حدیث نمبر: 11223
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مَطَرٌ وَالْمُعَلَّى ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُمْلَأُ الْأَرْضُ ظُلْمًا وَجَوْرًا ، ثُمَّ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ عِتْرَتِي يَمْلِكُ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین ظلم وجور سے بھری ہوئی ہوگی، پھر میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی نکلے گا، وہ زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی اور وہ سات یا نو سال تک رہے گا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، دون قوله: يملك سبعاً أوتسعاً ، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة المعلى القردوسي، وبينه وبين أبى الصديق العلاء بن بشير وهو مجهول الحال، ومطر فيه ضعف، وقد توبع
حدیث نمبر: 11224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَطْمَئِنُّ إِلَيْهِمْ الْقُلُوبُ ، وَتَلِينُ لَهُمْ الْجُلُودُ ، ثُمَّ يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْمَئِزُّ مِنْهُمْ الْقُلُوبُ ، وَتَقْشَعِرُّ مِنْهُمْ الْجُلُودُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنُقَاتِلُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " لَا مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے جن سے دل مطمئن ہوں گے اور جسم ان کے لئے نرم ہوں گے، اس کے بعد ایسے لوگ حکمران بنیں گے جن سے دل گھبرائیں گے اور جسم کانپیں گے، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے قتال کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا سند ضعيف لجهالة الوليد صاحب عبدالله البهي
حدیث نمبر: 11225
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ صُهَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اشْتَكَيْتَ يَا مُحَمَّدُ " ، قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ يَشْفِيكَ ، بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ اے محمد ! کیا آپ بیمار ہوگئے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس پر حضرت جبرائیل نے کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے اور ہر نفس کے شر سے اور نظر بد سے، اللہ آپ کو شفا عطاء فرمائے، میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2186
حدیث نمبر: 11226
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُفْطِرُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے کچھ کھالیا کرتے تھے اور نماز عید سے پہلے نوافل نہیں پڑھتے تھے، جب نماز عید پڑھ لیتے تب دو رکعتیں پڑھتے تھے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11227
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا غَشِيَ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے، پھر دوبارہ جانے کی خواہش ہو تو وضو کرلے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 308
حدیث نمبر: 11228
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، وأبي إسحاق ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي سَبْيِ أَوْطَاسٍ : " لَا يَقَعُ عَلَى حَامِلٍ حَتَّى تَضَعَ ، وَغَيْرِ حَامِلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا تھا کوئی شخص کسی حاملہ باندی سے مباشرت نہ کرے، تاآنکہ وضع حمل ہوجائے اور اگر وہ غیر حاملہ ہو تو ایام کا ایک دور گذرنے تک اس سے مباشرت نہ کرے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي
حدیث نمبر: 11229
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُون قال عبد الله بن أحمد : وسَمِعْته أَنَا مِنْ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا ، أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ ، فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَالَ فَاسْتَقِدْ " ، قَالَ : قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے، ایک آدمی سامنے سے آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھک کر کھڑا ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود چھڑی اسے چبھا دی، اس سے اس کے چہرے پر زخم لگ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا آگے بڑھ کر مجھ سے قصاص لے لو، اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے معاف کردیا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيدة بن مسافع، قال الحافظ فى تهذيب التهذيب عن ابن المديني قوله فيه: مجهول، ولا أدري سمع من أبى سعيد أم لا
حدیث نمبر: 11230
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْمَلُ فِي صَخْرَةٍ صَمَّاءَ ، لَيْسَ لَهَا بَابٌ وَلَا كُوَّةٌ ، لَخَرَجَ عَمَلُهُ لِلنَّاسِ كَائِنًا مَا كَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں کوئی شخص کسی ایسی بند چٹان میں چھپ کر عمل کرے جس کا نہ کوئی دہانہ ہو اور نہ ہی کوئی روشندان، تب بھی اس کا وہ عمل لوگوں کے سامنے آکر رہے گا۔ خواہ کوئی بھی عمل ہو (اچھا یا برا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف دراج فى حديثه عن أبى الهيثم، وابن لهيعة متابع
حدیث نمبر: 11230M
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لَأَنْتَنَ أَهْلَ الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر " غساق " (جہنم کے پانی) کا ایک ڈول زمین پر بہا دیا جائے تو ساری دنیا میں بدبو پھیل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11230M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف دراج فى حديثه عن أبى الهيثم، وابن لهيعة متابع
حدیث نمبر: 11230M
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَأْكُلُ التُّرَابُ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِهِ " ، قِيلَ وَمِثْلُ مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " مِثْلُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْهُ تَنْبُتُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مٹی انسان کی ہر چیز کھا جاتی ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ریڑھ کی یہ ہڈی کس چیز کے برابر باقی رہتی ہے ؟ فرمایا رائی کے ایک دانے کے برابر اور اسی سے تم دوبارہ اگ آؤ گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11230M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وإسناده إسناد سابقه
حدیث نمبر: 11231
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَكُونُ أُمَرَاءُ تَلِينُ لَهُمْ الْجُلُودُ ، وَتَطْمَئِنُّ إِلَيْهِمْ الْقُلُوبُ ، وَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْمَئِزُّ مِنْهُمْ الْقُلُوبُ ، وَتَقْشَعِرُّ مِنْهُمْ الْجُلُودُ " ، قَالُوا : أَفَلَا نَقْتُلُهُمْ ؟ قَالَ : " لَا مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جن سے دل مطمئن ہوں اور جسم ان کے لئے نرم ہوں گے، اس کے بعد ایسے لوگ حکمران بنیں گے جن سے دل گھبرائیں گے اور جسم کانپیں گے۔ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے قتال نہ کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الوليد صاحب عبدالله البهي
حدیث نمبر: 11232
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَقْعَدُ الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، وَكُلُّ ضِرْسٍ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانَ ، وَجِلْدُهُ سِوَى لَحْمِهِ وَعِظَامِهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں کافر کے صرف بیٹھنے کی جگہ تین دن کی مسافت پر پھیلی ہوگی، ہر ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر، رانیں ورقان پہاڑ کے برابر اور گوشت اور ہڈیوں کو نکال کر صرف کھال چالیس گز کی ہوگی
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف دراج فى روايته عن أبى الهيثم، وابن لهيعة متابع
حدیث نمبر: 11233
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ أَنَّ مِقْمَعًا مِنْ حَدِيدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ ، فَاجْتَمَعَ لَهُ الثَّقَلَانِ مَا أَقَلُّوهُ مِنَ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوہے کا ایک گرز جہنم سے نکال کر زمین پر رکھ دیا جائے اور سارے انس و جن اکٹھے ہوجائیں تب بھی وہ اسے زمین سے ہلا تک نہیں سکتے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهو إسناد سابقه
حدیث نمبر: 11234
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لِسُرَادِقِ النَّارِ أَرْبَعُ جُدُرٍ كَثُفَ ، كُلِّ جِدَارٍ مِثْلُ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کی قناتیں چار چار دیواروں کے برابر ہوں گی جن میں سے ہر دیوار کی موٹائی چالیس سال کی مسافت کے برابر ہوگی
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهو إسناد11232
حدیث نمبر: 11235
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشِّيَاعُ حَرَامٌ " ، قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ : يَعْنِي بِهِ الَّذِي يَفْتَخِرُ بِالْجِمَاعِ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی خاتون سے مباشرت کرنے پر فخر کرنا اور اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهو إسناد 11232
حدیث نمبر: 11236
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ ، لَوْ أَنَّ الْعَالَمِينَ اجْتَمَعُوا فِي إِحْدَاهُنَّ لَوَسِعَتْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کے سو درجے ہیں، اگر سارے جہان والے اس کے ایک درجے میں آجائیں تو وہ بھی ان کے لئے کافی ہوجائے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: لو أن العالمين اجتعموا فى إحداهن وسعتهم، وهذا إسناد ضعيف، وهو إسناد 11232
حدیث نمبر: 11237
(حديث قدسي) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَالَ : وَعِزَّتِكَ يَا رَبِّ ، لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ ، قَالَ الرَّبُّ : وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان نے کہا تھا کہ پروردگار ! مجھے تیری عزت کی قسم ! میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی اور پروردگار عالم نے فرمایا تھا مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے میں ان کو معاف کرتا رہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بالطريق الآتية برقم: 11244 وإسناده إسناد الحديث 11232
حدیث نمبر: 11238
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيَخْتَصِمُ حَتَّى الشَّاتَانِ فِيمَا انْتَطَحَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، قیامت کے دن لوگ جھگڑیں گے، حتیٰ کہ دو بکریاں بھی جنہوں نے ایک دوسرے کو سینگ مارے ہوں گے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهو إسناد الرواية 11232
حدیث نمبر: 11239
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ فِي الْجَنَّةِ كَمَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کے دروازے کے دونوں پٹوں (کواڑوں) کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11239
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، وهو إسناد الرواية 11232
حدیث نمبر: 11240
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ سچے خواب وہ ہوتے ہیں جو سحری کے وقت دیکھے جائیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهو إسناد الرواية 11232
حدیث نمبر: 11241
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي التَّأْذِينِ لَتَضَارَبُوا عَلَيْهِ بِالسُّيُوفِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو اذان دینے کا ثواب معلوم ہوجائے تو اذانیں دینے کے لئے آپس میں تلواروں سے لڑنے لگیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11241
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهو إسناد الرواية 11232
حدیث نمبر: 11242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : لَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ، مَرَّ الظَّهْرَانِ آذَنَنَا بِلِقَاءِ الْعَدُوِّ " فَأَمَرَنَا بِالْفِطْرِ ، فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مرالظہران پہنچ کر دشمن سے آمنا سامنا ہونے کی ہمیں اطلاع دی اور ہمیں روزہ ختم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ ہم سب نے روزہ ختم کرلیا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1120
حدیث نمبر: 11243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وجوبِ غسل آبِ حیات کے خروج پر ہوتا ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 180، م: 343 وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين بن سعد، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 11244
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ إِبْلِيسَ ، قَالَ لِرَبِّهِ : بِعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ 56 مَا دَامَتْ الْأَرْوَاحُ فِيهِمْ ، فَقَالَ اللَّهُ : فَبِعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان نے کہا تھا کہ پروردگار ! مجھے تیری عزت کی قسم ! میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی اور پروردگار عالم نے فرمایا تھا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بالطريق السالفة ، والظاهر أن عمرا- وهو ابن أبى عمرو القرشي المخزومي، الراوي عن أبى سعيد الخدري- لم يسمع منه
حدیث نمبر: 11245
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، حَتَّى يَقُولَ : مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ تُنْكِرُهُ ؟ ، فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَبْدًا حُجَّتَهُ ، قَالَ : يَا رَبِّ ، وَثِقْتُ بِكَ ، وَفَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے پوچھے گا کہ جب تم نے کوئی گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھا تھا تو نے اس سے روکا کیوں نہیں تھا ؟ پھر جسے اللہ دلیل سمجھا دے گا، وہ کہہ دے گا کہ پروردگار ! مجھے آپ سے معافی کی امید تھی لیکن لوگوں سے خوف تھا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11245
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11246
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، قَالَ : تُوُفِّيَ أَخِي ، وَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ 63 ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، إِنَّ أَخِي تُوُفِّيَ ، وَتَرَكَ عِيَالًا ، وَلِي عِيَالٌ ، وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ بِعِيَالِي وَعِيَالِ أَخِي حَتَّى نَنْزِلَ بَعْضَ هَذِهِ الْأَمْصَارِ ، فَيَكُونَ أَرْفَقَ عَلَيْنَا فِي مَعِيشَتِنَا ، قَالَ : وَيْحَكَ لَا تَخْرُجْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا ، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسعید رحمہ اللہ جو مہری کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میرے بھائی کا انتقال ہو تو میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے ابوسعید ! میرے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، اس نے بچے بھی چھوڑے ہیں۔ خود میرے اپنے بچے بھی ہیں اور روپیہ پیسہ ہمارے پاس نہیں ہے، میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اپنے اور بھائی کے بچوں کو لے کر کسی شہر میں منتقل ہوجاؤں تاکہ ہماری معیشت مستحکم ہوجائے ؟ انہوں نے فرمایا تمہاری سوچ پر افسوس ہے۔ یہاں سے مت جانا، کیوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور پریشانیوں پر صبر کرتا ہے، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارش کروں گا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11246
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1374 عبدالرحمن بن النعمان الأنصاري فيه كلام
حدیث نمبر: 11247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ 63 ، فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ ، أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ بَايَعْتَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، فَجَاءَ أَهْلُ الشَّامِ ، فَسَاقُونِي إِلَى جَيْشِ بْنِ دَلَحَةَ فَبَايَعْتُهُ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ ، إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ وَمَدَّ بِهَا حَمَّادٌ صَوْتَهُ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَنَامَ نَوْمًا ، وَلَا يُصْبِحَ صَبَاحًا ، وَلَا يُمْسِيَ مَسَاءً إِلَّا وَعَلَيْهِ أَمِيرٌ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُبَايِعَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ .
مولانا ظفر اقبال
بشر بن حرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ایک امیر پر اتفاق رائے ہونے سے قبل ہی دو امیروں کی بیعت کرلی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی، پھر اہل شام آکر مجھے ابن دلحہ کے لشکر کے پاس کھینچ کرلے گئے چنانچہ میں نے مجبوراً اس سے بھی بیعت کرلی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے بھی اسی کا خطرہ ہے (دو مرتبہ فرمایا) پھر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عبدالرحمن ! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ جو شخص اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ کوئی نیند ایسی نہ سوئے، کوئی صبح اور شام ایسی نہ کرے جس میں اس پر کوئی حکمران نہ ہو تو وہ ایسا ہی کرے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! سنا تو ہے لیکن میں اس چیز کو ناپسند سمجھتا ہوں کہ کسی ایک امیر پر لوگوں کے اتفاق رائے ہونے سے قبل ہی دو امیروں کی بیعت کرلوں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الندبي
حدیث نمبر: 11248
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ قَمِيصٌ أَوْ عِمَامَةٌ ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو پہلے اس کا نام رکھتے مثلاً قمیص یا عمامہ، پھر یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ لباس پہنایا، میں تجھ سے اس کی خیر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے، اس کی خیر مانگتا ہوں اور اس کے شر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، سعيد الجريري قد اختلط ، وسماع عبدالله بن المبارك منه بعد اختلاطه
حدیث نمبر: 11249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّنِي جِبْرِيلُ فِي الصَّلَاةِ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ ، وَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ قَامَةً ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ جَاءَهُ الْغَدُ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَفَيْءُ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلُهُ ، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالظِّلُّ قَامَتَانِ ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ، وَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ كَادَتْ الشَّمْسُ تَطْلُعُ ، ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نماز میں میری امامت کی، چنانچہ انہوں نے ظہر کی نماز زوال آفتاب کے وقت پڑھائی، عصر کی نماز اس قات پڑھائی جب سایہ ایک مثل کے برابر تھا، مغرب کی نماز غروب آفتاب کے وقت پڑھائی، نمازِ عشاء غروب شفق کے بعد پڑھائی اور فجر طلوع فجر کے بعد پڑھائی، پھر اگلے دن دوبارہ آئے اور ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوچکا تھا، عصر کی نماز دو مثل میں پڑھائی، مغرب کی نماز غروب آفتاب کے وقت اور عشاء کی نماز رات کی پہلی تہائی میں پڑھائی اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج نکلنے کے قریب ہوگیا تھا اور فرمایا کہ نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11250
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ ، وَالسِّوَاكُ ، وَإِنَّمَا يَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ ، وَلَوْ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا، مسواک کرنا اور اپنی گنجائش کے مطابق خوشبو لگانا خواہ اپنے گھر کی ہو، واجب ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11250
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 858، م: 846 وهذا إسناد حسن، ابن لهيعة قد توبع
حدیث نمبر: 11251
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ : يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ ، قَالَ : فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ : فَمَا لَكَ أَنْت تَفْعَلَهُ ؟ قَالَ " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلاتا پلا دیتا ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11251
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1963
حدیث نمبر: 11252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَبِيتُ عِنْدَهُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ أَوْ يَطْرُقُهُ أَمْرٌ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيَبْعَثُنَا فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَهْلُ النُّوَبِ ، فَكُنَّا نَتَحَدَّثُ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ النَّجْوَى ، أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنِ النَّجْوَى ؟ " ، قَالَ : قُلْنَا : نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّمَا كُنَّا فِي ذِكْرِ الْمَسِيحِ فَرَقًا مِنْهُ ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْمَسِيحِ عِنْدِي ؟ " ، قَالَ : قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يَعْمَلُ لِمَكَانِ رَجُلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ باری باری رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکتے تھے، تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت کوئی ضرورت یا کام پیش آجائے تو وہ ہمیں بھیج سکیں، بعض اوقات یہ ثواب کمانے والے اور باری والے افراد کافی تعداد میں اکٹھے ہوجاتے تھے، اس صورت میں ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے رہتے تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہ کیسی سرگوشیاں ہیں ؟ کیا میں تمہیں سرگوشیاں کرنے سے منع نہیں کرتا ؟ ہم نے کہا اے اللہ کے نبی ! ہم توبہ کرتے ہیں، دراصل ہم لوگ دجال کا تذکرہ کررہے تھے، ہمیں اس سے ڈر لگ رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو میرے نزدیک تمہارے لئے دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شرک خفی ہے کہ انسان کسی عمل کے لئے کسی دوسرے انسان کی وجہ سے کھڑا ہو
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11252
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف كثير بن زيد الأسلمي، وربيح بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 11253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11253
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1405، م: 979 وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله العمري
حدیث نمبر: 11254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات گرنے کی جگہ پر چلاجائے اور فتنوں سے اپنے دین کا بچالے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11254
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3600
حدیث نمبر: 11255
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ أَنْ يَرَى أَمْرًا لِلَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالًا ، ثُمَّ لَا يَقُولُهُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ فِيهِ ؟ ، فَيَقُولُ : رَبي ، خَشِيتُ النَّاسَ ، فَيَقُولُ : وَأَنَا أَحَقُّ أَنْ يُخْشَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سمجھے کہ اس پر اللہ کی رضاء کے لئے کوئی بات کہنے کا حق ہو لیکن وہ اسے کہہ نہ سکے، کیوں کہ اللہ اس سے پوچھے گا کہ تجھے یہ بات کہنے سے کس چیز نے روکا تھا ؟ بندہ کہے گا کہ پروردگار ! میں لوگوں سے ڈرتا تھا اللہ فرمائے گا کہ میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11255
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو البختري لم يسمع من أبى سعيد، بينهما راو مبهم كما رواه شعبة برقم:11868
حدیث نمبر: 11256
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِزْرَةُ الْمُؤْمَنِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ ، فَمَا كَانَ إِلَى الْكَعْبِ فَلَا بَأْسَ ، وَمَا كَانَ تَحْتَ الْكَعْبِ فَفِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11256
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن إسحاق - وإن كان مدلسا وقد عنعن- توبع
حدیث نمبر: 11257
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ مَرَّةً : عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ ، وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا الْحِيَضُ وَالنَّتْنُ وَلُحُومُ الْكِلَابِ ؟ ، قَالَ : " الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں ؟ دراصل کنویں میں عورتوں کے گندے کپڑے، دوسری بدبودار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11257
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيدالله بن عبدالله بن رافع بن خديج
حدیث نمبر: 11258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي فِطْرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " فِيكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ ، كَمَا قَاتَلَ عَلَى تَنْزِيلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بعض لوگ قرآن کی تفسیر و تاویل پر اس طرح قتال کریں گے جیسے میں اس کی تنزیل پر قتال کرتا ہوں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11258
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11259
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَكَ الْمُثْرُونَ " ، قَالُوا : إِلَّا مَنْ ؟ ، قَالَ : " هَلَكَ الْمُثْرُونَ " ، قَالُوا : إِلَّا مَنْ ؟ ، قَالَ : " هَلَكَ الْمُثْرُونَ " ، قَالُوا : إِلَّا مَنْ ؟ ، قَالَ : حَتَّى خِفْنَا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَجَبَتْ ، فَقَالَ : " إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے ہم ڈر گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھربھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں گے لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11259
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنِينِ يَكُونُ فِي بَطْنِ النَّاقَةِ ، أَوْ الْبَقَرَةِ ، أَوْ الشَّاةِ ، فَقَالَ : " كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی اونٹنی، گائے یا بکری کا بچہ اس کے پیٹ میں ہی مرجائے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری طبیعت چاہے تو اسے کھاسکتے ہو کیوں کہ اس کی ماں کا ذبح ہونا دراصل اس کا ذبح ہونا ہی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11260
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وقد توبع بالرواية الآتية برقم: 11343