حدیث نمبر: 12420
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُبَارَكٌ الْخَيَّاطُ جَدُّ وَلَدِ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ثُمَامَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ الْعَزْلِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَ عَنِ الْعَزْلِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّ الْمَاءَ الَّذِي يَكُونُ مِنْهُ الْوَلَدُ أَهْرَقْتَهُ عَلَى صَخْرَةٍ ، لَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهَا أَوْ لَخَرَجَ مِنْهَا وَلَدٌ ، الشَّكُّ مِنْهُ وَلَيَخْلُقَنَّ اللَّهُ نَفْسًا هُوَ خَالِقُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عزل کے متعلق سوال کرنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " پانی " کا وہ قطرہ جس سے بچہ پیدا ہوتا ہو، اگر کسی چٹان پر بھی بہا دیا جائے تو اللہ اس سے بھی بچہ پیدا کرسکتا ہے اور اللہ اس شخص کو پیدا کر کے رہتا ہے جسے وہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو عمرو مبارك الخياط فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 12421
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ أُحُدًا ، فَقَالَ : " جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس پہاڑ سے ہم محبت کرتے ہیں اور یہ ہم سے محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4083، م: 1393
حدیث نمبر: 12422
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ النُّهْبَةِ ، وَمَنْ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12423
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا ، وَأَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، ولنهيه عن خلط التمر والبسر جميعا، انظر: 12378، ويشهد لنهيه عن خلط التمر والزبيب جميعا حديث أبى سعيد الخدري برقم: 10991
حدیث نمبر: 12424
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ ، وَإِلَى الْكَعْبَيْنِ ، لَا خَيْرَ فِي أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہبند پنڈلی تک یا ٹخنوں تک ہونا چاہئے، اس سے نیچے ہونے میں کوئی خیر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12425
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ الْبَكْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول : " جَاءَ رَجُلٌ حَتَّى اطَّلَعَ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ مِشْقَصًا ، فَجَاءَ حَتَّى حَاذَى بِالرَّجُلِ ، وَجَاءَ بِهِ ، وَأَخْنَسَ الرَّجُلَ ، فَذَهَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی اسے دے ماری تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر: 12055
حدیث نمبر: 12426
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ " ، قَالَ : فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى ، قَالَ : " لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں، ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 750
حدیث نمبر: 12427
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ يَهُودِيًّا سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكَ ، قَالَ : " رُدُّوهُ عَلَيَّ " ، قَالَ : " أَقُلْتَ : السَّامُ عَلَيْكَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحدٌ مِن أَهْلُ الْكِتَابِ ، فَقُولُوا وَعَلَيْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا ؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو صرف " وعلیک " کہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12141
حدیث نمبر: 12428
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعُكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنَ السُّحُورِ ، فَإِنَّ فِي بَصَرِهِ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکا کرے کیونکہ ان کی بصارت میں کچھ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12429
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ حَرْمَلَةَ الْأَزْدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا عَامًّا ، وَلَا تَنْبُتَ الْأَرْضُ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک بارشیں خوب کثرت سے نہ ہوں، لیکن زمین سے پیداوار بالکل نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، معاذ بن حرملة الأردي مجهول، فقد تفرد بالرواية عنه حسين بن واقد، وذكره ابن حبان فى "الثقات"
حدیث نمبر: 12430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا الرَّجُلَ ، قَالَ : " هَلْ أَعْلَمْتَهُ ذَلِكَ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " قُمْ فَأَعْلِمْهُ " ، قَالَ : فَقَامَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا هَذَا ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ ، قَالَ أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جا کر اسے بتادو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی ! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12431
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ البُنَانِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلَى حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ رَجُلًا ، فَقَالَ لها : " احْتَفِظِي بِهِ " ، قَالَ : فَغَفَلَتْ حَفْصَةُ ، وَمَضَى الرَّجُلُ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " يَا حَفْصَةُ ، مَا فَعَلَ الرَّجُلُ ؟ " ، قَالَتْ : غَفَلْتُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخَرَجَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَطَعَ اللَّهُ يَدَكِ " ، فَرَفَعَتْ يَدَيْهَا هَكَذَا ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَا شَأْنُكِ يَا حَفْصَةُ ؟ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ : قَبْلُ لِي كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ لَهَا : " ضَعِي يَدَيْكِ ، فَإِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَيُّمَا إِنْسَانٍ مِنْ أُمَّتِي دَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ ، أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ مَغْفِرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا اور فرمایا کہ اس کی نگرانی کرنا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ غافل ہوئیں تو وہ آدمی کھسک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو پوچھا حفصہ ! وہ آدمی کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں غافل ہوگئی اور وہ بھاگ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کرے تمہارے ہاتھ ٹوٹ جائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد انہوں نے اپنے ہاتھ اونچے کر لئے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ آئے تو پوچھا حفصہ ! تمہیں کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کچھ دیر پہلے مجھے ایسے ایسے کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ہاتھ کھول لو، میں نے اللہ سے یہ کہہ رکھا ہے کہ میں اپنی امت میں سے جس شخص کو کوئی بددعاء دوں وہ اسے اس کے حق میں مغفرت کا سبب بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2603 نحو هذا الدعاء
حدیث نمبر: 12432
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ ، قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں سورت اخلاص سے محبت رکھتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اس سورت سے محبت کرنا تمہیں جنت میں داخل کروا دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 774 معلقا
حدیث نمبر: 12433
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَابِتًا ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه
حدیث نمبر: 12434
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَةُ ذَلِكَ ، يَعْنِي لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ ، قَالَتْ فَاطِمَةُ وَاكَرْبَاهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بُنَيَّةُ ، إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ بِأَبِيكِ مَا لَيْسَ اللَّهُ بِتَارِكٍ مِنْهُ أَحَدًا لِمُوَافَاةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر موت کی شدت طاری ہوئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کیفیت کو دیکھ کر کہنے لگیں، ہائے تکلیف ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا : تمہارے باپ پر جو کیفیت طاری ہو رہی ہے قیامت تک آنے والے کسی انسان سے اللہ اسے معاف کرنے والا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، خ: 4462 بلفظ: واكرب أباه ! فقال: "ليس على أبيك كرب بعد هذا اليوم"
حدیث نمبر: 12435
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَةُ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن كسابقه، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12436
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَغُدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ رَوْحَةٌ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ ، أَوْ مَوْضِعُ قَدِّهِ يَعْنِي سَوْطَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَوْ اطَّلَعَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَى الْأَرْضِ ، لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا ، وَلَطَابَ مَا بَيْنَهُمَا ، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے اور تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کے درمیانی جگہ خوشبو سے بھر جائے اور مہک پھیل جائے اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ : 2792، م : 1880، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12437
حَدَّثَنَا الْهَاشِمِيُّ يَعْنِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6568، م: 1880، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12438
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول : كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا ، وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءُ ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا ، وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ ، قَالَ أَنَسٌ : فَلَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 ، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءُ ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَخْ ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ، ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ ، وقَدْ سَمِعْتُ ، وَأَنَا أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ " ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ مالدار انصاری تھے اور انہیں اپنے سارے مال میں بیر حاء نامی باغ جو مسجد کے سامنے تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے جاتے اور وہاں کا عمدہ پانی نوش فرماتے تھے " سب سے زیادہ محبوب تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی " تم نیکی کا اعلیٰ درجہ اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی محبوب چیز نہ خرچ کردو " تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے اور مجھے اپنے سارے مال میں " بیرحاء " سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کے نام پر صدقہ کرتا ہوں اور اللہ کے یہاں اس کی نیکی اور ثواب کی امید رکھتا ہوں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اسے جہاں مناسب سمجھیں خرچ فرما دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ ! یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، میں نے تمہاری بات سن لی ہے، میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایسا ہی کروں گا، پھر انہوں نے وہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1461، م: 998
حدیث نمبر: 12439
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَسْأَلُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثًا ، إِلَّا قَالَتْ الْجَنَّةُ : اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ ، وَلَا اسْتَجَارَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اللَّهَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثًا ، إِلَّا قَالَتْ النَّارُ : اللَّهُمَّ أَجِرْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ ! اس بندے کو مجھ سے بچالے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12440
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ ، فَيَقُولُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ، فَيَضَعُ قَدَمَهُ فِيهَا ، فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ، وَتَقُولُ : بِعِزَّتِكَ قَطْ قَطْ ، وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ خَلْقًا آخَرَ ، فَيُسْكِنَهُ فِي فُضُولِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل یہ کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار عالم اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم ! بس بس اسی طرح جنت میں بھی جگہ زائد بچ جائے گی حتیٰ کہ اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7384، م: 2848
حدیث نمبر: 12441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن الْأَصَمِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ ، قَالَ : فَلَقِيَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بَعَثْتَ إِلَيَّ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ ، وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ؟ ! ، قَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا ، أَوْ تَسْتَنْفِعَ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ریشمی جبہ بھجوایا ہے حالانکہ اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا ہے وہ فرمایا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے وہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا، میں نے تو صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ دو یا اس سے کسی اور طرح نفع حاصل کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2072
حدیث نمبر: 12442
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ أَخُو حَزْمٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ سورة المدثر آية 56 ، قَالَ : قَالَ رَبُّكُمْ : " أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى ، فَلَا يُجْعَلْ مَعِي إِلَهٌ ، فَمَنْ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا ، كَانَ أَهْلًا أَنْ أَغْفِرَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت '' ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ " تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ تمہارے رب نے فرمایا ہے، میں اس بات کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ کسی کو معبود نہ بنایا جائے جو میرے ساتھ کسی کو معبود بنانے سے ڈرتا ہے وہ اس بات کا اہل ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12442
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف سهيل أخي حزم القطعي
حدیث نمبر: 12443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12443
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3187
حدیث نمبر: 12444
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عفان ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هَذَا ابْنُ آدَمَ ، وَهَاهُنَا أَجَلُهُ ، وَثَمَّ أَمَلُهُ " , وَقَدَّمَ عَفَّانُ يَدَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا یہ ابن آدم ہے، یہ اس کی موت ہے اور اس کی امیدیں ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12444
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12238
حدیث نمبر: 12445
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " لَا يُجَاوِزُ شَعَرُهُ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں سے آگے نہ بڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12445
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12118
حدیث نمبر: 12446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَنَمْ ، حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہئے کہ واپس جا کر سو جائے یہاں تک کہ اسے پتہ چلنے لگے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12446
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 213
حدیث نمبر: 12447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْحَابَهُ قَدِمُوا مَكَّةَ وَقَدْ لَبَّوْا بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا طَافُوا بِالْبَيْتِ ، وَسَعَوْا بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، أَنْ يُحِلُّوا ، وأن يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً ، وَكَأنَّ الْقَوْمُ هَابُوا ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنِّي سُقْتُ هَدْيًا لَأَحْلَلْتُ " ، فَأَحَلَّ الْقَوْمُ وَتَمَتَّعُوا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ آئے تو حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے کے بعد انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیں، لیکن ایسا محسوس ہوا کہ لوگوں کو یہ بات بہت بڑی معلوم ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہدی کا جانور نہ لایا ہوتا تو میں بھی احرام کھول لیتا، چنانچہ وہ لوگ حلال ہوگئے اور انہوں نے حج تمتع کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12447
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 11958
حدیث نمبر: 12448
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي قُدَامَةَ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ ؟ ، قَالَ : " سَمِعْتُهُ سَبْعَ مِرَارٍ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ , بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو واقد حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کا تلبیہ پڑھا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا " لبیک عمرۃ و حجۃ "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 11958
حدیث نمبر: 12449
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْمَعُ بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْخِرْبِزِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کجھور کے ساتھ خربوزہ کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12449
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12450
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوهَا ، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ جَعْدًا أَكْحَلَ ، حَمْشَ السَّاقَيْنِ ، فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ ، فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ " ، فَجَاءَتْ بِهِ جَعْدًا أَكْحَلَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سمحاء کے ساتھ بدکاری میں ملوث ہونے کا الزام لگایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کا خیال رکھنا، اگر اس کے یہاں گھنگریالے بالوں، سرمگیں آنکھوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو تو وہ شریک بن سمحاء کا بچہ ہوگا اور اگر گورے رنگ کا، سیدھے بالوں والا اور دھنسی آنکھوں والا بچہ پیدا ہو تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا، چنانچہ اس عورت کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ پہلی صفات کے مطابق تھا (شریک بن سمحاء کا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12450
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1494
حدیث نمبر: 12451
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ الْمَرَئِيُّ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا ، فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ ، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَحْضُرَ دُعَاءَهُمَا ، وَلَا يُفَرِّقَ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا حَتَّى يَغْفِرَ لَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے کے ہاتھوں کو پکڑتا ہے تو اللہ پر حق ہے کہ ان کی دعاؤں کے وقت موجود رہے اور دونوں کے ہاتھوں کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12451
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ ! مکہ میں جنتنی برکتیں ہیں، مدینہ میں اس سے دوگنی برکتیں عطاء فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12452
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1885، م: 1369
حدیث نمبر: 12453
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا مَيْمُونٌ الْمَرَئِيُّ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا يَذْكُرُونَ اللَّهَ ، لَا يُرِيدُونَ بِذَلِكَ إِلَّا وَجْهَهُ ، إِلَّا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ قُومُوا مَغْفُورًا لَكُمْ ، قَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی جماعت اکٹھی ہو کر اللہ کا ذکر کرتی ہے اور اس سے اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہوتی ہے تو آسمان سے ایک منادی آواز لگاتا ہے کہ تم اس حال میں کھڑے ہو کہ تمہارے گناہ معاف ہوچکے اور میں نے تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12453
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ فِيمَا سَلَفَ مِنَ النَّاسِ ، انْطَلَقُوا يَرْتَادُونَ لِأَهْلِهِمْ ، فَأَخَذَتْهُمْ السَّمَاءُ ، فَدَخَلُوا غَارًا ، فَسَقَطَ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ مُتَجَافٍ حَتَّى مَا يَرَوْنَ مِنْهُ حُصَاصَةً ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : قَدْ وَقَعَ الْحَجَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ ، وَلَا يَعْلَمُ بِمَكَانِكُمْ إِلَّا اللَّهُ ، فَادْعُوا اللَّهَ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِي وَالِدَانِ ، فَكُنْتُ أَحْلِبُ لَهُمَا فِي إِنَائِهِمَا فَآتِيهُمَا ، فَإِذَا وَجَدْتُهُمَا رَاقِدَيْنِ قُمْتُ عَلَى رُءُوسِهِمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ أَرُدَّ سِنَتَهُمَا فِي رُءُوسِهِمَا ، حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مَتَى اسْتَيْقَظَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ ، وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ ، فَفَرِّجْ عَنَّا ، قَالَ : فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ ، وَقَالَ الْآخَرُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا عَلَى عَمَلٍ يَعْمَلُهُ ، فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ وَأَنَا غَضْبَانُ ، فَزَبَرْتُهُ ، فَانْطَلَقَ فَتَرَكَ أَجْرَهُ ذَلِكَ ، فَجَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ حَتَّى كَانَ مِنْهُ كُلُّ الْمَالِ ، فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ ، فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ ذَلِكَ كُلَّهُ ، وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلَّا أَجْرَهُ الْأَوَّلَ ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ ، وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ ، فَفَرِّجْ عَنَّا ، قَالَ : فَزَالَ ثُلُثَا الْحَجَرِ ، وَقَالَ الثَّالِثُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ أَعْجَبَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَجَعَلَ لَهَا جُعْلًا ، فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهَا وَفَّرَ لَهَا نَفْسَهَا ، وَسَلَّمَ لَهَا جُعْلَهَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ ، وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ ، فَفَرِّجْ عَنَّا ، فَزَالَ الْحَجَرُ ، وَخَرَجُوا مَعَانِيقَ يَتَمَاشَوْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گز شتہ زمانہ میں تین آدمی جا رہے تھے راستہ میں بارش شروع ہوگئی یہ تینوں پہاڑ کے ایک غار میں پناہ گزین ہوئے، اوپر سے ایک پتھر آکر دروازہ پر گرا اور غار کا دروازہ بند ہوگیا، یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے پتھر آگرا، نشانات قدم مٹ گئے اور یہاں تمہاری موجودگی کا اللہ کے علاوہ کسی کو علم نہیں ہے، لہذا جس شخص نے اپنی دانست میں جو کوئی سچائی کا کام کیا ہو اس کو پیش کر کے اللہ سے دعا کرے۔ ایک شخص کہنے لگا الٰہی ! تو واقف ہے کہ مسرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان کو روزانہ شام کو اپنی بکریوں کا دودھ (دوھ کر) دیا کرتا تھا، ایک روز مجھے (جنگل سے آنے میں) دیر ہوگئی، جس وقت میں آیا تو وہ سوچکے تھے اور میرے بیوی بچے بھوک کی وجہ سے چلا رہے تھے، لیکن میرا قاعدہ تھا کہ جب تک میرے ماں باپ نہ پی لیتے تھے میں ان کو نہ پلاتا تھا ( اس لئے بڑا حیران ہوا) نہ تو ان کو بیدار کرنا مناسب معلوم ہوا نہ کچھ اچھا معلوم ہوا کہ ان کو ایسے ہی چھوڑ دوں کہ ( نہ کھانے سے) کمزوری ہوجائے اور صبح تک میں ان کی ( آنکھ کھلنے کے) انتظار میں ( کھڑا) رہا، الٰہی ! اگر تیری دانست میں میرا یہ فعل تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو ہم سے اس مصیبت کو دور فرما دے، پتھر ایک تہائی کے قریب کھل گیا۔ دوسرا شخص بولا، الٰہی ! تو واقف ہے کہ میرے پاس ایک مزدور نے آٹھ سیر چاول مزدوری پر کام کیا تھا لیکن کام کرنے کے بعد وہ مزدوری چھوڑ کر چلا گیا میں نے وہ ( پیمانہ بھر) چاول لے کر بو دیئے، نتیجہ یہ ہوا کہ اسی کے حاصل سے میں نے گائے بیل خریدے، کچھ دنوں کے بعد وہ شخص اپنی مزدوری مانگتا ہوا میرے پاس آیا میں نے کہا یہ گائے بیل لے جا، وہ کہنے لگا میرے تو تیرے ذمہ ایک پیمانہ بھر چاول ہیں، میں نے جواب دیا یہ گائے بیل لے جا، یہ انہی چاولوں کے ذریعہ سے حاصل ہوئے ہیں، الٰہی ! اگر تیری دانست میں میں نے یہ فعل صرف تیرے خوف سے کیا ہے تو ہم سے یہ مصیبت دور فرما دے، چنانچہ اس کی دعا کی برکت سے پتھر دو تہائی کے قریب کھل گیا۔ تیسرا شخص بولا الٰہی ! تو واقف ہے کہ ایک عورت تھی جو میری نظر میں سب سے زیادہ محبوب تھی، جب اس نے اپنے نفس کو میرے قبضے میں دے دیا، میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور سو دینار پھی چھوڑ دیئے، الٰہی ! اگر میرا یہ فعل صرف تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو یہ مصیبت ہم سے دور کر دے چنانچہ وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ باہر نکل کر چلنے پھر نے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12454
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12455
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسرے سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12455
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12456
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ انْطَلَقُوا ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12456
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ ، فَيَسْأَلُهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، فَقَالَ : " يَا مُحَمَّدُ ، أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ ، قَالَ : " صَدَقَ " ، قَالَ : فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ ؟ ، قَالَ : " اللَّهُ " ، قَالَ : فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ ؟ ، قَالَ : " اللَّهُ " ، قَالَ : فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ ، وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ ؟ ، قَالَ : " اللَّهُ " ، قَالَ : فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ ، وَخَلَقَ الْأَرْضَ ، وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا ، قَالَ : " صَدَقَ " ، قَالَ : فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا ، قَالَ : " صَدَقَ " ، قَالَ : فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا ، قَالَ : " نَعَمْ صَدَقَ " ، قَالَ : فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ، قَالَ : " صَدَقَ " ، قَالَ : ثُمَّ وَلَّى ، فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا ، لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا ، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَئِنْ صَدَقَ ، لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( چونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت سوال کرنے سے ہمیں قرآن میں ممانعت کردی گئی تھی، اس لئے ہم دل سے خواہش مند ہوتے تھے کہ کوئی عقل مند بدوی آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مسئلہ دریافت کرے اور ہم سنیں چنانچہ (ایک مرتبہ) بدوی نے حاضر ہو کر ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا تھا اور کہتا تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھ کو پیغمبر بنایا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا تھا، بدوی بولا آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے، بدوی بولا آپ کو قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، پہاڑوں کو قائم کیا (یہ بتائیے کہ) کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کا قاصد کہتا ہے کہ ہم پر دان رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ٹھیک کہا، بدوی بولا آب کو اس اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ( بتایئے) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے کہا تھا کہ ہم پر اپنے مال کی زکوٰۃ نکالنا فرض ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس نے کہا کہ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو بھیجا کیا اس نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ آپ کے قاصد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم پر سال میں ایک ماہ کے روزے فرض ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے ( یہ بتائیے کہ) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر کعبہ کا حج فرض ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا ! آخر کار وہ بدوی پیٹھ کر جاتے ہوئے کہنے لگا کہ اس اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں کروں گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12457
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 12
حدیث نمبر: 12458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ الْمَعْنَى ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول : لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ أَتَعْرِفِينَ فُلَانَةَ ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ تَبْكِي عَلَى قَبْرٍ ، فَقَالَ لَهَا : " اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي " ، فَقَالَتْ لَهُ : إِليكَ عَنِّي ، فَإِنَّكَ لَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي ، قَالَ : وَلَمْ تَكُنْ عَرَفَتْهُ ، فَقِيلَ لَهَا : إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ ، فَجَاءَتْ إِلَى بَابِهِ ، فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أَعْرِفْكَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کی کسی خاتون سے فرمایا کہ تم فلاں عورت کو جانتی ہو ؟ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے، اس وقت وہ ایک قبر پر رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو، وہ کہنے لگی کہ مجھ سے پیچھے ہی رہو تمہیں میری مصیبت کا کیا پتہ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہ سکی، کسی نے بعد میں اسے بتایا کہ یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے، یہ سن کر اس پر موت طاری ہوگئی اور فوراً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، وہاں اسے کوئی دربان نظر نہ آیا اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کو پہچان نہ پائی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12458
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7154، م: 926
حدیث نمبر: 12459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تمہیں مسواک کرنے کا حکم کثرت سے دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12459
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 888