حدیث نمبر: 11143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ حَفِظَهَا مِنَّا مَنْ حَفِظَهَا وَنَسِيَهَا مِنَّا مَنْ نَسِيَهَا ، فَحَمِدَ اللَّهَ قَالَ عَفَّانُ : وَقَالَ حَمَّادٌ : وَأَكْثَرُ حِفْظِي أَنَّهُ قَالَ : بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا ، فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ، أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ، أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ شَتَّى ، مِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا ، أَلَا إِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ تُوقَدُ فِي جَوْفِ ابْنِ آدَمَ ، أَلَا تَرَوْنَ إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَالْأَرْضَ الْأَرْضَ ، أَلَا إِنَّ خَيْرَ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ بَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الرِّضَا ، وَشَرَّ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الرِّضَا ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ ، وَسَرِيعَ الْغَضَبِ وَسَرِيعَ الْفَيْءِ ، فَإِنَّهَا بِهَا أَلَا إِنَّ خَيْرَ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ حَسَنَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ ، وَشَرَّ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ سَيِّئَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ حَسَنَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ ، أَوْ كَانَ سَيِّئَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ ، فَإِنَّهَا بِهَا ، أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ ، أَلَا وَأَكْبَرُ الْغَدْرِ غَدْرُ أَمِيرِ عَامَّةٍ ، أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مَهَابَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا عَلِمَهُ ، أَلَا إِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ " فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ ، قَالَ : " أَلَا إِنَّ مِثْلَ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل خطبہ ارشاد فرمایا جس نے اسے یاد رکھ لیا سو رکھ لیا اور جو بھول گیا سو بھول گیا، اس خطبے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد وثناء کرنے کے بعد فرمایا اما بعد ! دنیا سرسبز و شاداب اور شریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سر انجام دیتے ہو ؟ یاد رکھو ! دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو ! کہ بنی آدم کی پیدائش مختلف درجات میں ہوئی ہے چنانچہ بعض تو ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں، مؤمن ہو کر زندہ رہتے ہیں اور مؤمن ہو کر ہی مرجاتے ہیں، بعض کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر ہو کر زندگی گذار تے ہیں اور کافر ہو کر ہی مرجاتے ہیں، بعض ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں مؤمن ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور کافر ہو کر مرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں کافر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور مؤمن ہو کر مرجاتے ہیں۔ یاد رکھو ! غصہ ایک چنگاری ہے جو ابن آدم کے پیٹ میں سلگتی ہے، تم غصے کے وقت اس کی آنکھوں کا سرخ ہونا اور رگوں کا پھول جانا ہی دیکھ لو، جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے تو وہ زمین پر لیٹ جائے یاد رکھو ! بہترین آدمی وہ ہے جسے دیر سے غصہ آئے اور وہ جلدی راضی ہوجائے اور بدترین آدمی وہ ہے جسے جلدی غصہ آئے اور وہ دیر سے راضی ہو اور جب آدمی کو غصہ دیر سے آئے اور دیر ہی سے جائے یا جلدی ہی چلا جائے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ یاد رکھو ! بہترین تاجر وہ ہے جو عمدہ انداز میں قرض اداء کرے اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے اور بدترین تاجر وہ ہے جو بھونڈے انداز میں ادا کرے اور اسی انداز میں مطالبہ کرے اور اگر کوئی آدمی عمدہ انداز میں ادا اور بھونڈے انداز میں مطالبہ کرے یا بھونڈے انداز میں ادا اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا، یاد رکھو سب سے زیادہ بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہو، یاد رکھو ! کسی شخص کو لوگوں کا رعب و دبدبہ کلمہ حق کہنے سے روکے جبکہ وہ اسے اچھی طرح معلوم بھی ہو، یاد رکھو ! سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے، پھر جب غروب شمس کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو ! دنیا کی جتنی عمر گزر گئی ہے، بقیہ عمر کی اس کے ساتھ وہی نسبت سے جو آج اسے گزرے ہوئے دن کے ساتھ اس وقت کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، وهو ابن جدعان .
حدیث نمبر: 11144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " بَلَغَنِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فَمَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ " فَلَمْ يَأْمُرْ ، وَلَمْ يَنْهَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ سوال عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے علاقے میں گوہ کی بڑی کثرت ہوتی ہے، اس سلسلے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے بنی اسرائیل میں ایک جماعت کو مسخ کردیا گیا تھا، (کہیں یہ وہی نہ ہو) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1951 .
حدیث نمبر: 11145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ عُمَرُ ، فَرَجَعَ ، فَلَقِيَهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكَ رَجَعْتَ ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَلْيَرْجِعْ " ، قَالَ : لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ ، أَوْ لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ ، فَأَتَى مَجْلِسَ قَوْمِهِ ، فَنَاشَدَهُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقُلْتُ أَنَا مَعَكَ ، فَشَهِدُوا لَهُ بِذَلِكَ ، فَخَلَّا سَبِيلَهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس آنے کا حکم دیا تھا، انہوں نے ان کے پاس جا کر تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی لیکن انہیں اجازت نہیں ملی اور وہ واپس آگئے، بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کیا بات ہے تم واپس کیوں چلے گئے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو اس پر کوئی گواہ پیش کرو، ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ چنانچہ وہ اپنی قوم کی ایک مجلس میں آئے اور انہیں اللہ کا واسطہ دیا تو میں نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں، چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا اور جا کر اس بات کی شہادت دے دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6245، م: 2153 .
حدیث نمبر: 11146
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَخِي اسْتُطْلِقَ بَطْنُهُ ، قَالَ : " اسْقِهِ عَسَلًا " ، قَالَ : فَذَهَبَ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا ، قَالَ : " اسْقِهِ عَسَلًا " ، قَالَ : فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا ، فَقَالَ : " اسْقِهِ عَسَلًا " ، قَالَ : فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا ، فَقَالَ لَهُ فِي الرَّابِعَةِ : " اسْقِهِ عَسَلًا " ، قَالَ : أَظُنُّهُ قَالَ : فَسَقَاهُ ، فَبَرَأَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّابِعَةِ : " صَدَقَ اللَّهُ ، وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھائی کو دست لگ گئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے جا کر شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے ؟ چوتھی مرتبہ پھر فرمایا کہ اسے جا کر شہد پلاؤ اس مرتبہ وہ تندرست ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے سچ کہا، تیرے بھائی نے جھوٹ بولا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5684، م: 2217 .
حدیث نمبر: 11147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَينٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَحَدَّثَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ابْنُ أَخِي قَدْ عَرِبَ بَطْنُهُ ، فَقَالَ : " اسْقِ ابْنَ أَخِيكَ عَسَلًا " ، قَالَ : فَسَقَاهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً ، فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ : " اسْقِ ابْنَ أَخِيكَ عَسَلًا ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ صَدَقَ ، وَكَذَبَ بَطْنُ ابْنِ أَخِيكَ " ، قَالَ : فَسَقَاهُ فَعَافَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھتیجے کو دست لگ گئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے ؟ تیسری مرتبہ پھر فرمایا کہ اسے جاکر شہد پلاؤ اس مرتبہ وہ تندرست ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے سچ کہا، تیرے بھتیجے کے پیٹ نے جھوٹ بولا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله .
حدیث نمبر: 11148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَدْ أَعْطَى اللَّهُ كُلَّ نَبِيٍّ عَطِيَّةً ، فَكُلٌّ قَدْ تَعَجَّلَهَا ، وَإِنِّي أَخَّرْتُ عَطِيَّتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي ، وَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي لَيَشْفَعُ لِلْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْعُصْبَةِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلثَّلَاثَةِ وَلِلرَّجُلَيْنِ وَلِلرَّجُلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کو ایک عطیہ کی پیشکش ہوئی اور ہر نبی نے اسے دنیا ہی میں وصول کرلیا، میں نے اپنا عطیہ اپنی امت کی سفارش کے لئے چھوڑ دیا ہے اور میری امت میں سے بھی ایک آدمی لوگوں کی جماعتوں میں سفارش کرے گا اور وہ اس کی برکت سے جنت میں داخل ہوں گے، کوئی پورے قبیلے کی سفارش کرے گا کوئی دس آدمیوں کی، کوئی تین آدمی کی، کوئی دو آدمیوں کی اور کوئی ایک آدمی کی سفارش کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي .
حدیث نمبر: 11149
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَحْرَمَ وَأَصْحَابُهُ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ غَيْرَ عُثْمَانَ ، وَأَبِي قَتَادَةَ ، فَاسْتَغْفَرَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حدیبیہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہ نے اور " سوائے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے " احرام باندھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کرانے والوں کے لئے تین مرتبہ اور قصر کرانے والوں کے لئے ایک مرتبہ مغفرت کی دعاء فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى إبراهيم الأشهلي الأنصاري .
حدیث نمبر: 11150
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : خَطَبَ مَرْوَانُ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي يَوْمِ الْعِيدِ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّمَا كَانَتْ الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، فَقَالَ : تَرَى ذَلِكَ يَا أَبَا فُلَانٍ ، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَقَالَ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا، جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا نماز خطبہ سے پہلے ہوتی ہے، اس نے کہا کہ یہ چیز متروک ہوچکی ہے، اس مجلس میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 49 .
حدیث نمبر: 11151
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ النَّارِ الَّذِينَ لَا يُرِيدُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِخْرَاجَهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ ، وَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ الَّذِينَ يُرِيدُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِخْرَاجَهُمْ يُمِيتُهُمْ فِيهَا إِمَاتَةً حَتَّى يَصِيرُوا فَحْمًا ، ثُمَّ يُخْرَجُونَ ضَبَائِرَ فَيُلْقَوْنَ عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، أَوْ يُرَشُّ عَلَيْهِمْ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جہنمی جو اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان پر تو موت آئے گی نہ ہی انہیں زندگانی نصیب ہوگی، البتہ جن لوگوں پر اللہ اپنی رحمت کا ارادہ فرمائے گا، انہیں جہنم میں بھی موت دے دے گا، یہاں تک کہ وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے یہاں تک وہ گروہ در گروہ وہاں سے نکالے جائیں گے اور انہیں جنت کی نہروں میں غوطہ دیا جائے گا تو ویسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4581، م: 185 الجريري- وإن اختلط، و سماع يزيد منه بعد اختلاطه - متابع .
حدیث نمبر: 11152
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَشَيَّعَهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا وَلَمْ يُشَيِّعْهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ ، وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ پڑھے اور قبر تک ساتھ جائے، اسے دو قیراط ثواب ملے گا اور جو صرف نماز جنازہ پڑھے، قبر تک نہ جائے اسے ایک قیراط ثواب ملے گا اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11153
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ ، فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَهُمْ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ ؟ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا ، قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِهِمَا خَبَثًا ، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ ، فَلْيَقْلِبْ نَعْلَهُ ، فَلْيَنْظُرْ فِيهَا ، فَإِنْ رَأَى بِهَا خَبَثًا فَلْيُمِسَّهُ بِالْأَرْضِ ، ثُمَّ لِيُصَلِّ فِيهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو جوتیاں اتار دیں، لوگوں نے بھی اپنی جوتیاں اتار دیں، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں نے اپنی جوتیاں کیوں اتار دیں ؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو جوتی اتارتے ہوئے دیکھا اس لئے ہم نے بھی اتار دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس تو جبرائیل آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میری جوتی میں کچھ گندگی لگی ہوئی ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص مسجد آئے تو وہ پلٹ کر اپنی جوتیوں کو دیکھ لے، اگر ان میں کوئی گندگی لگی ہوئی نظر آئے تو انہیں زمین پر رگڑ دے، پھر ان ہی میں نماز پڑھ لے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 11154
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي : " أَنَّ عَبْدًا قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا ، ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ ، فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا ، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ ، قَالَ : بَعْدَ قَتْلِ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ نَفْسًا ؟ ، قَالَ : فَانْتَضَى سَيْفَهُ فَقَتَلَهُ بِهِ ، فَأَكْمَلَ بِهِ مِائَةً ، ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ ، فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ مِائَةَ نَفْسٍ ، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ ، فَقَالَ : وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ ، اخْرُجْ مِنَ الْقَرْيَةِ الْخَبِيثَةِ الَّتِي أَنْتَ فِيهَا إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ قَرْيَةِ كَذَا وَكَذَا ، فَاعْبُدْ رَبَّكَ فِيهَا ، قَالَ : فَخَرَجَ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ ، فَعَرَضَ لَهُ أَجَلُهُ فِي الطَّرِيقِ ، قَالَ : فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ ، قَالَ : فَقَالَ : إِبْلِيسُ أَنَا أَوْلَى بِهِ ، إِنَّهُ لَمْ يَعْصِنِي سَاعَةً قَطُّ ، قَالَ : فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ : إِنَّهُ خَرَجَ تَائِبًا " ، قَالَ هَمَّامٌ ، فَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : فَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مَلَكًا فَاخْتَصَمُوا إِلَيْهِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ قَتَادَةَ ، قَالَ : فَقَالَ : انْظُرُوا أَيُّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ إِلَيْهِ فَأَلْحِقُوهُ بِأَهْلِهَا ، قَالَ قَتَادَةُ : فَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ : " لَمَّا عَرَفَ الْمَوْتَ احْتَفَزَ بِنَفْسِهِ ، فَقَرَّبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ ، وَبَاعَدَ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الْخَبِيثَةَ ، فَأَلْحَقُوهُ بِأَهْلِ الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوتا ہے، یہ بات بھی میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے محفوظ کی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے، اس کے بعد (توبہ کرنے کے ارادہ سے) یہ دریافت کرنے نکلا کہ (روئے زمین پر) سب سے بڑا عالم کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا فلاں شخص بڑا عالم ہے، یہ شخص اس کے پاس گیا اور دریافت کیا کہ میں نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا ہے، کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ عالم نے کہا نہیں، اس نے عالم کو بھی قتل کردیا اس طرح سو کی تعداد پوری ہوگئی اور پھر لوگوں سے دریافت کرنے لگا کہ اب سب سے بڑا عالم کون ہے ؟ لوگوں نے ایک آدمی کا پتہ دیا یہ اس کے پاس گیا اور اس سے اپنا مدعا کہا عالم نے کہا ہاں اس میں کون سی رکاوٹ ہے، اس گندے علاقے سے نکل کر فلاں گاؤں میں جاؤ (وہاں تمہاری توبہ قبول ہوگی) اور وہاں اپنے رب کی عبادت کرو، یہ شخص اس گاؤں کی طرف چل دیا لیکن راستہ میں ہی موت کا وقت آگیا۔ مجبوراً یہ شخص سینہ کے بل اس گاؤں کی طرف گھسٹتا رہا اب رحمت اور عذاب کے فرشتوں نے اس شخص کی نجات اور عذاب کے متعلق باہم اختلاف کیا، شیطان نے آکر کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں کیوں کہ اس نے ایک لمحے کے لئے بھی کبھی میری نافرمانی نہیں کی تھی اور رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ توبہ کرکے نکلا تھا، (اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو بھیجا اور) اس نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں بستیوں میں سے یہ شخص جس بستی کے زیادہ قریب ہوا اسے اس میں ہی شمار کرلو، راوی کہتے ہیں کہ قبل ازیں وہ اپنی موت کا وقت قریب دیکھ کر نیک گاؤں کے قریب ہوگیا تھا لہٰذا فرشتوں نے اسے ان ہی میں شمار کرلیا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3470، م: 2766
حدیث نمبر: 11155
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ لَا يَدَعُهَا وَيَدَعُهَا حَتَّى نَقُولَ لَا يُصَلِّيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات چاشت کی نماز اس تسلسل سے پڑھتے تھے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب آپ اسے نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے چھوڑتے تھے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پڑھیں گے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11156
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَقُلْتُ لِفُضَيْلٍ : رَفَعَهُ ؟ قَالَ : أَحْسِبُهُ قَدْ رَفَعَهُ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ : اللَّهُمَّ ، إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ ، وَبِحَقِّ مَمْشَايَ ، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً ، خَرَجْتُ اتِّقَاءَ سَخَطِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُنْقِذَنِي مِنَ النَّارِ ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ ، وَأَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جو شخص نماز کے لئے نکلتے وقت یہ کلمات کہہ لے " اے اللہ ! میں آپ سے اس حق کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں جو سائلین کا آپ پر بنتا ہے اور میرے چلنے کا حق ہے، کہ میں غرور و فخر اور دکھاوے اور ریاکاری کے لئے نہیں نکلا، میں آپ کی ناراضگی سے ڈر کر اور آپ کی رضامندی کی طلب کے لئے نکلا ہوں، میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے جہنم سے بچا لیجئے اور میرے گناہوں کو معاف فرما دیجئے، کیوں کہ آپ کے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا " تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ستر ہزار فرشتوں کو مقرر فرما دیتے ہیں جو اس کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اللہ اس کی طرف خصوصی توجہ فرماتا ہے، تاآنکہ وہ اپنی نماز سے فارغ ہوجائے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه، وقد روي موقوفا وهو أشبه .
حدیث نمبر: 11157
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي مَا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ لَهُ : مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا يُكَلِّمُكَ ؟ فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ ، فَقَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " ، وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي بِالشَّرِّ ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ حَبَطًا ، أَلَمْ تَرَ إِلَى آكِلَةِ الْخَضِرَةِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا وَاسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ، ثُمَّ رَتَعَتْ ، وَإِنَّ الْمَالَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ ، وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ " أَوْ كَمَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِنَّ الَّذِي أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ، فَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر ایک مرتبہ ہم سے فرمایا مجھے تم پر سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے کہ اللہ تمہارے لئے زمین کی نباتات اور دنیا کی رونقیں نکال دے گا، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا خیر بھی شر کو لاسکتی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم سمجھ گئے کہ ان پر وحی نازل ہو رہی ہے چنانچہ ہم نے اس آدمی سے کہا کیا بات ہے ؟ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر رہے ہو اور وہ تم سے بات نہیں کر رہے ؟ پھر جب وہ کیفیت دور ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پسینہ پونچھنے لگے اور فرمایا وہ سائل کہاں ہے ؟ اس نے عرض کیا میں یہاں موجود ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر ہی کا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر ہمیشہ خیر ہی کو لاتی ہے، البتہ یہ دنیا بڑی شاداب اور شیریں ہے اور موسم بہار میں اگنے والی خود رو گھاس جانور کو پیٹ پھلا کر یا بدہضمی کرکے مار دیتی ہے، لیکن جو جانور عام گھاس چرتا ہے، وہ اسے کھاتا رہتا ہے، جب اس کی کھوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے آکر لید اور پیشاب کرتا ہے، پھر دوبارہ آکر کھا لیتا ہے، چنانچہ مسلمان آدمی تو مسکین، یتیم اور مسافر کے حق میں بہت اچھا ہوتا ہے اور جو شخص ناحق اسے پالیتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا جائے لیکن سیراب نہ ہو اور وہ اس کے خلاف قیامت کے دن گواہی دے گا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 921، 1465، م: 1052
حدیث نمبر: 11158
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا إِلَّا الْقُرْآنَ ، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 3004 .
حدیث نمبر: 11159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَتَيْتَ عَلَى رَاعِي إِبِلٍ فَنَادِ يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ ، ثَلَاثًا ، فَإِنْ أَجَابَكَ ، وَإِلَّا فَاحْلُبْ وَاشْرَبْ مِنْ غَيْرِ أَنْ تُفْسِدَ ، وَإِذَا أَتَيْتَ عَلَى حَائِطِ بُسْتَانٍ فَنَادِ : يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ ، ثَلَاثًا ، فَإِنْ أَجَابَكَ ، وَإِلَّا فَكُلْ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا زَادَ فَصَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی اونٹ کے پاس سے گزرے اور اس کا دودھ پینا چاہے تو اونٹ کے مالک کو تین مرتبہ آواز دے لے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اس کا دودھ پی سکتا ہے۔ اسی طرح جب تم میں سے کوئی شخص کسی باغ میں جائے اور کھانا کھانے لگے تو تین مرتبہ باغ کے مالک کو آواز دے کر بلائے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اکیلا ہی کھا لے“ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہمانی تین دن ہے پس جو (تین دن سے) زائد ہو وہ صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، يزيد بن هارون سمع من الجريري بعد الاختلاط .
حدیث نمبر: 11160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَمَرَرْنَا بِنَهَرٍ فِيهِ مَاءٌ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ ، وَالْقَوْمُ صِيَامٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْرَبُوا " فَلَمْ يَشْرَبْ أَحَدٌ ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرِبَ الْقَوْمُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا گذر ایک نہر پر ہوا جس میں بارش کا پانی جمع تھا، لوگوں کا اس وقت روزہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پی لو، لیکن روزے کی وجہ سے کسی نے نہیں پیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر خود پانی پی لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر سب ہی نے پانی پی لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، يزيد بن هارون - وإن سمع من الجريري بعد الاختلاط - توبع .
حدیث نمبر: 11161
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا أَتَى الرَّجُلُ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ الْعَوْدَ تَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے پھر دوبارہ جانے کی خواہش ہو تو وضو کرلے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 308 .
حدیث نمبر: 11162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ، فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، فَقَالَ لَهُ : " لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ " ، قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ عَلَيْكَ الْوُضُوءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک انصاری صحابی کی طرف سے ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا، وہ آئے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں جلدی فراغت پانے پر مجبور کردیا ؟ انہوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اس طرح کی کیفیت میں جلدی ہو تو صرف وضو کرلیا کرو، غسل نہ کیا کرو۔ (بلکہ بعد میں اطمینان سے وضو کرو)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 180، م: 345 وهذا الحديث منسوخ بقوله: إذا جاوز الختان الختان، فقد وجب الغسل، انظر:25037
حدیث نمبر: 11163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدًا أَبَا الْحَوَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَخْرُجُ الْمَهْدِيُّ فِي أُمَّتِي خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا " ، زَيْدٌ الشَّاكُّ قَالَ : قُلْتُ : أَيُّ شَيْءٍ ؟ ، قَالَ : " سِنِينَ " ، ثُمَّ قَالَ : " يُرْسِلُ السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا ، وَلَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ مِنْ نَبَاتِهَا شَيْئًا ، وَيَكُونُ الْمَالُ كُدُوسًا " ، قَالَ : " يَجِيءُ الرَّجُلُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ : يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي أَعْطِنِي " ، قَالَ : " فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عجیب و غریب واقعات نہ پیش آنے لگیں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں مہدی آئے گا جو پانچ سات یا نو سال رہے گا، اس زمانے میں اللہ تعالیٰ آسمان سے خوب بارش برسائے گا، زمین کوئی نباتات اپنے اندر ذخیرہ کرکے نہیں رکھے گی اور مالی فراوانی ہوجائے گی، حتیٰ کہ ایک آدمی مہدی کے پاس آکر کہے گا کہ اے مہدی ! مجھے دو ، مجھے کچھ عطاء کرو، تو وہ اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر اس کے کپڑے میں اتنا ڈال دیں گے جتنا وہ اٹھاسکے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف زيد بن أبى الحواري، وهو ابن الحواري العمي .
حدیث نمبر: 11164
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا نَبِيعُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ام ولد (لونڈی) کو بیچ دیا کرتے تھے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه .
حدیث نمبر: 11165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ " كُنَّا نَتَمَتَّعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالثَّوْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک کپڑا بھی متعہ نکاح میں دے دیتے تھے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه ،وقد وردت أحاديث صحيحة صريحة بالنهي عن المتعة بعد الإذن فيها، منها حديث على بن طالب عندالبخاري:5115 إن النبى صلى الله عليه وسلم نهى المتعة وعن لحوم الحمر الأهلية زمن خيبر .
حدیث نمبر: 11166
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ : " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا کہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کردے گا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2915 .
حدیث نمبر: 11167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ سورة النصر آية 1 - 2 ، قَالَ : قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَتَمَهَا ، وَقَالَ : " النَّاسُ حَيْزُ ، وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيْزُ " ، وَقَالَ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ " ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ كَذَبْتَ ، وَعِنْدَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَهُمَا قَاعِدَانِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لَوْ شَاءَ هَذَانِ لَحَدَّثَاكَ ، وَلَكِنْ هَذَا يَخَافُ أَنْ تَنْزِعَهُ عَنْ عِرَافَةِ قَوْمِهِ ، وَهَذَا يَخْشَى أَنْ تَنْزِعَهُ عَنِ الصَّدَقَةِ ، فَسَكَتَا ، فَرَفَعَ مَرْوَانُ عَلَيْهِ الدِّرَّةَ لِيَضْرِبَهُ ، فَلَمَّا رَأَيَا ذَلِكَ ، قَالُوا : صَدَقَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورت نصر نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ صحابہ کرام کو مکمل سنائی اور فرمایا کہ تمام لوگ ایک طرف ہیں اور میں اور میرے صحابہ ایک پلڑے میں ہیں۔ اور فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت کا ثواب باقی ہے۔ یہ حدیث سن کر مروان نے ان کی تکذیب کی، اس وقت وہاں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے جو مروان کے ساتھ اس کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اگر یہ دونوں چاہیں تو تم سے یہ حدیث بیان کرسکتے ہیں لیکن ان میں سے ایک کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان سے ان کی قوم کی چوہدراہٹ چھین لوگے اور دوسرے کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان سے صدقات روک لوگے، اس پر دونوں حضرات خاموش رہے اور مروان نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو مارنے کے لئے کوڑا اٹھا لیا، یہ دیکھ کر ان دونوں حضرات نے فرمایا یہ سچ کہہ رہے ہیں۔ فائدہ : اس روایت کی صحت پر راقم الحروف کو شرح صدر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: الناس حيز، وأنا وأصحابي حيز ،وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو البختري الطائي لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 11168
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ ، فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ ، قَالَ : فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ " ، قَالَ : تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ " وَرُبَّمَا ، قَالَ : " قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو قریظہ کے لوگوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے رضامندی ظاہر کردی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر آئے، جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سردار کا کھڑے ہو کر استقبال کرو، پھر ان سے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں، انہوں نے عرض کیا کہ آپ ان کے جنگجو افراد کو قتل کروا دیں اور ان کے بچوں کو قیدی بنالیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے وہی فیصلہ کیا جو اللہ کا فیصلہ ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4121، م: 1768 .
حدیث نمبر: 11169
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أنه قَالَ : " إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا ، لِيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ، فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا سرسبز و شاداب اور شیریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سرانجام دیتے ہو ؟ یاد رکھو ! دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو، کیوں کہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلی آزمائش عورت ہی کے ذریعے سے ہوئی تھی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو قریظہ کے لوگوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے رضامندی ظاہر کردی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر آئے، جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سردارکا کھڑے ہو کر استقبال کرو، پھر ان سے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں) انہوں نے عرض کیا کہ آپ ان کے جنگجو افراد کو قتل کروادیں اور ان کے بچوں کو قیدی بنالیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے وہی فیصلہ کیا جو اللہ کا فیصلہ ہے گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2742
حدیث نمبر: 11170
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ فِي حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ ، وَتُسْبَى ذُرِّيَّتُهُمْ " ، فَقَالَ : لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ ، وَقَالَ مَرَّةً : لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ أَوْ الْمَلَكِ ، شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَحَدَّثَنَاهُ عَفَّانُ ، قَالَ الْمَلِكُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4121، م: 1768 .
حدیث نمبر: 11171
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ ، إلا أنه قال : تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذُرِّيَّتُهُمْ ، وَقَالَ : " قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ " ، قَالَ : أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه .
حدیث نمبر: 11172
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ ، أَوْ قَالَ فِي الْعَزْلِ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكَ ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل (مادہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اولاد کا ہونا تقدیر کا حصہ ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2542، م: 1438 .
حدیث نمبر: 11173
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله .
حدیث نمبر: 11174
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا : إِمَامٌ عَادِلٌ ، وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُ عَذَابًا : إِمَامٌ جَائِرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں سب سے پسندیدہ اور مجلس کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب شخص منصف حکمران ہوگا اور اس دن سب سے زیادہ مبغوض اور سخت عذاب کا مستحق ظالم حکمران ہوگا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عطية العوفي .
حدیث نمبر: 11175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَمَّنْ لَقِيَ الْوَفْدَ وَذَكَرَ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ ، وَلَسْنَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ ، وَنَأْمُرُ بِهِ أَوْ نَدْعُو مَنْ وَرَاءَنَا ، فَقَالَ : " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ ، اعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، فَهَذَا لَيْسَ مِنَ الْأَرْبَعِ ، وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَآتَوْا الزَّكَاةَ ، وَصُومُوا رَمَضَانَ ، وَأَعْطُوا مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ " ، قَالُوا : وَمَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ ؟ قَالَ : " جِذْعٌ يُنْقَرُ ، ثُمَّ يُلْقُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ ، أَوْ الثَّمَرِ وَالْمَاءِ حَتَّى إِذَا سَكَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ " ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ مِنْ ذَلِكَ ، فَجَعَلْتُ أُخَبِّئُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ ؟ ، قَالَ : " فِي الْأَسْقِيَةِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا " ، قَالُوا : إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ كَثِيرَةُ الْجُرْذَانِ لَا تَبْقَى فِيهَا أَسْقِيَةُ الْأُدُمِ ، قَالَ : " وَإِنْ أَكَلَتْهُ الْجُرْذَانُ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، وَقَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ : " إِنَّ فِيكَ خُلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے اور ہم آپ کی خدمت میں صرف اشہر حرم میں حاضر ہوسکتے ہیں اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتادیجئے جس پر عمل کرکے ہم جنت میں داخل ہوجائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی بتائیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں چار باتوں کا حکم اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں، اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کو بھجوانا اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع کرتا ہوں، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " نقیر " کا مطلب پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مکڑی کا وہ کانٹا جسے کھوکھلا کرکے اس میں ٹکڑے، کھجوریں یا پانی ڈال کر جب اس کا جوش ختم ہوجائے تو اسے پی لیا جائے، پھر تم میں سے کوئی شخص اپنے چچا زاد ہی کو تلوار مارنے لگے، اتفاق سے اس وقت لوگوں میں ایک آدمی موجود تھا، جسے اسی وجہ سے زخم لگا تھا، میں شرم کے مارے اسے چھپانے لگا۔ پھر ان لوگوں نے پوچھا کہ مشروبات کے حوالے سے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان مشکیزوں میں پیا کرو جن کا منہ بندھا ہوا ہو، انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے علاقے میں چوہوں کی بہتات ہے، اس میں چمڑے کے مشکیزے باقی رہ نہیں سکتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ فرمایا اگرچہ چوہے انہیں کتر لیا کریں اور وفد کے سردار سے فرمایا کہ تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جو اللہ کو بہت پسند ہیں، بردباری اور وقار
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 18 .
حدیث نمبر: 11176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ، عَنْ أَبِي سِعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " ، فَقَالَ : فَقَدِمَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ لِأُمِّهِ ، فَقَرَّبُوا إِلَيْهِ مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى ، فَقَالَ : كَأَنَّ هَذَا مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ قَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبُو سَعِيدٍ أَوَقَدْ حَدَثَ فِيهِ أَمْرٌ ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " نَهَى أَنْ نَحْبِسَهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَأْكُلَ وَنَدَّخِرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرمایا ہے، ایک مرتبہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے ماں شریک بھائی حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، انہوں نے ان کے سامنے قربانی کا گوشت لا کر رکھا، جسے خشک کرلیا گیا تھا، حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا لگتا ہے کہ یہ قربانی کا گوشت ہے، انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع نہیں فرمایا ؟ اس پر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا اس کے متعلق نیا حکم نہیں آیا تھا، پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع فرمایا تھا، بعد میں اسے کھانے اور ذخیرہ کرکے رکھنے کی اجازت دے دی تھی
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11176
حدیث نمبر: 11177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ أَنْ يُعْضَدَ شَجَرُهَا أَوْ يُخْبَطَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کنارے کے درمیان درخت کاٹنے سے یا ان کے پتے چھاڑنے سے منع کرتے ہوئے مدینہ منورہ کو حرم قرار دیا ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، زينب زوجة أبى سعيد الخدري سلف الكلام عليها فى الرواية السابقة قد توبعت .
حدیث نمبر: 11178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، يَقُولُ : اخْتَلَفَ رَجُلَانِ ، أَوْ امْتَرَيَا رَجُلٌ مَنْ بَنِي خُدْرَةَ ، وَرَجُلٌ مَنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ، قَالَ الْخُدْرِيُّ هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ الْعَمْرِيُّ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " هُوَ هَذَا الْمَسْجِدُ لِمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَقَالَ : " فِي ذَاكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ " ، يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو خدرہ اور بنو عمرو بن عوف کے دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کی تعیین میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا، جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی، عمری کی رائے مسجد قباء کے متعلق تھی اور خدری کی مسجد نبوی کے متعلق تھی، وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا اس سے مراد میری مسجد ہے اور مسجد قباء میں خیر کثیر ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1398
حدیث نمبر: 11179
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ دَاوُدَ السَّرَّاجِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص ریشم پہنتا ہے، وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة داود السراج .
حدیث نمبر: 11180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْمُثَنَّي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُودُوا الْمَرِيضَ ، وَامْشُوا مَعَ الْجَنَائِزِ تُذَكِّرْكُمْ الْآخِرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مریض کی عیادت کیا کرو اور جنازے کے ساتھ جایا کرو، اس سے تمہیں آخرت کی یاد آئے گی
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 11181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْري ، عن النبي صَلَّى اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قُلَْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ، أَوْ تُعْدَلُ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5015 .
حدیث نمبر: 11182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ : لَمْ تَزَلْ تُخْرَجُ زَكَاةُ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ شَعِيرٍ ، أَوْ أَقِطٍ ، أَوْ زَبِيبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمیشہ ایک صاع کھجور یا جو، پنیر یا کشمش صدقہ فطر کے طور پر دی جاتی تھی
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1508،1505، م: 985