حدیث نمبر: 11899
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُلَامَسَةِ ، وَالْمُلَامَسَةُ : يُمَسُّ الثَّوْبُ ، لَا يُنْظَرُ إِلَيْهِ , وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ ، وَهُوَ طَرْحُ الثَّوْبِ الرَّجُلُ بِالْبَيْعِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ ، وَيَنْظُرَ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اچھی طرح کپڑا دیکھے بغیر اسے ہاتھ لگا دے (اور وہ اسے خریدنا پڑجائے) نیز بیع مناہدہ سے بھی منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی کپڑے وغیرہ کو دیکھے اور اچھی طرح الٹ پلٹ کرنے سے قبل ہی اسے مشتری (خریدنے والا) کی طرف پھینک دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6284، م: 1512، وقوله فى الإسناد: عمرو خطأ ، صوابه عامر
حدیث نمبر: 11900
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيِّ ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ : حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1197، م: 827
حدیث نمبر: 11901
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا : أَخبرنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ ، وَعَطَاءِ بْنِ بُخْتٍ ، كلاهما يخبر عمر بن عطاء ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، حَتَّى اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11902
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حدثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُلَامَسَةِ ، وَالْمُلَامَسَةُ : لَمْسُ الثَّوْبِ ، لَا يُنْظَرُ إِلَيْهِ ، وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ , وَالْمُنَابَذَةُ طَرْحُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ إِلَى الرَّجُلِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5820، م: 1512
حدیث نمبر: 11903
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، يَعْنِي مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، وَابْنِ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، وَقَالَ : " حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اچھی طرح کپڑا دیکھے بغیر اسے ہاتھ لگا دے (اور وہ اسے خریدنا پڑجائے) نیز بیع مناہدہ سے بھی منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی کپڑے وغیرہ کو دیکھے اور اچھی طرح الٹ پلٹ کرنے سے قبل ہی اسے مشتری (خریدنے والا) کی طرف پھینک دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 586، م: 827
حدیث نمبر: 11904
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حدثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ " ، أَمَّا اللِّبْسَتَانِ : فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ ، أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، يَضَعَ طَرَفَيْ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ ، وَيَتَّزِرَ بِشِقِّهِ الْأَيْمَنِ ، وَالْأُخْرَى أَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، لَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ ، وَيُفْضِيَ بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ : فَالْمُنَابَذَةُ ، وَالْمُلَامَسَةُ ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ : إِذَا نَبَذْتَ هَذَا الثَّوْبَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ , وَالْمُلَامَسَةُ : أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ ، وَلَا يَلْبَسَهُ ، وَلَا يُقَلِّبَهُ ، إِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس اور دو قسم کی تجارت سے منع فرمایا ہے، لباس کی تفصیل تو یہ ہے کہ ایک کپڑے میں اس طرح لپٹنا کہ کپڑے کا ایک کونا بائیں کندھے پر رکھے اور دائیں کونے سے تہبند بنائے اور دوسرا یہ کہ ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ نظر آرہی ہو اور دو قسم کی تجارت سے مراد منابدہ اور ملامسہ ہے، منابدہ تو یہ ہے کہ آدمی یوں کہے کہ جب میں یہ کپڑا پھینک دوں تو بیع ہوگی اور ملامسہ یہ ہے کہ آدمی اسے ہاتھ سے چھولے لیکن پہن کر یا پلٹ کر نہ دیکھے، کہ جب چھوئے تو بیع ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 367، م: 1512
حدیث نمبر: 11905
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَقَالَ : قَالَ الثَّوْرِيُّ ، فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، أَنَّ الْأَغَرّ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبى هريرة , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يُنَادِي مُنَادٍ ، إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا ، فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا ، فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا ، وَلَا تَهْرَمُوا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا وَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ سورة الأعراف آية 43 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں یہ منادی کردی جائے گی کہ تم زندہ رہو گے، کبھی نہ مرو گے، ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ ہوگے، ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بوڑھے نہ ہوگے، ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے، کبھی غم نہ دیکھو گے یہی مطلب ہے اس ارشاد باری تعالیٰ کا کہ " انہیں پکار کر کہا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کا تمہیں تمہارے اعمال کی وجہ سے وارث بنادیا گیا ہے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2837
حدیث نمبر: 11906
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ ، حَتَّى تقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ ، دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ ، تَمْرُقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ يَقْتُلُهَا أَوْلَاهُمَا بِالْحَقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دو بڑے گروہوں میں جنگ نہ ہوجائے، جن دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4351، م: 1064، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 11907
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ ، مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ , تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ " ، فَقُلْتُ : مَا يُحْدِثُ ؟ فَقَالَ : كَذَا ، قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ ، فَقَالَ : يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص مسلسل نماز میں ہوتا ہے جو اپنے مصلیٰ پر نماز کا انتظار کر رہا ہو اور فرشتے اس کے حق میں یہ دعاء کرتے ہیں کہ اے اللہ ! اسے معاف فرما دے، اے اللہ ! اس پر رحم فرما دے، یہاں تک کہ وہ واپس چلا جائے یا اسے حدث لاحق ہوجائے، میں نے حدث کا مطلب پوچھا تو فرمایا آہستہ سے یا آواز سے ہوا کا خارج ہونا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 11908
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الصَّهْبَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ ، قَالَ : " إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ ، فَإِنَّ أَعْضَاءَهُ تُكَفِّرُ لِلِّسَانِ ، تَقُولُ : اتَّقِ اللَّهَ فِينَا ، فَإِنَّكَ إِنْ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا ، وَأَنْ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے (غالباً ) مرفوعاً مروی ہے کہ جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو اس کے جسم کے سارے اعضاء زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارے معاملے میں اللہ کا خوف کرنا، اگر تم سیدھی رہیں تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تم ٹیڑھی ہوگئیں تو (تمہاری برکت سے) ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11909
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَنْتَ تَخْلُقُهُ ، أَنْتَ تَرْزُقُهُ ؟ فَأَقْرِرْهُ مَقَرَّهُ ، فَإِنَّمَا كَانَ قُدِّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " عزل " کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کیا اس نومولود کو تم پیدا کرو گے ؟ کیا تم اسے رزق دو گے ؟ اللہ نے اسے اس کے ٹھکانے میں رکھ دیا ہے تو یہ تقدیر کا حصہ ہے اور یہی تقدیر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11909
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 11910
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ : يَوْمِ الْفِطْرِ ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى ، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ : الصَّمَّاءِ ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، وَعَنْ صَلَاةٍ فِي سَاعَتَيْنِ : بَعْدَ الصُّبْحِ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت کی نماز، دو دن کے روزے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے، نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عیدین کے دن روزے سے اور ایک کپڑے میں لیٹنے سے یا اس طرح گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے کہ انسان کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1992 ، 1991، م: 827
حدیث نمبر: 11911
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَسَنٌ , قَالَا : حدثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْعُو بِعَرَفَةَ " ، قَالَ حَسَنٌ : وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ هَكَذَا ، يَجْعَلُ ظَاهِرَهُمَا فَوْقَ ، وَبَاطِنَهُمَا أَسْفَلَ ، وَوَصَفَ حَمَّادٌ ، وَرَفَعَ حَمَّادٌ يَدَيْهِ وَكَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سینے کے سامنے بلند کر رکھے تھے اور ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب کر رکھی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11911
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي
حدیث نمبر: 11912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ ، فَيَأْخُذُ شَعْرَةً مِنْ دُبُرِهِ ، فَيَمُدُّهَا فَيَرَى أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ ، فَلَا يَنْصَرِفَنَّ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا ، أَوْ يَجِدَ رِيحًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اس کی پچھلی شرمگاہ کا ایک بال پکڑ کر اسے کھینچتا ہے، وہ آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے، اگر کسی کے ساتھ ایسا ہو تو وہ اپنی نماز نہ توڑے تاآنکہ آواز سن لے یا بدبو محسوس کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 11913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ ، فَيَأْخُذُ شَعْرَةً مِنْ دُبُرِهِ ، فَيَمُدُّهَا ، فَيَرَى أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ ، فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا ، أَوْ يَجِدَ رِيحًا " .
مولانا ظفر اقبال
ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيفَةً ، يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا ، وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس امت میں ایک ایسا خلیفہ ضرور مبعوث فرمائے گا، جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ، وهو ابن جدعان
حدیث نمبر: 11915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ ، رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ ، وَيَدْعُونَ , قَالَ : فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ سَكَتْنَا ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ كَذَا وَكَذَا ؟ " , قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاصْنَعُوا كَمَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ " ، وَجَلَسَ مَعَنَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَبْشِرُوا صَعَالِيكَ الْمُهَاجِرِينَ بِالْفَوْزِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الْأَغْنِيَاءِ بِخَمْسِ مِئَةٍ " ، أَحْسَبُهُ قَالَ : سَنَةً .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ بیٹھے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے، ہم انہیں دیکھ کر خاموش ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس اس طرح نہیں کر رہے تھے ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جی ہاں ! اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی طرح کرتے رہو جیسے تم کر رہے تھے اور خود بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے اور تھوڑی دیر بعد فرمایا اے غریبوں کے گروہ ! خوش ہوجاؤ کہ تم لوگ مالداروں سے پانچ سو سال " جو قیامت کا نصف دن ہوگا " پہلے جنت میں داخل ہوگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وإسناده ضعيف لجهالة العلاء بن بشير المزني
حدیث نمبر: 11916
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُمْسِكْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو وہ حسب طاقت اپنا منہ بند رکھے۔ کیونکہ شیطان جمائی کے ساتھ اس کے منہ میں داخل ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2995
حدیث نمبر: 11917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ أَصْحَابُهُ ، حَتَّى رَخَّصَ لَهُمْ مِنَ السَّحَرِ إِلَى السَّحَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے، صحابہ کرام مسلسل اصرار کرتے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سحری سے سحری تک کی اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف بشر بن حرب
حدیث نمبر: 11918
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ ، وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ اونٹ والے اپنے اوپر فخر کرنے لگے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سکون اور وقار بکریوں والوں میں ہوتا ہے اور فخر وتکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جس وقت مبعوث کیا گیا اس وقت وہ اپنے اہل خانہ کے لئے بکریاں چراتے تھے اور مجھے بھی جس وقت مبعوث کیا گیا تو میں بھی آپنے اہل خانہ کے لئے مقامِ جیاد پر بکریاں چرایا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره دون قوله: "بعث موسي .........." فهو حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة وعطيه بن سعيد العوفي
حدیث نمبر: 11919
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الْغِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ ، إِلَّا الْحَمَّامَ وَالْمَقْبُرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ساری زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ، سوائے قبرستان اور حمام کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11919
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر:
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَاءَ جِنَازَةً فِي أَهْلِهَا فَتَبِعَهَا حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ مَضَى مَعَهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ پڑھے اور قبر تک ساتھ جائے، اسے دو قیراط ثواب ملے گا اور جو صرف نماز جنازہ پڑھے، قبر تک نہ جائے اسے ایک قیراط ثواب ملے گا اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 0
حدیث نمبر: 11921
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فِرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، تَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11921
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح ، خ : 4351, م : 1064
حدیث نمبر: 11922
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سورت فاتحہ اور جو سورت آسانی سے پڑھ سکیں کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11922
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح
حدیث نمبر: 11923
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : حَجَجْنَا ، فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ ، وَجَاءَ ابْنُ صَائِدٍ ، فَنَزَلَ إِلَى جَنْبِي ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا صَبَّ اللَّهُ هَذَا عَلَيَّ ! فَجَاءَنِي ، فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، أَمَا تَرَى مَا أَلْقَى مِنَ النَّاسِ ؟ يَقُولُونَ : أَنْتَ الدَّجَّالُ ، أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يُولَدُ لَهُ ، وَلَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ " ، وَقَدْ جِئْتُ الْآنَ مِنَ الْمَدِينَةِ ، وَأَنَا هُوَ ذَا أَذْهَبُ إِلَى مَكَّةَ ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ : وَقَدْ دَخَلَ مَكَّةَ ، وَقَدْ وُلِدَ لِي ، حَتَّى رَقَقْتُ لَهُ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِمَكَانِهِ السَّاعَةَ أَنَا , فَقُلْتُ : تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے حج کیا، ہم ایک درخت کے نیچے اترے، ابن صائد آیا اور اس نے بھی اس کے ایک کونے میں پڑاؤ ڈال لیا، میں نے " اناللہ " پڑھ کر سوچا کہ یہ کیا مصیبت میرے گلے پڑگئی ہے ؟ اسی دوران وہ کہنے لگا کہ لوگ میرے بارے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اور مجھے دجال کہتے ہیں کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں نہیں جاسکے گا، اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی، میں نے کہا کیوں نہیں، اس نے کہا کہ پھر میرے یہاں تو اولاد بھی ہے اور میں مدینہ منورہ سے نکلا ہوں اور مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ ہے، میرے دل میں اس کے لئے نرمی پیدا ہوگئی، لیکن وہ آخر میں کہنے لگا کہ اس کے باوجود میں یہ جانتا ہوں کہ وہ اب کہاں ہے ؟ یہ سن کر میں نے اس سے کہا کہ کم بخت ! تو برباد ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11923
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح ، م : 2927
حدیث نمبر: 11924
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْأَعْشَى ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ ، فَأَدَّبَهُنَّ ، وَرَحِمَهُنَّ ، وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ ، فَلَهُ الْجَنَّةُ " . قَالَ عَبْد اللَّهِ : قَالَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ : مَاتَ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ فِي سَنَةِ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ ، إِلَّا أَنَّ مَالِكًا مَاتَ قَبْلَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ بِقَلِيلٍ ، قَالَ أَبِي : وَفِي تِلْكَ السَّنَةِ طَلَبْتُ الْحَدِيثَ ، كُنَّا عَلَى بَابِ هُشَيْمٍ ، وَهُوَ يُمْلِي عَلَيْنَا ، إِمَّا قَالَ الْجَنَائِزَ أَوْ الْمَنَاسِكَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ بَصْرِيٌّ ، فَقَالَ : مَاتَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی تین بیٹیاں اور وہ انہیں ادب سکھائے، ان پر شفقت کرے اور ان سے عمدہ سلوک کرتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11924
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة سعيد بن عبد الرحمن بن مكمل الأعشي، وختلف فى إسناده
حدیث نمبر: 11925
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ عَنِ الْإِزَارِ ، فَقَالَ : عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ ، وَلَا حَرَجَ ، أَوْ لَا جُنَاحَ ، فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ ، مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فَهُوَ فِي النَّارِ ، وَمَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے ازار کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک باخبر آدمی سے سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے۔ پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا اور اللہ اس شخص پر نظر کرم نہیں فرمائے گا جو اپنا تہبند تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11925
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح
حدیث نمبر: 11926
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ صَائِدٍ : " مَا تَرَى ؟ " قَالَ : أَرَى عَرْشًا عَلَى الْبَحْرِ حَوْلَهُ الْحَيَّاتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَاكَ عَرْشُ إِبْلِيسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں جس کے ارد گرد سانپ ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11926
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 11927
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ مَرْوَانَ ، فَمَرَّتْ جِنَازَةٌ ، فَمَرَّ بِهِ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ : قُمْ أَيُّهَا الْأَمِيرُ ، فَقَدْ عَلِمَ هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا تَبِعَ جِنَازَةً ، لَمْ يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں سے ایک جنازہ گذرا، اس کے ساتھ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ کہنے لگے گورنر صاحب ! کھڑے ہوجائیں، یہ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تھے تو اس وقت تک نہیں بیٹھتے تھے جب تک جنازے کو رکھ نہیں دیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11927
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح ، خ : 1309
حدیث نمبر: 11928
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، يَدًا بِيَدٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى ، الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر سرابر بیچا خریدا جائے، جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے، وہ سودی معاملہ کرتا ہے اور اس میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11928
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح ، خ : 2177, م : 1584
حدیث نمبر: 11929
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا ثَلَاثَةٍ : فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ ابْنِ السَّبِيلِ ، أَوْ رَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ ، فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ ، فَأَهْدَى لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار کے لئے صدقہ زکوٰۃ حلال نہیں، سوائے تین مواقع کے، جہاد فی سبیل اللہ میں، حالت سفر میں اور ایک اس صورت میں کہ اس کے پڑوسی کو کسی صدقہ کی کوئی چیز بھیجی اور وہ اسے مالدار کے پاس ہدیہ بھیج دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11929
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، و إسناده ضعيف لضعف ابن أبى ليلي وعطية العوفي
حدیث نمبر: 11930
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11930
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ : 1405 ، م: 979 ، وهذا إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو البختري لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 11931
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ تَمْرٍ ، وَلَا حَبٍّ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم یا کھجور میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11931
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11932
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا نُخْرِجُ صَدَقَةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَاعًا مِنْ طَعَامٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ، فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ ، حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم لوگ ایک صاع کھجور یا جو، یا پنیر یا کشمش صدقہ فطر کے طور پر دیتے تھے، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں گندم آگئی اور ان کی رائے یہ ہوئی کہ اس کا ایک مد دو کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11932
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح ، خ : 1508, 1505, م : 958
حدیث نمبر: 11933
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سعد بن أَبِي سَرْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كُنَّا نُخْرِجُ ، فذكر الحديث .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11933
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11934
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ غَيْرِهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا ، وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھا کر فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11934
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف, علته الجهالة والاضطراب
حدیث نمبر: 11935
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11935
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف, لابهام راويه عن ابي سعيد، ولاضطرابه، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 11936
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : أَصَبْنَا حُمُرًا يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَكَانَتْ الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذِهِ ؟ " , فَقُلْنَا : حُمُرٌ أَصَبْنَاهَا ، فَقَالَ : " وَحْشِيَّةٌ أَوْ أَهْلِيَّةٌ ؟ " , قَالَ : قُلْنَا : لَا بَلْ أَهْلِيَّةٌ ، قَالَ : " أكْفُِئوهَا " , قَالَ : فَكَفَأْنَاهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے غزوہ خیبر کے دن ہمیں کچھ گدھے مل گئے، ابھی ہانڈیاں ابل رہی تھیں، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ یہ کیسا گوشت ہے ؟ ہم نے عرض کیا گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پالتو یا جنگلی ؟ ہم نے عرض کیا پالتو گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہانڈیاں الٹ دو ، چنانچہ ہم نے انہیں الٹا دیا، (حالانکہ ہمیں اس وقت بھوک لگی ہوئی تھی اور کھانے کی طلب محسوس ہو رہی تھی)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11936
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن
حدیث نمبر: 11937
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِرَجُلٍ فِي حَدٍّ ، قَالَ : فَضَرَبَهُ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ " , قَالَ مِسْعَرٌ : أَظُنُّهُ فِي شَرَابٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شراب کے نشے میں مدہوش ایک آدمی کو لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چالیس جوتے مارے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11937
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد ضعيف لضعف زيد العميي
حدیث نمبر: 11938
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي قَوْلِهِ : يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا سورة الأنعام آية 158 ، قَالَ : " طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " یوم یأتی بعض ایت ربک " سے مراد سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11938
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف ابن ابي ليلي وعطية العوفي