حدیث نمبر: 12340
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُومُوا فَلَأُصَلِّي لَكُمْ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ ، فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُمْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ ، وقامتِ الْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی دادی حضرت ملیکہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے پر دعوت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمانے کے بعد فرمایا اٹھو، میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اٹھ کر ایک چٹائی لے آیا جو طویل عرصہ استعمال ہونے کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑک دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوگئے، میں اور ایک یتیم بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور بڑی بی ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور واپس تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12340
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 380، م: 658
حدیث نمبر: 12341
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : كَانَ " يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12341
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5045
حدیث نمبر: 12342
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَا ابْنَ آدَمَ ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ ؟ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، خَيْرَ مَنْزِلٍ ، فَيَقُولُ : سَلْ وَتَمَنَّهْ ؟ ، فَيَقُولُ : مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى ، إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا ، فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم ! تو نے اپنا ٹھکا نہ کیسا پایا ؟ وہ جواب دے گا پروردگار ! بہترین ٹھکا نہ پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ اور تمنا ظاہر کر، وہ عرض کرے گا کہ میری درخواست اور تمنا تو صرف اتنی ہی ہے کہ آپ مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں اور میں بیسوں مرتبہ آپ کی راہ میں شہید ہوجاؤں، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12342
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12273
حدیث نمبر: 12343
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَرَى التَّمْرَةَ ، فَلَوْلَا أَنَّهُ يَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لَأَكَلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12343
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12190
حدیث نمبر: 12344
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ مَرَّتَيْنِ عَلَى المدينة ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ مَعَهُ رَايَةٌ سَوْدَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا جانشین دو مرتبہ بنایا تھا اور میں نے حضرت ابن ام مکتوم کو جنگ قادسیہ کے دن سیاہ رنگ کا جھنڈا تھامے ہوئے دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12344
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 12345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَا كَانَ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا ، لِمَا يَعْلَمُوا مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نگاہوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھا نہیں سمجھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12345
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَنْتُمْ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ ، مَا لَمْ نُحْدِثْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے، راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بےوضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12346
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 214
حدیث نمبر: 12347
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ عَدِيٍّ ، قَالَ : شَكَوْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ : " اصْبِرُوا ، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ عَامٌ أَوْ يَوْمٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ ، حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ " ، سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
زبیر بن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حجاج بن یوسف کے مظالم کی شکایت کی، انہوں نے فرمایا صبر کرو، کیونکہ ہر سال یا دن کے بعد آنے والا سال اور دن اس سے بدتر ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو، میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12347
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7068
حدیث نمبر: 12348
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ ، فَلَمْ يَجِدُوا ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوئِهِ ، " فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ " ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز عصر کا وقت قریب آگیا، لوگوں نے وضو کے لئے پانی تلاش کیا لیکن پانی نہ ملا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا جو پانی لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور لوگوں کو اس پانی سے وضو کرنے کا حکم دے دیا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابل رہا ہے اور لوگ اس سے وضو کرتے رہے یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 169، م: 2279
حدیث نمبر: 12349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، كَانُوا يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ إِذَا رَفَعُوا ، وَإِذَا وَضَعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہ تکبیر مکمل کیا کرتے تھے، جب سجدے میں جاتے یا سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ رَوْحَةٌ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12350
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2792، م: 1880
حدیث نمبر: 12351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُغِيرُ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ ، فَيَسْتَمِعُ فَإِذَا سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ ، وَإِلَّا أَغَارَ ، قَالَ : فَتَسَمَّعَ ذَاتَ يَوْمٍ ، قَالَ : فَسَمِعَ رَجُلًا ، يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ : عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ : خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دشمن پر طلوع فجر کے وقت حملے کی تیاری کر رہے تھے اور کان لگا کر سنتے تھے، اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کردیتے، ایک دن اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فطرتِ سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے اشھدان لا الہ الا اللہ کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12351
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2944، م: 382
حدیث نمبر: 12352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ ، فَإِنْ كَانَ نَقْصٌ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اگلی پھر اس کے بعد والی صفوں کو مکمل کیا کرو اور کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12352
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ أَبَانَ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، " أَنَّهُ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ ، أَوْ يَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا الاّ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جا رہے ہوں یا سفر سے واپس آرہے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12353
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ ، وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ ، فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ سورة البقرة آية 222 حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ " ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ ، فَقَالُوا : مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ ؟ فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْيَهُودَ قَالَتْ : كَذَا وَكَذَا ، أَفَلَا نُجَامِعُهُنَّ ؟ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا ، فَخَرَجَا ، هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا ، فَسَقَاهُمَا ، فَعَرَفَا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا ، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْت أَبِي ، يقول : كَانَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ لَا يَمْدَحُ ، أَوْ يُثْنِي عَلَى شَيْءٍ مِنْ حَدِيثِهِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ ، مِنْ جَوْدَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں میں جب کسی عورت کو ایام آتے تو وہ لوگ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے تھے اور نہ ایک گھر میں اکٹھے ہوتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ "" یہ لوگ آپ سے ایام والی عورت کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ ایام بذات خود بیماری ہے، اس لئے ان ایام میں عورتوں سے الگ رہو اور پاک ہونے تک ان کی قربت نہ کرو "" یہ آیت مکمل پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صحبت کے علاوہ سب کچھ کرسکتے ہو، یہودیوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ یہ آدمی تو ہر بات میں ہماری مخالفت کر رہا ہے۔ پھر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہودی ایسے ایسے کہہ رہے ہیں، کیا ہم اپنی بیویوں سے قربت بھی نہ کرلیا کریں ؟ (تاکہ یہودیوں کی مکمل مخالفت ہوجائے) یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ بدل گیا اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض ہوگئے ہیں، وہ دونوں بھی وہاں سے چلے گئے، لیکن کچھ ہی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے دودھ کا ہدیہ آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلا بھیجا اور انہیں وہ پلا دیا، اس طرح وہ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض نہیں ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حماد بن سلمہ رحمہ اللہ اپنی احادیث میں سے کسی حدیث کی سند کی تعریف نہیں کرتے تھے لیکن اس حدیث کی سند کی عمدگی کی بناء پر اس کی بہت تعریف کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 302
حدیث نمبر: 12355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَتَبَ إِلَى كِسْرَى ، وَقَيْصَرَ ، وَأُكَيْدِرِ دُومَةَ ، يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ ، قیصر اور دومۃ الجندل کے بادشاہ اکیدر کو الگ الگ خط لکھا جس میں انہیں اللہ کی طرف بلایا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1774، وفيه: "النجاشي" بدل "أكيدر دومة"
حدیث نمبر: 12356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَنَسًا كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ ، قَالَ : وَزَعَمَ أَنَسٌ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " لَا يَرُدُّ الطِّيبَ " .
مولانا ظفر اقبال
ثمامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ خوشبو رد نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رد نہ فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2582
حدیث نمبر: 12357
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور ابوعبیدہ اس امت کے امین ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4382، م : 2419
حدیث نمبر: 12358
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول : " لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ اگر زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وفي البخاري: 6194، من قول ابن أبى أوفي: "ولو قضي أن يكون بعد محمد نبي عاش ابنه، ولكن لا نبي بعده"
حدیث نمبر: 12359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول : " انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ عَنْ يَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس گئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 708، ويجوز الانصراف عن اليمين وعن الشمال ففي مسلم: 707 وهو فى المسند برقم: 3631- من حديث ابن مسعود: "أكثر ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينصرف عن شماله" وفي مسلم : 708 من حدیث أنس : "أما أنا فأكثر ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمينه" - "یجمع بینھما بأنه صلی اللہ علیہ وسلم كان یفعل تارة هذا و تارة هذا، فأخبر كل منھما بما اعتقد أنه الأكثر" ، قاله النووي
حدیث نمبر: 12360
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ " مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ ، وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَقَدْ " رَهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمٍ ، يقول : " مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ ، وَلَا صَاعُ بُرٍّ " ، وَإِنَّ عِنْدَهُ تِسْعَ نِسْوَةٍ يَوْمَئِذٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ وہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آئے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس مدینہ منورہ میں گروی رکھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چند مہینوں کے لئے جو لئے تھے۔ اور میں نے ایک دن انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج شام کو آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلے یا گندم کا ایک صاع بھی نہیں ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2069
حدیث نمبر: 12361
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيُصِيبَنَّ نَاسًا سَفْعٌ مِنَ النَّارِ ، عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ عَمِلُوهَا ، ثُمَّ يُدْخِلُهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : الْجَهَنَّمِيُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، (اہل جنت پوچھیں گے یہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں) بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 745
حدیث نمبر: 12362
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وأَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِثْلُ مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي ، مِثْلُ مَا بَيْنَ المدينة ، وَصَنْعَاءَ ، أَوْ مِثْلُ مَا بَيْنَ المدينة ، وَعَمَّانَ " ، وَقَالَ أَزْهَرُ : مِثْلُ ، وَقَالَ : وعُمَانَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا مدینہ اور صنعاء یا مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2303
حدیث نمبر: 12363
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ ، وَقَدْ أَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ ، مَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعَرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ حلاق آپ کے بال کاٹ رہا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ارد گرد کھڑے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو بال بھی گرے وہ کسی آدمی کے ہاتھ پر ہی گرے۔ (زمین پر نہ گرے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2325
حدیث نمبر: 12364
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " ، قُلْتُ : فَأَنْتُمْ كَيْفَ كنتم تَصْنَعُونَ ؟ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے، راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بےوضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 214
حدیث نمبر: 12365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ جَعْفَرٌ : لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مُطِرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَخَرَجَ ، فَحَسَرَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ الْمَطَرُ ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ؟ ، قَالَ : " لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بارش ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکل کر اپنے کپڑے جسم کے اوپر والے حصے سے ہٹادیئے تاکہ بارش کا پانی جسم تک بھی پہنچ سکے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ فرمایا کہ یہ بارش اپنے رب کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 898
حدیث نمبر: 12366
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول : لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ جِئْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوگئی تب بھی میں حسب سابق ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹا ! پیچھے رہو (اجازت لے کر اندر آؤ)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2151، وهذا إسناد حسن من أجل سلم العلوي
حدیث نمبر: 12367
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ صُفْرَةً ، فَكَرِهَهَا ، قَالَ : " لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ هَذِهِ الصُّفْرَةَ " ، قَالَ : وَكَانَ لَا يَكَادُ يُوَاجِهُ أَحَدًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے چہرے پر پیلا رنگ لگا ہوا دیکھا تو اس پر ناگواری ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ اگر تم اس شخص کو یہ رنگ دھو دینے کا حکم دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا ؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ کسی کے سامنے اس طرح چہرہ لے کر نہ آتے تھے جس سے ناگواری کا اظہار ہوتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن كسابقه
حدیث نمبر: 12368
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْتَسِلُ مَعَ الْمَرْأَةِ مِنْ نِسَائِهِ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 264
حدیث نمبر: 12369
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ ، وَآيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے اور ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 17، م: 74
حدیث نمبر: 12370
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ مَرَّةً ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَمَرَّةً عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَا كَانَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ شَخْصًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَا يَقُومُ لَهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نگاہوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ تھا، لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھا نہیں سمجھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12371
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَبَائِرِ ؟ أَوْ ذَكَرَهَا ، قَالَ : " الشِّرْكُ ، وَالْعُقُوقُ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ ، أَوْ قَوْلُ : الزُّورِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، ناحق قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی بات یا جھوٹی گواہی دینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5977، م: 88
حدیث نمبر: 12372
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قُلْتُ : كَمْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : " حَجَّةً وَاحِدَةً ، وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ مِرَارٍ عُمْرَتَهُ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَعُمْرَتَهُ فِي ذِي الْقَعْدَةِ مِنَ المدينة ، وَعُمْرَتَهُ مِنَ الْجِعْرَّانَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، حَيْثُ قَسَمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ ، وَعُمْرَتَهُ مَعَ حَجَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حج کیا تھا اور چار مرتبہ عمرہ، ایک عمرہ تو حدیبیہ کے زمانے میں، دوسرا ذیقعدہ کے مہینے میں مدینہ سے، تیسرا عمرہ ذیقعدہ ہی کے مہینے میں جعرانہ سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1778، م: 1253
حدیث نمبر: 12373
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ ، قَالَ : فَقَالَ يَوْمًا : " كُلُوا ، فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا ، وَلَا شَاةً سَمِيطًا قَطُّ " ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، ان کے یہاں نانبائی مقرر تھا، ایک دن وہ ہم سے فرمانے لگے کھاؤ، البتہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھوں سے باریک روٹی کو دیکھا بھی ہو، یا کبھی سالم بھنی ہوئی بکری کھائی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5385
حدیث نمبر: 12374
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهَا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَصْحَابُهُ يُخَالِطُونَ الْحُزْنَ ، وَالْكَآبَةَ ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ منَاسِكهمْ ، وَنَحَرُوا الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا إِلَى قَوْلِهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا سورة الفتح آية 1 - 2 ، قَالَ : " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَتَانِ ، هُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا " ، قَالَ : فَلَمَّا تَلَاهُمَا ، قَالَ رَجُلٌ : هَنِيئًا مَرِيئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَا يَفْعَلُ بِكَ ، فَمَا يَفْعَلُ بِنَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَةَ الَّتِي بَعْدَهَا لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ سورة الفتح آية 5 حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا۔۔۔۔۔۔۔ صراطا مستقیما " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات۔۔۔۔۔۔۔ فوزا عظیما "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4172، م : 1786
حدیث نمبر: 12375
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يقول : فِي قِصَصِهِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا يُصِيبُهُمْ سَفْعٌ مِنَ النَّارِ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، فَيُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَهَنَّمِيِّينَ " ، قَالَ : فَكَانَ قَتَادَةُ يَتْبَعُ هَذِهِ الرِّوَايَات ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَلَكِنْ أَحَقُّ مَنْ صَدَّقْتُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الَّذِي اخْتَارَهُمْ اللَّهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ وَإِقَامَةِ دِينِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت ان کا نام رکھ دیں گے کہ یہ جہنمی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6559
حدیث نمبر: 12376
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً قَدْ دَعَا بِهَا ، فَاسْتُجِيبَ لَهُ ، وَإِنِّي اسْتَخَْبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 200
حدیث نمبر: 12377
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَعْجَبَ ، قَالَ عَفَّانُ : أَوْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : الْحِبَرَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا لباس پسند تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ دھاری دار یمنی چادر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5812، م: 2079
حدیث نمبر: 12378
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1981
حدیث نمبر: 12379
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح