حدیث نمبر: 11859
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ : " أَنَّهُ يَبْلُغُ الْعَرَقُ مِنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : إِلَى شَحْمَتِهِ ، وَقَالَ الْآخَرُ : يُلْجِمُهُ ، فَخَطَّ ابْنُ عُمَرَ ، وَأَشَارَ أَبُو عَاصِمٍ بِإِصْبَعِهِ مِنْ أَسْفَلِ شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ إِلَى فِيهِ ، فَقَالَ : مَا أَرَى ذَاكَ إِلَّا سَوَاءً .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن عمیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو خوب پسینہ آئے گا، ان میں سے ایک نے فرمایا " کان کی لو تک " اور دوسرے نے بتایا کہ " اس کے منہ میں وہ پسینہ لگام کی طرح ہوگا " پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کان کی لو کے نیچے سے منہ تک ایک لکیر کھینچ کر فرمایا میں تو اس حصے کو برابر سمجھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 11860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ الْمُؤَذِّنَ " ، وَقَالَ مَالِكٌ : الْمُنَادِيَ ، " فَقُولُوا مِثْلَمَا يَقُولُ " ، زَادَ مَالِكٌ : الْمُؤَذِّنَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی جملے کہا کرو جو مؤذن کہتا ہے۔
حدیث نمبر: 11861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ وَلِابْنِهِ عَلِيٍّ : انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ ، فَلَمَّا رَآنَا أَخَذَ رِدَاءَهُ ، فَجَاءَنَا ، فَقَعَدَ ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا ، حَتَّى أَتَى عَلَى ذِكْرِ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسرٍ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ ، لَبِنَتَيْنِ ، قَالَ : فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ ، وَيَقُولُ : " يَا عَمَّارُ ، أَلَا تَحْمِلُ لَبِنَةً كَمَا يَحْمِلُ أَصْحَابُكَ " ، قَالَ : إِنِّي أُرِيدُ الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ ، وَيَقُولُ : " وَيْحَ عَمَّارٍ ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ " . قَالَ : فَجَعَلَ عَمَّارٌ يَقُولُ : أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنَ الْفِتَنِ .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے اور اپنے بیٹے علی سے فرمایا کہ تم دونوں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے حدیث کی سماعت کرو، ہم دونوں چلے گئے، اس وقت وہ اپنے ایک باغ میں تھے، ہمیں دیکھ کر انہوں نے اپنی چادر پکڑ لی اور ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے اور احادیث بیان کرنے لگے، اسی دوران چلتے چلتے تعمیر مسجد کا ذکر آیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے تھے اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے سر سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا عمار ! تم اپنے ساتھیوں کی طرح ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھا کر لاتے ؟ انہوں نے کہا کہ میں ثواب کی نیت سے کر رہا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سر کو جھاڑتے جاتے تھے فرماتے جاتے تھے کہ ابن سمیہ ! افسوس کہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کر دے گا تم انہیں جنت کی طرف اور وہ تمہیں جہنم کی طرف بلاتے ہوں گے، اس پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں ہر طرح کے فتنوں سے رحمان کی پناہ میں آتا ہوں۔
حدیث نمبر: 11862
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا ، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ الشَّيْءَ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11863
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ ، قَالَ : فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى صَعِدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، قَالَ : فَقَالَ : " إِنِّي السَّاعَةَ لَقَائِمٌ عَلَى الْحَوْضِ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا ، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ " ، فَلَمْ يَفْطَنْ لَهَا أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ ، إِلَّا أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا ، وَأَنْفُسِنَا ، وَأَوْلَادِنَا ، قَالَ : ثُمَّ هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ ، فَمَا رُؤِيَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں سر پر پٹی باندھ کر باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے، میں بھی حاضر ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت میں حوض کوثر پر کھڑا ہوں، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور اپنے پاس آنے کے درمیان اختیار دیا، اس بندے نے اللہ کے پاس جانے کو ترجیح دی، ساری قوم میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا یہ بات کوئی نہ سمجھ سکا اور وہ کہنے لگے کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ہم اپنی جان، مال اور اولاد آپ پر نچھاور کردیں گے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور دوبارہ کبھی اس پر نظر نہ آئے۔
حدیث نمبر: 11864
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَرَجُلًا مِنْ بَنِي خُدْرَةَ امْتَرَيَا فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ، فَقَالَ الْعَوْفِيُّ : هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ ، وَقَالَ الْخُدْرِيُّ : هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " هُوَ مَسْجِدِي هَذَا ، وَفِي ذَلِكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو خدرہ اور بنو عمرو بن عوف کے دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کی تعیین میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا، جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی، عمروی کی رائے مسجد قباء کے متعلق تھی اور خدری کی مسجد نبوی کے متعلق تھی، وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا اس سے مراد میری مسجد ہے اور مسجد قباء میں خیر کثیر ہے۔
حدیث نمبر: 11865
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي ، مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقِيلَ لَهُ : مَا شَأْنُكَ ، تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ ؟ قَالَ : وَأُرِينَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَأَفَاقَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ ، وَقَالَ : " أَنَّى هَذَا السَّائِلُ ؟ " وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ ، إِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ ، أَوْ يُلِمُّ ، إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ ، فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ، ثُمَّ رَتَعَتْ ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةً ، وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَى مِنْهُ الْيَتِيمَ ، وَالْمِسْكِينَ ، وَابْنَ السَّبِيلِ " ، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِنَّ الَّذِي يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ ، كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ، فَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر ایک مرتبہ فرمایا مجھے تم پر سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے کہ اللہ تمہارے لئے زمین کی نباتات اور دنیا کی رونقیں نکال دے گا، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر بھی شر کو لاسکتی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پسینہ اور گھبراہٹ طاری ہوگئی، پھر فرمایا وہ سائل کہاں ہے ؟ اس نے عرض کیا میں یہاں موجود ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر ہی کا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا خیر ہمیشہ خیر ہی کو لاتی ہے، البتہ یہ دنیا بڑی شاداب اور شیریں ہے اور موسم بہار میں اگنے والی خودرو گھاس جانور کو پیٹ پھلا کر یا بدہضمی کر کے مار دیتی ہے، لیکن جو جانور عام گھاس چرتا ہے، وہ اسے کھاتا رہتا ہے، جب اس کی کھوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے آکر لید اور پیشاب کرتا ہے، پھر دوبارہ آکر کھا لیتا ہے، چنانچہ مسلمان آدمی تو مسکین، یتیم اور مسافر کے حق میں بہت اچھا ہوتا ہے اور جو شخص ناحق اسے پالیتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا جائے لیکن سیراب نہ ہو اور وہ اس کے خلاف قیامت کے دن گواہی دے گا۔
حدیث نمبر: 11866
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ مِمَّا أَخْشَى عَلَيْكُمْ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : " يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11867
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ . وَرَوْحٌ , حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لَحْيَانَ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ ، قَالَ رَوْحٌ : مِنْ هُذَيْلٍ ، قَالَ : " لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا ، وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا ، وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دور میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور دونوں کو ثواب ملے گا، پھر فرمایا اے اللہ ! ہمارے مد اور صاع میں برکت عطاء فرما اور اس برکت کو دو گ نافرما۔
حدیث نمبر: 11868
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ إِذَا رَأَى أَمْرَ اللَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالًا ، فَلَا يَقُولُ بِهِ ، فَيَلْقَى اللَّهَ وَقَدْ أَضَاعَ ذَلِكَ ، فَيَقُولُ : مَا مَنَعَكَ ؟ فَيَقُولُ خَشِيتُ النَّاسَ ، فَيَقُولُ : أَنَا كُنْتُ أَحَقَّ أَنْ تَخْشَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سجھے کہ اس پر اللہ کی رضاء کے لئے کوئی بات کہنے کا حق ہو لیکن وہ اسے کہہ نہ سکے، کیوں کہ اللہ اس سے پوچھے گا کہ تجھے یہ بات کہنے سے کس چیز نے روکا تھا ؟ بندہ کہے گا کہ پروردگار ! میں لوگوں سے ڈرتا تھا اللہ فرمائے گا کہ میں اس بات کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا۔
حدیث نمبر: 11869
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ , حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِحَقٍّ ، إِذَا عَلِمَهُ " ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلَاءُ حَتَّى قَصَّرْنَا ، وَإِنَّا لَنَبْلُغُ فِي الشَّرِّ ، وقَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خود اسے دیکھ لے، یا مشاہدہ کرلے یا سن لے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم پر اتنی آزمائشیں آئیں کہ ہم اس میں کوتاہی کرنے لگے، البتہ شر کے کاموں میں ہم پہنچ جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11870
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَمَانِ عَشَرَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ ، فَصَامَ صَائِمُونَ ، وَأَفْطَرَ مُفْطِرُونَ ، فَلَمْ يَعِبْ هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ ، وَلَا هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ " . قَالَ شُعْبَةُ : حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ أَرْبَعَةٌ أَحَدُهُمْ قَتَادَةُ ، وَهَذَا حَدِيثُ قَتَادَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے سترہ یا اٹھارہ رمضان کو روانہ ہوئے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا)
حدیث نمبر: 11871
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَخِي انْطَلَقَ بَطْنُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْقِهِ عَسَلًا " ، فَسَقَاهُ ، فَقَالَ : إِنِّي سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا ، فَقَالَ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ ، فَقَالَ : " اسْقِهِ عَسَلًا " ، فَقَالَ : قَدْ سَقَيْتُهُ ، فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ اللَّهُ ، وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ " , فَسَقَاهُ ، فَبَرِئَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھائی کو دست لگ گئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے جاکر شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے ؟ چوتھی مرتبہ پھر فرمایا کہ اسے جاکر شہد پلاؤ اس مرتبہ وہ تندرست ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے سچ کہا، تیرے بھائی کے پیٹ نے جھوٹ بولا۔
حدیث نمبر: 11872
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ معناه .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11873
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ سُلَيْمَانَ ، أَوْ أَبِي سُلَيْمَانَ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، وَقَالَ : رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ ، أَوْ حَوَاشٍ ، مِنَ النَّاسِ ، يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ ، فَمَنْ أَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، فَلَيْسَ مِنِّي ، وَلَا أَنَا مِنْهُ ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَأَنَا مِنْهُ ، وَهُوَ مِنِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جن پر ایسے حاشیہ بردار افراد چھا جائیں گے جو ظلم و ستم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر تعاون کرے تو اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے کہ ان کے جھوٹ کی تصدیق یا ان کے ظلم پر تعاون نہ کرنا پڑے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔
حدیث نمبر: 11874
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ , حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، قَالَ حَجَّاجٌ : ابْنُ عُتْبَةَ مَوْلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ عَذْرَاءَ فِي خِدْرِهَا ، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ ، إِلَّا حَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ ، وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے، فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں، ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملاء الاعلی میں کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 11876
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَرْوَانَ خَطَبَ قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ : تُرِكَ ذَاكَ يَا أَبَا فُلَانٍ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ ، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا ، فَلْيُنْكِرْهُ بِيَدِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ ، وَذَاكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا جو نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا مروان ! تم نے سنت کی مخالفت کی، تم نے عید کے دن منبر نکلوایا جو کہ پہلے نہیں نکالا جاتا تھا اور تم نے نماز سے پہلے خطبہ دیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، اس مجلس میں خضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ آدمی کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں بن فلاں ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
حدیث نمبر: 11877
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حدثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ خَلَعَ نَعْلَيْهِ ، فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ خَلَعُوا نِعَالَهُمْ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ : " مَا بَالُكُمْ أَلْقَيْتُمْ نِعَالَكُمْ " ، قَالُوا : رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ ، فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا ، أَوْ قَالَ أَذًى ، فَأَلْقَيْتُهُمَا ، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَلْيَنْظُرْ فِي نَعْلَيْهِ ، فَإِنْ رَأَى فِيهِمَا قَذَرًا ، أَوْ قَالَ أَذًى ، فَلْيَمْسَحْهُمَا ، وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا " . قَالَ أَبِي : لَمْ يَجِئْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَيَانُ مَا كَانَ فِي النَّعْلِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو جوتیاں اتار دیں، لوگوں نے بھی اپنی جوتیاں اتار دیں، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں نے اپنی جوتیاں کیوں اتار دیں ؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو جوتی اتارتے ہوئے دیکھا اس لئے ہم نے بھی اتار دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس تو جبرئیل امین آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میری جوتی میں کچھ گندگی لگی ہوئی ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص مسجد آئے تو وہ پلٹ کر اپنی جوتیوں کو دیکھ لے، اگر ان میں کوئی گندگی لگی ہوئی نظر آئے تو انہیں زمین پر رگڑ دے، پھر ان ہی میں نماز پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 11878
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ ، فَقَالَ : " إِنْ تَفْعَلُوا ذَلِكَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوهُ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ نَسَمَةٌ قَضَى اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ، إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل (مادہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایسا کرتے ہو ؟ اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اللہ نے جس جان کے دنیا میں آنے کا فیصلہ فرما لیا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔
حدیث نمبر: 11879
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَأَى فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً ، فَتَنَاوَلَ حَصَاةً ، فَحَتَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوارِ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کردیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 11880
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولَانِ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ ، فَتَنَاوَلَ حَصَاةً ، فَحَكَّهَا بِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " لَا يَتَنَخَّمْ أَحَدٌ فِي الْقِبْلَةِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ، أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوارِ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کردیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 11881
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَزْنًا بِوَزْنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن کے ساتھ بیچی اور خریدی جائے۔
حدیث نمبر: 11882
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ ، وَالْأَعْمَشُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صُهْبَانَ ، وَكَثِيرٌ النَّوَّاءُ ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ ، كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِي أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ ، أَلَا وَإِنَّ أَبا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں نازونعم میں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 11883
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ شَهْرٍ ، قَالَ : لَقِينَا أَبَا سَعِيدٍ ، وَنَحْنُ نُرِيدُ الطُّورَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تُشَدُّ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔
حدیث نمبر: 11884
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ ، فَقَالَ : " لَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ ، إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کرلو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا اور اللہ جب کسی کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
حدیث نمبر: 11885
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . وَهَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ " ، وَقَالَ هَاشِمٌ : يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔
حدیث نمبر: 11886
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ، فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو اس کے چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔
حدیث نمبر: 11887
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا ، فَإِنْ أَبَى إِلَّا أَنْ نَدْفَعَهُ " ، أَوْ نَحْوَ هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گذرنے دے اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے۔
حدیث نمبر: 11888
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى : عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کو الٹ کر اس میں سوراخ کر کے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 11889
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مَعَ التَّثَاؤُبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو وہ حسب طاقت اپنا منہ بند رکھے۔ کیونکہ شیطان جمائی کے ساتھ اس کے منہ میں داخل ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 11890
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَسَأَلُوهُ ، فَأَعْطَاهُمْ ، قَالَ : فَجَعَلَ لَا يَسْأَلُهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا أَعْطَاهُ ، حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ حِينَ أَنْفَقَ كُلَّ شَيْءٍ بِيَدِهِ : " وَمَا يَكُنْ عِنْدَنَا مِنْ خَيْرٍ ، فَلَنْ نَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ ، وَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ ، وَلَنْ تُعْطَوْا عَطَاءً خَيْرًا ، أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تعاون کی درخواست کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ عطاء فرمادیا اور جو شخص مانگتا جاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیتے جاتے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا سب ختم ہوگیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دے چکے تو ہاتھ جھاڑ کر فرمایا ہمارے پاس جو دولت آئے گی ہم اسے تم سے چھپا کر ذخیرہ نہیں کریں گے، البتہ جو بچنا چاہے، اللہ اسے بچا لیتا ہے، اللہ سے جو شخص غناء طلب کرلے، اللہ اسے غنی کردیتا ہے اور جو صبر کا دامن تھام لے، اللہ اسے صبر دے دیتا ہے اور تمہیں جو چیزیں دی گئی ہیں، ان میں صبر سے زیادہ بہتر اور وسیع کوئی چیز نہیں دی گئی۔
حدیث نمبر: 11891
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانْ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبى سعيد الخدري , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ ، إِلَّا حَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ ، وَتَغَشَّتْهُمْ الرَّحْمَةُ ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ ، وَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ ، نَزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ ، فَنَادَى : هَلْ مِنْ مُذْنِبٍ يَتُوبُ ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ ؟ إِلَى الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے، فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں، ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملاء الاعلی میں کرتا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ہے کوئی گناہگار جو توبہ کرے ؟ کوئی بخشش مانگنے والا ہے ؟ ہے کوئی دعا کرنے والا ؟ ہے کوئی سوال کرنے والا ؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 11893
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : وَضَعَ رَجُلٌ يَدَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا أُطِيقُ أَنْ أَضَعَ يَدِي عَلَيْكَ مِنْ شِدَّةِ حُمَّاكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ يُضَاعَفُ لَنَا الْبَلَاءُ ، كَمَا يُضَاعَفُ لَنَا الْأَجْرُ ، إِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يُبْتَلَى بِالْقُمَّلِ حَتَّى يَقْتُلَهُ ، وَإِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى يَأْخُذَ الْعَبَاءَةَ فَيَجُوبَهَا ، وَإِنْ كَانُوا لَيَفْرَحُونَ بِالْبَلَاءِ كَمَا تَفْرَحُونَ بِالرَّخَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک مرتبہ اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر پر رکھا تو کہنے لگا کہ آپ کو جس شدت کا بخار ہے، بخدا ! آپ پر زیادہ دیر تک ہاتھ رکھنے کی مجھ میں طاقت نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم گروہ انبیاء کو جس طرح اجروثواب سے دوگنا دیا جاتا ہے، اسی طرح مصیبت بھی دوگنی آتی ہے، کسی نبی کی آزمائش جوؤں سے ہوئی اور وہ انہیں مارا کرتے تھے، کسی نبی کی آزمائش فقر وفاقہ سے ہوئی، یہاں تک کہ وہ ایک عباء لیتے اور اسی میں پورا جسم لپیٹتے تھے اور وہ لوگ مصائب پر اسی طرح خوش ہوتے تھے جیسے تم لوگ آسانیوں پر خوش ہوتے ہو۔
حدیث نمبر: 11894
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا عَجِلَ أَحَدُكُمْ أَوْ أَقْحَطَ ، فَلَا يَغْتَسِلَنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اس طرح (خلوت) کی کیفیت میں جلدی ہو تو غسل نہ کیا کرو (بلکہ بعد میں اطمینان سے غسل کیا کرو)
حدیث نمبر: 11895
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ " رَأَى الطِّينَ فِي أَنْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَرْنَبَتِهِ ، مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ، وَكَانُوا مُطِرُوا مِنَ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑگئے ہیں، کیونکہ رات کو بارش ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 11896
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُوا بِالْقِرَاءَةِ ، وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ ، فَكَشَفَ السُّتُورَ ، وَقَالَ : " أَلَا إِنَّ كُلُّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ ، فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ، وَلَا يَرْفَعَنَّ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ " ، أَوْ قَالَ : " فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف کیا، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں لوگوں کے اونچی آواز میں قرآن کریم پڑھنے کی آواز گئی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پردہ اٹھا کر فرمایا یاد رکھو ! تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے مناجات کر رہا ہے، اس لئے ایک دوسرے کو تکلیف نہ دو اور ایک دوسرے پر اپنی آوازیں بلند نہ کرو۔
حدیث نمبر: 11897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِبْرًا بِشِبْرٍ ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ، حَتَّى لَوْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ جُحْرَ ضَبٍّ ، لَتَبِعْتُمُوهُمْ فِيهِ " ، وَقَالَ مَرَّةً : " لَتَبِعْتُمُوهُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پہلے لوگوں کی بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر عادات کی پیروی کرو گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کرو گے۔
حدیث نمبر: 11898
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَمِنُوا ، فَمَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ ، يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا ، بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً لَهُ ، مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ ، قَالَ : يَقُولُونَ : رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا ، وَيَصُومُونَ مَعَنَا ، وَيَحُجُّونَ مَعَنَا ، فَأَدْخَلْتَهُمْ النَّارَ ، قَالَ : فَيَقُولُ : اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ ، فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ ، لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ ، فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ ، فَيُخْرِجُونَهُمْ ، فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا ، ثُمَّ يَقُولُ : أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنَ الْإِيمَانِ ، ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ ، حَتَّى يَقُولَ : مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ بِهَذَا ، فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ : إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 40 ، قَالَ : فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا ، فَلَمْ يَبْقَ فِي النَّارِ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ ، قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ : شَفَعَتْ الْمَلَائِكَةُ ، وَشَفَعَ الْأَنْبِيَاءُ ، وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ ، وَبَقِيَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ، قَالَ : فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ ، أَوْ قَالَ قَبْضَتَيْنِ ، نَاسٌ لَمْ يَعْمَلُوا لِلَّهِ خَيْرًا قَطُّ ، قَدْ احْتَرَقُوا حَتَّى صَارُوا حُمَمًا ، قَالَ : فَيُؤْتَى بِهِمْ إِلَى مَاءٍ ، يُقَالُ لَهُ : مَاءُ الْحَيَاةِ ، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ، فَيَخْرُجُونَ مِنْ أَجْسَادِهِمْ مِثْلَ اللُّؤْلُؤِ ، فِي أَعْنَاقِهِمْ الْخَاتَمُ : عُتَقَاءُ اللَّهِ ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُمْ : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ ، فَمَا تَمَنَّيْتُمْ أَوْ رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ ، فَهُوَ لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا ، قَالَ : فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، وَمَا أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : رِضَائِي عَلَيْكُمْ ، فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مسلمان قیامت کے دن جہنم سے نجات پاجائیں گے اور مامون ہوجائیں گے تو دنیا میں تم میں سے کسی صاحب حق کا اتنا شدید جھگڑا نہیں ہوگا جتنا وہ اپنے رب کے سامنے اپنے ان بھائیوں کے متعلق اصرار کریں گے جنہیں جہنم میں داخل کردیا گیا ہوگا اور وہ کہیں گے کہ پروردگار ! یہ ہمارے بھائی تھے، ہمارے ساتھ نماز پڑھتے، روزہ رکھتے اور حج کرتے تھے اور تو نے انہیں جہنم میں داخل کردیا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم جاؤ اور جن لوگوں کو جانتے ہو انہیں جہنم سے نکال لو، چنانچہ وہ لوگ آئیں گے اور انہیں ان کی صورت سے پہچان لیں گے کیونکہ آگ نے ان کے چہرے کو نہیں کھایا ہوگا، کسی کو نصف پنڈلی تک آگ نے پکڑ رکھا ہوگا اور کسی کو گھٹنوں تک، انہیں نکال کر وہ کہیں گے کہ پروردگار ! ہم نے ان لوگوں کو نکال لیا ہے، جنہیں نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا۔ اللہ فرمائے گا کہ ان لوگوں کو بھی جہنم سے نکال لو جن کے دل میں ایک دینار کے برابر ایمان موجود ہو، پھر جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہو، یہاں تک کہ اللہ فرمائے گا جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر ایمان ہو، اسے بھی نکال لو، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اس بات کو سچا نہ سمجھے اسے یہ آیت پڑھ لینی چاہئے " بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرے گا اور اگر کوئی نیکی ہوئی تو اسے دوگنا کر دے گا اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطاء فرمائے گا " وہ کہیں گے کہ پروردگار ! ہم نے ان تمام لوگوں کو نکال لیا ہے جنہیں نکالنے کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا اور اب جہنم میں کوئی ایسا آدمی نہیں رہا جس میں کوئی خیر ہو۔ پھر اللہ فرمائے گا کہ فرشتوں نے سفارش کی، انبیاء نے سفارش کی اور مسلمانوں نے سفارش کی، اب ارحم الراحمین رہ گیا ہے۔ چنانچہ اللہ جہنم سے ایک یا دو مٹھیوں کے برابر آدمی نکالے گا، یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہ کیا ہوگا، وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے، انہیں " ماءِ حیات " نامی نہر پر لایا جائے گا ان پر پانی بہایا جائے گا اور وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے پانی کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے اور ان کے جسم موتیوں کی طرح چمکدار ہو کر نکلیں گے، ان کی گردنوں پر " اللہ کے آزاد کردہ لوگوں " کی مہر ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم جو تمنا کرو گے اس سے بہترین ملے گا، وہ کہیں گے کہ پروردگار ! اس سے افضل اور کیا ہوگا ؟ اللہ فرمائے گا میری رضا مندی، آج کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔
…