حدیث نمبر: 11064
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلّم " يُحِبُّ الْعَرَاجِينَ يُمْسِكُهَا فِي يَدِهِ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَحَتَّهَا بِهِ حَتَّى أَنْقَاهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ٹہنی کو بہت پسند فرماتے تھے اور اسے اپنے ہاتھ میں پکڑتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو قبلہ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس چھڑی سے صاف کردیا۔
حدیث نمبر: 11065
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الْجَرِّ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِ ، وَعَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا ، وَعَنِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور، یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11066
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، يُجَاءُ بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ ، فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ ، قَالَ : فَيَشْرَئِبُّونَ ، فَيَنْظُرُونَ ، وَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، هَذَا الْمَوْتُ ، قَالَ : فَيُقَالُ : يَا أَهْلَ النَّارِ ، هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ ، قَالَ : فَيَشْرَئِبُّونَ ، فَيَنْظُرُونَ ، وَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، هَذَا الْمَوْتُ ، قَالَ : فَيُؤْمَرُ بِهِ ، فَيُذْبَحُ ، قَالَ : وَيُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ " ، قَالَ : ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ سورة مريم آية 39 ، قَالَ : وَأَشَارَ بِيَدِهِ ، قَالَ : مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِهِ في غفلة ، قال : أهل الدنيا في غفلة الدنيا ، قال : محمد بن عبيد في حديثه : إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، يُجَاءُ بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا، وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہ کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا، پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے جی ہاں ! یہ موت ہے، چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کردیا جائے گا اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو، اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہو گے، اس میں کبھی موت نہ آئے گی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی " انہیں حسرت کے دن سے ڈرا دیجئے جب معاملات کا فیصلہ کیا جائے گا اور وہ غفلت میں رہے " یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا : محمد بن عبید اپنی حدیث میں کہتے کہ اہل دنیا اپنی دنیا کی غفلتوں میں رہے۔
حدیث نمبر: 11067
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ النَّبِيِّينَ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَتَمَّهَا إِلَّا لَبِنَةً وَاحِدَةً ، فَجِئْتُ أَنَا فَأَتْمَمْتُ تِلْكَ اللَّبِنَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا، اسے مکمل کرلیا، لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، میں نے آکر اس اینٹ کی جگہ بھی مکمل کردی۔
حدیث نمبر: 11068
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا سورة البقرة آية 143 قَالَ : " عَدْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " امۃ وسطاً " کی تفسیر امت معتدلہ سے فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 11069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الصُّورِ ، فَقَالَ : " عَنْ يَمِينِهِ جِبْرِيلُ ، وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِمْ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صور پھونکنے والے فرشتے (اسرافیل علیہ السلام) کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی دائیں جانب حضرت جبرائیل علیہ السلام اور بائیں جانب حضرت میکائیل علیہ السلام ہیں۔
حدیث نمبر: 11070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ثَلَاثِينَ رَاكِبًا ، قَالَ : فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ ، قَالَ : فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يُضَيِّفُونَا ، فَأَبَوْا ، قَالَ : فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ ، قَالَ : فَأَتَوْنَا ، فَقَالُوا : فِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ؟ ، قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ أَنَا ، وَلَكِنْ لَا أَفْعَلُ حَتَّى تُعْطُونَا شَيْئًا ، قَالُوا : فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلَاثِينَ شَاةً ، قَالَ : فَقَرَأْتُ عَلَيْهَا الْحَمْدُ لِلَّهِ سورة الفاتحة آية 2 سَبْعَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَبَرَأَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَبَضْنَا الْغَنَمَ ، قَالَ : عَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا ، قَالَ : فَكَفَفْنَا حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : فَقَالَ : " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ! اقْسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیس سواروں کے ایک دستے میں بھیجا، دوران سفر ہمارا گزر عرب کے کسی قبیلے پر ہوا صحابہ رضی اللہ عنہ نے اہل قبیلہ سے مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا، اتفاقاً ان کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگے کیا آپ میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے ؟ میں نے " ہاں " کہہ دیا، لیکن یہ شرط لگادی کہ میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا جب تک تم ہمیں کچھ نہ دوگے، انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو تیس بکریاں دیں گے، چنانچہ میں نے سات مرتبہ اسے سورت فاتحہ پڑھ کر دم کردیا، وہ تندرست ہوگیا، جب ہم نے بکریوں پر قبضہ کرلیا تو ہمارے دل میں کچھ خیال آیا اور ہم نے اس سے ہاتھ روک لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا وقعہ ذکر کیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے، پھر فرمایا کہ بکریوں کا وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو۔
حدیث نمبر: 11071
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی ہے۔
حدیث نمبر: 11072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں اس کے دونوں پلّو دونوں کندھوں پر ڈال کر بھی نماز پڑھی ہے۔
حدیث نمبر: 11073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ ، وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ ، وَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ ، وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٍ ، فَقَالَ : يَا مَرْوَانُ ، خَالَفْتَ السُّنَّةَ ، أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ في يَوْمَ عِيدٍ ، وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ فِي يَوْمِ عِيدٍ ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ ، وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيَفْعَلْ ، وَقَالَ مَرَّةً : فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا جو نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا مروان ! تم نے سنت کی مخالفت کی، تم نے عید کے دن منبر نکلوایا جو کہ پہلے نہیں نکالا جاتا تھا اور تم نے نماز سے پہلے خطبہ دیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، اس مجلس میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ آدمی کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں بن فلاں ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
حدیث نمبر: 11073M
حدثنا أبو معاوية ، حدثنا الأعمش ، عن أبي صالح ، عن أبي سعيد الخدري ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قي قوله : وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ سورة مريم آية 39 ، قال : " في الدنيا "
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «وهم فى غفلة» کا تعلق دنیا سے بیان کیا ہے۔ (کہ وہ لوگ دنیا میں غفلت کے شکار رہے)۔
حدیث نمبر: 11074
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ رَمْلٍ عَالِجٍ ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ عَدَدِ وَرَقِ الشَّجَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بستر کے پاس آکر تین مرتبہ یہ کہے " استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھوالحی القیوم واتوب الیہ " اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے، خواہ سمندر کی جھاگ، ریت کے ذرات اور درختوں کے پتوں کے برابر ہی ہوں۔
حدیث نمبر: 11075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ : أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ ؟ قَالَ : سَأُخْبِرُكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْهُ ، جَاءَهُ صَاحِبُ تَمْرِهِ بِتَمْرٍ طَيِّبٍ ، وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ : اللَّوْنُ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا التَّمْرُ الطَّيِّبُ ؟ " ، قَالَ : ذَهَبْتُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا ، وَاشْتَرَيْتُ بِهِ صَاعًا مِنْ هَذَا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَيْتَ " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَرْبَى ، أَمْ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کی سونے کے بدلے اور چاندی کی چاندی کے بدلے بیع کے بارے میں کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے تمہیں بتائے دیتا ہوں ایک مرتبہ کجھور والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ عمدہ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوروں کا نام " لون " تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے ؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا پھر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کجھور کے معاملے میں سود کا پہلو زیادہ ہوگا یا سونا اور چاندی کے معاملے میں ؟
حدیث نمبر: 11076
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ ، وَهُوَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ ، فَلَمَّا تَقَضَّيْنَ أَمَرَ بِبُنْيَانِهِ فَنُقِضَ ، ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهَا أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ ، فَخَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِهَا ، فَجَاءَ رَجُلَانِ يَحِيفَانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ ، فَنُسِّيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ " ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا ، قَالَ : أَنَا أَحَقُّ بِذَاكَ مِنْكُمْ ، فَمَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ ؟ ، قَالَ : تَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا التَّاسِعَةُ ، وَتَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ ثَلَاثَةً وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ ، وَتَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ القدر کی تلاش میں تھے اور اس وقت تک وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر واضح نہیں ہوئی تھی، جب وہ عشرہ ختم ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان کا خیمہ ہٹا دیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ آخری عشرے میں ہوگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان کا خیمہ دوبارہ لگا دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرے کا بھی اعتکاف فرمایا : پھر لوگوں کے پاس نکل کر فرمایا لوگو ! مجھے لیلۃ القدر کے بارے میں بتادیا گیا تھا، میں تمہیں بتانے کے لئے نکلا تو دو آدمی جھگڑتے ہوئے آئے، ان کے ساتھ شیطان بھی تھا، چنانچہ مجھے اس کی تعیین بھلادی گئی، اب تم اسے نویں، ساتویں اور پانچویں میں تلاش کیا کرو، میں نے عرض کیا اے ابوسعید ! آپ تو ہم سے زیادہ گنتی جانتے ہیں، انہوں نے فرمایا میں تم سے اس کا زیادہ حقدارہوں۔ میں نے ساتویں، نویں اور پانچویں کا مطلب پوچھا تو فرمایا اکیسویں اور اس کے ساتھ والی رات نویں ہے، ٢٣ ویں اور اس کے ساتھ والی رات ساتویں ہے اور ٢٥ ویں اور اس کے ساتھ والی رات پانچویں ہے۔
حدیث نمبر: 11077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ ، وَلَكِنْ نَاسٌ ، أَوْ كَمَا قَالَ : تُصِيبُهُمْ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ ، أَوْ قَالَ : بِخَطَايَاهُمْ فَيُمِيتُهُمْ إِمَاتَةً ، حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أَذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ ، فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ ، فَنَبَتُوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ " ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ حِينَئِذٍ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ بِالْبَادِيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جہنمی جو اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان پر نہ تو موت آئے گی اور نہ ہی انہیں زندگانی نصیب ہوگی، البتہ جن لوگوں پر اللہ اپنی رحمت کا ارادہ فرمائے گا، انہیں جہنم میں بھی موت دے دے گا۔ پھر جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو سفارش کرنے والے ان کی سفارش کریں گے اور ہر آدمی اپنے اپنے دوستوں کو نکال کرلے جائے گا، وہ لوگ ایک خصوصی نہر میں " جس کا نام نہر حیاء یا حیوان یا حیات یا نہر جنت ہوگا " غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے، اس پر ایک آدمی کہنے لگا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنگل میں بھی رہے ہیں (کہ وہاں کے حالات خوب معلوم ہیں )
حدیث نمبر: 11078
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " وَمَا ذَاكُمْ ؟ " ، قَالُوا : الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ ، فَيُصِيبُ مِنْهَا ، وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ ، وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْجَارِيَةُ ، فَيُصِيبُ مِنْهَا ، وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ ، فَقَالَ : " فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ " ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ ، فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ ، فَقَالَ : فَلَا عَلَيْكُمْ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ ایک آدمی کی بیوی اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے، وہ اس سے اپنی خواہش بھی پوری کرتا ہے اور اس کے حاملہ ہونے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا، اسی طرح کسی شخص کی اگر باندی ہو اور وہ اس سے اپنی خواہش بھی پوری کرتا ہے لیکن اس کے حاملہ ہونے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا، وہ کیا کرے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم یہ کام کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، کیوں کہ یہ چیز تقدیر کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 11079
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہا کرو، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردے تو وہ ان میں سے کسی کے مد بلکہ اس کے نصف تک کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔
حدیث نمبر: 11080
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَكَّ الْأَعْمَشُ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا ، فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْعَلُوا " ، فَجَاءَ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا قَلَّ الظَّهْرُ ، وَلَكِنْ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ، ثُمَّ ادْعُ لَهُمْ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ ، ثُمَّ دَعَاهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ الذُّرَةِ ، وَالْآخَرُ بِكَفِّ التَّمْرِ ، وَالْآخَرُ بِالْكِسْرَةِ ، حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطْعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيرٌ ، ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : " خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ " ، قَالَ : فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا مِنَ الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا ملئوه ، وَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَفَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهَا عَبْدٌ ، غَيْرُ شَاكٍّ ، فَتُحْجَبَ عَنْهُ الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے، وہاں مسلمانوں کو بھوک نے ستایا اور انہیں کھانے کی شدید حاجت نے آگھیرا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تو سواریاں کم پڑجائیں گی، آپ ان سے ان کے پاس متفرق طور پر جو چیزیں موجود ہیں، وہ منگوا لیجئے اور اللہ سے اس میں برکت کی دعا فرما لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کو قبول کرلیا اور متفرق چیزیں جو توشے میں موجود تھیں، منگوالیں۔ چنانچہ کوئی شخص ایک مٹھی بھر جو لایا، کوئی مٹھی بھر ٹکڑے، جب دسترخوان پر کچھ چیزیں جمع ہوگئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے اس میں برکت کی دعاء کی اور فرمایا کہ اپنے اپنے برتن لے کر آؤ، سب کے برتن بھر گئے اور سب لوگوں نے خوب سیر ہو کر کھایا اور بہت سی مقدار بچ بھی گئی، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور جو شخص ان دونوں گواہیوں کے ساتھ اللہ سے ملے گا اور اسے ان میں کوئی شک نہ ہوا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 11081
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُعَيْقِيبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيِّ ، أَحَدُ بَنِي لَيْثٍ ، وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ ، قال أبو عبد الرحمن : قال أبي : سُلَيْمَانَ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ أَبُو الْهَيْثَمِ الَّذِي يَرْوِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُوضَعُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ ، عَلَيْهِ حَسَكٌ كَحَسَكِ السَّعْدَانِ ، ثُمَّ يَسْتَجِيزُ النَّاسُ ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ ، وَمَجْروحٌ بِهِ ، ثُمَّ نَاجٍ وَمُحْتَبِسٌ بِهِ ، مَنْكُوسٌ فِيهَا ، فَإِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ يَفْقِدُ الْمُؤْمِنُونَ رِجَالًا كَانُوا مَعَهُمْ فِي الدُّنْيَا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِمْ ، وَيُزَكُّونَ بِزَكَاتِهِمْ ، وَيَصُومُونَ صِيَامَهُمْ ، وَيَحُجُّونَ حَجَّهُمْ ، وَيَغْزُونَ غَزْوَهُمْ ، فَيَقُولُونَ : أَيْ رَبَّنَا عِبَادٌ مِنْ عِبَادِكَ كَانُوا مَعَنَا فِي الدُّنْيَا ، يُصَلُّونَ صَلَاتَنَا ، وَيُزَكُّونَ زَكَاتَنَا ، وَيَصُومُونَ صِيَامَنَا ، وَيَحُجُّونَ حَجَّنَا ، وَيَغْزُونَ غَزْوَنَا ، لَا نَرَاهُمْ ، فَيَقُولُ : اذْهَبُوا إِلَى النَّارِ ، فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْهُمْ فَأَخْرِجُوهُ ، قَالَ : فَيَجِدُونَهُمْ قَدْ أَخَذَتْهُمْ النَّارُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ ، فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى قَدَمَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَزِرَتْهُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى ثَدْيَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى عُنُقِهِ ، وَلَمْ تَغْشَ الْوُجُوهَ مِنْهَا ، فَيُطْرَحُونَ فِي مَاءِ الْحَيَاةِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا مَاءُ الْحَيَاةِ ؟ ، قَالَ : " غُسْلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الزَّرْعَةِ ، وَقَالَ مَرَّةً فِيهِ : كَمَا تَنْبُتُ الزَّرْعَةُ فِي غُثَاءِ السَّيْلِ ، ثُمَّ يَشْفَعُ الْأَنْبِيَاءُ فِي كُلِّ مَنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا ، فَيُخْرِجُونَهُمْ مِنْهَا ، قَالَ : ثُمَّ يَتَحَنَّنُ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ عَلَى مَنْ فِيهَا ، فَمَا يَتْرُكُ فِيهَا عَبْدًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا أَخْرَجَهُ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سلیمان بن عمرو رحمہ اللہ جو یتیمی کی حالت میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش تھے کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کے اوپر پل صراط قائم کیا جائے گا، جس پر " سعدان " جیسے کانٹے ہوں گے، پھر لوگوں کو اس کے اوپر سے گذارا جائے گا مسلمان اس سے نجات پاجائیں گے، کچھ زخمی ہو کر بچ نکلیں گے، کچھ ان سے الجھ کر جہنم میں گرپڑیں گے۔ جب اللہ اپنے بندوں کے حساب سے فارغ ہوجائے گا تو مسلمانوں کو کچھ لوگ نظر نہ آئیں گے جو دنیا میں ان کے ساتھ ہوتے تھے، ان ہی کی طرح نماز پڑھتے، زکوٰۃ دیتے، روزہ رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے تھے، چنانچہ وہ بارگاہ الٰہی میں عرض کریں گے کہ پروردگار ! آپ کے کچھ بندے دنیا میں ہمارے ساتھ ہوتے تھے، ہماری طرح نماز پڑھتے، زکوٰۃ دیتے، روزہ رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے تھے، لیکن وہ ہمیں نظر نہیں آرہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جہنم کی طرف جاؤ اور ان میں سے جتنے لوگ جہنم میں ملیں، انہیں اس میں سے نکال لو، چنانچہ وہ جائیں گے تو دیکھیں گے کہ انہیں جہنم کی آگ نے ان کے اعمال کے بقدر اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، کسی کو قدموں تک، کسی کو نصف پنڈلی تک، کسی کو گھٹنوں تک، کسی کو تہبند تک، کسی کو چھاتیوں تک اور کسی کو گردنوں تک، لیکن چہروں پر اس کی لپٹ نہیں پہنچی ہوگی، وہ مسلمان انہیں اس میں سے نکالیں گے، پھر انہیں " ماءِ حیات " میں ڈال دیا جائے گا۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماءِ حیات سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : اہلِ جنت کے غسل کرنے کی نہر، وہ اس میں غسل کرنے سے اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے پر خود رو گھاس اگ آتی ہے، اس کے بعد انبیاء کرام ہر اس شخص کے حق میں سفارش کریں گے جو " لا الہ الا اللہ " کی گواہی خلوص قلب سے دیتے ہوں گے اور انہیں بھی جہنم میں سے نکال لیا جائے گا، پھر اللہ اہل جہنم پر اپنی خصوصی رحمت فرمائے گا اور اس میں کوئی ایک بندہ بھی ایسا نہ چھوڑے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان موجود ہوگا۔
حدیث نمبر: 11082
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا عِيَاضٌ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَحَدُنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَإِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ ، فَقَالَ : إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ ، فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ ، إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحَهُ بِأَنْفِهِ ، أَوْ سَمِعَ صَوْتَهُ بِأُذُنِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّیہ اس کی ناک میں بدبو آجائے اس کے کان اس کی آواز سن لیں۔
حدیث نمبر: 11083
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمِنَّا الصَّائِمُ ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ " يَرَوْنَ أَنَّهُ يَعْنِي مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ ، فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ ، وَيَرَوْنَ أَنَّهُ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ ، فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں شریک ہوتے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھ لیتے اور کچھ نہ رکھتے، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی احسان نہیں جتاتا تھا، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی، وہ روزہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا)
حدیث نمبر: 11084
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : لَمْ نَعُدْ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ ، وَقَعْنَا فِي تِلْكَ الْبَقْلَةِ ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا ، وَنَاسٌ جِيَاعٌ ، ثُمَّ رَحَنَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ ، فَقَالَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا فَلَا يَقْرَبْنَا فِي الْمَسْجِدِ " ، فَقَالَ النَّاسُ : حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ ، وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ فتح خیبر کے بعد ہم لوگ اس سبزی (لہسن) پر جھپٹ پڑے اور ہم نے اسے خوب کھایا، کچھ لوگ ویسے ہی خالی پیٹ تھے، جب ہم لوگ مسجد میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بو محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس گندے درخت کا پھل کھائے وہ ہماری مسجدوں میں ہمارے قریب نہ آئے، لوگ یہ سن کر کہنے لگے کہ لہسن حرام ہوگیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ! جس چیز کو اللہ نے حلال قرار دیا ہو، مجھے اسے حرام قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں، البتہ مجھے اس درخت کی بو پسند نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11085
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ ، وَمَنْ كَتَبَ شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے۔
حدیث نمبر: 11086
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّحُورُ أَكْلُهُ بَرَكَةٌ ، فَلَا تَدَعُوهُ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جُرْعَةً مِنْ مَاءٍ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کھانا باعث برکت ہے، اس لئے اسے ترک نہ کیا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، کیوں کہ اللہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں کے لئے اپنے اپنے انداز میں رحمت کا سبب بنتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11087
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا ، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا فَلْيَمْحُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے ( قرآن کریم کے علاوہ) کچھ نہ لکھا کرو اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے۔
حدیث نمبر: 11088
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ ، فَقَالَ جَابِرٌ : " كُنَّا نَكْرَهُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابواثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کھڑے ہو کر پانی پینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے۔
حدیث نمبر: 11089
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَشْهَدُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " زَجَرَ عَنْ ذَاكَ ، وَزَجَرَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِبَوْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، نیز قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی جانب رخ کرکے بیٹھنے سے بھی سختی سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11090
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَتَحَ خَوْخَةً لَهُ ، وَعِنْدَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَخَرَجَتْ عَلَيْهِمْ حَيَّةٌ ، فَأَمَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بِقَتْلِهَا ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَنْ يُؤْذِنَهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَقْتُلَهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی کھڑکی کھولی، تو وہاں سے ایک سانپ نکل آیا، اس وقت وہاں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سانپ کو مارنے کا حکم دیا، اس پر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ انہیں مارنے سے پہلے مطلع کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 11091
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ ، وَمَا أَجِدُ لَكُمْ رِزْقًا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صبر کرتا ہے اللہ اسے صبر دے دیتا ہے، جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے اور میں تمہارے حق میں صبر سے زیادہ وسیع رزق نہیں پاتا۔
حدیث نمبر: 11092
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا نَكْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا تَكْتُبُونَ ؟ " ، فَقُلْنَا : مَا نَسْمَعُ مِنْكَ ، فَقَالَ : " أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ ؟ " ، فَقُلْنَا : مَا نَسْمَعُ ، فَقَالَ : " أَكِتَابٌ غَيْرُ كِتَابِ اللَّهِ ؟ أَمْحِضُوا كِتَابَ اللَّهِ وأخَلِّصُوهُ " ، قَالَ : فَجَمَعْنَا مَا كَتَبْنَا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ أَحْرَقْنَاهُ بِالنَّارِ ، قُلْنَا : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم أَنَتَحَدَّثُ عَنْكَ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ تَحَدَّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ ، تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ ، فَإِنَّكُمْ لَا تَحَدَّثُون عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے نکلنے والے الفاظ کو لکھ رہے تھے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھنے لگے یہ تم لوگ کیا لکھ رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا کہ جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتاب اللہ کی موجودگی میں ایک اور کتاب ؟ کتاب اللہ کو خالص رکھو (دوسری چیزیں اس میں خلط ملط نہ کرو) چنانچہ ہم نے اس وقت تک جتنا لکھا تھا، اس تمام کو ایک ٹیلے پر جمع کرکے اسے آگ لگادی، پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! میری احادیث بیان کرسکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے، پھر ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم بنی اسرائیل کے واقعات بھی ذکر کرسکتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! وہ بھی بیان کرسکتے ہو، اس میں بھی کوئی حرج نہیں، کیوں کہ تم ان کے متعلق جو بات بھی بیان کروگے، ان میں اس سے بھی زیادہ تعجب خیز چیزیں ہوں گی۔
حدیث نمبر: 11093
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَاقِفًا بِعَرَفَةَ يَدْعُو هَكَذَا ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ ثَنْدُوَتَيْهِ ، وَجَعَلَ بُطُونَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے سینے کے سامنے بلند کر رکھے تھے اور ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب کر رکھی تھی۔
حدیث نمبر: 11094
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں لپٹنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ انسان ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11095
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الصديق النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ النَّارِ ، فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا ، أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى لِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب مسلمان جہنم سے نجات پائیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک دیا جائے گا اور ان سے ایک دوسرے کے مظالم اور معاملاتِ دنیوی کا قصاص پورا لیا جائے گا اور جب وہ پاک صاف ہوجائیں گے تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے دنیوی گھر سے زیادہ جنت کے گھر کا راستہ جانتا ہوگا۔
حدیث نمبر: 11096
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا فِرَاسُ بْنُ يَحْيَى الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَقَدْ دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ مَا عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ ، قَالَ لِأَهْلِهِ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ : إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي ، ثُمَّ اسْحَقُونِي ، ثُمَّ اذْرُوا نِصْفِي فِي الْبَحْرِ وَنِصْفِي فِي الْبَرِّ ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ وَالْبَحْرَ فَجَمَعَاهُ ، ثُمَّ قَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ ، قَالَ : مَخَافَتُكَ ، قَالَ : فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک ایسا آدمی بھی داخل ہوگا جس نے کبھی کوئی نیک کام نہ کیا ہوگا، یہ وہ آدمی ہوگا جس نے اپنے مرض الموت میں اپنے اہل خانہ کو وصیت کی تھی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا کر میری راکھ کو پیس لینا اور اس کا آدھاحصہ سمندر میں بہا دینا اور آدھاحصہ خشکی میں اڑا دینا، اللہ نے بر و بحر کو حکم دیا اور انہوں نے اس کے سارے اجزاء اکٹھے کر دئیے اور اس سے پوچھا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی ؟ اس نے جواب دیا کہ آپ کے خوف کی وجہ سے، اسی پر اللہ نے اس کی مغفرت فرمادی۔
حدیث نمبر: 11097
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَوْفِيِّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَتْرِ ، فَقَالَ : " أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ "۔
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر صبح سے پہلے پہلے پڑھ لیا کرو۔
حدیث نمبر: 11098
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
حدیث نمبر: 11099
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " افْتَخَرَتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتْ النَّارُ : يَا رَبِّ ، يَدْخُلُنِي الْجَبَابِرَةُ وَالْمُتَكَبِّرُونَ وَالْمُلُوكُ وَالْأَشْرَافُ ، وَقَالَتْ الْجَنَّةُ : أَيْ رَبِّ يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْفُقَرَاءُ وَالْمَسَاكِينُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلنَّارِ : أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ ، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ : أَنْتِ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا ، فَيُلْقَى فِي النَّارِ أَهْلُهَا ، فَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ، قَالَ : وَيُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ، وَيُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ، حَتَّى يَأْتِيَهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَضَعَ قَدَمَهُ عَلَيْهَا ، فَتُزْوَى ، فَتَقُولُ قَدْنِي قَدْنِي ، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَيَبْقَى فِيهَا أَهْلُهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى ، فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مَا يَشَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا، جنت کہنے لگی کہ پروردگار ! میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے ؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے ؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے، میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے سے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے، میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعہ سے رحم کروں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا۔ چنانچہ جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا، جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے ؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے، اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس، بس، بس اور جنت کے لئے تو اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 11100
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ فِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ ، وَمِنْهُمْ فِي النَّارِ إِلَى كَعْبَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ اغْتُمِرَ فِي النَّارِ إِلَى أَرْنَبَتِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي النَّارِ إِلَى صَدْرِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَدْ اغْتُمِرَ فِي النَّارِ " ، قَالَ عَفَّانُ : مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ قَدْ اغْتُمِرَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جہنم میں اس شخص کو سب سے ہلکا عذاب ہوگا جس کے پاؤں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ ٹخنوں تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ ناک کے بانسے تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ سینے تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ پورے کے پورے آگ میں دھنسے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 11101
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سَعْدٍ أَبِي الْمُجَاهِدِ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أُرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَقَى مُؤْمِنًا شَرْبَةً عَلَى ظَمَإٍ سَقَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ ، وَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَطْعَمَ مُؤْمِنًا عَلَى جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللَّهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ ، وَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ كَسَا مُؤْمِنًا ثَوْبًا عَلَى عُرْيٍ كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کسی مسلمان کی پیاس پانی کے ایک گھونٹ سے بجھائے، قیامت کے دن اللہ اسے رحیق مختوم سے پلائے گا، جو مسلمان کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلائے، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے پھل کھلائیں گے اور جو مسلمان کسی مسلمان کو برہنگی کی حالت میں کپڑے پہنائے، اللہ اسے جنت کے سبز لباس پہنائے گا۔
حدیث نمبر: 11102
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ، فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ " ثَلَاثَةٌ مَنْ قَالَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قُلْتُ : مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا " ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ " وَالرَّابِعَةُ لَهَا مِنَ الْفَضْلِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَهِيَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ابوسعید ! تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو انہیں کہہ لیا کرے، وہ جنت میں داخل ہوگا، میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا چیزیں ہیں ؟ فرمایا جو اللہ کو اپنا رب بنا کر، اسلام کو اپنا دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول بنا کر خوش اور راضی ہو، پھر فرمایا ابوسعید ! ایک چوتھی چیز بھی ہے جس کی فضیلت زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔
…