حدیث نمبر: 11301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى لَحْيَانَ بْنِ هُذَيْلٍ ، قَالَ : " لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا ، وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا ، وَاجْعَلْ الْبَرَكَةَ بَرَكَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دو میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور دونوں کو ثواب ملے گا۔ پھر فرمایا : اے اللہ ! ہمارے مد اور صاع میں برکت عطاء فرما اور اس برکت کو دو گ نافرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1374 ، 1896
حدیث نمبر: 11302
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَتْرِ ، فَقَالَ : " أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر صبح سے پہلے پہلے پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11302
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 754
حدیث نمبر: 11303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ عِنْدَ اسْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا جس سے اس کی شناخت ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11303
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1738
حدیث نمبر: 11304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبي هريرة ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنَ الْكَلَامِ أَرْبَعًا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، فَمَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، كُتِبَ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً وَحُطَّتْ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً ، وَمَنْ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ كُتِبَ أَوْ كُتِبَتْ لَهُ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً ، وَحُطَّ أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے چار قسم کے جملے منتخب فرمائے ہیں، سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر " جو شخص سبحان اللہ کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا بیس گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں، جو شخص اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہے، اس کا بھی یہی ثواب ہے اور جو شخص اپنی طرف سے الحمدللہ رب العالمین کہے، اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا تیس گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11304
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11305
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ، قَالَ لَهُ : إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ ، فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ ، فَإِنَّهُ : " لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ ، وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی صعصعہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور جنگل سے محبت کرتے ہو اس لئے تم اپنی بکریوں یا جنگل میں جب بھی اذان دیا کرو تو اونچی آواز سے دیا کرو، کیوں کہ جو چیز بھی خواہ وہ جن و انس ہو یا پتھر اذان کی آواز سنتی ہے۔ وہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گی یہ بات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11305
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 609
حدیث نمبر: 11306
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا مِنَ السَّحَرِ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَتَقَالُّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے دوسرے کو ساری رات سورت اخلاص کو بار بار پڑھتے ہوئے سنا تو صبح کے وقت وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی، اس کا خیال یہ تھا کہ یہ بہت تھوڑی چیز ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11306
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5013
حدیث نمبر: 11307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَزَعَةُ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ : إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ ، قُلْتُ : أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا لَكَ فِي ذَلِكَ مِنْ خَيْرٍ ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ ، فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ ، فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ، ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ، قَالَ : وَسَأَلْتُهُ عَنِ الزَّكَاةِ ، فَقَالَ : لَا أَدْرِي أَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا ؟ فِي مِائَتَيْ دِرْهَمٍ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ ، وَفِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ ، وَفِي الْإِبِلِ فِي خَمْسٍ شَاةٌ ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ ، قَالَ : سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ ، قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ " ، فَكَانَتْ رُخْصَةً ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ مُصَبِّحُ ، عَدُوِّكُمْ ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ ، فَأَفْطِرُوا " ، فَكَانَتْ عَزِيمَةً ، فَأَفْطَرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ .
مولانا ظفر اقبال
قزعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس وقت ان کے پاس بہت سے لوگ جمع تھے، جب لوگ چھٹ گئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ یہ لوگ آپ سے جو سوالات کررہے تھے، میں آپ سے وہ سوال نہیں کروں گا، میں آپ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ اس میں تمہارا کوئی فائدہ نہیں ہے، بالآخر حیل و حجت اور تکرار کے بعد انہوں نے فرمایا کہ جس وقت ظہر کی نماز کھڑی ہوتی، ہم میں سے کوئی شخص بقیع کی طرف جاتا، قضائے حاجت کرتا، گھر آکر وضو کرتا اور پھر مسجد واپس آتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابھی پہلی رکعت میں ہی ہوتے تھے۔ پھر میں نے ان سے زکوٰۃ کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے یا نسبت کئے بغیر) فرمایا کہ دو سو درہم پر پانچ درہم واجب ہیں اور چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری واجب ہے، جب ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو دو سو تک اس میں دو بکریاں واجب ہوں گی، پھر اگر ایک بھی زیادہ ہوجائے تو تین سو تک تین بکریاں ہوں گی، پھر ہر سو پر ایک بکری واجب ہوگی، اسی طرح پانچ اونٹوں پر ایک بکری واجب ہوگی، دس میں دو ، پندرہ میں تین، بیس میں چار اور پچیس سے پینتیس تک ایک بنت مخاض ٣٦ سے ٤٥ تک ایک بنت لبون، ٤٦ سے ٦٠ تک ایک حقہ، ٦١ سے ٧٥ تک ایک جذعہ، ٧٦ سے ٩٠ تک دو بنت لبون، ٩١ سے ١٢٠ تک دو حقے ہوں واجب ہوں گے، اس کے بعد ہر پچاس میں ایک حقہ اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون واجب ہوگی۔ پھر میں نے ان سے روزے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے کی حالت میں مکہ مکرمہ کا سفر کیا، ہم نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو اور اس حال میں روزہ ختم کردینا زیادہ قوت کا باعث ہوگا، یہ رخصت تھی، جس پر ہم میں سے بعض نے اپنا روزہ برقرار رکھا اور بعض نے ختم کرلیا، پھر جب ہم نے اگلا پڑاؤ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم دشمن کے سامنے آگئے ہو اور اس حال میں روزہ ختم کردینا زیادہ قوت کا باعث ہوگا اس لئے روزہ ختم کردو، یہ عزیمت تھی، اس لئے ہم نے روزہ ختم کردیا، پھر فرمایا کہ اس کے بعد ایک مرتبہ سفر میں ہم نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساتھ حالت روزہ میں بھی دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11307
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1120
حدیث نمبر: 11308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وجوب غسل آب حیات کے خروج پر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11308
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 180، م: 343 وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11309
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا ، قَالَ : " فَأَمَّا إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ ؟ ، قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَكَفُّ الْأَذَى ، وَرَدُّ السَّلَامِ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے گریز کیا کرو، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا، اس طرح ہم ایک دوسرے سے گپ شپ کرلیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ بیٹھنے سے گریز نہیں کرسکتے تو پھر راستے کا حق ادا کیا کرو، صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! راستے کا حق کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نگاہیں جھکا کر رکھنا، ایذاء رسانی سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11309
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6229، م:2121
حدیث نمبر: 11310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَخْرُجْ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ ، كَاشِفَانِ عَوْرَتَهُمَا ، يَتَحَدَّثَانِ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے دو آدمی آپس میں اس طرح باتیں کرتے ہوئے نہ نکلیں کہ وہ استنجاء کر رہے ہوں اور ان کی شرمگاہیں نظر آرہی ہوں، کیوں کہ اللہ اس طرح کرنے سے ناراض ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 11311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَطْيَبُ الطِّيبِ الْمِسْكُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشک سب سے عمدہ خوشبو ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2252
حدیث نمبر: 11312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ لَا يَتْرُكُهَا ، وَيَتْرُكُهَا حَتَّى نَقُولَ لَا يُصَلِّيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات چاشت کی نماز اس تسلسل سے پڑھتے تھے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب آپ اسے نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے چھوڑتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب آپ یہ نماز نہیں پڑھیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَمْتَلِئَ الْأَرْضُ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا " ، قَالَ : " ثُمَّ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ عِتْرَتِي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَؤُهَا قِسْطًا وَعَدْلًا ، كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک وہ ظلم و جور سے بھر نہ جائے، پھر میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی نکلے گا، وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک آدمی امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 672
حدیث نمبر: 11315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ فِي الْفِطْرِ ، فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ ، فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ ، فَيَقُول : " تَصَدَّقُوا ، تَصَدَّقُوا ، تَصَدَّقُوا " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَكَانَ أَكْثَرَ مَا يَتَصَدَّقُ مِنَ النَّاسِ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمِ وَالشَّيْءِ ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ فِي الْبَعْثِ ذَكَرَهُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ انْصَرَفَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عیدگاہ کے لئے) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرمالیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ دیا کرتی تھیں، پھر اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما دیتے، ورنہ واپس چلے جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 889
حدیث نمبر: 11316
حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي دَاوُدُ ، فَذَكَرَهُ ، قَالَ : وَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَضْرِبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا ذَكَرَهُ ، وَإِلَّا انْصَرَفَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أُصِيبَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا ، فَكَثُرَ دَيْنُهُ ، قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے پھل خریدے، لیکن اس میں اسے نقصان ہوگیا اور اس پر بہت زیادہ قرض چڑھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو اس پر صدقہ کرنے کی ترغیب دی، لوگوں نے اسے صدقات دے دئیے، لیکن وہ اتنے نہ ہوسکے جن سے اس کے قرضے ادا ہوسکتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ جو مل رہا ہے وہ لے لو، اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1556
حدیث نمبر: 11318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا طَوِيلًا عَنِ الدَّجَّالِ ، فَقَالَ فِيمَا يُحَدِّثُنَا قَالَ : " يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ رَجُلٌ يَوْمَئِذٍ وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ ، أَوْ مِنْ خَيْرِهِمْ ، فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ أَتَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ ؟ فَيَقُولُونَ : لَا ، فَيَقْتُلُهُ ، ثُمَّ يُحْيِيهِ ، فَيَقُول : حِينَ يَحْيَا وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً فِيكَ مِنِّي الْآنَ ، قَالَ : فَيُرِيدُ قَتْلَهُ الثَّانِيَةَ ، فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے حوالے سے ہمارے سامنے ایک طویل حدیث بیان فرمائی، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن اس پر مدینہ منورہ کی کسی نقب سے بھی اندر داخل ہونا ممنوع ہوگا، اس دن اس کی طرف ایک آدمی نکل کر جائے گا جو تمام لوگوں میں سب سے بہترین ہوگا اور وہ کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں اسے قتل کر کے دوبارہ زندہ کروں تو کیا تمہیں اس معاملے میں کوئی شک رہے گا ؟ لوگ کہیں گے کہ نہیں، چنانچہ وہ اسے قتل کرکے دوبارہ زندہ کردے گا، وہ آدمی کہے گا بخدا ! مجھے تیرے معاملے میں اب سے پہلے اتنی بصیرت حاصل نہ تھی، دجال غضب ناک ہو کر اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن اس مرتبہ اسے یہ قدرت نہیں دی جائے گی .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1882، م: 2938
حدیث نمبر: 11319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ ، إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ ، أَوْ عَلَى قَدَمَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ وَلَا يَدْعُو إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال کھجور کے ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں بہترین اور بدترین انسان کے بارے نہ بتاؤں ؟ بہترین آدمی تو وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے، اونٹ یا اپنے پاؤں پر موت تک جہاد کرتا رہے اور بدترین آدمی وہ فاجر شخص ہے جو گناہوں پر جری ہو، قرآن کریم پڑھتا ہو لیکن اس سے کچھ اثر قبول نہ کرتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الخطاب المصري
حدیث نمبر: 11320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ عِيَاضٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَبَّهَ عَلَى أَحَدِكُمْ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ ، فَقَالَ : أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ فِي نَفْسِهِ كَذَبْتَ ، حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا بِأُذُنَيْهِ أَوْ يَجِدَ رِيحًا ، بِأَنْفِهِ وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ، وَهُوَ جَالِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّ یہ کہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان میں اس کی آواز سن لیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال
حدیث نمبر: 11321
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال الأنصاري ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَوْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ مَعْمَرٌ شَكَّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ ، قَالَ : " ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ ، يَعْبُدُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین آدمی کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مومن جو اپنی جان و مال سے راہ اللہ میں جہاد کرے، سائل نے پوچھا اس کے بعد کون ہے ؟ فرمایا وہ مومن جو کسی بھی محلے میں الگ تھلگ رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بچاتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6494، م: 1888 وشك معمر فى هذا الحديث لا يؤثر، فقد روي عنه من غير شك، والحديث هو حديث عطاء بن يزيد الليثي
حدیث نمبر: 11323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مَعَ التَّثَاؤُبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو وہ اپنے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لے، شیطان اس کے منہ میں داخل ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2995
حدیث نمبر: 11324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر صبح سے پہلے پہلے پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:754
حدیث نمبر: 11325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الضِّيَافَةُ ثَلَاثٌ ، فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، وہ صدقہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ يُبْعَثُ فِي أُمَّتِي عَلَى اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَزَلَازِلَ ، فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا ، كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا ، يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ ، يَقْسِمُ الْمَالَ صِحَاحًا " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : مَا صِحَاحًا ؟ ، قَالَ : " بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ " ، قَالَ : " وَيَمْلَأُ اللَّهُ قُلُوبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِنًى ، وَيَسَعُهُمْ عَدْلُهُ ، حَتَّى يَأْمُرَ مُنَادِيًا فَيُنَادِي ، فَيَقُولُ : مَنْ لَهُ فِي مَالٍ حَاجَةٌ ، فَمَا يَقُومُ مِنَ النَّاسِ إِلَّا رَجُلٌ ، فَيَقُولُ : أنا ، فيقول : ائْتِ السَّدَّانَ ، يَعْنِي الْخَازِنَ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ الْمَهْدِيَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَالًا ، فَيَقُولُ لَهُ : احْثِ حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ فِي حِجْرِهِ وَأَبْرَزَهُ نَدِمَ ، فَيَقُولُ : كُنْتُ أَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ نَفْسًا ، أَوَعَجَزَ عَنِّي مَا وَسِعَهُمْ ؟ ، قَالَ : فَيَرُدُّهُ ، فَلَا يَقْبَلُ مِنْهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : إِنَّا لَا نَأْخُذُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ ، فَيَكُونُ كَذَلِكَ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ ، ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُ ، أَوْ قَالَ : ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْحَيَاةِ بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں مہدی کی خوشخبری سناتا ہوں، جو میری امت میں اس وقت ظاہر ہوگا جب اختلافات اور زلزلے بکثرت ہوں گے اور وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم وستم سے بھری ہوئی ہوگی، اس سے آسمان والے بھی خوش ہوں گے اور زمین والے بھی، وہ مال کو صحیح صحیح تقسیم کرے گا، کسی نے پوچھا صحیح صحیح تقسیم کرنے سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا لوگوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کرے گا اور اس کے زمانے میں اللہ امت محمدیہ کے دلوں کو غناء سے بھر دے گا اور اس کے عدل سے انہیں کشادگی عطاء فرمائے گا، حتیٰ کہ وہ ایک منادی کو حکم دے گا اور وہ نداء لگاتا پھرے گا کہ جسے مال کی ضرورت ہو، وہ ہمارے پاس آجائے، تو صرف ایک آدمی اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ مجھے ضرورت ہے، وہ اس سے کہے گا کہ تم خازن کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ مہدی تمہیں حکم دیتے ہیں کہ مجھے مال عطاء کرو، خزانچی حسب حکم اس سے کہے گا کہ اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر اٹھالو، جب وہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر باندھ لے گا تو اسے شرم آئے گی اور وہ اپنے دل میں کہے گا کہ میں تو امت محمدیہ میں سب سے زیادہ بھوکا نکلا، کیا میرے پاس اتنا نہیں تھا جو لوگوں کے پاس تھا۔ یہ سوچ کر وہ سارا مال واپس لوٹا دے گا، لیکن وہ اس سے واپس نہیں لیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ ہم لوگ دے کر واپس نہیں لیتے، سات، یا آٹھ، یا نو سال تک یہی صورت حال رہے گی، اس کے بعد زندگی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال العلاء بن بشير المزني ولجهالة المعلي بن زياد القردوسي
حدیث نمبر: 11327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبي هريرة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنَ الْكَلَامِ أَرْبَعًا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، فَمَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، كُتِبَ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً ، وَحُطَّ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً ، وَمَنْ قَالَ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ ، كُتِبَ لَهُ بِهَا ثَلَاثُونَ حَسَنَةً أَوْ حُطَّ عَنْهُ ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے چار قسم کے جملے منتخب فرمائے ہیں سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر جو شخص سبحان اللہ کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا بیس گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، جو شخص اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہے اس کا بھی یہی ثواب ہے اور جو شخص اپنی طرف سے الحمدللہ رب العالمین کہے، اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا تیس گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَبِعْتُمْ جَنَازَةً فَلَا تَجْلِسُوا حَتَّى تُوضَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازے کے ساتھ جاؤ تو جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1310، م: 959
حدیث نمبر: 11329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَزُورُوهَا ، فَإِنَّ فِيهَا عِبْرَةً ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ ، فَاشْرَبُوا ، وَلَا أُحِلُّ مُسْكِرًا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَضَاحِيِّ ، فَكُلُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، لیکن اب چلے جایا کرو کیونکہ اس میں سامانِ عبرت موجود ہے اور میں نے تمہیں نبیذ پینے سے منع کیا تھا لیکن اب پی سکتے ہو، تاہم میں کسی نشہ آور مشروب کی اجازت نہیں دیتا اور میں نے تمہیں قربانی کا گوشت (تین دن سے زیادہ) رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھاسکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11330
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَمَى ، أَوْ ضَرَبَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَجْتَنِبْ وَجْهَ أَخِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو اس کے چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بغير هذا اللفظ، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى إسرائيل الملائي، وعطية العوفي، وانظر: 11886 وله شاهد من حديث أبى هريرة عند البخاري:2559
حدیث نمبر: 11331
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَرْفَعُهُ ، قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يُرِيدُ بِهَا بَأْسًا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهَا الْقَوْمَ ، فَإِنَّهُ لَيَقَعُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنَ السَّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات انسان کوئی بات منہ سے نکالتا ہے، اس کا مقصد صرف لوگوں کو ہنسانا ہوتا ہے، لیکن وہ کلمہ اسے آسمان سے بھی دور لے جا کر پھینکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه، ولهذا الحديث أصل صحيح من حديث أبى هريرة عند البخاري: 6477 و مسلم: 2988 ولفظه عند البخاري:إن العبد ليتكلم بالكلمة مايتبين فيها يزل بها فى النار أبعد مابين المشرق
حدیث نمبر: 11332
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبي سعيد ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَيُنَادَى مَعَ ذَلِكَ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا " ، قَالَ : " يُنَادَوْنَ بِهَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں یہ منادی کردی جائے گی کہ تم زندہ رہو گے، کبھی نہ مرو گے، ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ ہوگے، ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بوڑھے نہ ہوگے، ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے، کبھی غم نہ دیکھو گے یہ چار انعامات منادی کرکے سنائیں جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2837
حدیث نمبر: 11333
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا : أَنْبَأَنَا سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا دَرَّاجٍ أَبَا السَّمْحِ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْهَيْثَمِ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُعْدَلُ الدَّيْنُ بِالْكُفْرِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں کفر اور قرض سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا قرض بھی کفر کے برابر ہوسکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں !
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، دراج أبو السمح فى روايته عن أبى الهيثم ضعيف، ابن لهيعة ضعيف وقد توبع
حدیث نمبر: 11334
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا السَّمْحِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُسَلَّطُ عَلَى الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا ، تَلْدَغُهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، فَلَوْ أَنَّ تِنِّينًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ خَضْرًَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کافر پر اس کی قبر میں نناوے اژد ہے مسلط کئے جاتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہیں گے، اگر ان میں سے ایک اژدہا بھی زمین پر پھونک مار دے تو زمین پر کبھی گھاس نہ اگ سکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11334
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف دراج أبى السمح فى روايته عن أبى الهيثم
حدیث نمبر: 11335
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ عَلَى آخِيَّتِهِ ، يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کی سی ہے جو اپنے کھونٹے پر بندھا ہوا ہو، کہ گھوڑا گھوم پھر کر اپنے کھونٹے ہی کی طرف واپس آتا ہے اور مومن بھی گھوم پھر کر ایمان ہی کی طرف واپس آجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11335
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى سليمان الليثي ، وعبدالله بن الوليد التجيبي لين الحديث
حدیث نمبر: 11336
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ هَمٌّ ، وَلَا حَزَنٌ ، وَلَا نَصَبٌ ، وَلَا وَصَبٌ ، وَلَا أَذًى ، إِلَّا كُفِّرَ به عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری اور دکھ پہنچتے ہیں، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11336
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، م: 2573 وهذا إسناد ضعيف لجهالة إسماعيل، ويزيد بن محمد القرشي لم يسمع من أبى سعيد الخدري، ولم يدرك أحدا من الصحابة
حدیث نمبر: 11337
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَوْ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَصْحَبْ إِلَّا مُؤْمِنًا ، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف مومن ہی کو اپنا ہمنشین بناؤ اور تمہارا کھانا کوئی متقی ہی کھائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11337
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11338
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ إِذَا رَضِيَ عَنِ الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنَ الْخَيْرِ لَمْ يَعْمَلْهُ ، وَإِذَا سَخِطَ عَلَى الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنَ الشَّرِّ لَمْ يَعْمَلْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب اللہ کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو اس کی طرف خیر کے سات ایسے کام پھیر دیتا ہے جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے اور جب کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو شر کے سات کام اس کی طرف پھیر دیتا ہے، جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11338
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف دراج أبى السمح فى روايته عن أبى الهيثم
حدیث نمبر: 11339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَجَابِرٍ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا، جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11339
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2914، 2913
حدیث نمبر: 11340
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَكُونُ خَلْفٌ من بَعْدَ سِتِّينَ سَنَةً أَضَاعُوا الصَّلَاةَ ، وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ، فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ، ثُمَّ يَكُونُ خَلْفٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ مُؤْمِنٌ ، وَمُنَافِقٌ ، وَفَاجِرٌ " ، قَالَ بَشِيرٌ ، فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ : مَا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ ؟ ، فَقَالَ : الْمُنَافِقُ كَافِرٌ بِهِ ، وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ ، وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ساٹھ سال بعد حکمرانوں کے جانشین ایسے ہوں گے جو نماز کو ضائع کردیں گے، اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے اور جہنم کے گڑھے میں جاپڑیں گے، ان کے بعد ایسے لوگ جانشین ہوں گے جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور قرآن کریم کی تلاوت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں مومن، منافق اور فاجر، راوی حدیث بشیر کہتے ہیں کہ میں نے ولید سے پوچھا کہ یہ تین لوگ کیسے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ منافق تو اس کا منکر ہوتا ہے، فاجر آدمی اس کے ذریعے کھاتا ہے اور مومن اس پر ایمان رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11340
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن