حدیث نمبر: 11941
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أخبرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " إِنْ كَانَتْ الْأَمَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَنْطَلِقُ بِهِ فِي حَاجَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کی ایک عام باندی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اپنے کام کاج کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جایا کرتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11941
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6072
حدیث نمبر: 11942
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أخبرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11942
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 108, م فى المقدمة : 2
حدیث نمبر: 11943
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ " أَوْلَمَ " ، قَالَ : فَأَطْعَمَنَا خُبْزًا ، وَلَحْمًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے نکاح کے بعد ولیمہ کیا اور ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11943
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5163, م: 1428
حدیث نمبر: 11944
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ ، وَتكْثُرَ النِّسَاءُ ، حَتَّى يَكُونَ قَيِّمَ خَمْسِينَ امْرَأَةً رَجُلٌ وَاحِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم نہ اٹھا لیا جائے، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک آدمی ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11944
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 81 ، م: 2671
حدیث نمبر: 11945
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي بُرْدَةِ حِبَرَةٍ " ، قَالَ : أَحْسَبُهُ عَقَدَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یمنی چادر میں نماز پڑھی اور غالباً اس کے دونوں پلوؤں میں گرہ لگا لی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11945
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، هشيم . وان كام مدلسا وقد عنعن . توبع
حدیث نمبر: 11946
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَطُوفُ عَلَى جَمِيعِ نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11947
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ! میں خبیث جنات مردوں اور عورتوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11947
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 142 ، م: 375
حدیث نمبر: 11948
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخبرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ ، فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اہل کتاب تمہیں سلام کیا کریں تو تم صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11948
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6258 ، م: 2163
حدیث نمبر: 11949
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا عَنْ أَنَسٍ ، وَيُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَنْصُرُهُ مَظْلُومًا ، فَكَيْفَ أَنْصُرُهُ إِذَا كَانَ ظَالِمًا ؟ ، قَالَ : " تَحْجُزُهُ ، تَمْنَعُهُ ، فَإِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کیا کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، ظالم کی کیسے مدد کریں ؟ فرمایا اسے ظلم کرنے سے روکو، یہی اس کی مدد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اسناد الاول صحيح، خ : 2443، 5952، وإسناده الثاني. هشيم عن يونس عن الحسن البصري. مرسل
حدیث نمبر: 11950
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بن صُهَيب ، وَإِسْمَاعِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1923 ، م: 1095
حدیث نمبر: 11951
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ " خَاتَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی دیکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5868 ، م: 2093 ، هشيم. وان عنعن. قد توبع
حدیث نمبر: 11952
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ ، أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ، وَكَانَتْ ثَيِّبًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو ان کے یہاں تین راتیں قیام فرما لیا، وہ پہلے سے شوہر دیدہ تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وروي موقوفا على انس فى البخاري : 5214, 5213, ومسلم : 1461
حدیث نمبر: 11953
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ ، قَالَ : " شَهِدْتُ وَلِيمَتَيْنِ مِنْ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَمَا أَطْعَمَنَا فِيهمَا خُبْزًا ، وَلَا لَحْمًا " ، قَالَ : فَمَهْ ؟ ، قَالَ : " الْحَيْسُ ، يَعْنِي التَّمْرَ ، وَالْأَقِطَ بِالسَّمْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے دو کے ولیمے میں شامل ہوا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روٹی کھلائی اور نہ ہی گوشت، راوی نے پوچھا پھر کیا کھلایا ؟ فرمایا کھجور اور پنیر کا گھی میں بنا ہوا حلوہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 11954
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنَا الْأَزْهَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِ ، وَلَا تَنْقُشُوا خَوَاتِيمَكُمْ عَرَبِيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل نہ کیا کرو اور اپنی انگوٹھیوں میں " عربی " نقش نہ کروایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف, لجهالة الازهر بن راشد البصري
حدیث نمبر: 11955
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ خَشْخَشَةً بَيْنَ يَدَيَّ ، فَإِذَا هِيَ الْغُمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملحان تھیں (جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11956
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَشُجَّ فِي جَبْهَتِهِ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ ؟ ! " فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے چار دانت ٹوٹ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بھی زخم آیا تھا، حتیٰ کہ اس کا خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرے جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا ہو ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہوجائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، علقه البخاري بائر الحديث رقم : 4068، م: 1791
حدیث نمبر: 11957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ : 947، م: 1365
حدیث نمبر: 11958
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْحَجِّ ، وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا ، يَقُولُ : " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا ، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک عمرۃ و حجا "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1251
حدیث نمبر: 11959
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : وَحدثنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأَظُنُّنِي قَدْ سَمِعْتُ مِنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً ، فَقَالَ : " ارْكَبْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! ، قَالَ : ارْكَبْهَا ، مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2754 ، م: 1323
حدیث نمبر: 11960
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ ، وَكَانَ يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5558 ، م: 1966
حدیث نمبر: 11961
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ , قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا ، فَحَدَّثْتُ بِِذَاكَ ابْنَ عُمَرَ , فَقَالَ : لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ , فَلَقِيتُ أَنَسًا ، فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ , فَقَالَ : مَا تَعُدُّونَا إِلَّا صِبْيَانًا ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا " .
مولانا ظفر اقبال
بکر بن مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے، تو میں نے یہ حدیث حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کی، وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف حج کا تلبیہ پڑھا تھا، جب میری ملاقات حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات بتائی، وہ کہنے لگے کہ تم لوگ ہمیں بچہ سمجھتے ہو ؟ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو " لبیک عمرۃ وحجا " کہتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 4353، 4354 ، م: 1232
حدیث نمبر: 11962
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، حَسِبْتُهُ ، قَالَ : " عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا ، أَوْ قَالَ : سَمَّتَ ، وَتَرَكَ الْآخَرَ , فَقِيلَ : رَجُلَانِ عَطَسَ أَحَدُهُمَا فَشَمَّتَّهُ ، وَلَمْ تُشَمِّتْ الْآخَرَ ! ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کو جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دے دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا، کسی نے پوچھا کہ دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کو جواب دیا دوسرے کو کیوں نہ دیا ؟ فرمایا کہ اس نے " الحمدللہ " کہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6221 ، م: 2991
حدیث نمبر: 11963
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ ، وَالْأَنْصَارُ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نماز میں مہاجرین اور انصار مل کر کھڑے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11964
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَأْخُذْهَا ، وَلْيَمْسَحْ مَا بِهَا مِنَ الْأَذَى ، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گرجائے تو وہ اس پر لگنے والی چیز کو ہٹا دے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2034
حدیث نمبر: 11965
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ , عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَمْ يَكُنْ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ ، وَخَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ ، وَخَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاء " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5894 ، م: 2341
حدیث نمبر: 11966
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ , عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَاهُ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ ، وَكَلَّمَ أَهْلَهُ ، فَخَفَّفُوا عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو طیبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک صاع گندم دی اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5696 ، م: 1577
حدیث نمبر: 11967
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مِنْ أَتَمِّ النَّاسِ صَلَاةً وَأَوْجَزِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ نماز کو مکمل اور مختصر کرنے والے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 706 ، م: 469
حدیث نمبر: 11968
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَخْضَرَ بْنَ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَاعَ قَدَحًا وَحِلْسًا فِي مَنْ يَزِيدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بولی لگا کر ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ بیچا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال اب بكر الحنفي
حدیث نمبر: 11969
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ الْأَخْضَرِ , قَالَ : وحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبد الله بن عثمان يعني صَاحِبَ شُعْبَةَ , عَنْ الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقة
حدیث نمبر: 11970
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا غَالِبٌ الْقَطَّانُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ ، فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ وَجْهَهُ مِنَ الْأَرْضِ , بَسَطَ ثَوْبَهُ فََسَجَدَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ ہم لوگ سخت گرمی میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اگر ہم میں سے کسی میں زمین پر اپنا چہرہ رکھنے کی ہمت نہ ہوتی تو وہ اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرلیتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 358 ، م: 620
حدیث نمبر: 11971
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ ، وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن كسابقة، خ: 213
حدیث نمبر: 11971M
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَنَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہئے کہ واپس جا کر سو جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11971M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 597 ، م: 684
حدیث نمبر: 11972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً ، أَوْ نَامَ عَنْهَا , فَإِنَّمَا كَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا " ، قَالَ يَزِيدُ : فَكَفَّارَتُهَا أَنْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آجائے، اسے پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2734
حدیث نمبر: 11973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأُكْلَةَ ، فَيَحْمَدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا ، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندے سے صرف اتنی بات پر بھی راضی ہوجاتے ہیں کہ وہ کوئی لقمہ کھائے یا پانی کا گھونٹ پی کر اللہ کا شکر ادا کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2768 ، م: 2309
حدیث نمبر: 11974
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ ، فَمَا أَعْلَمُهُ قَالَ لِي قَطُّ : هَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ، وَلَا عَابَ عَلَيَّ شَيْئًا قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نو سال تک کی ہے، مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ فرمایا ہو کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا ؟ اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ میں کوئی عیب نکالا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1653 ، م: 1309
حدیث نمبر: 11975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ , قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قُلْتُ : أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقِلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ " صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ؟ ، قَالَ : بِمِنًى " , قلت : وَأَيْنَ " صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ ؟ ، قَالَ : بِالْأَبْطَحِ " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اگر آپ کو یہ بات معلوم ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ ذی الحجہ کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی تو مجھے بتا دیجئے ؟ انہوں نے فرمایا منیٰ میں، میں نے پوچھا کہ کوچ کے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی ؟ فرمایا مقام ابطح میں، پھر فرمایا کہ تم اسی طرح کرو جیسے تہمارے امراء کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 386, 5850 ، م: 555
حدیث نمبر: 11976
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ , وَغَسَّانُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ , قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 529
حدیث نمبر: 11977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو خِدَاشٍ الْيُحْمَدِيُّ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " مَا أَعْرِفُ شَيْئًا الْيَوْمَ مِمَّا كُنَّا عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْنَا لَهُ : فَأَيْنَ الصَّلَاةُ ؟ ، قَالَ : أَوَلَمْ تَصْنَعُوا فِي الصَّلَاةِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم جو کچھ کرتے تھے، آج مجھے ان میں کچھ بھی نظر نہیں آتا، لوگوں نے کہا کہ نماز کہاں گئی ؟ (ہم نماز تو پڑھتے ہیں) فرمایا کہ یہ تم بھی جانتے ہو کہ تم نماز میں کیا کرتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5846 ، م: 2101
حدیث نمبر: 11978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو زعفران کی خوشبو لگانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6351 ، م: 2680
حدیث نمبر: 11979
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيَ الْمَوْتَ ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي , وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6338 ، م: 2678