حدیث نمبر: 12300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَا : أخبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى حَمْزَةَ ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَرَآهُ قَدْ مُثِّلَ بِهِ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا ، لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ " ، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ : تَأْكُلَهُ الْعَاهَةُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا ، ثُمَّ قَالَ : دَعَا بِنَمِرَةٍ فَكَفَّنَهُ فِيهَا ، قَالَ : وَكَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ ، بَدَتْ قَدَمَاهُ ، وَإِذَا مُدَّتْ عَلَى قَدَمَيْهِ ، بَدَا رَأْسُهُ ، قَالَ : فَكَثُرَ الْقَتْلَى ، وَقَلَّتِ الثِّيَابُ ، قَالَ : فَكَانَ يُكَفَّنُ ، أَوْ يُكَفِّنُ الرَّجُلَيْنِ شَكَّ صَفْوَانُ وَالثَّلَاثَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْ أَكْثَرِهِمْ قُرْآنًا ، فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ ، قَالَ : فَدَفَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ ، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش مبارک کے پاس آکر کھڑے ہوگئے، دیکھا تو ان کی لاش کا مشرکین نے مثلہ کردیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر صفیہ اپنے دل میں بوجھ نہ بناتیں تو میں انہیں یونہی چھوڑ دیتا تاکہ پرندے ان کا گوشت کھالیتے اور قیامت کے دن یہ پرندوں کے پیٹوں سے نکلتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر منگوا کر اس میں انہیں کفنایا، جب اس چادر کو سر پر ڈالا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں پر ڈالا جاتا تو سر کھل جاتا۔ غزوہ احد کے موقع پر شہداء کی تعداد زیادہ اور کفن کم پڑگئے تھے، جس کی وجہ سے ایک ایک کفن میں دو دو تین تین آدمیوں کو لپٹ دیا جاتا تھا، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ پوچھتے جاتے تھے کہ ان میں سے قرآن کسے زیادہ آتا تھا ؟ پھر پہلے اس ہی کو قبلہ رخ فرماتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ان سب کو دفنا دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12300
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، اسامة بن زيد الليثي فيه كلام ينزله عن رتبة اهل الضبط
حدیث نمبر: 12301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْتَهَيْتُ إِلَى السِّدْرَةِ ، فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ الْجِرَارِ ، وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ ، فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَهَا ، تَحَوَّلَتْ يَاقُوتًا أَوْ زُمُرُّدًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سدرۃ المنتہیٰ پہنچا تو دیکھا کہ اس کے پھل مٹکے برابر اور پتے ہاتھی کے کان برابر ہیں، جب اسے اللہ کے حکم سے اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپا تو وہ یاقوت اور زمرد میں تبدیل ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر : 12505
حدیث نمبر: 12302
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ عَمَّةَ أَنَسٍ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ ، فَطَلَبُوا إِلَى الْقَوْمِ الْعَفْوَ ، فَأَبَوْا ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " الْقِصَاصُ " ، قَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَكْسِرُ ثَنِيَّةَ فُلَانَةَ ؟ ! ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَنَسُ ، كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ " ، قَالَ : فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلَانَةَ ، قَالَ : فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا وَتَرَكُوا الْقِصَاصَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ أَبَرَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ربیع " جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ہیں " نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، پھر ان کے اہل خانہ نے لڑکی والوں سے معافی مانگی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے، انس بن نضر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا فلاں (میری بہن) کا دانت توڑ دیا جائے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا انس ! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہی کا ہے، وہ کہنے لگے کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، فلاں عورت کا دانت نہیں توڑا جائے گا، اسی اثناء میں وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہوں نے انہیں معاف کردیا اور قصاص کا مطالبہ ترک کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کام پر اللہ کی قسم کھالیں تو اللہ انہیں ان کی قسم میں ضرور سچا کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12302
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2806 ، م: 1675
حدیث نمبر: 12303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَارُودٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي طَعَامًا ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي ، وَتُصَلِّيَ فِيهِ ، قَالَ : فَأَتَى وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِنَاحِيَةٍ مِنْهُ فَكُنِسَ وَرُشَّ ، وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ایک چچا نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے پر دعوت کی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں اور اس میں نماز پڑھیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہاں گھر میں ایک چٹائی پڑی ہوئی تھی جو پرانی ہو کر کالی ہوچکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک کونے میں رکھنے کا حکم دیا، اسے جھاڑا گیا اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی اور ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12303
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد قوي
حدیث نمبر: 12304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ : " مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ ؟ " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَكَ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ ، وَقَالَ : أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ ؟ ! قَالَ : وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ ، أَوْ قَالَ : قَتَلْتُمُوهُ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا ؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس خدمت کے لئے چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مارمار کر ٹھنڈا کردیا ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ہی ابوجہل ہے ؟ اس نے کہا کیا تم نے مجھ سے بڑے بھی کسی آدمی کو قتل کیا ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12304
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3963 ، م: 1800
حدیث نمبر: 12305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : عَفَّانُ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول : جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عَفَّانُ : مَعَهَا ابْنٌ لَهَا ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : فَخَلَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری عورت (اپنے بچے کے ساتھ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے تخلیہ میں فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو، یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12305
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5234 ، م: 2509
حدیث نمبر: 12306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ : " إِنَّكُمْ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے متعلق فرمایا تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12306
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَهْل أبي الْأَسَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجَزَرِيُّ ، قَالَ : قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُهُ كُلَّ أَحَدٍ ؟ إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ ، وَنَحْنُ فِيهِ ، فَقَالَ : " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا ، وَلَكُمْ عَلَيْهِمْ حَقًّا مِثْلَ ذَلِكَ ، مَا إِنْ اسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا ، وَإِنْ عَاهَدُوا وَفَوْا ، وَإِنْ حَكَمُوا عَدَلُوا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
بکیر بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں ہر ایک سے بیان نہیں کرتا اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے، ہم اس کے اندر تھے اور فرمایا امراء قریش میں سے ہوں گے اور ان کا تم پر حق بنتا ہے اور ان پر تمہارا بھی اسی طرح حق بنتا ہے، جب ان سے لوگ رحم کی درخواست کریں تو رحم کا معاملہ کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں، فیصلہ کریں تو انصاف کریں، جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12307
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا اسناد ضعيف لجهالة بكير بن وهب الجزري
حدیث نمبر: 12308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ يَنْفَعُكَ بِهِ ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا " لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ " ، قَالَ : فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو : وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ ؟ ، قَالَ : وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ .
مولانا ظفر اقبال
حمزہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کیا میں تم سے ایک حدیث بیان کروں کہ اللہ تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے اور وہ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی منزل پر پڑاؤ کرتے تو ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے وہاں سے کوچ نہیں کرتے تھے، محمد بن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ ! اگرچہ نصف النہار کے وقت میں ہو ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگرچہ نصف النہار کے وقت ہی ہو۔ حمزہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دریائے نیل کے کنارے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی، میرے اور ان کے درمیان محمد بن عمرو تھے، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12308
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12309
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الضَّبِّيُّ ، قَالَ : لَقِيتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِفَمِ النِّيلِ ، وَمَشَى وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، قَالَ : فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو : وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ ؟ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12309
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله، والنيل: المراد به هنا نهر متفرع من الفرات الي دجلة، وهذا النهر يعرف اليوم بشط النيل، وكان عليه قديما مدينة تعرف باسمه، انظر: «بلدان الخلافة الشرقية» صفحة : 99,98 و معجم البلدان: 334/5
حدیث نمبر: 12310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ؟ ، قَالَ : كُنَّا نَبْتَدِرُهُمَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ قَالَ بَعْدُ وَسَأَلْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ ، فَقَالَ : كُنَّا نَبْتَدِرُهُمَا ، وَلَمْ يَقُلْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوفزارہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ان کی طرف سبقت کیا کرتے تھے، اس کے بعد دوبارہ پوچھا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت کا تذکرہ نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 625 ، م: 836
حدیث نمبر: 12311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي صَدَقَةَ مَوْلَى أَنَسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ : كَانَ " يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ ، وَالْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ ، وَالصُّبْحَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوصدقہ " کو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز زوال کے بعد پڑھتے تھے، عصر ان دو نمازوں کے درمیان پڑھتے تھے، مغرب غروب آفتاب کے وقت پڑھتے تھے اور نماز عشاء شفق غائب ہوجانے کے بعد پڑھتے تھے اور نماز فجر اس وقت پڑھتے تھے جب طلوع فجر ہوجائے یہاں تک کہ نگاہیں کھل جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد قوي
حدیث نمبر: 12312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ ، كُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ ؟ ، فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ : قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي ، فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک جہنمی سے " جسے سب سے ہلکا عذاب ہوگا " کہا جائے گا کہ یہ بتا، اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا وہ سب کچھ اپنے فدیئے میں دے دے گا ؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ میں نے تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا میں نے آدم کی پشت میں تجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے لیکن تو شرک کئے بغیر نہ مانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6557 ، م: 2805
حدیث نمبر: 12313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ ؟ ، قَالَ : كُنْتُ أَخْرُجُ إِلَى الْكُوفَةِ ، فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَرْجِعَ ، وَقَالَ أَنَسٌ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ ، أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ شُعْبَةُ الشَّاكُّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا جب میں کوفہ کی طرف نکلتا تھا تو واپسی تک دو رکعتیں ہی پڑھتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 691
حدیث نمبر: 12314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَجُلٌ يُنَاجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا زَالَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6292 ، م: 376
حدیث نمبر: 12315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَغْتَسِلُ هُوَ وَامْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 264
حدیث نمبر: 12316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا ہے اور نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 17 ، م: 74
حدیث نمبر: 12317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہی ہوتا ہے (اس کے بعد تو سب ہی کو صبر آجاتا ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1302 ، م: 926
حدیث نمبر: 12318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ قَدْ دُفِنَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی جو دفن ہوچکی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 955
حدیث نمبر: 12319
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ : " إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا ، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا ، وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي ، أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے اور جو ایک گز کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے اور جو اللہ کے پاس چل کر آتا ہے، اللہ اس کے پاس دوڑ کر آتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 7536
حدیث نمبر: 12320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا ، قَالَ : وَسَمَّانِي لَكَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " ، فَبَكَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ " الم یکن الذین کفروا " والی سورت تمہیں پڑھ کر سناؤں، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3809 ، م: 799
حدیث نمبر: 12321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَيَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ : ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي وَرُبَّمَا قَالَ : مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں واللہ تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 742 ، م: 425
حدیث نمبر: 12322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يقول : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يَقُولُ فِي قِصَصِهِ : كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ، فَلَا أَدْرِي ذَكَرَهُ عَنْ أَنَسٍ أَمْ قَالَهُ قَتَادَةُ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، (یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6504 ، م: 2951
حدیث نمبر: 12323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ ، قِيلَ : وَمَا الْفَأْلُ ؟ ، قَالَ : كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5776 ، م: 2224
حدیث نمبر: 12324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ ، فَقِيلَ لَهُ : تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ له : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2577 ، م: 1047
حدیث نمبر: 12325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَا أَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ ، وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ ، وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ " ، قَالَ : قُلْتُ لِقَتَادَةَ : فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ ؟ ، قَالَ : عَلَى السُّفَرِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر یا چھوٹی پیالیوں میں کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے باریک روٹی پکائی گئی، راوی نے پوچھا کہ پھر وہ کس چیز پر رکھ کر کھانا کھاتے تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ دستر خوانوں پر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5386
حدیث نمبر: 12326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتِّينَ سَنَةً ، لَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ساٹھ سال کی عمر میں ہوا ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5894 ، م: 2341
حدیث نمبر: 12327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مَثَلَ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ ، لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَوْ آخِرُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کی مثال بارش کی سی ہے کہ کچھ معلوم نہیں اس کا آغاز بہتر ہے یا انجام۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث قوي بطرقه وشواهده، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُكَنِّينِي بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرش کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 12329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ ضَخْمٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ ، فَلَوْ أَتَيْتَ مَنْزِلِي فَصَلَّيْتَ ، فَأَقْتَدِيَ بِكَ ، فَصَنَعَ الرَّجُلُ طَعَامًا ، ثُمَّ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَضَحَ طَرَفَ حَصِيرٍ لَهُمْ ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ لِأَنَسٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ، قَالَ : مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بڑا بھاری بھر کم تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے بار بار نہیں آسکتا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں باربار آپ کے ساتھ آکر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اگر آپ کسی دن میرے گھر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تو میں وہییں پر نماز پڑھ لیا کروں گا، چنانچہ اس ایک مرتبہ دعوت کا اہتمام کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا یا اور ایک چٹائی کے کونے پر پانی چھڑک دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دو رکعتیں پڑھ دیں، آل جارود میں سے ایک آدمی نے یہ سن کر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز صرف اسی دن پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 670
حدیث نمبر: 12330
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12331
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي الْأَبْيَضِ ، قَالَ حَجَّاجٌ : رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج روشن اور اپنے حلقے کی شکل میں ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 12332
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ جَارَنَا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : " اعْلَمْ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا یاد رکھو ! لا الہ الا اللہ ' کی گواہی دیتا ہوا فوت ہوجائے وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات ، أبو حمزة جار شعبة: أسمه عبدالرحمن بن عبدالله المازني متابع
حدیث نمبر: 12333
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَهَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو التَّيَّاحِ ، وسَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا ، وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آسانیاں پیدا کیا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو، سکون دلایا کرو، نفرت نہ پھیلایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 69، م: 1734
حدیث نمبر: 12334
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " ، وَبَسَطَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ ، وَالْوُسْطَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کر طرف اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12334
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
حدیث نمبر: 12335
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12335
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 234، م: 524
حدیث نمبر: 12336
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ ، أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ ؟ ، فَقَالَ : " الشِّرْكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَقَالَ : أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ ، قَالَ : قَوْلُ الزُّورِ " ، أَوْ قَالَ : " شَهَادَةُ الزُّورِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : أَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ : " شَهَادَةُ الزُّورِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، ناحق قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور فرمایا کہ کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ نہ بتاؤں ؟ وہ ہے جھوٹی بات یا جھوٹی گواہی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12336
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5977، م: 88
حدیث نمبر: 12337
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، وَحَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ أَنَسٍ ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، وَحَدَّثَ أَنَسٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنانی رحمہ اللہ کے ساتھ چلا جارہا تھا، راستے میں ان کا گذر کچھ بچوں پڑ ہوا انہوں نے انہیں سلام کیا اور بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلا جارہا تھا، راستے میں ان کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، انہوں نے نے انہیں سلام کیا اور بتایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا جا رہا تھا، راستے میں ان کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، انہوں نے انہیں سلام کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12337
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6247، م: 2168
حدیث نمبر: 12338
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا " ، قَالَ : فَقُلْنَا لِأَنَسٍ : فَالطَّعَامُ ؟ ، قَالَ : ذَلِكَ أَشَدُّ أَوْ أَنْتَنُ ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ : أَوْ أَخْبَثُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کھانے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ تو اور بھی سخت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12338
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2024
حدیث نمبر: 12339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَدَفَعْنَا إِلَى السَّوَارِي ، فَتَقَدَّمْنَا أَوْ تَأَخَّرْنَا ، فَقَالَ أَنَسٌ : كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک مرتبہ جمعہ کی نماز پڑھی، ہمیں ستونوں کی طرف جگہ ملی جس کی بناء پر ہم آگے پیچھے ہوگئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں اس سے بچا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12339
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وعلة النهي انقطاع الصف، وأما الواحد فلا بأس به، وقد صلى النبى صلى الله عليه وسلم فى الكعبة بين سواريها، وانظر المغني: 3/ 60، والفتح: 1/ 578