حدیث نمبر: 11261
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ ، عِرَاضَ الْوُجُوهِ ، كَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ، يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ ، وَيَتَّخِذُونَ الدَّرَقَ حَتَّى يَرْبُطُوا خُيُولَهُمْ بِالنَّخْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کرلو جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے چپٹے ہوں گے، ان کی آنکھیں ٹڈیوں کے حلقہ چشم کی طرح ہوں گی اور چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے، وہ لوگ بالوں کی جوتیاں پہنتے ہوں گے اور چمڑے کی ڈھالیں استعمال کرتے ہوں گے اور اپنے گھوڑے درختوں کے ساتھ باندھتے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 11262
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ ، فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ فِي فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو جمائی آجائے، تو وہ حسب طاقت اپنا منہ بند رکھے ورنہ شیطان اس کے منہ میں داخل ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 11263
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَطَبَ قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔
حدیث نمبر: 11264
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَامَ عَنِ الْوَتْرِ أَوْ نَسِيَهُ ، فَلْيُوتِرْ إِذَا ذَكَرَهُ أَوْ اسْتَيْقَظَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وتر پڑھے بغیر سو گیا یا بھول گیا، اسے چاہئے کہ جب یاد آجائے یا بیدار ہوجائے، تب پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 11265
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کرام (علیہم السلام) کے درمیان کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح اور فوقیت نہ دیا کرو۔
حدیث نمبر: 11266
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا سورة الأنعام آية 158 ، قَالَ : " طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " یوم یأتی بعض آیت ربک " سے مراد سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔
حدیث نمبر: 11267
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : : " كَانَ الْمُؤَلَّفَةُ قُلُوبُهُمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةً : عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ الْجَعْفَرِيَّ ، وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيَّ ، وَزَيْدَ الْخَيْلِ الطَّائِيَّ ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ الْفَزَارِيَّ ، قَالَ : فَقَدِمَ عَلِيٌّ بِذَهَبَةٍ مِنَ الْيَمَنِ بِتُرْبَتِهَا ، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مؤلفۃ القلوب چار آدمی تھے، علقمہ بن علاثہ عامری، اقرع بن حابس، زیدالخیل اور عیینہ بن بدر، ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی تھی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ چاروں آدمیوں میں تقسیم کردیا۔
حدیث نمبر: 11268
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ : فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ ، فَتَصَدَّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَى لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار کے لئے صدقہ زکوٰۃ حلال نہیں، سوائے تین مواقع کے، جہاد فی سبیل اللہ میں، حالت سفر میں اور ایک اس صورت میں کہ اس کے پڑوسی کو کسی صدقہ کی کوئی چیز بھیجی اور وہ اسے مالدار کے پاس ہدیہ بھیج دے۔
حدیث نمبر: 11269
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : ذُكِرَ الْمِسْكُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے " مشک " کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔
حدیث نمبر: 11270
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُودُوا الْمَرِيضَ ، وَاتَّبِعُوا الْجَنَازَةَ ، تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مریض کی عیادت کیا کرو اور جنازے کے ساتھ جایا کرو، اس سے تمہیں آخرت کی یاد آئے گی۔
حدیث نمبر: 11271
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَسَطُ الْعَدْلُ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا سورة البقرة آية 143 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " امۃ وسطاً " کی تفسیر امت معتدلہ سے فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 11272
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی، البتہ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11273
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الْحَيَّةَ ؟ فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ محرم سانپ کو مار سکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 11274
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : اشْتَرَيْتُ كَبْشًا أُضَحِّي بِهِ ، فَعَدَا الذِّئْبُ ، فَأَخَذَ الْأَلْيَةَ ، قَالَ : فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ضَحِّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے قربانی کے لئے ایک مینڈھا خریدا، اتفاق سے ایک بھیڑیا آیا اور اس کے سرین کا حصہ نوچ کر کھا گیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (کہ اس کی قربانی ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔
حدیث نمبر: 11275
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فِرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور) ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔
حدیث نمبر: 11276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ الرُّمَّانِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رِيَاحِ بْنِ عَبِيدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ غَيْرِهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھا کر فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا۔
حدیث نمبر: 11277
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ ، قَالَ مِسْعَرٌ : أَظُنُّهُ فِي شَرَابٍ ، فَضَرَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شراب کے نشے میں مدہوش ایک آدمی کو لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چالیس جوتے مارے۔
حدیث نمبر: 11278
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ : أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ ؟ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : فَإِنِّي لَا أُرْوَى بِنَفَسٍ وَاحِدٍ ، قَالَ : " أَبِنْهُ عَنْ فِيكَ ، ثُمَّ تَنَفَّسْ " ، قَالَ : فَإِنْ رَأَيْتُ قَذَاءً ؟ قَالَ : " فَأَهْرِقْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالمثنیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لے لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں ؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔
حدیث نمبر: 11280
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ لَمْ يَشْكُرْ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرْ اللَّهَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 11281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 11282
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ ، وَأَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ إِذَا رَجَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا خود زیادہ حقدار ہوتا ہے اور مجلس سے جا کر واپس آنے پر اپنی نشست کا بھی وہی زیادہ حقدار ہوتا ہے
حدیث نمبر: 11283
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُدْعَى نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَام يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ لَهُ : هَلْ بَلَّغْتَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيُدْعَى قَوْمُهُ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : هَلْ بَلَّغَكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ ، أَوْ مَا أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ ، قَالَ : فَيُقَالُ لِنُوحٍ : مَنْ يَشْهَدُ لَكَ ، فَيَقُولُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ، قَالَ : فَذَلِكَ قَوْلُهُ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا سورة البقرة آية 143 ، قَالَ : الْوَسَطُ الْعَدْلُ ، قَالَ : فَيُدْعَوْنَ ، فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالْبَلَاغِ ، قَالَ : ثُمَّ أَشْهَدُ عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے پیغام توحید پہنچا دیا گیا تھا ؟ وہ جواب دیں گے جی ہاں ! پھر ان کی قوم کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اور ہمارے پاس کوئی نہیں آیا، حضرت نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا کہ آپ کے حق میں کون گواہی دے گا ؟ وہ جواب دیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت، یہی مطلب ہے اس آیت کا " کذلک جعلناکم امۃ وسطاً " کہ اس میں وسط سے مراد معتدل ہے، چنانچہ اس امت کو بلایا جائے گا اور وہ حضرت نوح علیہ السلام کے حق میں پیغامِ توحید پہنچانے کی گواہی دے گی، پھر تم پر میں گواہ بن کر گواہی دوں گا۔
حدیث نمبر: 11284
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : " يَا آدَمُ ، قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ ، فَيَقُولُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ يَا رَبِّ ، وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ ، قَالَ : مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ، قَالَ : فَحِينَئِذٍ يَشِيبُ الْمَوْلُودُ ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ سورة الحج آية 2 ، قَالَ : فَيَقُولُونَ : فَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَمِنْكُمْ وَاحِدٌ " ، قَالَ : فَقَالَ النَّاسُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَكَبَّرَ النَّاسُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے آدم ! کھڑے ہوجاؤ اور جہنم کی فوج نکالو وہ لبیک کہہ کر عرض کریں گے کہ پروردگار ! جہنم کی فوج سے کیا مراد ہے ؟ ارشاد ہوگا کہ ہر ہزار میں سے نو سو نناوے جہنم کے لئے نکال لو، یہ وہ وقت ہوگا جب نو مولود بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور ہر حاملہ عورت کا وضع حمل ہوجائے گا اور تم دیکھو گے کہ لوگ مدہوش ہو رہے ہیں، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ ایک خوش نصیب ہم میں سے کون ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نو سونناوے آدمی یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے اور ایک تم میں سے ہوگا، یہ سن کر صحابہ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہوجاؤ، بخدا ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو، مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوگے، بخدا ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ ہوگے، اس پر صحابہ نے پھر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اس دن کالے بیل میں سفید بال کی طرح یا سفید بیل میں کالے بال کی طرح ہو گے۔
حدیث نمبر: 11285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ وَاجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ ، قَالَ : " لَا وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ ، لَيَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي ، تُحَقِّرُونَ أَعْمَالَكُمْ مَعَ أَعْمَالِهِمْ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ ، كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " قَالُوا : فَهَلْ مِنْ عَلَامَةٍ يُعْرَفُونَ بِهَا ، قَالَ : " فِيهِمْ رَجُلٌ ذُو يُدَيَّةٍ أَوْ ثُدَيَّةٍ مُحَلِّقِي رُءُوسِهِمْ " قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَحَدَّثَنِي عِشْرُونَ أَوْ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَلِيَ قَتْلَهُمْ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ بَعْدَمَا كَبِرَ ، وَيَدَاهُ تَرْتَعِشُ ، يَقُولُ : قِتَالُهُمْ أَحَلُّ عِنْدِي مِنْ قِتَالِ عِدَّتِهِمْ مِنَ التُّرْكِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بات پر بڑی پختہ قسم کھاتے تو یوں کہتے " لا والذی نفس ابی القاسم بیدہ " ایک مرتبہ یہی قسم کھا کر فرمایا میری امت میں ایک ایسی قوم ضرور ظاہر ہوگی جن کے اعمال کے سامنے تم اپنے اعمال کو حقیر سمجھو گے، وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ لوگ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، صحابہ پوچھا کہ ان کی کوئی علامت بھی ہے جس سے انہیں پہچانا جاسکے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں ایک آدمی ہوگا جس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی کا نشان ہوگا اور ان لوگوں کے سر منڈے ہوئے ہوں گے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے بھی زیادہ صحابہ نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تہہ تیغ کیا تھا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے بڑھاپے میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو اس وقت دیکھا تھا جب ان کے ہاتھوں پر بھی رعشہ طاری تھا، وہ فرما رہے تھے کہ میرے نزدیک اتنی تعداد میں ترکوں کو قتل کرنے سے ان لوگوں کو قتل کرنا زیادہ حلال تھا۔
حدیث نمبر: 11286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَفِيقُ فَأَجِدُ مُوسَى مُتَعَلِّقًا بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِي أَجُزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ ، أَوْ أَفَاقَ قَبْلِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ایک دوسرے پر ترجیح نہ دیا کرو، قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر کھلے گی اور مجھے افاقہ ہوگا، تو میں دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام عرشِ الہٰی کے پائے پکڑے کھڑے ہیں، اب مجھے معلوم نہیں کہ طور پر پہاڑ کی بےہوشی کو ان کا بدلہ قرار دیا دے دیا گیا یا انہیں مجھ سے پہلے ہوش آگیا ہوگا
حدیث نمبر: 11287
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَيْهِمَا : " مَا قَعَدَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى إِلَّا حَفَّتْ بِهِمْ الْمَلَائِكَةُ ، وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ ، وَتَغَشَّتْهُمْ الرَّحْمَةُ ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے، فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں، ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملاء الاعلی میں کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 11288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَتْ الْيَهُودُ : الْعَزْلُ الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى ، قَالَ أَبِي : وَكَانَ فِي كِتَابِنَا أَبُو رِفَاعَةَ بْنُ مُطِيعٍ ، فَغَيَّرَهُ وَكِيعٌ ، وَقَالَ : عَنْ أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَبَتْ يَهُودُ ، إِنَّ اللَّهَ لَوْ أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا ، لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدٌ أَنْ يَصْرِفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودی کہا کرتے تھے عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی سی صورت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس میں رکاوٹ بن سکے۔
حدیث نمبر: 11289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِهِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ " ، قَالَ : فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَقَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ " ، وَعَلِيٌّ يَخْصِفُ نَعْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بعض لوگ قرآن کی تفسیر و تاویل پر اس طرح قتال کریں گے جیسے میں اس کی تنزیل پر قتال کرتا ہوں، اس پر حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، اس سے مراد جوتی گانٹھنے والا ہے اور اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جوتی گانٹھ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 11290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُعَيْقِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَقَالَ غير يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيِّ وَهُوَ أَبُو الْهَيْثَمِ ، وَكَانَ فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ . وعَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَا تُخْلِفْنِيهِ ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ ، أَوْ قَالَ : لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً ، وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! میں تجھ سے ایک عہد لیتا ہوں جس کی تو مجھ سے کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا، میں بھی ایک انسان ہوں، اے اللہ ! میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذاء پہنچائی ہو یا کوڑا مارا ہو یا گالی اور لعنت ملامت کی ہو، اسے اس شخص کے لئے باعثِ تزکیہ و رحمت بنادے اور قیامت کے دن اپنی قربت کا سبب بنادے۔
حدیث نمبر: 11291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ ، فَقَالَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا ؟ قَالَ : " سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ قَوْمًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ ، يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ عِنْدَ صَلَاتِهِمْ ، وَصَوْمَهُ عِنْدَ صَوْمِهِمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، ثُمَّ نَظَرَ فِي رُصَافِهِ ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قِدْحَتِهِ ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، ثُمَّ نَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى ، هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرقہ حروریہ کا بھی کوئی تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی قوم کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے جو دین میں تعمق کی راہ اختیار کرلیں گے، ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو، ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن یہ لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔
حدیث نمبر: 11292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا ، فَقَالَ : " تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي ، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ کچھ پیچھے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم آگے بڑھ کر میری اقتداء کیا کرو، بعد والے تمہاری اقتداء کریں گے، کیوں کہ لوگ مسلسل پیچھے ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ انہیں قیامت کے دن پیچھے کردے گا۔
حدیث نمبر: 11293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى رَجُلٍ يَصْرِفُ رَاحِلَتَهُ فِي نَوَاحِي الْقَوْمِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ ، وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ " حَتَّى رَأَيْنَا أَنْ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنی سواری کو لوگوں کے آگے پیچھے چکر لگوا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد سواری ہو، وہ اس شخص کو دے دے جس کے پاس ایک بھی سواری نہ ہو اور جس شخص کے پاس زائد ہو توشہ ہو، وہ اس شخص کو دے دے جس کے پاس بالکل ہی نہ ہو، حتیٰ کہ ہم سمجھنے لگے کہ کسی زائد چیز میں ہمارا کوئی حق ہی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11294
(حديث مرفوع) قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا ، فَأَعْجَبْنَنِي ، وَأَيْنَقْنَنِي ، قَالَ عَفَّانُ : وَآنَقْنَنِي : " نَهَى أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ ، قَالَ عَفَّانُ : أَوْ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَنَهَى عَنْ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الْغَدَاةِ ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ ، يَوْمِ النَّحْرِ ، وَيَوْمِ الْفِطْرِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ ، مَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى ، وَمَسْجِدِي هَذَا " . قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ أَنْبَأَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چار چیزیں سنی ہیں جو مجھے بہت اچھی لگی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی عورت دو دن کا سفر اپنے محرم، شوہر کے بغیر کرے، اور نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے تیاری نہ کی جائے۔
حدیث نمبر: 11295
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْل ، ثُمَّ يَنْزِلُ ، فَيَقُولُ : هَلْ مِنْ سَائِلٍ ؟ هَلْ مِنْ تَائِبٍ ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ ؟ هَلْ مِنْ مُذْنِبٍ ؟ " ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے ؟ کون ہے جو توبہ کرے ؟ ایک آدمی نے پوچھا یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے ؟ تو فرمایا ہاں !
حدیث نمبر: 11296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ النِّسَاءَ قُلْنَ : غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَأْتِيكَ فِيهِ ، فَوَاعَدَهُنَّ مِيعَادًا فَأَمَرَهُنَّ ، وَوَعَظَهُنَّ ، وَقَالَ : " مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ يَمُوتُ لَهَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ " ، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ أَوْ اثْنَانِ : فَإِنَّهُ مَاتَ لِي اثْنَانِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْ اثْنَان " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ خواتین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی مجلس میں شرکت کے حوالے سے مرد ہم پر غالب ہیں، آپ ہمارے لئے بھی ایک دن مقرر فرما دیجئے جس میں ہم آپ کے پاس آسکیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک مقررہ وقت کا وعدہ فرمالیا اور وہاں انہیں وعظ نصیحت فرمائی اور فرمایا کہ تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہوجائیں، وہ اس کے لئے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے، ایک عورت نے پوچھا کہ اگر دوہوں تو کیا حکم ہے ؟ کہ میرے دو بچے فوت ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ہوں تو بھی یہی حکم ہے .
حدیث نمبر: 11297
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْوَدَّاكِ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ : عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، يَقُولُ : لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ نَشْوَانَ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَشْرَبْ خَمْرًا ، إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِهِ فَنُهِزَ بِالْأَيْدِي ، وَخُفِقَ بِالنِّعَالِ ، " وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَنَهَى عَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ ، يَعْنِي أَنْ يُخْلَطَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابن وداک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جب حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے، میں نے عہد کرلیا کہ نبیذ نہیں پیوں گا، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نشے کی حالت میں ایک نوجوان کو لایا گیا، اس نے کہا کہ میں نے شراب نہیں پی بلکہ ایک مٹکے میں رکھی ہوئی کشمش اور کھجور کا پانی پیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے ہاتھوں اور جوتوں سے مارا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمادیا۔
حدیث نمبر: 11298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَسُئِلَ عَنِ الثَّلَاثَةِ يَجْتَمِعُونَ فَتَحْضُرُهُمْ الصَّلَاةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک آدمی امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔
حدیث نمبر: 11299
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي ، فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ أَبَى ، فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔
حدیث نمبر: 11300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَبْغُضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔
…