حدیث نمبر: 11103
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ يَدْعُو هَكَذَا ، وَجَعَلَ بَاطِنَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے سینے کے سامنے بلند کر رکھے تھے اور ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب کر رکھی تھی۔
حدیث نمبر: 11104
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُلَائِيَّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ ، كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي ، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں جن میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے، ایک تو کتاب اللہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں، یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں گی۔
حدیث نمبر: 11105
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ ، إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " هَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " هَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " هَلْ تَحْلِبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہجرت کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی ! ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے، یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو ؟ عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کو ہدیہ کے طور پر بھی دے دیتے ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا تم ان کا دودھ اس دن دوہتے ہو جب انہیں پانی کے گھاٹ پر لے جاتے ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا پھر سات سمندر پار کر بھی عمل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کریں گے۔
حدیث نمبر: 11106
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمن يَعْنِي ابْنَ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِهِ حَجَبُوهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے تین بچے آگے بھیج دے، وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔
حدیث نمبر: 11107
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ خَمْسٍ : مُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ ، وَلَا كَاهِنٌ ، وَلَا مَنَّانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان پانچ سے کوئی آدمی بھی جنت میں داخل نہ ہوگا، عادی شراب خور، جادو پر یقین رکھنے والا، قطع رحمی کرنے والا، کاہن اور احسان جتانے والا۔
حدیث نمبر: 11108
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ ، إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَلَسْتَ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ؟ " ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : " أَلَسْتَ تَمْنَحُ مِنْهَا ؟ " ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : " أَلَسْتَ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا ؟ " ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : " فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ مَا شِئْتَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہجرت کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی ! ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے، یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو ؟ عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کو ہدیہ کے طور پر بھی دے دیتے ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا تم ان کا دودھ اس دن دوہتے ہو جب انہیں پانی کے گھاٹ پر لے جاتے ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا پھر سات سمندر پار کر بھی عمل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کریں گے۔
حدیث نمبر: 11109
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمُ ذَهَبٍ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ ، فَحَدَّثَهَا ، فَقَالَتْ : إِنَّ لَكَ لَشَأْنًا ، فَارْجِعْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فَأَلْقَى خَاتَمَهُ وَجُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ أُذِنَ لَهُ ، وَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْرَضْتَ عَنِّي قَبْلُ حِينَ جِئْتُكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكَ جِئْتَنِي وَفِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ ، وَكَانَ قَدْ قَدِمَ بِحُلِيٍّ مِنَ الْبَحْرَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ غَيْرُ مُغْنٍ عَنَّا شَيْئًا إِلَّا مَا أَغْنَتْ حِجَارَةُ الْحَرَّةِ ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اعْذُرْنِي فِي أَصْحَابِكَ لَا يَظُنُّونَ أَنَّكَ سَخِطْتَ عَلَيَّ بِشَيْءٍ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَذَرَهُ وَأَخْبَرَ أَنَّ الَّذِي كَانَ مِنْهُ إِنَّمَا كَانَ لِخَاتَمِهِ الذَّهَبِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نجران سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا اور اس سے کچھ بھی نہ پوچھا، وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس واپس چلا گیا اور اسے سارا واقعہ بتایا، اس نے کہا کہ ضرور تمہارا کوئی معاملہ ہے، تم دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جاتے ہوئے اپنی انگوٹھی اور اپنا جبہ " جو اس نے زیب تن کیا ہوا تھا " اتاردیا، اس مرتبہ جب اس نے اجازت چاہی تو اسے اجازت مل گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب بھی دیا، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب پہلے آپ کے پاس آیا تھا تو آپ نے مجھ سے اعراض فرمایا تھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تمہارے ہاتھ میں جہنم کی آگ کی ایک چنگاری تھی، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر تو میں بہت سی چنگاریاں لے کر آیا ہوں، دراصل وہ بحرین سے بہت سا زیور لے کر آیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم وہ چیز لے کر آئے جس کا ہمیں صرف اتنا ہی فائدہ ہوسکتا ہے جتنا پتھریلے علاقے کے پتھروں سے، البتہ یہ دنیوی زندگی کا سازو سامان ہے۔ پھر اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اپنے صحابہ کے سامنے میری طرف سے عذر داری کردیجئے تاکہ وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ آپ کسی وجہ سے مجھ سے ناراض ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اس کی طرف سے عذر داری کرلی اور لوگوں کو دیا کہ اس کے ساتھ اعراض ان کی سونے کی انگوٹھی کی وجہ سے تھا۔
حدیث نمبر: 11110
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لَحْيَانَ لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ، ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ : " أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ ، كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دور میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور پیچھے رہنے والے کے متعلق فرمایا کہ تم میں سے جو شخص جہاد پر جانے والے کے پیچھے اس کے اہل خانہ اور مال و دولت کا اچھے طریقے سے خیال رکھتا ہے، اسے جہاد پر نکلنے والے کا نصف ثواب ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 11111
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ 12 أَبِي 12 : لَيْسَ مَرْفُوعًا ، قَالَ : " لَا يَصْلُحُ السَّلَفُ فِي الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ وَالسُّلْتِ حَتَّى يُفْرَكَ ، وَلَا فِي الْعِنَبِ وَالزَّيْتُونِ وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ حَتَّى يُمَجِّجَ ، وَلَا ذَهَبًا عَيْنًا بِوَرِقٍ دَيْنًا ، وَلَا وَرِقًا دَيْنًا بِذَهَبٍ عَيْنًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گندم، جو اور بغیر چھلکے کے جو میں بیع سلم اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ چھل نہ جائیں، انگور اور زیتون وغیرہ میں اس وقت تک نہ کی جائے جب تک ان میں مٹھاس نہ آجائے، اسی طرح نقد سونے کی ادھار چاندی کے عوض یا ادھار چاندی کی نقد سونے کے عوض بیع نہ کی جائے۔
حدیث نمبر: 11112
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول : " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ حِينَئِذٍ ، فَلْيُصَلِّ فِي بَيْتِهِ رَكْعَتَيْنِ ، وَلْيَجْعَلْ فِي بَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھ چکے اور اپنے گھر لوٹ آئے تو وہاں بھی دو رکعتیں پڑھ لے اور اپنے گھر کے لئے بھی نماز کا حصہ رکھا کرے، کیوں کہ نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ گھر میں خیر نازل فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 11113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : " رَأَيْتُ بَيَاضَ كَشْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے دورانِ سجدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی۔
حدیث نمبر: 11114
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَاه مُوسَى هُوَ ابْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ كَشْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے دورانِ سجدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی۔
حدیث نمبر: 11115
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَاتَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ يَقْرَأُ اللَّيْلَ كُلَّهُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَتَعْدِلُ نِصْفَ الْقُرْآنِ أَوْ ثُلُثَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورت اخلاص ہی پر ساری رات گذار دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، سورت اخلاص نصف یا تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حدیث نمبر: 11116
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ فَلْيَجْعَلْ طَرَفَهُ عَلَى عَاتِقَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے دونوں پلو اپنے کندھوں پر ڈال لے۔
حدیث نمبر: 11117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " زَجَرَهُ عَنْ ذَلِكَ ، وَزَجَرَهُ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِبَوْلٍ " ، وَهَذَا يَتْلُو حَدِيثَ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ ؟ ، فَقَالَ : كُنَّا نَكْرَهُ ذَاكَ ، ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، نیز قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی جانب رخ کرکے بیٹھنے سے بھی سختی سے منع فرمایا ہے۔ ابوالزبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کھڑے ہو کر پانی پینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے تھے پھر انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 11118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ الْحَبَطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو رُؤْبَةَ شَدَّادُ بْنُ عِمْرَانَ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي مَرَرْتُ بِوَادِي كَذَا وَكَذَا ، فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ يُصَلِّي ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ إِلَيْهِ فَاقْتُلْهُ " ، قَالَ : فَذَهَبَ إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا رَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ كَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ : " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ " ، فَذَهَبَ عُمَرُ ، فَرَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ الَّتِي رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : فَكَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ ، قَالَ : فَرَجَعَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُتَخَشِّعًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ ، قَالَ : " يَا عَلِيُّ ، اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ " ، قَالَ : فَذَهَبَ عَلِيٌّ فَلَمْ يَرَهُ فَرَجَعَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَمْ يُرَهْ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ فِي فُوقِهِ ، فَاقْتُلُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرا فلاں جگہ سے گذر ہوا وہاں ایک آدمی بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ عمدہ کیفیت میں نماز پڑھ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے قتل کردو، حضرت صدیق اکبر چلے گئے لیکن جب اسے سابقہ حالت پر دیکھا تو اسے قتل کرنا ان پر بوجھ بن گیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم جا کر اسے قتل کردو، وہ گئے تو انہوں نے بھی اسے اسی حالت پر دیکھا جس میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا، چنانچہ ان پر بھی اسے قتل کرنا بوجھ بن گیا اور وہ بھی واپس آگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں نے اسے اتنے خشوع کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ اسے قتل کرنا مجھے اچھا نہ لگا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ تم جا کر اسے قتل کردو، وہ گئے تو انہیں وہ آدمی کہیں نظر نہ آیا، انہوں نے واپس آکر عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے وہ آدمی نہیں ملا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اور اس کے ساتھی قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور پھر اس کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ تیر اپنے ترکش میں واپس آجائے، تم اس بدترین مخلوق کو قتل کردینا۔
حدیث نمبر: 11119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي نَوْفٍ ، عَنِ سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَوَضَّأُ مِنْهَا وَهِيَ يُلْقَى فِيهَا مَا يُلْقَى مِنَ النَّتْنِ ! فَقَالَ : " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو فرما رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس میں تو اتنی گندگی ڈالی جاتی ہے، پھر بھی آپ اس سے وضو فرما رہے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔
حدیث نمبر: 11120
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَرَى رَبَّنَا ؟ قَالَ : فَقَالَ : " هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ نِصْفَ النَّهَارِ ؟ " ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : " فَتُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ؟ " ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي ذَلِكَ " ، قَالَ الْأَعْمَشُ : لَا تُضَارُّونَ ، يَقُولُ : لَا تُمَارُونَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے رب کی زیارت ضرور کرو گے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا واقعی ہم اپنے رب کی زیارت کرسکیں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نصف النہار کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری محسوس کرتے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں، فرمایا کیا چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری محسوس کرتے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں، فرمایا اسی طرح پروردگار کو دیکھنے میں بھی تمہیں کوئی دشواری نہ ہوگی، الاّیہ کہ تم چاند سورج کو دیکھنے میں دشواری محسوس کرنے لگو۔
حدیث نمبر: 11121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ ، وَشَرُّهَا الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ ، وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ " ، وَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ إِذَا سَجَدْتُنَّ ، لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی اور سب سے کم ترین صف آخری ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں سب سے بہترین آخری اور سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے، اے گروہ خواتین ! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نگاہیں پست رکھا کرو اور تہبند کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہوں کو نہ دیکھا کرو۔
حدیث نمبر: 11122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، وَحُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا ؟ " فَجَاءَ فُلَانٌ ، فَقَالَ : أَنَا قَالَ : " أَمِطْ " ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " أَمِطْ " ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ ، لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ ، هَاكَ يَا عَلِيُّ " ، فَانْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ وَفَدَكَ ، وَجَاءَ بِعَجْوَتِهِمَا وَقَدِيدِهِمَا ، قَالَ مُصْعَبٌ : بِعَجْوَتِهَا وَقَدِيدِهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر ایک دن اپنے دست مبارک میں جھنڈا پکڑا اسے ہلایا اور فرمایا اس کا حق ادا کرنے کے لئے کون اسے پکڑے گا ؟ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو پیش کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا، پھر دوسرا آیا، اسے بھی واپس کردیا اور فرمایا اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو معزز کیا میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو کبھی راہ فرار اختیار نہیں کرے گا، علی ! آگے آؤ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ جھنڈا لے کر روانہ ہوئے، حتیٰ کہ اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر اور فدک کو فتح کروا دیا اور وہاں کی عجوہ کھجور اور قدید لے کر آئے۔
حدیث نمبر: 11123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ فُلَانًا ، يَقُولُ : خَيْرًا ذَكَرَ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُ دِينَارَيْنِ ، قَالَ : " لَكِنْ فُلَانٌ لَا يَقُولُ ذَلِكَ وَلَا يُثْنِي بِهِ ، لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ الْعَشَرَةِ إِلَى الْمِائَةِ ، أَوْ قَالَ إِلَى الْمِائَتَيْنِ ، وَإِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَسْأَلُنِي الْمَسْأَلَةَ ، فَأُعْطِيهَا إِيَّاهُ ، فَيَخْرُجُ بِهَا مُتَأَبِّطُهَا وَمَا هِيَ لَهُمْ إِلَّا نَارٌ " ، قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلِمَ تُعْطِيهِمْ ، قَالَ : " إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ يَسْأَلُونِي ، وَيَأْبَى اللَّهُ لِي الْبُخْلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے فلاں فلاں دو آدمیوں کو خوب تعریف کرتے ہوئے یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے انہیں دو دینار عطاء فرمائے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن بخدا ! فلاں آدمی ایسا نہیں ہے، میں نے اسے دس سے لے کر سو تک دینار دئیے ہیں، وہ یہ کہتا ہے اور نہ تعریف کرتا ہے، یاد رکھو ! تم میں سے جو آدمی میرے پاس سے اپنا سوال پورا کر کے نکلتا ہے وہ اپنی بغل میں آگ لے کر نکلتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر آپ انہیں دیتے ہی کیوں ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کیا کروں ؟ وہ اس کے علاوہ مانتے ہی نہیں اور اللہ میرے لئے بخل کو پسند نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 11124
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ، فَقَالَ : " مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ ، قَالَ : " مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللَّهَ ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین آدمی کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مؤمن جو اپنی جان و مال سے راہ اللہ میں جہاد کرے، سائل نے پوچھا اس کے بعد کون ہے ؟ فرمایا وہ مؤمن جو کسی بھی محلے میں رہتا ہو اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بچاتاہو۔
حدیث نمبر: 11126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُورَةُ وُجُوهِهِمْ عَلَى مِثْلِ صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى لَوْنٍ أَحْسَنَ مِنْ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ ، لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ ، عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ لُحُومِهَا وَدَمِهَا وَحُلَلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے دن جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہو وں والا ہوگا، اس کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا، ان میں ہر ایک کی دو دو بیویاں ہونگی، ہر بیوی کے جسم پر ستر جوڑے ہوں گے جن کی پنڈلیوں کا گودا گوشت خون اور جوڑوں کے باہر سے نظر آجائے گا۔
حدیث نمبر: 11127
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَقَالَ : " هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ ؟ " ، قَالَ : قُلْنَا : لَا ، قَالَ : " فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ ؟ " ، قَالَ : قُلْنَا : لَا ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَذَلِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ " ، قَالَ : فَيُقَالُ : مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتْبَعْهُ ، قَالَ : " فَيَتْبَعُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الشَّمْسَ الشَّمْسَ ، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ ، وَيَتْبَعُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْقَمَرَ الْقَمَرَ ، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ ، وَيَتْبَعُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ الْأَوْثَانَ ، وَالَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْأَصْنَامَ الْأَصْنَامَ ، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ " ، قَالَ : " وَكُلُّ مَنْ كَانَ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَتَّى يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَيَبْقَى الْمُؤْمِنُونَ وَمُنَافِقُوهُمْ بَيْنَ ظَهْرَيْهِمْ وَبَقَايَا أَهْلِ الْكِتَابِ " ، وَقَلَّلَهُمْ بِيَدِهِ ، قَالَ : " فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ : أَلَا تَتَّبِعُونَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ، قَالَ : فَيَقُولُونَ : كُنَّا نَعْبُدُ اللَّهَ ، وَلَمْ نَرَ اللَّهَ ، فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ إِلَّا وَقَعَ سَاجِدًا ، وَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَسْجُدُ رِيَاءً وَسُمْعَةً ، إِلَّا وَقَعَ عَلَى قَفَاهُ ، قَالَ : " ثُمَّ يُوضَعُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ وَالْأَنْبِيَاءُ بِنَاحِيتَيْهِ ، قَوْلُهُمْ : اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، وَإِنَّهُ لَدَحْضُ مَزَلَّةٍ ، وَإِنَّهُ لَكَلَالِيبُ وَخَطَاطِيفُ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ قَدْ ، قَالَ : " تَخْطَفُ النَّاسَ ، وَحَسَكَةٌ تَنْبُتُ بِنَجْدٍ يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ " ، قَالَ : وَنَعَتَهَا لَهُمْ ، قَالَ : " فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي لَأَوَّلَ مَنْ مَرَّ أَوْ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ " ، قَالَ : " فَيَمُرُّونَ عَلَيْهِ مِثْلَ الْبَرْقِ ، وَمِثْلَ الرِّيحِ ، وَمِثْلَ أَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ ، وَمَخْدُوشٌ مُكَلَّمٌ ، وَمَكْدُوسٌ فِي النَّارِ ، فَإِذَا قَطَعُوهُ أَوْ فَإِذَا جَاوَزُوهُ فَمَا أَحَدُكُمْ فِي حَقٍّ يَعْلَمُ أَنَّهُ حَقٌّ لَهُ بِأَشَدَّ مُنَاشَدَةً مِنْهُمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ سَقَطُوا فِي النَّارِ ، يَقُولُونَ : أَيْ رَبِّ كُنَّا نَغْزُو جَمِيعًا وَنَحُجُّ جَمِيعًا وَنَعْتَمِرُ جَمِيعًا ، فَبِمَ نَجَوْنَا الْيَوْمَ وَهَلَكُوا ؟ " ، قَالَ : فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : انْظُرُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ زِنَةُ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ ، قَالَ : " فَيُخْرَجُونَ " ، قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ : مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ زِنَةُ قِيرَاطٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ ، قَالَ : " فَيُخْرَجُونَ " ، قَالَ : " ثُمَّ يَقُولُ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ : فَأَخْرِجُوهُ ، قَالَ : " فَيُخْرَجُونَ " ، قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو سَعِيدٍ : بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَظُنُّهُ يَعْنِي قَوْلَهُ وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ سورة الأنبياء آية 47 ، قَالَ : " فَيُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ فَيُطْرَحُونَ فِي نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ نَهَرُ الْحَيَوَانِ ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبُّ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَلَا تَرَوْنَ مَا يَكُونُ مِنَ النَّبْتِ إِلَى الشَّمْسِ يَكُونُ أَخْضَرَ ، وَمَا يَكُونُ إِلَى الظِّلِّ يَكُونُ أَصْفَرَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَأَنَّكَ كُنْتَ قَدْ رَعَيْتَ الْغَنَمَ ؟ ، قَالَ : " أَجَلْ قَدْ رَعَيْتُ الْغَنَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگا کو دیکھیں گے ؟ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں دشواری پیش آتی ہے ؟ ہم نے عرض کیا نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا جس وقت بادل نہ ہوں کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے ؟ ہم نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا تو پھر تم اسی طرح ابنے رب کا دیدار کرو گے۔ اللہ قیامت کے دن لوگوں کو ایک ٹیلے پر جمع کرکے فرمائیں گے جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ہوجائے۔ جو سورج کی عبادت کرتے تھے وہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے جہنم میں جاگریں گے۔ جو چاند کی عبادت کرتے تھے وہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے جہنم میں جا گریں گے، جو بتوں کی پوجا کرتے تھے وہ ان کے پیچھے چلتے ہوئے جہنم میں جا گریں گے حتیٰ کے اللہ کے علاوہ وہ جس کی بھی عبادت کرتے تھے، اس کے پیچھے چلتے ہوئے جہنم میں جاگریں گے اور مسلمان باقی رہ جائیں گے اور اس میں اس امت کے منافق بھی ہوں گے اور کچھ اہل کتاب بھی ہوں گے، جن کی قلت طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس آکر کہے گا کہ جن چیزوں کی تم عبادت کرتے تھے، ان کے پیچھے کیوں نہیں جاتے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اسے ہم اب تک دیکھ نہیں پائے ہیں، چنانچہ پنڈلی کھول دی جائے گی اور اللہ کو سجدہ کرنے والا کوئی آدمی سجدہ کئے بنا نہ رہے گا، البتہ جو شخص ریاء اور شہرت کی خاطر سجدہ کرتا تھا وہ ابنی گدی کے بل گرپڑے گا، پھر جہنم کی پشت پر پل صراط قائم کیا جائے گا، اس کے دونوں کناروں پر انبیاء کرام علیھم السلام یہ کہتے ہوں گے اے اللہ ! سلامتی، سلامتی، وہ پھسلن کی جگہ ہوگی، اس میں کانٹے اور آنکڑے اور نجد میں پیدا ہونے والی " سعدان " نامی خاردار جھاڑیاں ہوں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نشانی بھی بیان فرمائی اور فرمایا کہ میں اور میرے امتی اسے سب سے پہلے عبور کرنے والے ہوں گے، کچھ لوگ اس پر سے بجلی کی طرح، کچھ ہوا کی طرح اور کچھ تیز رفتار گھڑ سواروں کی طرح گذر جائیں گے، ان میں سے کچھ تو صحیح سلامت گذر کر نجات پاجائیں گے، کچھ زخمی ہوجائیں گے اور کچھ جہنم میں گرپڑیں گے، جب وہ اسے عبور کرچکیں گے تو انتہائی آہ وزاری سے اپنے ان بھائیوں کے متعلق جو جہنم میں گرگئے ہوں گے، اللہ سے عرض کریں گے کہ پروردگار ! ہم اکٹھے ہی جہاد، حج اور عمرہ کرتے تھے آج ہم بچ گئے تو وہ کیونکر ہلاک ہوگئے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو جس شخص کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان پایا جاتا ہو اسے جہنم سے نکال لو، چنانچہ وہ انہیں نکا لیں گے پھر اللہ فرمائے گا کہ جس کے دل میں ایک قیراط کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے نکال لو، چنانچہ وہ انہیں بھی نکالیں گے، پھر اللہ فرمائے گا کہ جن کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے نکالو، چنانچہ وہ انہیں بھی نکال لیں گے، پھر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے (راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس سے مراد یہ آیت ہے " اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی نیکی ہوئی تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں) پھر انہیں جہنم سے نکال کر " نہر حیوان " میں غوطہ دیا جائے گا اور وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذرا غور تو کرو کہ درخت پہلے سبز ہوتا ہے، پھر زرد ہوتا ہے، یا اس کا عکس فرمایا اس پر ایک آدمی کہنے لگا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریاں بھی چرائی ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! میں نے بکریاں چرائیں ہیں۔
حدیث نمبر: 11128
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا فِرَاسُ بْنُ يَحْيَى الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَقَدْ دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ مَا عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ ، قَالَ لِأَهْلِهِ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ : إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ، ثُمَّ اسْحَقُونِي ، ثُمَّ اذْرُوا نِصْفِي فِي الْبَحْرِ وَنِصْفِي فِي الْبَرِّ ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ وَالْبَحْرَ فَجَمَعَاهُ ، ثُمَّ قَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ قَالَ : مَخَافَتُكَ ، قَالَ : فَغُفِرَ لَهُ لِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک ایسا آدمی بھی داخل ہوگا جس نے کبھی کوئی نیک عمل نہ کیا ہوگا، یہ وہ آدمی ہوگا جس نے اپنے مرض الموت میں اپنے اہل خانہ کو وصیت کی تھی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا کر میری راکھ پیس لینا اور اس کا آدھا حصہ سمندر میں بہا دینا اور آدھی حصہ خشکی میں اڑا دینا، اللہ نے بر وبحر کو حکم دیا اور انہوں نے اس کے سارے اجزاء اکٹھے کردیئے اور اس سے پوچھا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی ؟ اس نے جواب دیا کہ آپ کے خوف کی وجہ سے، اسی پر اللہ نے اس کی مغفرت فرمادی۔
حدیث نمبر: 11129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْقُلُوبُ أَرْبَعَةٌ : قَلْبٌ أَجْرَدُ فِيهِ مِثْلُ السِّرَاجِ يُزْهِرُ ، وَقَلْبٌ أَغْلَفُ مَرْبُوطٌ عَلَى غِلَافِهِ ، وَقَلْبٌ مَنْكُوسٌ ، وَقَلْبٌ مُصْفَحٌ ، فَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَجْرَدُ فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ سِرَاجُهُ فِيهِ نُورُهُ ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَغْلَفُ فَقَلْبُ الْكَافِرِ ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْكُوسُ فَقَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ أَنْكَرَ ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمُصْفَحُ فَقَلْبٌ فِيهِ إِيمَانٌ وَنِفَاقٌ ، فَمَثَلُ الْإِيمَانِ فِيهِ كَمَثَلِ الْبَقْلَةِ يَمُدُّهَا الْمَاءُ الطَّيِّبُ ، وَمَثَلُ النِّفَاقِ فِيهِ كَمَثَلِ الْقُرْحَةِ يَمُدُّهَا الْقَيْحُ وَالدَّمُ ، فَأَيُّ الْمَدَّتَيْنِ غَلَبَتْ عَلَى الْأُخْرَى غَلَبَتْ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دل چار طرح کے ہوتے ہیں، قلب اجرد یعنی خالی دل جس میں چراغ روشن ہوسکے، قلب اغلف یعنی جس پر پردے پڑے ہوئے ہوں، قلب منکوس یعنی الٹا دل اور قلب مصفح یعنی چٹیل میدان، قلب اجرد تو مسلمان کا دل ہوتا ہے جس کا چراغ اس کا نور ہوتا ہے قلب اغلف کافر کا دل ہوتا ہے قلب منکوس منافق کا دل ہوتا ہے جو حق کو پہچان لینے کے بعد اس سے منکر ہوجاتا ہے اور قلب مصفح وہ دل ہوتا ہے جس میں ایمان بھی ہو اور نفاق بھی، اس میں ایمان کی مثال تو سبزی کی سی ہوتی ہے جو اچھے اور صاف پانی سے بڑھتی جاتی ہے اور نفاق کی مثال اس زخم کی سی ہوتی ہے جس میں پیپ اور خون بڑھتا جاتا ہے، اب دونوں میں سے جو چیز غالب آجائے، اسی کا اثر اس پر غالب آجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 11130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ ، عَنْ مَطَرِ بْنِ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، أَجْلَى أَقْنَى يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ قَبْلَهُ ظُلْمًا ، يَكُونُ سَبْعَ سِنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک کشادہ پیشانی اور ستواں ناک والا آدمی خلیفہ نہ بن جائے، وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی اور وہ سات سال تک رہے گا۔
حدیث نمبر: 11131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَعِتْرَتِي كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي ، وَإِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ ، فَانْظُرُونِي بِمَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب میرا بلاوا آجائے گا اور میں اس پر لبیک کہوں گا، میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں جن میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے ایک تو کتاب اللہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں، یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جدا نہ ہونگی، یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں گی، اب تم دیکھ لو کہ ان دونوں میں میری نیابت کس طرح کرتے ہو ؟
حدیث نمبر: 11132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ غَرْزًا ، ثُمَّ غَرَزَ إِلَى جَنْبِهِ آخَرَ ، ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثَ ، فَأَبْعَدَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " هَذَا الْإِنْسَانُ ، وَهَذَا أَجَلُهُ ، وَهَذَا أَمَلُهُ ، يَتَعَاطَى الْأَمَلَ ، يَخْتَلِجُهُ دُونَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے ایک لکڑی گاڑھی، دوسری اس کے قریب اور تیسری اس سے دور گاڑھی، پھر صحابہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے اور یہ اس کی امیدیں ہیں، جو درمیان سے نکل نکل کر اس تک پہنچتی ہیں۔
حدیث نمبر: 11133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا " ، قَالُوا : إِذًا نُكْثِرُ ؟ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْثَرُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کوئی ایسی دعاء کرے جس میں گناہ یا قطع رحمی کا کوئی پہلو نہ ہو، اللہ اسے تین میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطاء فرماتے ہیں، یا تو فوراً ہی اس کی دعاء قبول کرلی جاتی ہے، یا آخرت کے لئے ذخیرہ کرلی جاتی ہے، یا اس سے اس جیسی کوئی تکلیف دور کردی جاتی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس طرح تو پھر ہم بہت کثرت کریں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس سے بھی زیادہ کثرت والا ہے
حدیث نمبر: 11134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ " ، قَالَ : " فَاخْتَارَ ذَلِكَ الْعَبْدُ مَا عِنْدَ اللَّهِ " ، قَالَ : فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، فَعَجِبْنَا لِبُكَائِهِ أَنْ خَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خُيِّرَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَيَّرَ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ أَوْ مَوَدَّتُهُ ، لَا يَبْقَى بَابٌ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور اپنے پاس آنے کے درمیان اختیار دیا، اس بندے نے اللہ کے پاس جانے کو ترجیح دی، یہ سن کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رونے لگے، ہمیں ان کے رونے پر بڑا تعجب ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو محض ایک آدمی کے متعلق خبر دی ہے، اس میں رونے کی کیا بات ہے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ " بندے " سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور واضح ہوا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی رفاقت اور مالی تعاون کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ احسانات مجھ پر ابوبکر کے ہیں، اگر میں اپنے رب کے علاوہ انسانوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا، البتہ ان کے ساتھ اسلامی اخوت ومودت ہی بہت ہے اور ابوبکر کے دروازے کے علاوہ مسجد کھلنے والے دوسرے تمام دروازے بند کردیئے جائیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11135
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
حدیث نمبر: 11136
حَدَّثَنَاه سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
حدیث نمبر: 11137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أُخْبِرَ أَبُو سَعِيدٍ بِجِنَازَةٍ ، فَعَادَ تَخَلَّفَ ، حَتَّى إِذَا أَخَذَ النَّاسُ مَجَالِسَهُمْ ، ثُمَّ جَاءَ فَلَمَّا رَآهُ الْقَوْمُ تَشَذَّبُوا عَنْهُ فَقَامَ بَعْضُهُمْ لِيَجْلِسَ فِي مَجْلِسِهِ ، فَقَالَ : لَا ، إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ خَيْرَ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا ، ثُمَّ تَنَحَّى وَجَلَسَ فِي مَجْلِسٍ وَاسِعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو کسی جنازے کی اطلاع دی گئی، جب وہ آئے تو لوگ اپنی اپنی جگہوں پر جم چکے تھے، انہیں دیکھ کر لوگوں نے اپنی جگہ سے ہٹنا شروع کردیا اور کچھ لوگ اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے تاکہ وہ ان کی جگہ پر بیٹھ جائیں، لیکن انہوں نے فرمایا نہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہترین مجلس وہ ہوتی ہے جو زیادہ کشادہ ہو، پھر دوسرے کونے میں کشادہ جگہ پر جا کر بیٹھ گئے۔
حدیث نمبر: 11138
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ : " مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُونَ : إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْفَعُ قَوْمَهُ ، بَلَى وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَإِنِّي أَيُّهَا النَّاسُ فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، فَإِذَا جِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، وَقَالَ أَخُرُ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ " ، قَالَ لَهُمْ : " أَمَّا النَّسَبُ فَقَدْ عَرَفْتُهُ ، وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي ، وَارْتَدَدْتُمْ الْقَهْقَرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچاسکے گی، اللہ کی قسم ! میری قرابت داری دنیا و آخرت دونوں میں جڑی رہے گی اور لوگو ! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، جب تم وہاں پہنچوں گے تو ایک آدمی کہے گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلاں بن فلاں ہوں اور دوسرا کہے گا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں، میں انہیں جواب دوں گا کہ تہمارا نسب تو مجھے معلوم ہوگیا لیکن میرے بعد تم نے دین میں بدعات ایجاد کرلی تھیں اور تم الٹے پاؤں واپس ہوگئے تھے۔
حدیث نمبر: 11139
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ : فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : اشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَوْ غَابَ ، فَصَلَّى بِنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ ، وَحِينَ رَكَعَ ، وَحِينَ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ، وَحِينَ سَجَدَ ، وَحِينَ قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ ، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ ، فَلَمَّا صَلَّى قِيلَ لَهُ قَدْ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلَى صَلَاتِكَ ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، وَاللَّهِ مَا أُبَالِي اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ ، هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے تھے تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، انہوں نے نماز شروع کرتے وقت رکوع میں جاتے وقت بلند آواز سے تکبیر کہی سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت بھی، سجدہ سے سر اٹھا کر سجدہ میں جاتے وقت اور دو رکعتوں کے درمیان کھڑے ہوتے وقت بھی بلند آواز سے تکبیر کہی اور اس طرح اپنی نماز مکمل کرلی، نماز کے بعد کسی شخص نے ان سے کہا کہ لوگوں میں آپ کی نماز پر اختلاف ہوگیا ہے، اس پر وہ منبر کے قریب کھڑے ہوئے اور فرمایا واللہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تمہاری نمازیں اس سے مختلف ہوتی ہیں یا نہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 11141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبي سعيد الخُدْري ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا يُصِيبُ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ ، وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ ، وَلَا غَمٍّ وَلَا أَذًى ، حَتَّى الشَّوْكَةَ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ کانٹا جو اسے چبھتا ہے، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11142
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " ائْتَمُّوا بِي يَأْتَمُّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ ، فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میری اقتداء کیا کرو بعد والے تمہاری اقتداء کریں گے، کیونکہ لوگ پیچھے ہوتے رہیں کے یہاں تک کہ اللہ انہیں پیچھے کردے گا۔
…