حدیث نمبر: 11183
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ابْنَةُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ هَذِهِ الْأَمْرَاضَ الَّتِي تُصِيبُنَا مَا لَنَا بِهَا ؟ ، قَالَ : " كَفَّارَاتٌ " ، قَالَ أَبِي : وَإِنْ قَلَّتْ ؟ قَالَ : " وَإِنْ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا " ، قَالَ : فَدَعَا أَبِي عَلَى نَفْسِهِ أَنْ لَا يُفَارِقَهُ الْوَعْكُ حَتَّى يَمُوتَ فِي أَنْ لَا يَشْغَلَهُ عَنْ حَجٍّ ، وَلَا عُمْرَةٍ ، وَلَا جِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَا صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فِي جَمَاعَةٍ ، فَمَا مَسَّهُ إِنْسَانٌ إِلَّا وَجَدَ حَرَّهُ حَتَّى مَاتَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہمیں جو بیماریاں لگتی ہیں، یہ بتائیے کہ ان پر ہمارے لئے کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بیماریاں گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اگرچہ بیماری چھوٹی ہی ہو ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگرچہ ایک کانٹا ہی چبھ جائے یا اس سے بھی کم، یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اپنے متعلق یہ دعاء کی کہ موت تک ان سے کبھی بھی بخار جدا نہ ہو، لیکن وہ ایسا ہو کہ حج وعمرہ، جہاد فی سبیل اللہ اور فرض نماز باجماعت میں رکاوٹ نہ بنے، چنانچہ اس کے بعد انہیں جو شخص بھی ہاتھ لگاتا، اسے ان کا جسم تپتا ہوا ہی محسوس ہوتا، حتی کہ ان کا انتقال ہوگیا
حدیث نمبر: 11184
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر اللہ کا عرش ہلنے لگا
حدیث نمبر: 11185
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ الْعَرَاجِينُ أَنْ يُمْسِكَهَا بِيَدِهِ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ذَاتَ يَوْمٍ وَفِي يَدِهِ واحِدٌ مِنْهَا ، فَرَأَى نُخَامَاتٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَحَتَّهُنَّ بِهِ حَتَّى أَنْقَاهُنَّ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا ، فَقَالَ : " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ رَجُلٌ فَيَبْصُقَ فِي وَجْهِهِ ، إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلَا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى أَوْ عَنْ يَسَارِهِ ، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا " وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ ، وَتَفَلَ يَحْيَى فِي ثَوْبِهِ ، وَدَلَكَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ٹہنی کو بہت پسند فرماتے تھے اور اسے اپنے ہاتھ میں پکڑتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو قبلہ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس چھڑی سے صاف کردیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ کوئی آدمی سامنے سے آکر اس کے چہرے پر تھوک دے ؟ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کے سامنے ہوتا ہے اور اس کی دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے، لہٰذا سامنے یا دائیں جانب نہ تھوکے، بلکہ بائیں پاؤں کے نیچے یا بائیں جانب تھوکے۔ اور اگر بہت جلدی ہو تو اس طرح کر کے مل لے، راوی نے اپنے کپڑے پر تھوک کر اسے مل کر دکھایا
حدیث نمبر: 11186
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : إِنَّهَا تَدُورُ مِنَ السَّنَةِ ، فَمَشَيْنَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قُلْتُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ مِنْ رَمَضَانَ ، وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ رَجَعَ ، وَرَجَعْنَا مَعَهُ ، وَأُرِيَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ أُنْسِيَهَا ، فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، فَأُرَانِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ ، فَمَنْ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَرْجِعْ إِلَى مُعْتَكَفِهِ ، ابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوَتْرِ مِنْهَا " وَهَاجَتْ عَلَيْنَا السَّمَاءُ آخِرَ تِلْكَ الْعَشِيَّةِ ، وَكَانَ نِصْفُ الْمَسْجِدِ عَرِيشًا مِنْ جَرِيدٍ ، فَوَكَفَ ، فَوَالَّذِي هُوَ أَكْرَمَهُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ لَرَأَيْتُهُ صَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، وَإِنَّ جَبْهَتَهُ وَأَرْنَبَةَ أَنْفِهِ لَفِي الْمَاءِ وَالطِّينِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا : ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے، ہم اس وقت اپنا سامان منتقل کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص معتکف تھا وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور اس ذات کی قسم جس نے انہیں عزت بخشی اور ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اکیسویں شب کو نماز مغرب پڑھائی تو ان کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑگئے ہیں
حدیث نمبر: 11187
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : مَرَّ بِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَقُلْتُ لَهُ : كَيْفَ سَمِعْتَ أَبَاكَ يَقُولُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ؟ قَالَ : قَالَ أَبِي : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ : أَيُّ الْمَسْجِدَيْنِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ؟ ، فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى ، فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ ، قَالَ : " هُوَ هَذَا مَسْجِدُ الْمَدِينَةِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتَ أَبَاكَ هَكَذَا يَذْكُرُهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالرحمن بن ابی سعد رضی اللہ عنہ کا میرے پاس سے گذر ہوا، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنے والد صاحب سے اس مسجد کے متعلق کیا سنا ہے ؟ جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ میرے والد صاحب نے فرمایا تھا کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں سے مٹھی بھری اور انہیں زمین پر مار کر فرمایا وہ مدینہ منورہ کی یہ مسجد نبوی ہے، میں نے یہ حدیث سن کر عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی آپ کے والد صاحب کو اسی طرح ذکر کرتے ہوئے سنا ہے
حدیث نمبر: 11188
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ مِنْ مَرَضٍ ، وَلَا وَصَبٍ ، وَلَا حَزَنٍ ، حَتَّى الْهَمَّ يُهِمُّهُ إِلَّا يُكَفِّرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ خیالات " جو اسے تنگ کرتے ہیں " پہنچتے ہیں، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں
حدیث نمبر: 11189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي طَعَامِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے کھانے میں مکھی پڑجائے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے اچھی طرح اس میں ڈبو دے
حدیث نمبر: 11190
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَشُعْبَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو
حدیث نمبر: 11191
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ لِسَبْعَ عَشْرَةَ ، أَوْ ثَمَانِ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ ، " فَصَامَ صَائِمُونَ ، وَأَفْطَرَ آخَرُونَ ، وَلَمْ يَعِبْ هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ ، وَلَا هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے سترہ یا اٹھارہ رمضان کو روانہ ہوئے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا)
حدیث نمبر: 11192
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَكُونُ أُمَرَاءُ تَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ ، أَوْ حَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ ، يَظْلِمُونَ ، وَيَكْذِبُونَ ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ ، فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَلَيْسَ مِنِّي ، وَلَسْتُ مِنْهُ ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَيُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَيُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جن پر ایسے حاشیہ بردار افراد چھا جائیں گے جو ظلم و ستم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر تعاون کرے تو اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے کہ ان کے جھوٹ کی تصدیق یا ان کے ظلم پر تعاون نہ کرنا پڑے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں
حدیث نمبر: 11193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ِسَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ : دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ انتہائی سفید اور خالص مشک کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی
حدیث نمبر: 11194
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ : دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ انتہائی سفید اور خالص مشک کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی
حدیث نمبر: 11195
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا ، فَمَنْ اتَّبَعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے
حدیث نمبر: 11196
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَفْتَرِقُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ ، فَيَتَمَرَّقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا
حدیث نمبر: 11197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنَا عِيَاضٌ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُ ، فَأَمَرَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : " تَصَدَّقُوا " فَفَعَلُوا ، فَأَعْطَاهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا ، ثُمَّ قَالَ : " تَصَدَّقُوا " فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ ، فَانْتَهَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَرِهَ مَا صَنَعَ ، ثُمَّ قَالَ : " انْظُرُوا إِلَى هَذَا فَإِنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فِي هَيْئَةٍ بَذَّةٍ ، فَدَعَوْتُهُ ، فَرَجَوْتُ أَنْ تُعْطُوا لَهُ ، فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ ، وَتَكْسُوهُ ، فَلَمْ تَفْعَلُوا ، فَقُلْتُ : تَصَدَّقُوا ، فَتَصَدَّقُوا ، فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا ، ثُمَّ قُلْتُ : تَصَدَّقُوا ، فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ ، خُذْ ثَوْبَكَ " وَانْتَهَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد نبوی میں داخل ہوا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کردو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا، پھر یکے بعد دیگرے دو آدمی اور آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی یہی حکم دیا، پھر لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دی، لوگ صدقات دینے لگے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صدقات میں سے دو کپڑے لے کر اس آنے والے کو دے دئیے اور فرمایا کہ لوگو ! صدقہ دو ، اس پر اس آدمی نے ایک کپڑا صدقات میں ڈال دیا، اس کی اس حرکت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی یہ حرکت ناگوار گذری، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو، یہ مسجد میں پراگندہ حالت میں آیا تھا، میں نے اسے بلایا، مجھے امید تھی کہ تم اسے کچھ دے کر اس پر صدقہ کرو گے اور اسے صاف کپڑے پہناؤ دوگے، لیکن تم نے ایسا نہ کیا، پھر میں نے تم سے صراحۃً صدقہ کرنے کے لئے کہا، تم نے صدقہ کیا اور میں نے اس میں سے دو کپڑے اسے دے دئیے، پھر دوبارہ صدقہ کی ترغیب دی تو اس نے ان میں سے ایک کپڑا اس میں ڈال دیا، یہ اپنا کپڑالے لو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹ کر فرمایا
حدیث نمبر: 11198
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَوَاتِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ هَوِيًّا ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ ، فَلَمَّا كُفِينَا الْقِتَالَ ، وَذَلِكَ قَوْلُهُ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا سورة الأحزاب آية 25 " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا ، فَأَقَامَ الظُّهْرَ ، فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ ، فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ، ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن ہم لوگوں کو نماز پڑھنے کا موقع ہی نہیں ملا، یہاں تک کہ مغرب کے بعد بھی کچھ وقت بیت گیا، اس وقت تک میدانِ قتال میں نماز خوف کا وہ طریقہ نازل نہیں ہوا تھا، جو بعد میں نازل ہوا، جب قتال کے معاملے میں ہماری کفایت ہوگئی " یعنی اللہ نے یہ فرما دیا کہ اللہ مسلمانوں کی قتال میں کفایت کرے گا۔ اور اللہ طاقتور اور غالب ہے " تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے ظہر کے لئے اقامت کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جیسے عام وقت میں نماز پڑھاتے تھے، پھر نماز عصر بھی اسی طرح پڑھائی جیسے اپنے وقت میں پڑھاتے تھے، اسی طرح مغرب بھی اس کے اپنے وقت کی طرح پڑھائی
حدیث نمبر: 11199
حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، وَزَادَ فِيهِ ، قَالَ : " وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ صَلَاةَ الْخَوْفِ " فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا سورة البقرة آية 239 .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حدیث نمبر: 11200
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : يُعْرَضُ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ وَكَلَالِيبُ وَخَطَاطِيفُ تَخْطَفُ النَّاسَ ، قَالَ : فَيَمُرُّ النَّاسُ مِثْلَ الْبَرْقِ ، وَآخَرُونَ مِثْلَ الرِّيحِ ، وَآخَرُونَ مِثْلَ الْفَرَسِ الْمُجِدِّ ، وَآخَرُونَ يَسْعَوْنَ سَعْيًا ، وَآخَرُونَ يَمْشُونَ مَشْيًا ، وَآخَرُونَ يَحْبُونَ حَبْوًا ، وَآخَرُونَ يَزْحَفُونَ زَحْفًا ، فَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَلَا يَمُوتُونَ وَلَا يَحْيَوْنَ ، وَأَمَّا نَاسٌ فَيُؤْخَذُونَ بِذُنُوبِهِمْ فَيُحْرَقُونَ ، فَيَكُونُونَ فَحْمًا ، ثُمَّ يَأْذَنُ اللَّهُ فِي الشَّفَاعَةِ ، فَيُوجَدُونَ ضِبَارَاتٍ ضِبَارَاتٍ ، فَيُقْذَفُونَ عَلَى نَهَرٍ ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ رَأَيْتُمْ الصَّبْغَاءَ ؟ " ، فَقَالَ : " وَعَلَى النَّارِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ ، فَتَخْرُجُ أَوْ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنَ النَّارِ ، فَيَكُونُ عَلَى شَفَتِهَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، اصْرِفْ وَجْهِي عَنْهَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا ، قَالَ : فَيَرَى شَجَرَةً ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرَتِهَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا ، قَالَ : فَيَرَى شَجَرَةً أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَآكُلَ مِنْ ثَمَرَتِهَا ، فَيَقُولُ : وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا ، قَالَ : فَيَرَى الثَّالِثَةَ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرَتِهَا ، قَالَ : وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا ، قَالَ : فَيَرَى سَوَادَ النَّاسِ وَيَسْمَعُ أَصْوَاتَهُمْ ، فَيَقُولُ : رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ " قَالَ : فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَرَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفَا ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : " فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا " ، وَقَالَ الْآخَرُ : " يُدْخَلُ الْجَنَّةَ فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں کو جہنم کے پل پر لایا جائے گا جہاں آنکڑے، کانٹے اور اچکنے والی چیزیں ہوں گی، کچھ لوگ تو اس پر سے بجلی کی طرح گذر جائیں گے، کچھ ہوا کی طرح، کچھ تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، کچھ دوڑتے ہوئے، کچھ چلتے ہوئے، کچھ گھسیٹتے ہوئے اور کچھ اپنی سرین کے بل چلتے ہوئے گذریں گے، باقی جہنمی تو وہ اس میں زندہ ہوں گے نہ مردہ، البتہ کچھ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا جائے گا اور وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت دیں گے اور انہیں گروہ در گروہ جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ پھر انہیں ایک نہر میں غوطہ دیا جائے گا اور وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کیچڑ میں دانہ اگ آتا ہے، اس کی مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " صبغاء " سے دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ پل صراط پر تین درخت ہوں گے، جہنم سے ایک آدمی نکل کر ان کے کنارے پہنچے گا اور کہے گا کہ پروردگار ! میرا رخ جہنم سے پھیر دے، اللہ تعالیٰ اس سے یہ عہد و پیمان لے گا کہ تو اس کے بعد مجھ سے مزید کچھ نہ مانگے گا، اسی اثناء میں وہ ایک درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس درخت کے پھل کھاؤں۔ اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے جنت میں داخل فرما۔ اس کے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے ایک کے مطابق اسے جنت میں داخل کرکے دنیا اور اس سے ایک گنا مزید دیا جائے گا اور دوسرے کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنامزید دیا جائے گا
حدیث نمبر: 11201
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَمُرُّ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ " ، فَذَكَرَهُ قَالَ : " بِجَنْبَتَيْهِ مَلَائِكَةٌ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ " ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا رَأَيْتُمْ الصَّبْغَاءَ شَجَرَةٌ تَنْبُتُ فِي الْغُثَاءِ ؟ " ، وَقَالَ : " وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا " فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حدیث نمبر: 11202
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَمْلَاهُ عَلَيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّفَاعَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ ، وَكَلَالِيبُ ، تَخْطَفُ النَّاسَ ، وَبِجَنْبَتَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، يَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ ، سَلِّمْ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
حدیث نمبر: 11203
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ ، فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ رَجُلٌ : إِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ ، قَالَ : " أَبِنْهُ عَنْكَ ، ثُمَّ تَنَفَّسْ " ، قَالَ : أَرَى فِيهِ الْقَذَاةَ ، قَالَ : " فَأَهْرِقْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالمثنیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس تھا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں ؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو
حدیث نمبر: 11204
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ ، قَالَ : " اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ ، فَإِنْ قَدَّرَ اللَّهُ شَيْئًا كَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عزل کے متعلق فرمایا تم جو مرضی کرتے رہو، اللہ نے تقدیر میں جو کچھ لکھ دیا ہے وہ ہو کر رہے گا
حدیث نمبر: 11205
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ إِنَّ عِنْدَنَا خَمْرًا لِيَتِيمٍ لَنَا ، " فَأَمَرَنَا فَأَهْرَقْنَاهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب شراب حرام ہوگئی تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارے پاس ایک یتیم بچے کی شراب پڑی ہوئی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسے بہانے کا حکم دیا، چنانچہ ہم نے اسے بہا دیا
حدیث نمبر: 11206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَوْنَ مَنْ فَوْقَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں ناز و نعم میں ہوں گے
حدیث نمبر: 11207
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَنْزِلَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَخَرَجَ ، وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، قَالَ لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ ، قَالَ : " إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ غُسْلٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری صحابی کی طرف گئے، وہ آئے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں جلدی فراغت پانے پر مجبور کردیا ؟ انہوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ایسی کیفیت میں جلدی ہو تو صرف وضو کرلیا کرو، غسل نہ کیا کرو۔ (بلکہ بعد میں اطمینان سے غسل کیا کرو)
حدیث نمبر: 11208
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ ، قَالَ : " لَا تُوقِدُوا نَارًا بِلَيْلٍ " ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَاكَ ، قَالَ : " أَوْقِدُوا وَاصْطَنِعُوا ، فَإِنَّهُ لَا يُدْرِكُ قَوْمٌ بَعْدَكُمْ صَاعَكُمْ وَلَا مُدَّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حدیبیہ کے دن صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا رات کو آگ نہ جلانا، اس کے کچھ عرصے بعد فرمایا اب آگ جلالیا کرو اور کھانا پکالیا کرو، کیوں کہ اب کوئی قوم تمہارے بعد تمہارے صاع اور مد کو نہیں پہنچ سکتی
حدیث نمبر: 11209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : لَقِيَنِي ابْنُ صَائِدٍ ، فَقَالَ : عُدَّ النَّاسَ يَقُولُونَ ، أَوْ أَحْسِبُ النَّاسَ يَقُولُونَ ، وَأَنْتُمْ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ! أَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَوْ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ يَهُودِي " وَأَنَا مُسْلِمٌ ، " وَإِنَّهُ أَعْوَرُ " وَأَنَا صَحِيحٌ ، " وَلَا يَأْتِي مَكَّةَ وَلَا الْمَدِينَةَ " ، وَقَدْ حَجَجْتُ وَأَنَا مَعَكَ الْآنَ بِالْمَدِينَةِ ، " وَلَا يُولَدُ لَهُ وَقَدْ وُلِدَ لِي " ، ثُمَّ قَالَ : مَعَ ذَاكَ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيْنَ وُلِدَ ، وَمَتَى يَخْرُجُ ، وَأَيْنَ هُوَ ؟ ، قَالَ : فَلَبَّسَ عَلَيَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے ابن صائد ملا اور کہنے لگا کہ لوگ میرے بارے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اور اے اصحاب محمد ! کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال یہودی ہوگا جب کہ میں تو مسلمان ہوں، وہ کانا ہوگا اور میں تندرست ہوں، وہ مکہ اور مدینہ میں نہیں جاسکے گا جب کہ میں تو حج کر کے آرہا ہوں اور اب آپ کے ساتھ مدینہ منورہ جارہا ہوں، اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی، جب کہ میرے یہاں تو اولاد بھی ہے، پھر آخر میں کہنے لگا کہ اس کے باوجود میں جانتا ہوں کہ وہ کہاں پیدا ہوگا ؟ کب نکلے گا ؟ اور اب کہاں ہے ؟ یہ سن کر مجھ پر اس کا معاملہ پھر مشکوک ہوگیا
حدیث نمبر: 11210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص راہ اللہ میں ایک دن کا روزہ رکھے، اللہ اس دن کی برکت سے اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت دور کردے گا
حدیث نمبر: 11211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ ، كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي ، أَلَا إِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں جن میں سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، ایک تو کتاب اللہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں، یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں گی
حدیث نمبر: 11212
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي الْجُهَنِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدًا الْعَمِّيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ مِنْ أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ ، فَإِنْ طَالَ عُمْرُهُ أَوْ قَصُرَ عُمْرُهُ عَاشَ سَبْعَ سِنِينَ ، أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ ، أَوْ تِسْعَ سِنِينَ ، يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا ، وَتُخْرِجُ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا ، وَتُمْطِرُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں مہدی آئے گا جو سات، آٹھ یا نوسال رہے گا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، اس زمانے میں اللہ تعالیٰ آسمان سے خوب بارش برسائے گا اور زمین اپنی تمام پیداوار اگائے گی
حدیث نمبر: 11213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ سَعْدٍ بِبَابِ هَذَا الْمَسْجِدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ ، كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِي الْأُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ ، وَأَبُو بَكْرٍ َوعُمَرُ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں ناز و نعم میں ہوں گے
حدیث نمبر: 11214
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ نَهَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُسْأَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، حَتَّى يَكُونَ فِيمَا يُسْأَلُ عَنْهُ أَنْ يُقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُنْكِرَ الْمُنْكَرَ إِذْ رَأَيْتَهُ ؟ " ، قَالَ : " فَمَنْ لَقَّنَهُ اللَّهُ حُجَّتَهُ ، قَالَ رَبِّ رَجَوْتُكَ ، وَخِفْتُ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم سے ہر چیز کا حساب ہوگا، حتی کہ یہ سوال بھی پوچھا جائے گا کہ جب تم نے کوئی گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھا تھا تو اس سے روکا کیوں نہیں تھا ؟ پھر جسے اللہ دلیل سمجھا دے گا وہ کہہ دے گا کہ پروردگار ! مجھے آپ سے معافی کی امید تھی لیکن لوگوں سے خوف تھا
حدیث نمبر: 11215
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : وَجَدَ رَجُلٌ فِي مَنْزِلِهِ حَيَّةً ، فَأَخَذَ رُمْحَهُ فَشَكَّهَا فِيهِ ، فَلَمْ تَمُتْ الْحَيَّةُ حَتَّى مَاتَ الرَّجُلُ ، فَأُخْبِرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ مَعَكُمْ عَوَامِرَ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَحَرِّجُوا عَلَيْهِ ثَلَاثًا ، فَإِنْ رَأَيْتُمُوهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کو اپنے گھر میں ایک سانپ نظر آیا، اس نے اپنا نیزہ اٹھایا اور سانپ کو مارا جس سے وہ زخمی ہوگیا لیکن مر انہیں، بلکہ حملہ کرکے اس آدمی کو مار دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو فرمایا کہ تمہارے ساتھ کچھ ایسی چیزیں بھی رہتی ہیں جو آباد کرنے والی ہوتی ہیں، جب تم انہیں دیکھا کرو تو پہلے تین مرتبہ انہیں بچنے کی تلقین کیا کرو، اس کے بعد بھی اگر وہ نظر آئیں تب انہیں مارا کرو
حدیث نمبر: 11216
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي الْعَيَّاشِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ، رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ ، وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَكُونَ فِي ظِلِّهَا ، فَقَالَ اللَّهُ : هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟ ، قَالَ : لَا وَعِزَّتِكَ ، فَقَدَّمَهُ اللَّهُ إِلَيْهَا ، وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ وَثَمَرٍ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا ، وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا ، فَقَالَ اللَّهُ لَهُ : هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ ؟ ، فَيَقُولُ : لَا وَعِزَّتِكَ ، فَيُقَدِّمُهُ اللَّهُ إِلَيْهَا ، فَتُمَثَّلُ لَهُ شَجَرَةٌ أُخْرَى ذَاتُ ظِلٍّ وَثَمَرٍ وَمَاءٍ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا ، وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ، فَيَقُولُ لَهُ : هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ ؟ ، فَيَقُولُ : لَا وَعِزَّتِكَ ، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ ، فَيُقَدِّمُهُ اللَّهُ إِلَيْهَا ، فَيَبْرُزُ لَهُ بَابُ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، قَدِّمْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَأَكُونَ تَحْتَ نِجَافِ الْجَنَّةِ ، وَأَنْظُرَ إِلَى أَهْلِهَا ، فَيُقَدِّمُهُ اللَّهُ إِلَيْهَا ، فَيَرَى أَهْلَ الْجَنَّةِ وَمَا فِيهَا ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَيُدْخِلُهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَإِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، قَالَ : هَذَا لِي ، قَالَ : فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ : تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ سَلْ مِنْ كَذَا وَكَذَا ، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ، قَالَ : ثُمَّ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، فَيَقُولَانِ لَهُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ ، قال : فَيَقُولُ : مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ ، قَالَ : وَأَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يُنْعَلُ مَنْ نَارٍ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي دِمَاغُهُ مِنْ حَرَارَةِ نَعْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سب سے کم ترین درجے کا آدمی وہ ہوگا جس کا چہرہ اللہ تعالیٰ جہنم سے جنت کی طرف پھیر دے گا اور اس کے سامنے ایک سایہ دار درخت کی شکل پیش کرے گا، وہ کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں، اللہ اس سے وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے جنت میں داخل فرما، اس کے بعد حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے ایک کے مطابق اسے جنت میں داخل کرکے دنیا اور اس سے ایک گنا مزید دیا جائے گا اور دوسرے کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنا مزید دیا جائے گا، پھر وہ جنت میں داخل ہوگا تو حور عین میں سے اس کی دو بیویاں اس کے پاس آئیں گی اور اس سے کہیں گی اللہ کا شکر ہے جس نے آپ کو ہمارے لئے اور ہمیں آپ کے لئے زندہ رکھا، یہ دیکھ کر وہ کہے گا کہ جو نعمتیں مجھے ملی ہیں، ایسی کسی کو نہ ملی ہوں گی اور فرمایا جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جسے آگ کے دو جوتے پہنائے جائیں گے جن کی حرارت کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا
حدیث نمبر: 11217
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خروجِ یاجوج ما جوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ جاری رہے گا
حدیث نمبر: 11218
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ جَاءَ إِلَى جَنَازَةٍ فَمَشَى مَعَهَا مِنْ أَهْلِهَا حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ انْتَظَرَ حَتَّى تُدْفَنَ أَوْ يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ پڑھے اور قبر تک ساتھ جائے، اسے دو قیراط ثواب ملے گا اور جو صرف نماز جنازہ پڑھے، قبر تک نہ جائے اسے ایک قیراط ثواب ملے گا اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا
حدیث نمبر: 11219
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيُحَجَّنَّ هَذَا الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خروجِ یاجوج ماجوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ جاری رہے گا
حدیث نمبر: 11220
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَأَقُولُ : أَصْحَابِي أَصْحَابِي ، فَقِيلَ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " ، قَالَ : " فَأَقُولُ : بُعْدًا بُعْدًا " ، أَوْ قَالَ : " سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (حوضِ کوثر پر کچھ لوگوں کو پانی پینے سے روک دیا جائے گا) میں کہوں گا کہ یہ تو میرے ساتھی ہیں، مجھے بتایا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعات ایجاد کرلی تھیں، میں کہوں گا کہ وہ لوگ دور ہوجائیں جنہوں نے میرے بعد دین کو بدل ڈالا تھا
حدیث نمبر: 11221
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ : " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا تمہیں ایک باغی گروہ شہید کردے گا
حدیث نمبر: 11222
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ ، وَلَا عَاقٌّ ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی احسان جتلانے والا، والدین کا نافرمان اور عادی شراب خور جنت میں نہیں جائے گا
…