حدیث نمبر: 12380
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَ بَهْزُ : ابْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ ، قَالَ : فَيُدَلِّي فِيهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ قَدَمَهُ ، قَالَ : فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ، وَتَقُولُ : قَطْ قَطْ بِعِزَّتِكَ ، وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ ، حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا آخَرَ فَيُسْكِنَهُ فِي فُضُولِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل یہ کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار عالم اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم ! بس بس اسی طرح جنت میں بھی جگہ زائد بچ جائے گی حتیٰ کہ اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کرکے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7384 معلقا، م: 2848
حدیث نمبر: 12381
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْإِسْلَامُ عَلَانِيَةٌ ، وَالْإِيمَانُ فِي الْقَلْبِ " ، قَالَ : ثُمَّ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ : " التَّقْوَى هَاهُنَا ، التَّقْوَى هَاهُنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اسلام ظاہر کا نام ہے اور ایمان دل میں ہوتا ہے، پھر اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کر کے فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن مسعدة، وهذا الراوي يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وهو هنا قد تفرد بهذا الحديث، وأما قوله: «التقوى هاهنا» فله شاهد من حديث أبى هريرة عند مسلم: 2564، وسلف فى المسند برقم: 7727
حدیث نمبر: 12382
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ " شَعْرُهُ رَجِلًا لَيْسَ بِالْجَعْدِ ، وَلَا بِالسَّبْطِ ، كَانَ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ہلکے گھنگریالے تھے، نہ بہت زیادہ گھنگریالے اور نہ بہت زیادہ سیدھے اور وہ کانوں اور کندھوں کے درمیان تک ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5905، م: 2338
حدیث نمبر: 12383
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : مَا خَطَبَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا قَالَ : " لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی خطبہ ایسا نہیں دیا جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى هلال الراسبي، لكنه لم یتفرد بھذا الحدیث فیعتبر به فیتحسن الحدیث بطرقة
حدیث نمبر: 12384
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عِتْبَانَ اشْتَكَى عَيْنَهُ ، فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ لَهُ مَا أَصَابَهُ ، وقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَعَالَ صَلِّ فِي بَيْتِي حَتَّى أَتَّخِذَهُ مُصَلّى ، قَالَ : فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ ، فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مَا يَلْقَوْنَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ ، فَأَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخَيْشَمٍ ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، فَقَالَ قَائِلٌ : بَلَى ، وَمَا هُوَ مِنْ قَلْبِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَلَنْ تَطْعَمَهُ النَّارُ " ، أَوْ قَالَ : " لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کی آنکھیں شکایت کرنے لگیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیج کر اپنی مصیبت کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لا کر نماز پڑھ دیجئے تاکہ میں اس جگہ کو اپنی جائے نماز بنالوں، چنانچہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپس میں باتیں کرنے لگے اور منافقین کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے۔ اور اس میں سب سے زیادہ حصہ دار مالک بن دخیثم کو قرار دینے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ایک آدمی نے کہا کیوں نہیں، لیکن یہ دل سے نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو جہنم کی آگ اسے ہرگز نہیں کھا سکے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12385
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ ، فَرُبَّمَا قَالَ : " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا ؟ " فَإِذَا رَأَى الرَّجُلُ رُؤْيَا سَأَلَ عَنْهُ ، فَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ، كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ بِهَا وَجْبَةً ، ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ ، فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا قَدْ جِيءَ بِفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ، وَفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ، حَتَّى عَدَّتْ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا ، وَقَدْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قَبْلَ ذَلِكَ ، قَالَتْ : فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ ، تَشْخُبُ أَوْدَاجُهُمْ ، قَالَتْ : فَقِيلَ اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهْرِ الْبَيْذَخِ ، أَوْ قَالَ : إِلَى نَهَرِ الْبَيْدَحِ ، قَالَ : فَغُمِسُوا فِيهِ ، فَخَرَجُوا مِنْهُ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، قَالَتْ : ثُمَّ أُتُوا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَعَدُوا عَلَيْهَا ، وَأُتِيَ بِصَحْفَةٍ أَوْ كَلِمَةٍ نَحْوِهَا فِيهَا بُسْرٌ ، فَأَكَلُوا مِنْهَا ، فَمَا يَقْلِبُونَهَا لِشِقٍّ إِلَّا أَكَلُوا مِنْ فَاكِهَةٍ مَا أَرَادُوا ، وَأَكَلْتُ مَعَهُمْ ، قَالَ : فَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا ، وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ ، حَتَّى عَدَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ عَدَّتْهُمْ الْمَرْأَةُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ " ، فَجَاءَتْ ، قَالَ : " قُصِّي عَلَى هَذَا رُؤْيَاكِ " ، فَقَصَّتْ ، قَالَ : هُوَ كَمَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھے خوابوں سے خوش ہوتے تھے اور بعض اوقات پوچھتے تھے کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تعبیر دریافت کرلیتا، اگر اس میں کوئی پریشانی کی بات نہ ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی خوش ہوتے، اسی تناظر میں ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوئی ہوں، میں نے وہاں ایک آواز سنی جس سے جنت بھی ہلنے لگی، اچانک میں نے دیکھا کہ فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو لایا جا رہا ہے، یہ کہتے ہوئے اس نے بارہ آدمیوں کے نام گنوائے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے ایک سریہ میں روانہ فرمایا تھا۔ اس خاتون نے بیان کیا کہ جب انہیں وہاں لایا گیا تو ان کے جسم پر جو کپڑے تھے وہ کالے ہوچکے تھے اور ان کی رگیں پھولی ہوئی تھیں، کسی نے ان سے کہا کہ ان لوگوں کو نہر سدخ یا نہر بیدخ میں لے جاؤ، چنانچہ انہوں نے اس میں غوطہ لگایا اور جب باہر نکلے تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے تھے، پھر سونے کی کرسیاں لائی گئیں، وہ ان پر بیٹھ گئے، پھر ایک تھالی لائی گئی جس میں کچی کھجوریں تھیں، وہ ان کھجوروں کو کھانے لگے، اس دوران وہ جس کھجور کو پلٹتے تھے تو حسب منشاء میوہ کھانے کو ملتا تھا اور میں بھی ان کے ساتھ کھاتی رہی۔ کچھ عرصے کے بعد اس لشکر سے ایک آدمی فتح کی خوشخبری لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے ساتھ ایسا ایسا معاملہ پیش آیا اور فلاں فلاں آدمی شہید ہوگئے، یہ کہتے ہوئے اس نے انہی بارہ آدمیوں کے نام گنوا دئیے جو عورت نے بتائے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو میرے پاس دوبارہ بلا کر لاؤ، وہ آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اپنا خواب اس آدمی کے سامنے بیان کرو، اس نے بیان کیا تو وہ کہنے لگا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح بیان کیا ہے حقیقت بھی اسی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12385
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12386
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، الْمَعْنَى .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12386
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخبرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَامِلَهُ ، فَنَكَتَهُنَّ فِي الْأَرْضِ ، فَقَالَ : " هَذَا ابْنُ آدَمَ " ، وَقَالَ : بِيَدِهِ خَلْفَ ذَلِكَ ، وَقَالَ : " هَذَا أَجَلُهُ " ، قَالَ : وَأَوْمَأَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : وَثَمَّ أَمَلُهُ ، ثَلَاثَ مِرَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا : یہ ابن آدم ہے پھر انہیں اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے رکھا اور فرمایا یہ اس کی موت ہے، پھر اپنا ہاتھ آگے کر کے تین مرتبہ فرمایا کہ یہ اس کی امیدیں ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12238
حدیث نمبر: 12388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو الْعَلَاءِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي فِي أَيَّامِ الشِّتَاءِ ، وَمَا نَدْرِي لَمَا مَضَى مِنَ النَّهَارِ أَكْثَرُ أَوْ مَا بَقِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سردی کے ایام میں نماز پڑھاتے تھے تو ہمیں کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ دن کا اکثر حصہ گذر گیا ہے یا باقی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة موسى أبى العلاء
حدیث نمبر: 12389
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " لَا يُجَاوِزُ شَعْرُهُ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں سے آگے نہ بڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 12118
حدیث نمبر: 12390
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا بھی ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3251
حدیث نمبر: 12391
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، وَفَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کی عورتوں میں حضرت مریم بنت عمران علیہا السلام، خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہ ، فاطمہ بنت ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور فرعون کی بیوی آسیہ ہی کافی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12391
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12392
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : ابْنَةُ يَهُودِيٍّ ، فَبَكَتْ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكِ ؟ " ، فَقَالَتْ : قَالَتْ لِي حَفْصَةُ : إِنِّي ابْنَةُ يَهُودِيٍّ ! ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكِ ابْنَةُ نَبِيٍّ ، وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ ، وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ ، فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ ؟ ، فَقَالَ : اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق کہا ہے کہ وہ یہودی کی بیٹی ہے، اس پر وہ رونے لگیں، اتفاقاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا ؟ انہوں نے بتایا کہ حفصہ نے میرے متعلق کہا ہے کہ میں ایک یہودی کی بیٹی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایک نبی کی نسل میں بیٹی ہو، تمہارے چچا بھی اگلی نسل میں نبی تھے اور تم خود ایک نبی کے نکاح میں ہو اور تم کس چیز پر فخر کرنا چاہتی ہو اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حفصہ ! اللہ سے ڈرا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12393
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جُلَيْبِيبٍ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهَا ، فَقَالَ : حَتَّى أَسْتَأْمِرَ أُمَّهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَنَعَمْ إِذًا " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا ، فَقَالَتْ : لَا هَا اللَّهُ إِذًا ، أَمَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا جُلَيْبِيبًا ، وَقَدْ مَنَعْنَاهَا مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانٍ ؟ ! قَالَ : وَالْجَارِيَةُ فِي سِتْرِهَا تَسْتَمِعُ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَتْ الْجَارِيَةُ : أَتُرِيدُونَ أَنْ تَرُدُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ ؟ ! إِنْ كَانَ قَدْ رَضِيَهُ لَكُمْ ، فَأَنْكِحُوهُ ، قال : فَكَأَنَّهَا جَلَّتْ عَنْ أَبَوَيْهَا ، وَقَالَا : صَدَقْتِ ، فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ قَدْ رَضِيتَهُ ، فَقَدْ رَضِينَاهُ ، قَالَ : " فَإِنِّي قَدْ رَضِيتُهُ " ، فَزَوَّجَهَا ، ثُمَّ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، فَرَكِبَ جُلَيْبِيبٌ فَوَجَدُوهُ قَدْ قُتِلَ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ قَتَلَهُمْ ، قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَمِنْ أَنْفَقِ بَيْتٍ فِي المدينة .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جلیبب رضی اللہ عنہ کے لئے ایک انصاری عورت سے نکاح کا پیغام اس کے والد کے پاس بھیجا، اس نے کہا کہ میں پہلے لڑکی کی والدہ سے مشورہ کرلوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا، وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے اس بات کا تذکرہ کیا، اس نے فوراً انکار کرتے ہوئے کہہ دیا، بخدا ! کسی صورت میں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جلیبب کے علاوہ اور کوئی نہیں ملا، ہم نے تو فلاں فلاں رشتے سے انکار کردیا تھا، ادھر وہ لڑکی اپنے پردے میں سن رہی تھی۔ باہم صلاح و مشورے کے بعد جب وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے مطلع کرنے کے لئے روانہ ہونے لگا تو وہ لڑکی کہنے لگی کیا آپ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کریں گے، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اس میں شامل ہے تو آپ نکاح کردیں، یہ کہہ کر اس نے اپنے والدین کی آنکھیں کھول دیں اور وہ کہنے لگے کہ تم سچ کہہ رہی ہو، چنانچہ اس کا باپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر آپ اس رشتے پر راضی ہیں تو ہم بھی راضی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں راضی ہوں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جلیبب سے اس لڑکی کا نکاح کردیا، کچھ ہی عرصے کے بعد اہل مدینہ پر حملہ ہوا، جلیبب بھی سوار ہو کر نکلے، فراغت کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ وہ شہید ہوچکے ہیں اور ان کے ارد گرد مشرکیں کی کئی لاشیں پڑی ہیں جنہیں انہوں نے تنہا قتل کیا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس لڑکی کو دیکھا ہے کہ وہ مدینہ منورہ میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والے گھر کی خاتون تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12393
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12394
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ذُو مَالٍ كَثِيرٍ ، وَذُو أَهْلٍ وَوَلَدٍ وَحَاضِرَةٍ فَأَخْبِرْنِي كَيْفَ أُنْفِقُ ، وَكَيْفَ أَصْنَعُ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُخْرِجُ الزَّكَاةَ مِنْ مَالِكَ ، فَإِنَّهَا طُهْرَةٌ تُطَهِّرُكَ ، وَتَصِلُ أَقْرِبَاءَكَ ، وَتَعْرِفُ حَقَّ السَّائِلِ وَالْجَارِ وَالْمِسْكِينِ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْلِلْ لِي ، قَالَ : " فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ ، وَالْمِسْكِينَ ، وَابْنَ السَّبِيلِ ، وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا " ، فَقَالَ : حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ ، فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا ، فَلَكَ أَجْرُهَا ، وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی تمیم کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بہت مالدار، اہل و عیال اور خاندان والا آدمی ہوں، آپ مجھے بتائیے کہ میں کیسے خرچ کروں اور کس کام پر کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے مال کی زکوٰۃ نکالا کرو کہ اس سے تمہارا مال پاکیزہ ہوجائے گا اپنے قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی کیا کرو، سائل، پڑوسی اور مسکینوں کو ان کا حق دیا کرو اور فضول خرچی نہ کیا کرو، وہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بس یہ میرے لئے کافی ہے، جب میں اپنے مال کی زکوٰۃ آپ کے قاصد کے حوالے کر دوں تو اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں میں بری ہوجاؤں گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! جب تم میرے قاصد کو زکوٰۃ ادا کردو تو تم اس سے عہدہ برآ ہوگئے اور تمہیں اس کا اجر ملے گا اور گناہ اس کے ذمے ہوگا جو اس میں تبدیلی کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12394
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، لكن قيل فى رواية سعيد بن أبى هلال عن أنس: إنها مرسلة
حدیث نمبر: 12395
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المدينة وَهِيَ مُحَمَّةٌ ، فَحُمَّ النَّاسُ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ قُعُودٌ يُصَلُّونَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الْقَاعِدِ نِصْفُ صَلَاةِ الْقَائِمِ " ، فَتَجَشَّمَ النَّاسُ الصَّلَاةَ قِيَامًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کی آب و ہوا گرم تھی جس کی وجہ سے لوگ بخار میں مبتلاء ہوگئے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے، اس پر لوگ لپک کر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12395
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، ابن جريج مدلس ولم يصرح بسماعه من ابن شهاب، وسيأتي من طريق إسماعيل بن محمد بن سعد برقم: 13236، وإسناده صحيح
حدیث نمبر: 12396
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِنْدَنَا ، " فَعَرِقَ ، وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ ، فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ الْعَرَقَ فِيهَا ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ ؟ ، فَقَالَتْ : هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا ، وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے اور قیلولہ کے لئے لیٹ گئے، (گرمی کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آنے لگا، میری والدہ یہ دیکھ کر ایک شیشی لائیں اور وہ پسینہ اس میں ٹپکانے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو پوچھا کہ ام سلیم ! یہ کیا کر رہی ہو ؟ انہوں نے کہا کہ آپ کے اس پسینے کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کریں گے اور یہ سب سے بہترین خوشبو ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6281، م: 2331
حدیث نمبر: 12397
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ ، فَيَقُولُ الْخَازِنُ : مَنْ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ ، قَالَ : يَقُولُ : بِكَ أُمِرْتُ أَنْ لَا أَفْتَحَ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میں جنت کے دروازے پر آکر اسے کھلواؤں گا، داروغہ جہنم پوچھے گا کون ؟ میں کہوں گا محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ کہے گا کہ مجھے یہی حکم دیا گیا ہے کہ آپ سے پہلے کسی کے لئے دروازہ نہ کھولوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 197
حدیث نمبر: 12398
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا فَعَلَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ ، فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي ، وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ لَنَا طَلِبَةً ، فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا ، فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا " ، فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظَهْرٍ لَهُمْ فِي عُلْوِ المدينة ، قَالَ : " لَا ، إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا " ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ ، وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُوذِنُهُ " ، فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ " ، قَالَ : يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، فَقَالَ : بَخٍ بَخٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ ؟ " ، قَالَ : لَا وَاللَّهِ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا ، قَالَ : " فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا " ، قَالَ : فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ ، ثُمَّ قَالَ : لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ ، قَالَ : ثُمَّ رَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ ، ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بسیسہ رضی اللہ عنہ کو ابوسفیان کے لشکر کی خبر لانے کے لئے جاسوس بنا کر بھیجا، وہ واپس آئے تو گھر میں میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور لوگوں سے اس حوالے سے بات کی اور فرمایا کہ ہم قافلے کی تلاش میں نکل رہے ہیں جس کے پاس سواری موجود ہو وہ ہمارے ساتھ چلے، کچھ لوگوں نے اجازت چاہی کہ مدینہ کے بالائی حصے سے اپنی سواری لے آئیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، جس کی سواری موجود ہو وہ چلے (انتظار نہیں کریں گے) چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے اور مشرکین سے پہلے بدر کے کنویں پر پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص بھی میری اجازت کے بغیر کسی چیز کی طرف قدم آگے نہ بڑھائے، جب مشرکین قریب آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس جنت کی طرف لپکو جس کی صرف چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے، یہ سن کر عمیر بن حمام انصاری کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا جنت کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس پر وہ کہنے لگے واہ واہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کس بات پر واہ واہ کہہ رہے ہو ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم صرف اس امید پر کہ میں اس کا اہل بن جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اہل جنت میں سے ہو، پھر عمیر اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانے لگے، پھر اچانک ان کے دل میں خیال آیا کہ اگر میں ان کھجوروں کو کھانے تک زندہ رہا تو یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی، چنانچہ وہ کھجوریں ایک طرف رکھ کر میدان کارزار میں گھس پڑے اور اتنا لڑے کہ بالآخر شہید ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1901
حدیث نمبر: 12399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ سورة الحجرات آية 2 إِلَى قَوْلِهِ وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ سورة الحجرات آية 2 ، وَكَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ رَفِيعَ الصَّوْتِ ، فَقَالَ : أَنَا الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَبِطَ عَمَلِي ، أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ! وَجَلَسَ فِي أَهْلِهِ حَزِينًا ، فَتَفَقَّدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِلَيْهِ ، فَقَالُوا لَهُ : تَفَقَّدَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا لَكَ ؟ ، فَقَالَ : أَنَا الَّذِي أَرْفَعُ صَوْتِي فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ، وَأَجْهَرُ بِالْقَوْلِ ، حَبِطَ عَمَلِي ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرُوهُ بِمَا قَالَ ، فَقَالَ : " لَا ، بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ أَنَسٌ وَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْيَمَامَةِ كَانَ فِينَا بَعْضُ الِانْكِشَافِ ، فَجَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، وَقَدْ تَحَنَّطَ وَلَبِسَ كَفَنَهُ ، فَقَالَ : بِئْسَمَا تُعَوِّدُونَ أَقْرَانَكُمْ ، فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ "" اے ایمان والو ! نبی کی آواز پر اپنی آواز کو اونچا نہ کیا کرو، تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ "" جن کی آواز قدرتی طور پر اونچی تھی "" کہنے لگے کہ میری ہی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی بن گیا اور یہ سوچ کر اپنے گھر ہی میں غمگین ہو کر بیٹھ رہے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غیر حاضری کے متعلق دریافت کیا تو کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری غیر حاضری کے متعلق پوچھ رہے تھے، کیا بات ہے ؟ وہ کہنے لگے کہ میں ہی تو وہ ہوں جس کی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے اور میں بات کرتے ہوئے اونچا بولتا ہوں، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی ہوگیا، لوگوں نے یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر ذکر کردی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ وہ تو جنتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے درمیان چلتے تھے اور ہمیں یقین تھا کہ وہ جنتی ہیں، جنگ یمامہ کے دن ہماری صفوں میں کچھ انتشار پیدا ہوا تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آئے، اس وقت انہوں نے اپنے جسم پر حنوط مل رکھی تھی اور کفن پہنا ہوا تھا اور فرمانے لگے تم اپنے ہم نشینوں کی طرف برا لوٹے ہو، یہ کہہ کر وہ لڑتے لڑتے اتنا آگے بڑھ گئے کہ بالآخر شہید ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3613، م: 119
حدیث نمبر: 12400
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ ، وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ ، فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ حلاق آپ کے بال کاٹ رہا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ارد گرد کھڑے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو بال بھی گرے وہ کسی آدمی کے ہاتھ پر ہی گرے۔ (زمین پر نہ گرے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2325
حدیث نمبر: 12401
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ ، فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا ، فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ ، فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ چکتے تو اہل مدینہ کے خدام اپنے اپنے برتن پانی سے بھر کر لاتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر برتن میں اپنا ہاتھ ڈال دیتے تھے۔ بعض اوقات سردی کا موسم ہوتا تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس معمول کو پورا فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2324
حدیث نمبر: 12402
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَعَفَّانُ المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَكَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ أَهْلِهِ ، فَقَالَ : اشْهَدُوا يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ ، قَالَ ثَابِتٌ : فَكَأَنِّي كَرِهْتُ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، لَوْ سَمَّيْتَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ ، قَالَ : وَمَا بَأْسُ ذَلِكَ أَنْ أَقوُلَ لَكُمْ قُرَّاءٌ ، أَفَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ إِخْوَانِكُمْ الَّذِينَ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرَّاءَ ؟ فَذَكَرَ أَنَّهُمْ كَانُوا سَبْعِينَ ، فَكَانُوا إِذَا جَنَّهُمْ اللَّيْلُ ، انْطَلَقُوا إِلَى مُعَلِّمٍ لَهُمْ بِالْمَدِينَةِ ، فَيَدْرُسُونَ اللَّيْلَ حَتَّى يُصْبِحُوا ، فَإِذَا أَصْبَحُوا فَمَنْ كَانَتْ لَهُ قُوَّةٌ اسْتَعْذَبَ مِنَ الْمَاءِ ، وَأَصَابَ مِنَ الْحَطَبِ ، وَمَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ سَعَةٌ اجْتَمَعُوا فَاشْتَرَوْا الشَّاةَ فَأَصْلَحُوهَا ، فَيُصْبِحُ ذَلِكَ مُعَلَّقًا بِحُجَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أُصِيبَ خُبَيْبٌ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَفِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ ، فَقَالَ حَرَامٌ لِأَمِيرِهِمْ : دَعْنِي فَلْأُخْبِرْ هَؤُلَاءِ أَنَّا لَسْنَا إِيَّاهُمْ نُرِيدُ ، حَتَّى يُخَلُّوا وَجْهَنَا ، وَقَالَ عَفَّانُ : فَيُخَلُّونَ وَجْهَنَا ، فَقَالَ لَهُمْ حَرَامٌ : إِنَّا لَسْنَا إِيَّاكُمْ نُرِيدُ ، فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ بِالرُّمْحِ ، فَأَنْفَذَهُ مِنْهُ ، فَلَمَّا وَجَدَ الرُّمْحَ فِي جَوْفِهِ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : فَانْطَوَوْا عَلَيْهِمْ ، فَمَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ ، فَقَالَ أَنَسٌ : فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ قَطُّ ، وَجْدَهُ عَلَيْهِمْ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ " رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا عَلَيْهِمْ " ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ ، إِذَا أَبُو طَلْحَةَ يَقُولُ لِي : هَلْ لَكَ فِي قَاتِلِ حَرَامٍ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : مَا لَهُ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ ؟ ، قَالَ : مَهْلًا ، فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ ، وَقَالَ عَفَّانُ : رَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو عَلَيْهِمْ ، وقَالَ أَبُو النَّضْرِ : رَفَعَ يَدَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے اہل خانہ کے لئے ایک خط لکھا اور فرمایا اے گروہ قراء ! تم اس پر گواہ رہو، مجھے یہ بات اچھی نہ لگی، میں نے عرض کیا کہ اے ابوحمزہ ! اگر آپ ان کے نام بتادیں تو کیا ہی اچھا ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے تمہیں قراء کہہ دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیا میں تمہیں اپنے ان بھائیوں کا واقعہ نہ سناؤں جنہیں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں قراء کہتے تھے۔ وہ ستر افراد تھے، جو رات ہونے پر مدینہ منورہ میں اپنے ایک استاذ کے پاس چلے جاتے اور صبح ہونے تک ساری رات پڑھتے رہتے، صبح ہونے کے بعد جس میں ہمت ہوتی وہ میٹھا پانی پی کر لکڑیاں کاٹنے چلا جاتا، جن لوگوں کے پاس گنجائش نہ ہوتی وہ اکٹھے ہو کر بکری خرید کر اسے کاٹ کر صاف ستھرا کرتے اور صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں کے پاس اسے لٹکا دیتے۔ جب حضرت خبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روانہ فرمایا : یہ لوگ بنی سلیم کے ایک قبیلے میں پہنچے، ان میں میرے ایک ماموں "" حرام "" بھی تھے، انہوں نے اپنے امیر سے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں انہیں جا کر بتادوں کہ ہم ان سے کوئی تعرض نہیں کرنا چاہتے تاکہ یہ ہمارا راستہ چھوڑ دیں اور اجازت لے کر ان لوگوں سے یہی کہا، ابھی وہ یہ پیغام دے ہی رہے تھے کہ سامنے سے ایک آدمی ایک نیزہ لے کر آیا اور ان کے آر پار کردیا، جب وہ نیزہ ان کے پیٹ میں گھونپا گیا تو وہ یہ کہتے ہوئے گرپڑے اللہ اکبر، رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہوگیا، پھر ان پر حملہ ہوا اور ان میں سے ایک آدمی بھی باقی نہ بچا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے اس واقعے پر جتنا غمگین دیکھا، کسی اور واقعے پر اتنا غمگین نہیں دیکھا اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ہاتھ اٹھا کر ان کے خلاف بددعاء فرماتے تھے، کچھ عرصے بعد حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں "" حرام "" کے قاتل کا پتہ بتاؤں ؟ میں نے کہا ضرور بتائیے، اللہ اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے، انہوں نے فرمایا رکو، کیونکہ وہ مسلمان ہوگیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4092
حدیث نمبر: 12403
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : " أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ " ، قَالَ أُبَيٌّ : أَوَسَمَّانِي لَكَ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، فَبَكَى أُبَيٌّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3809، م: 799
حدیث نمبر: 12404
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ ، وَرَجُلًا آخَرَ مِنَ الْأَنْصَارِ تَحَدَّثَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فِي حَاجَةٍ لَهُمَا ، حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ ، وَلَيْلَةٌ شَدِيدَةُ الظُّلْمَةِ ، ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَلِبَانِ ، وَبِيَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عُصَيَّةٌ ، فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا لَهُمَا حَتَّى مَشَيَا فِي ضَوْئِهَا ، حَتَّى إِذَا افْتَرَقَ بِهِمَا الطَّرِيقُ ، أَضَاءَتْ لِلْآخَرِ عَصَاهُ ، فَمَشَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ضَوْءِ عَصَاهُ حَتَّى بَلَغَ إِلَى أَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صاحب اپنے کسی کام سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران رات کا کافی حصہ بیت گیا اور وہ رات بہت تاریک تھی، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہو کر نکلے تو ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک آدمی کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے، جب دونوں اپنے اپنے راستے پر جدا ہونے لگے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی اور ہر آدمی اپنی اپنی لاٹھی کی روشنی میں چلتا ہوا اپنے گھر پہنچ گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3805 معلقا، وبنحوه برقم: 465
حدیث نمبر: 12405
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، " إِنْ ذَكَرْتَنِي فِي نَفْسِكَ ، ذَكَرْتُكَ فِي نَفْسِي ، وَإِنْ ذَكَرْتَنِي فِي مَلَإٍ ، ذَكَرْتُكَ فِي مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، أَوْ قَالَ : فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ ، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي شِبْرًا ، دَنَوْتُ مِنْكَ ذِرَاعًا ، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي ذِرَاعًا ، دَنَوْتُ مِنْكَ بَاعًا ، وَإِنْ أَتَيْتَنِي تَمْشِي ، أَتَيْتُكَ أُهَرْوِلُ " ، قَالَ قَتَادَةُ : فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَسْرَعُ بِالْمَغْفِرَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدم ! اگر تو مجھے اپنے دل میں یاد کرے گا تو میں تجھے اپنے دل میں یاد کروں گا، اگر تو کسی مجلس میں میرا تذکرہ کرے گا تو میں اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں تیرا تذکرہ کروں گا، اگر تو بالشت برابر میرے قریب آئے گا تو میں ایک گز کے برابر تیرے قریب ہوجاؤں گا اور اگر تو ایک گز کے برابر میرے قریب آئے گا تو میں ایک ہاتھ کے برابر تیرے قریب ہوجاؤں گا اور اگر تو میرے پاس چل کر آئے گا تو میں تیرے پاس دوڑ کر آؤں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7536
حدیث نمبر: 12406
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " ، فَقَالَ سَعْدٌ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، وَلَمْ يُسْمِعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا ، وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا ، وَلَمْ يُسْمِعُوه فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا هِيَ بِأُذُنِي ، وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ ، وَلَمْ أُسْمِعْكَ ، أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنْ الْبَرَكَةِ ، ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْبَيْتَ ، فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا ، فَأَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : " أَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے اور اجازت لے کر " السلام علیکم ورحمۃ اللہ " کہا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے آہستہ آواز سے " جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں تک نہ پہنچی " اس کا جواب دیا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کیا اور تینوں مرتبہ انہوں نے اس طرح جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ سن سکے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹ گئے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی پیچھے دوڑے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے جتنی مرتبہ بھی سلام کیا، میں نے اپنے کانوں سے سنا اور اس کا جواب دیا لیکن آپ کو نہیں سنایا (آواز آہستہ رکھی) میں چاہتا تھا کہ آپ کی سلامتی اور برکت کی دعاء کثرت سے حاصل کروں، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر لے گئے اور کشمش پیش کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول کرنے کے بعد فرمایا تمہارا کھانا نیک لوگ کھاتے رہیں، تم پر ملائکہ رحمت کی دعائیں کرتے رہیں اور روزہ دار تمہارے یہاں افطار کرتے رہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12407
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُشِيرُ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اشارہ کردیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12408
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز ظہر اور عصر اور نماز مغرب و عشاء اکٹھی پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1108 معلقا، و 1110 موصولا
حدیث نمبر: 12409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَابِتًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ، قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي بِمَكَّةَ مَالًا ، وَإِنَّ لِي بِهَا أَهْلًا ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ آتِيَهُمْ ، فَأَنَا فِي حِلٍّ إِنْ أَنَا نِلْتُ مِنْكَ أَوْ قُلْتُ شَيْئًا ؟ " فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ مَا شَاءَ " ، فَأَتَى امْرَأَتَهُ حِينَ قَدِمَ ، فَقَالَ : اجْمَعِي لِي مَا كَانَ عِنْدَكِ ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ مِنْ غَنَائِمِ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ ، فَإِنَّهُمْ قَدْ اسْتُبِيحُوا ، وَأُصِيبَتْ أَمْوَالُهُمْ ، قَالَ فَفَشَا ذَلِكَ فِي مَكَّةَ ، فَانْقَمَعَ الْمُسْلِمُونَ ، وَأَظْهَرَ الْمُشْرِكُونَ فَرَحًا وَسُرُورًا ، قَالَ : وَبَلَغَ الْخَبَرُ الْعَبَّاسَ فَعَقِرَ ، وَجَعَلَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُومَ ، قَالَ مَعْمَرٌ : فَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ عَنْ مِقْسَمٍ ، قَالَ : فَأَخَذَ ابْنًا لَهُ ، يُقَالُ لَهُ : قُثَمُ ، فَاسْتَلْقَى فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : حِبِّي قُثَمْ شَبِيهُ ذِي الْأَنْفِ الْأَشَمْ نَبيِّ ذِي النِّعَمْ بَرْغَمِ مَنْ رَغَمْ ، قَالَ ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : ثُمَّ أَرْسَلَ غُلَامًا إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ عِلَاطٍ : وَيْلَكَ ، مَا جِئْتَ بِهِ وَمَاذَا تَقُولُ ؟ فَمَا وَعَدَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتَ بِهِ ، قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ لِغُلَامِهِ : اقْرَأْ عَلَى أَبِي الْفَضْلِ السَّلَامَ ، وَقُلْ لَهُ : فَلْيَخْلُ لِي فِي بَعْضِ بُيُوتِهِ لِآتِيَهُ ، فَإِنَّ الْخَبَرَ عَلَى مَا يَسُرُّهُ ، فَجَاءَ غُلَامُهُ ، فَلَمَّا بَلَغَ بَابَ الدَّارِ ، قَالَ : أَبْشِرْ يَا أَبَا الْفَضْلِ ، قَالَ : فَوَثَبَ الْعَبَّاسُ فَرَحًا حَتَّى قَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ الْحَجَّاجُ ، فَأَعْتَقَهُ ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَهُ الْحَجَّاجُ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ افْتَتَحَ خَيْبَرَ ، وَغَنِمَ أَمْوَالَهُمْ ، وَجَرَتْ سِهَامُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَمْوَالِهِمْ ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَاتَّخَذَهَا لِنَفْسِهِ ، وَخَيَّرَهَا أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونَ زَوْجَتَهُ ، أَوْ تَلْحَقَ بِأَهْلِهَا ، فَاخْتَارَتْ أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونَ زَوْجَتَهُ ، وَلَكِنِّي جِئْتُ لِمَالٍ كَانَ لِي هَاهُنَا أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَهُ فَأَذْهَبَ بِهِ ، فَاسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذِنَ لِي أَنْ أَقُولَ مَا شِئْتُ ، فَأَخْفِ عَنِّي ثَلَاثًا ، ثُمَّ اذْكُرْ مَا بَدَا لَكَ ، قَالَ : فَجَمَعَتِ امْرَأَتُهُ مَا كَانَ عِنْدَهَا مِنْ حُلِيٍّ وَمَتَاعٍ ، فَجَمَعَتْهُ فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ ، ثُمَّ انشَمَرَ بِهِ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ثَلَاثٍ أَتَى الْعَبَّاسُ امْرَأَةَ الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ زَوْجُكِ ؟ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ قَدْ ذَهَبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، وَقَالَتْ : لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ يَا أَبَا الْفَضْلِ ، لَقَدْ شَقَّ عَلَيْنَا الَّذِي بَلَغَكَ ، قَالَ : أَجَلْ لَا يُخْزِنِي اللَّهُ ، وَلَمْ يَكُنْ بِحَمْدِ اللَّهِ إِلَّا مَا أَحْبَبْنَا فَتَحَ اللَّهُ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ لِنَفْسِهِ ، فَإِنْ كَانَتْ لَكِ حَاجَةٌ فِي زَوْجِكِ فَالْحَقِي بِهِ ، قَالَتْ : أَظُنُّكَ وَاللَّهِ صَادِقًا ، قَالَ : فَإِنِّي صَادِقٌ ، الْأَمْرُ عَلَى مَا أَخْبَرْتُكِ ، فَذَهَبَ حَتَّى أَتَى مَجَالِسَ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَقُولُونَ : إِذَا مَرَّ بِهِمْ لَا يُصِيبُكَ إِلَّا خَيْرٌ يَا أَبَا الْفَضْلِ ، قَالَ لَهُمْ : لَمْ يُصِبْنِي إِلَّا خَيْرٌ بِحَمْدِ اللَّهِ ، قَدْ أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ ، أَنَّ خَيْبَرَ قَدْ فَتَحَهَا اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ ، وَاصْطَفَى صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ ، وَقَدْ سَأَلَنِي أَنْ أُخْفِيَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا ، وَإِنَّمَا جَاءَ لِيَأْخُذَ مَالَهُ ، وَمَا كَانَ لَهُ مِنْ شَيْءٍ هَاهُنَا ، ثُمَّ يَذْهَبَ ، قَالَ : فَرَدَّ اللَّهُ الْكَآبَةَ الَّتِي كَانَتْ بِالْمُسْلِمِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، وَخَرَجَ الْمُسْلِمُونَ ، وَمَنْ كَانَ دَخَلَ بَيْتَهُ مُكْتَئِبًا حَتَّى أَتَوْا الْعَبَّاسَ ، فَأَخْبَرَهُمْ الْخَبَرَ ، فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ ، وَرَدَّ مَا كَانَ مِنْ كَآبَةٍ ، أَوْ غَيْظٍ ، أَوْ حُزْنٍ عَلَى الْمُشْرِكِينَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر فتح کرچکے تو حجاج بن غلاط رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مکہ مکرمہ میں میرا کچھ مال و دولت اور اہل خانہ ہیں، میں ان کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا ہوں (تاکہ انہیں یہاں لے آؤں) کیا مجھے آپ کی طرف سے اس بات کی اجازت ہے کہ میں آپ کے حوالے سے یونہی کوئی بات اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ جو چاہیں کہیں، چنانچہ وہ مکہ مکرمہ پہنچ کر اپنی بیوی کے پاس آئے اور اس سے کہنے لگے کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے، سب اکٹھا کر کے مجھے دے دو ، میں چاہتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کا مال غنیمت خرید لوں کیونکہ ان کا خوب قتل عام ہوا ہے اور ان کا سب مال و دولت لوٹ لیا گیا ہے، یہ خبر پورے مکہ میں پھیل گئی، مسلمانوں کی کمر ٹوٹ گئی اور مشرکین خوب خوشی کے شادیانے بجانے لگے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بھی یہ خبر معلوم ہوئی تو وہ گرپڑے اور ان کے اندر کھڑا ہونے ہمت نہ رہی، پھر انہوں نے ایک بیٹے "" قثم "" کو بلایا اور چت لیٹ کر اسے اپنے سینے پر بٹھا کر یہ شعر پڑھنے لگے کہ میرا پیارا بیٹا قثم خوشبودار ناک والے کا ہم شکل ہے، جو ناز و نعمت میں پلنے والوں کا بیٹا ہے اگرچہ کسی کی ناک ہی خاک آلود ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے ایک غلام کو حجاج بن غلاط رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ افسوس ! یہ تم کیسی خبر لائے ہو اور یہ کیا کہہ رہے ہو ؟ اللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ تمہاری اس خبر سے بہت بہتر ہے، حجاج نے اس غلام سے کہا کہ ابوالفضل (حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو میرا سلام کہنا اور یہ پیغام پہنچانا کہ اپنے کسی گھر میں میرے لئے تخلیہ کا موقع فراہم کریں تاکہ میں ان کے پاس آسکوں کیونکہ خبر ہی ایسی ہے کہ وہ خوش ہوجائیں گے، وہ غلام واپس پہنچ کر جب گھر کے دروازے تک پہنچا تو کہنے لگا کہ اے ابوالفضل ! خوش ہوجائیے، یہ سن کر حضرت عباس رضی اللہ عنہ خوشی سے اچھل پڑے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا، غلام نے انہیں حجاج کی بات بتائی تو انہوں نے اسے آزاد کردیا۔ تھوڑی دیر بعد حجاج ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کو فتح کرچکے ہیں، ان کے مال کو غنیمت بنا چکے، اللہ کا مقرر کردہ حصہ ان میں جاری ہوچکا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی کو اپنے لئے منتخب کرلیا اور انہیں اختیار دے دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزاد کردیں اور وہ ان کی بیوی بن جائیں یا اپنے اہل خانہ کے پاس واپس چلی جائیں، انہوں نے اس بات کو ترجیح دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزاد کردیں اور وہ ان کی بیوی بن جائیں، لیکن میں اپنے اس مال کی وجہ سے "" جو یہاں پر تھا "" آیا تھا تاکہ اسے جمع کر کے لے جاؤں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ میں جو چاہوں کہہ سکتا ہوں، اب آپ یہ خبر تین دن تک مخفی رکھئے، اس کے بعد مناسب سمجھیں تو ذکر کردیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی بیوی کے پاس جو کچھ زیورات اور سازو سامان تھا اور جو اس نے جمع کر رکھا تھا، اس نے وہ سب ان کے حوالے کیا اور وہ اسے لے کر روانہ ہوگئے، تین دن گذرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ حجاج کی بیوی کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ تمہارے شوہر کا کیا بنا ؟ اس نے بتایا کہ وہ فلاں دن چلے گئے اور کہنے لگی کہ اے ابوالفضل ! اللہ آپ کو شرمندہ نہ کرے، آپ کی پریشانی ہم پر بھی بڑی شاق گذری ہے، انہوں نے فرمایا ہاں ! اللہ مجھے شرمندہ نہ کرے اور الحمدللہ ! ہوا وہی کچھ ہے جو ہم چاہتے تھے، اللہ نے اپنے نبی کے ہاتھ پر خیبر کو فتح کروا دیا، مال غنیمت تقسیم ہوچکی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی کو اپنے لئے منتخب فرما لیا، اب اگر تمہیں اپنے خاوند کی ضرورت ہو تو اس کے پاس چلی جاؤ، وہ کہنے لگی کہ بخدا ! میں آپ کو سچا ہی سمجھتی ہوں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جو کچھ بتایا ہے وہ سب سچ ہے۔ پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے اور قریش کی مجلسوں کے پاس سے گذرے، وہ کہنے لگے ابوالفضل ! تمہیں ہمیشہ خیر ہی حاصل ہو، انہوں نے فرمایا الحمدللہ ! مجھے خیر ہی حاصل ہوئی ہے، مجھے حجاج بن غلاط نے بتایا کہ خیبر کو اللہ نے اپنے پیغمبر کے ہاتھوں فتح کروادیا ہے، مال غنیمت تقسیم ہوچکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو اپنے لئے منتخب کرلیا اور حجاج نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ تین دن تک میں یہ خبر مخفی رکھوں، وہ تو صرف اپنا مال اور سازو سامان یہاں سے لینے کے لئے آئے تھے، پھر واپس چلے گئے، اس طرح مسلمانوں پر جو غم کی کیفیت تھی وہ اللہ نے مشرکین پر الٹادی اور مسلمان اور وہ تمام لوگ جو اپنے گھروں میں غمگین ہو کر پڑگئے تھے اپنے اپنے گھروں سے ببب
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12410
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسٍ " قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس میں چاندی کا حلقہ لگا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3109، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وقد توبع، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 12411
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قال : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " قَدَحًا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةُ فِضَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس میں چاندی کا حلقہ لگا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه ، وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 12412
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ يَا أَبَا حَمْزَةَ ، حَدِّثْنَا مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ شَيْئًا شَهِدْتَهُ ، لَا تُحَدِّثُهُ عَنْ غَيْرِكَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ يَوْمًا ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى قَعَدَ عَلَى الْمَقَاعِدِ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهِ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ ، فَجَاءَ بِلَالٌ فَنَادَاهُ بِالْعَصْرِ ، فَقَامَ كُلُّ مَنْ كَانَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ أَهْلٌ يَقْضِي الْحَاجَةَ ، وَيُصِيبُ مِنَ الْوَضُوءِ ، وَبَقِيَ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَيْسَ لَهُمْ أَهَالِي بِالْمَدِينَةِ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ أَرْوَحَ فِيهِ مَاءٌ ، " فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْإِنَاءِ ، فَمَا وَسِعَ الْإِنَاءُ كَفَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا ، فَقَالَ : بِهَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ فِي الْإِنَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : ادْنُوا فَتَوَضَّئُوا ، وَيَدُهُ فِي الْإِنَاءِ ، فَتَوَضَّئُوا حَتَّى مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَوَضَّأَ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، كَمْ تَرَاهُمْ ؟ ، قَالَ : بَيْنَ السَّبْعِينَ وَالثَّمَانِينَ .
مولانا ظفر اقبال
ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوحمزہ ! ہمیں کوئی ایسا عجیب واقعہ بتائیے، جس میں آپ خود موجود ہوں اور آپ کسی کے حوالے سے اسے بیان نہ کرتے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور جا کر اس جگہ پر بیٹھ گئے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آیا کرتے تھے، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر عصر کی اذان دی، ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو۔ میں نے پوچھا اے ابوحمزہ ! آپ کی رائے میں وہ کتنے لوگ تھے ؟ انہوں نے فرمایا ستر سے اسی کے درمیان۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
حدیث نمبر: 12413
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ لَا تُحَدِّثُهُ عَنْ غَيْرِكَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12414
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : شَقَّ عَلَى الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ ، فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ أَنْ يُكْرِيَ لَهُمْ نَهْرًا سَيْحًا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ ، وَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَيْتُكُمُوهُ ، وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ لَكُمْ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ " ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : اغْتَنِمُوهَا وَاطْلُبُوا الْمَغْفِرَةَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصار میں کچھ کھیت تقسیم ہوئے، وہ لوگ اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ درخواست لے کر آئے کہ انہیں ایک جاری نہر میں سے پانی لینے کی اجازت دی جائے، وہ اس کا کرایہ ادا کردیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو خوش آمدید ! بخدا ! آج تم مجھ سے جو مانگو گے میں تمہیں دوں گا اور میں اللہ سے تمہارے لئے جس چیز کا سوال کروں گا، اللہ وہ مجھے ضرور عطاء فرمائے گا، یہ سن کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے موقع غنیمت سمجھو اور اپنے گناہوں کی معافی کا مطالبہ کرلو، چنانچہ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کردیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! انصار کی انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل المبارك بن فضالة، فإنه مدلس وقد عنعن، لكنه متابع، وأخرج منه الدعاء بالمغفرة فقط: مسلم: 2507
حدیث نمبر: 12415
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَلْحَدُ ، وَآخَرُ يَضْرَحُ ، فَقَالُوا : نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمَا ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ تَرَكْنَاهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا ، فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ ، فَأَلْحَدُوا لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے تو اس وقت مدینہ میں ایک صاحب بغلی قبر بناتے تھے اور دوسرے صاحب صندوقی قبر، لوگوں نے سوچا کہ ہم اپنے رب سے خیر طلب کرتے ہیں اور دونوں کے پاس ایک ایک آدمی بھیج دیتے ہیں، جو نہ مل سکا اسے چھوڑ دیں گے، چنانچہ انہوں نے دونوں کے پاس ایک ایک آدمی بھیج دیا، لحد بنانے والے صاحب مل گئے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لحد کھودی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل المبارك بن فضالة
حدیث نمبر: 12416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَوَانِي أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، فَمَا نُهِيتُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں داغا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے منع نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، خ: 5721 معلقا و 5719 موصولا
حدیث نمبر: 12417
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٌ بِشَرِيطٍ ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ وَسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ ، حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَدَخَلَ عُمَرُ ، فَانْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْحِرَافَةً ، فَلَمْ يَرَ عُمَرُ بَيْنَ جَنْبِهِ وَبَيْنَ الشَّرِيطِ ثَوْبًا ، وَقَدْ أَثَّرَ الشَّرِيطُ بِجَنْبِ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَكَى عُمَرُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ ؟ " ، قَالَ : وَاللَّهِ ما أَبْكي إِلَّا أَنْ أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ ، وَهُمَا يَعِيثَانِ فِي الدُّنْيَا فِيمَا يَعِيثَانِ فِيهِ ، وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمْ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ ؟ " ، قَالَ عُمَرُ : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّهُ كَذَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے، جسے کھجور کی بٹی ہوئی رسی سے باندھا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں چھال بھری ہوئی تھی، اسی اثناء میں چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آگئے جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ کر اٹھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو اور رسی کے درمیان کوئی کپڑا نظر نہ آیا اسی وجہ سے اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پہلو پر پڑگئے تھے، یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر ! کیوں روتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا بخدا ! میں صرف اس لئے روتا ہوں کہ میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی نگاہوں میں آپ قیصروکسریٰ سے کہیں زیادہ معزز ہیں اور وہ دنیا میں عیاشی کر رہے ہیں، جب کہ آپ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس جگہ پر ہیں جو میں دیکھ رہا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اسی طرح ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل مبارك بن فضالة، وهو وإن كان مدلسا، قد صرح بالتحديث فى بعض مصادر التخريج، انظر الأدب المفرد للبخاري: 1163
حدیث نمبر: 12418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رَجُلَانِ مِمَّنْ قَدْ صَحِبَنِي ، فَإِذَا رَأَيْتُهُمَا رُفِعَا لِي ، اخْتُلِجَا دُونِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر دو ایسے آدمی بھی آئیں گے جنہوں نے میری ہم نشینی پائی ہوگی، لیکن جب میں انہیں دیکھوں گا کہ وہ میرے سامنے پیش ہوئے ہیں تو انہیں اچک لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف بهذا اللفظ ، فقد تفرد به مبارك- وهو ابن فضالة - وهو مدلس، وقد عنعن، وسيأتي برقم: 13991 بلفظ: «ليردن الحوض على رجال .» وھو صحیح
حدیث نمبر: 12419
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنت کے متعلق سب سے پہلا سفارش کرنے والا ہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 196، وانظر: 12153