ فَسَجَدَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے گھر میں ایک پرانی چٹائی پر " جس کا رنگ بھی پرانا ہونے کی وجہ سے بدل چکا تھا " نماز پڑھی، انہوں نے اس پر پانی کا چھڑکاؤ کردیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12475
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 380، م: 658
حدیث نمبر: 12476
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ أَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ ، فَكُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ ، أَشْعَثَ ذِي طِمْرَيْنِ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ، وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ ، فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ ، جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ، ذِي تَبَعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جہنم اور اہل جنت کے بارے میں بتاؤں ؟ جنتی تو ہر کمزور، پسا ہوا، پراگندہ حال اور فقر وفاقہ کا شکار شخص ہوگا جو اگر اللہ کے نام پر قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کو ضرور پورا کرے اور جہنمی ہر وہ بداخلاق، متکبر، مال کو جمع کرنے والا اور دوسروں کو نہ دینے والا شخص ہے جس کی دنیا میں اتباع کی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 12477
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، وَعُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ فَحْلَةَ فَرَسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو اپنا نر گھوڑا بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 12478
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَّاهَا أَبُو بَكْرٍ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَّاهَا عُمَرُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَّاهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ أَرْبَعَ سِنِينَ ، ثُمَّ أَتَمَّهَا بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقوله: "أربع سنين" جاء ما يخالفه فى حديث ابن عمر برقم: 4858 ففيه: «ست سنين» ، وهذه الرواية عند مسلم: 694 بلفظ: "ثمان سنين، أو قال: ست سنين"
حدیث نمبر: 12479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، فَهَلَكَتْ سَبْعُونَ فِرْقَةً ، وَخَلَصَتْ فِرْقَةٌ وَاحِدَةٌ ، وَإِنَّ أُمَّتِي سَتَفْتَرِقُ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، تَهْلِكُ إِحْدَى وَسَبْعونَ فِرْقَةً ، وَتَخْلُصُ فِرْقَةٌ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ تِلْكَ الْفِرْقَةُ ؟ ، قَالَ : " الْجَمَاعَةُ ، الْجَمَاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے جن میں سے ستر فرقے ہلاک ہوگئے تھے اور صرف ایک بچا تھا جب کہ میری امت بہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی جن میں اکہتر فرقے ہلاک ہوجائیں گے اور صرف ایک فرقہ بچے گا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ایک فرقہ کون سا ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو جماعت کے ساتھ چمٹا ہوا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، ورواية سعيد بن أبى هلال عن أنس مرسلة
حدیث نمبر: 12480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ سورة الحجرات آية 2 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، جَلَسَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ ، فَقَالَ : أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا عَمْروٍ ، مَا شَأْنُ ثَابِتٍ ؟ ! اشْتَكَى ؟ " ، فَقَالَ سَعْدٌ إِنَّهُ لَجَارِي ، وَمَا عَلِمْتُ لَهُ شَكْوَى ، قَالَ : فَأَتَاهُ سَعْدٌ فَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ ثَابِتٌ : أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ، وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِكُمْ صَوْتًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے ایمان والو ! نبی کی آواز پر اپنی آواز کو اونچا نہ کیا کرو، تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ " جن کی آواز قدرتی طور پر اونچی تھی " کہنے لگے کہ میری ہی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی بن گیا اور یہ سوچ کر اپنے گھر ہی میں غمگین ہو کر بیٹھ رہے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غیر حاضری کے متعلق دریافت کیا تو کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری غیر حاضری کے متعلق پوچھ رہے تھے، کیا بات ہے ؟ وہ کہنے لگے کہ میں ہی تو وہ ہوں جس کی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے اور میں بات کرتے ہوئے اونچا بولتا ہوں، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی ہوگیا، لوگوں نے یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر ذکر کردی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ وہ تو جنتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3613، م: 119
حدیث نمبر: 12481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، فَأَرْسَلَهُ مَعَهُمْ ، فَقَالَ : " هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 2419
حدیث نمبر: 12482
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً ، وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا ، فَأْمُرْهُ أَنْ يُعْطِيَنِي حَتَّى أُقِيمَ حَائِطِي بِهَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطِهَا إِيَّاهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ " فَأَبَى ، فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ ، فَقَالَ : بِعْنِي نَخْلَتَكَ بِحَائِطِي ، فَفَعَلَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي ، قَالَ : فَاجْعَلْهَا لَهُ ، فَقَدْ أَعْطَيْتُكَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَدَاحٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَهَا : مِرَارًا ، قَالَ : فَأَتَى امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ ، اخْرُجِي مِنَ الْحَائِطِ ، فَإِنِّي قَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ ، فَقَالَتْ : رَبِحَ الْبَيْعُ ، أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں آدمی کا ایک باغ ہے، میں وہاں اپنی دیوار قائم کرنا چاہتا ہوں، آپ اسے حکم دیجئے کہ وہ مجھے یہ جگہ دے دے تاکہ میں اپنی دیوار کھڑی کرلوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعلقہ آدمی سے کہہ دیا کہ جنت میں ایک درخت کے بدلے تم اسے یہ جگہ دے دو ، لیکن اس نے انکار کردیا، حضرت ابوالدحداح رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو وہ اس کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ اپنا باغ میرے باغ کے عوض فروخت کردو، اس نے بیچ دیا، وہ اسے خریدنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے وہ باغ اپنے باغ کے بدلے خرید لیا ہے، آپ یہ اس شخص کو دے دیجئے، کہ میں نے یہ باغ آپ کو دے دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر کئی مرتبہ فرمایا کہ ابوالدحداح کے لئے جنت میں کتنے بہترین گھچے ہیں، اس کے بعد وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کہ اے ام دحداح ! اس باغ سے نکل چلو کہ میں نے اسے جنت کے باغ کے عوض فروخت کردیا ہے، ان کی بیوی نے کہا کہ کامیاب تجارت کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر قوله صلي الله علیه وسلم: "كم من عذق....." في حدیث جابر بن سمرة عند مسلم : 965
حدیث نمبر: 12483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ الْحَجَّامُ رَأْسَهُ ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِشَعْرَ أَحَدِ شِقَّيْ رَأْسِهِ بِيَدِهِ ، فَأَخَذَ شَعْرَهُ ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، قَالَ : فَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَدُوفُهُ فِي طِيبِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے، پھر وہ بال ام سلیم اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنی خوشبو میں ڈال کر ہلا لیا کرتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12000
حدیث نمبر: 12484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ وَفَاءٍ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ ، فِينَا الْعَرَبِيُّ ، وَالْعَجَمِيُّ ، وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَنْتُمْ فِي خَيْرٍ ، تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ ، وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُثَقِّفُونَهُ كَمَا يُثَِّقفُونَ الْقَدَحَ ، يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا ، يَتَأَجَّلُونَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، ہم میں عربی، عجمی اور کالے گورے، ہر طرح کے لوگ موجود تھے، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ تم بھلائی پر ہو (اور بہترین زمانے میں ہو) کہ تم کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درمیان موجود ہیں، عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگ ایسے کھڑ کھڑائیں گے جیسے برتن کھڑ کھڑاتے ہیں، وہ اپنا اجر فوری وصول کرلیں گے، آگے کے لئے کچھ نہ رکھیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة وفاء الخولاني و ضعف ابن الهيعة
حدیث نمبر: 12485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَوْهُوبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ كَانَ يُخَالِفُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا ؟ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي صَلَاةً ، مَتَى تُوَافِقُهَا أُصَلِّي مَعَكَ ، وَمَتَى تُخَالِفُهَا أُصَلِّي وَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي " .
مولانا ظفر اقبال
مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے خلاف کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اگر تم اس کی موافقت کرو گے تو میں تمہارے ساتھ نماز پڑھوں گا اور اگر تم اس کے خلاف کرو گے تو میں اپنی نماز اکیلے پڑھ کر گھر چلا جاؤں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة موهوب بن عبدالرحمن بن أزهر القرشي، ولو صح السند، كان لا بد من حمله على ما قاله السندي بخصوص وقت الصلاة، لأن أنسا كان يثني على صلاة عمر بن عبدالعزيز ويشبهها بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سلف برقم: 12465
حدیث نمبر: 12486
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ ، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا ، فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ ، فَفَعَلَ ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ ، فَفَعَلَ ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا ، فَأَبَى عَلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے شوق اور خوف والی نماز پڑھی، میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزوں کی درخواست کی، اس نے مجھے دو چیزیں عطاء فرما دیں اور ایک سے روک دیا، میں نے یہ درخواست کی کہ میری امت قحط سالی میں مبتلاء ہو کر ہلاک نہ ہو، اللہ نے منظور کرلیا، میں نے دوسری درخواست کی کہ دشمن کو ان پر مکمل غلبہ نہ دیا جائے، اللہ نے اسے بھی منظور کرلیا، پھر میں نے تیسری درخواست یہ پیش کی کہ انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ ہونے دیا جائے لیکن اللہ نے اسے منظور نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الضحاك بن عبدالله القرشي
حدیث نمبر: 12487
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ غَيْرَ مَرَّةٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمِهِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفُرِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے وضو کر رکھا تھا لیکن پاؤں پر ناخن برابر جگہ چھوٹ گئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا واپس جا کر اچھی طرح وضو کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وله شاهد من حديث عمر بن الخطاب عند مسلم: 243 سلف برقم: 134
حدیث نمبر: 12488
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ رُبُعُ الْقُرْآنِ ، و إِذَا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ رُبُعُ الْقُرْآنِ ، و إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ رُبُعُ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت کافرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے، سورت زلزال چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورت نصر بھی چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان
حدیث نمبر: 12489
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيُصِيبَنَّ أَقْوَامًا سَفْعٌ مِنَ النَّارِ عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ عَمِلُوهَا ، ثُمَّ لَيُدْخِلُهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : الْجَهَنَّمِيُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7450، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 12490
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الراسبي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2024، وهذا إسناد قوي كسابقه
حدیث نمبر: 12491
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ حَمَّادٌ : وَالْجَعْدُ قد ذكره ، قَالَ : عَمَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى نِصْفِ مُدٍّ شَعِيرٍ فَطَحَنَتْهُ ، ثُمَّ عَمَدَتْ إِلَى عُكَّةٍ كَانَ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ ، فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً ، قَالَ : ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ ، فَقُلْتُ : إِنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أَرْسَلَتْنِي إِلَيْكَ تَدْعُوكَ ، فَقَالَ : " أَنَا وَمَنْ مَعِي " ، قَالَ : فَجَاءَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ ، قَالَ : فَدَخَلْتُ ، فَقُلْتُ لِأَبِي طَلْحَةَ : قَدْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ ، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ ، فَمَشَى إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا هِيَ خَطِيفَةٌ اتَّخَذَتْهَا أُمُّ سُلَيْمٍ مِنْ نِصْفِ مُدٍّ شَعِيرٍ ، قَالَ : فَدَخَلَ فَأَتِيَ بِهِ ، قَالَ : فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَدْخِلْ عَشَرَةً ، " ، قَالَ : فَدَخَلَ عَشَرَةٌ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ دَخَلَ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا ، ثُمَّ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا ، ثُمَّ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا ، حَتَّى أَكَلَ مِنْهَا أَرْبَعُونَ ، كُلُّهُمْ أَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، قَالَ : وَبَقِيَتْ كَمَا هِيَ ، قَالَ : فَأَكَلْنَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے نصف مد کے برابر جو پیسے، پھر گھی کا ڈبہ اٹھایا، اس میں سے تھوڑا سا جو گھی تھا وہ نکالا اور ان دونوں چیزوں کا ملا کر "" خطیفہ "" (ایک قسم کا کھانا) تیار کیا اور مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لئے بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان رونق افروز تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس کھانے کی دعوت دے کر بھیجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھی ؟ یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر روانہ ہوگئے۔ میں نے جلدی سے گھر پہنچ کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے ساتھیوں کو بھی لے آئے، یہ سن کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں چلتے چلتے کہہ دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہاں تو تھوڑا سا "" خطیفہ "" ہے جو ام سلیم نے نصف مد کے برابر جو سے بنایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے گھر پہنچے تو وہ کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ، چنانچہ دس آدمی اندر آئے اور انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، پھر دس دس کر کے چالیس آدمیوں نے وہ کھانا کھالیا اور خوب سیر ہو کر سب نے کھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی رہا، ہم نے بھی اسے کھایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 5450، م: 2040، وفيه: "والقوم سبعون رجلا أو ثمانون"
حدیث نمبر: 12492
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ اطَّلَعَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ ، لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا ، وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا بِرِيحِهَا ، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کی درمیانی جگہ روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے اور اس کا سر کا دوپٹہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12436
حدیث نمبر: 12493
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ مُحَمَّدٍ بنْ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَرَفَةَ ، مِنَّا الْمُكَبِّرُ ، وَمِنَّا الْمُهِلُّ ، لَا يُعَابُ عَلَى الْمُكَبِّرِ تَكْبِيرُهُ ، وَلَا عَلَى الْمُهِلِّ إِهْلَالُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ تہلیل کہہ رہے تھے اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے اور ان میں سے کوئی کسی پر عیب نہیں لگاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 970، م: 1285
حدیث نمبر: 12494
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ ، قَالَ : وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً ، فَانْطَلَقَ قِبَلَ الصَّوْتِ ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا ، قَدْ اسْتَبْرَأَ لَهُمْ الصَّوْتَ ، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ ، وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ ، وَهُوَ يَقُولُ لِلنَّاسِ : لَمْ تُرَاعُوا ، لَمْ تُرَاعُوا ، وَقَالَ لِلْفَرَسِ : وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ " ، قَالَ أَنَسٌ : وَكَانَ الْفَرَسُ قَبْلَ ذَلِكَ يُبَطَّأُ ، قَالَ : مَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے اور اس آواز کے رخ پر چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بےزین گھوڑے پر سوار ہیں، گردن میں تلوار لٹکا رکھی ہے اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا، حالانکہ پہلے وہ گھوڑا سست تھا لیکن اس کے بعد اس سے کوئی گھوڑا آگے نہ بڑھ سکا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2820، م: 2307
حدیث نمبر: 12495
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ زَرْعًا ، أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا ، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ ، أَوْ إِنْسَانٌ ، أَوْ بَهِيمَةٌ ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی کھیت اگاتا ہے، یا کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2320، م: 1553
حدیث نمبر: 12496
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَعَثْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ؟ ! فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، وَإِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا أَوْ تَبِيعَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ریشمی جبہ بھجوایا ہے حالانکہ اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا ہے وہ فرمایا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے وہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا، میں نے تو صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ دو یا اس سے کسی اور طرح نفع حاصل کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2072
حدیث نمبر: 12497
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَعَا بِمَاءٍ فِي قَدَحٍ رَحْرَاحٍ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْقَدَحِ ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ ، وَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ مِنْهُ ، وَيَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ، قَالَ : وَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ ، قَالَ : فَحَزَرْتُ الْقَوْمَ ، فَإِذَا مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کشادہ پیالے میں پانی منگوایا اور اپنی انگلیاں اس پیالے میں رکھ دیں، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابل رہا ہے اور لوگ اس سے وضو کرتے رہے میں نے اندازہ کیا تو لوگوں کی تعداد ستر سے اسی کے درمیان تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
حدیث نمبر: 12498
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَوْ غَيْرِهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَالَ ابْنَتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثَ بَنَاتٍ ، أَوْ أُخْتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثَ أَخَوَاتٍ ، حَتَّى يَمُتْنَ ، أَوْ يَمُوتَ عَنْهُنَّ ، كُنْتُ أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ " ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دو یا تین بیٹیوں یا بہنوں کا ذمہ دار بنا (اور ذمہ داری نبھائی) یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئیں، یا وہ شخص خود فوت ہوگیا تو میں اور وہ ان دو انگلیوں کی طرح ساتھ ہوں گے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2631
حدیث نمبر: 12499
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، نُطْفَةٌ ، أَيْ رَبِّ ، عَلَقَةٌ ، أَيْ رَبِّ ، مُضْغَةٌ ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهَا " ، قَالَ : " يَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، ذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى ؟ شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ؟ فَمَا الرِّزْقُ ؟ فَمَا الْأَجَلُ ؟ " ، قَالَ : " فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ماں کے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے، جو اپنے اپنے وقت پر یہ کہتا رہتا ہے کہ پروردگار ! اب نطفہ بن گیا، پروردگار ! اب گوشت کی بوٹی بن گیا، پھر جب اللہ اسے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار ! یہ شقی ہوگا یا سعید ؟ مذکر ہوگا یا مونث ؟ اور عمر کتنی ہوگی ؟ یہ سب چیزیں ماں کے پیٹ میں لکھ دی جاتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3333، م: 2646