حدیث نمبر: 11819
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى بْنَ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ ، وَعَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ يُحَدِّثَانِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم کھجور میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11820
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَرَظَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ اشْتَرَى كَبْشًا لِيُضَحِّيَ بِهِ ، فَأَكَلَ الذِّئْبُ مِنْ ذَنَبِهِ أَوْ ذَنَبَهُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " ضَحِّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے قربانی کے لئے ایک مینڈھا خریدا، اتفاق سے ایک بھیڑیا آیا اور اس کے سرین کا حصہ نوچ کر کھا گیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (کہ اس کی قربانی ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔
حدیث نمبر: 11821
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُجَالدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَتَضْرِبَنَّ مُضَرُ عِبَادَ اللَّهِ حَتَّى لَا يُعْبَدَ لِلَّهِ اسْمٌ ، وَلَيَضْرِبَنَّهُمْ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى لَا يَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قبیلہ مضر کے لوگ اللہ کے بندوں کو مارتے رہیں گے تاکہ اللہ کی عبادت کرنے والا کوئی نام نہ رہے، یا مسلمان انہیں مارتے رہیں گے تاکہ وہ ان سے کسی برتن کا پیندا بھی نہ روک سکیں۔
حدیث نمبر: 11822
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ ، فَقَالَ : " مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنَ الْوِصَالِ ، فَلْيُوَاصِلْ مِنَ السَّحَرِ إِلَى السَّحَرِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي ، وَسَاقٍ يَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو جو شخص ایسا کرنا ہی چاہتا ہے تو وہ سحری تک ایسا کرلے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 11823
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . وَقَيْسُ بْنُ وَهْبٍ , عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ أَوْطَاسٍ : " لَا تُوطَأُ الْحُبْلَى حَتَّى تَضَعَ ، وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا تھا کوئی شخص کسی حاملہ باندی سے مباشرت نہ کرے، تاآنکہ وضع حمل ہوجائے اور اگر وہ غیر حاملہ ہو تو ایام کے ایک دو روز گذرنے تک اس سے مباشرت نہ کرے۔
حدیث نمبر: 11824
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ الْقُرْدُوسِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا رَهْبَةُ النَّاسِ ، إِنْ عَلِمَ حَقًّا أَنْ يَقُومَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ اسے اس کا یقین ہو۔
حدیث نمبر: 11825
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " آذَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِيلِ عَامَ الْفَتْحِ ، فِي لَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْ رَمَضَانَ ، فَخَرَجْنَا صُوَّامًا ، حَتَّى إِذَا بَلَغْنَا الْكَدِيدَ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفِطْرِ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ مِنْهُمْ الصَّائِمُ ، وَمِنْهُمْ الْمُفْطِرُ ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَدْنَى مَنْزِلٍ تِلْقَاءَ الْعَدُوِّ أَمَرَنَا بِالْفِطْرِ ، فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی دو تاریخ کو ہمیں کوچ کے حوالے سے مطلع کیا، ہم روزہ رکھ کر روانہ ہوگئے، مقامِ کدید میں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روزہ ختم کردینے کا حکم دیا، جب صبح ہوئی تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہیں رکھا اور جب دشمن کے سامنے پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روزہ ختم کردینے کا حکم دیا تو ہم سب نے روزہ ختم کرلیا۔
حدیث نمبر: 11826
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِيلِ عَامَ الْفَتْحِ ، فِي لَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْ رَمَضَانَ ، فَخَرَجْنَا صُوَّامًا حَتَّى بَلَغْنَا الْكَدِيدَ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفِطْرِ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ شَرْجَيْنِ ، مِنْهُمْ الصَّائِمُ ، وَالْمُفْطِرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی دو تاریخ کو ہمیں کوچ کے حوالے سے مطلع کیا، ہم روزہ رکھ کر روانہ ہوگئے، مقامِ کدید میں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روزہ ختم کردینے کا حکم دیا، جب صبح ہوئی تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہیں رکھا اور جب دشمن کے سامنے پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روزہ ختم کردینے کا حکم دیا تو ہم سب نے روزہ ختم کرلیا۔
حدیث نمبر: 11827
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب " سمع اللہ لمن حمدہ " کہتے تو اس کے بعد یہ فرماتے کہ اے ہمارے پروردگار ! اے اللہ ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں، زمین و آسمان اور اس کے علاوہ جنہیں آپ چاہیں، ان کے پر کرنے کی بقدر، آپ ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہیں، بندے جو کہتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ حقدار ہے اور ہم سب آپ کے بندے ہیں، جسے آپ کچھ دے دیں اس سے وہ چیز کوئی روک نہیں سکتا اور کسی مرتبہ والے کی بزرگی آپ کے سامنے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
حدیث نمبر: 11828
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب " سمع اللہ لمن حمدہ " کہتے تو اس کے بعد یہ فرماتے کہ اے ہمارے پروردگار ! اے اللہ ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں، زمین و آسمان اور اس کے علاوہ جنہیں آپ چاہیں، ان کے پر کرنے کی بقدر، آپ ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہیں، بندے جو کہتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ حقدار ہے اور ہم سب آپ کے بندے ہیں، جسے آپ کچھ دے دیں اس سے وہ چیز کوئی روک نہیں سکتا اور کسی مرتبہ والے کی بزرگی آپ کے سامنے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
حدیث نمبر: 11829
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُتَحَابِّينَ لَتُرَى غُرَفُهُمْ فِي الْجَنَّةِ كَالْكَوْكَبِ الطَّالِعِ الشَّرْقِيِّ ، أَوْ الْغَرْبِيِّ ، فَيُقَالُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَيُقَالُ : هَؤُلَاءِ الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی رضاء کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے بالاخانے جنت میں اس طرح نظر آئیں گے جیسے مشرق یا مغرب میں طلوع ہونے والا ستارہ، پوچھا جائے گا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ تو جواب دیا جائے گا کہ یہ اللہ کی رضاء کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہیں۔
حدیث نمبر: 11830
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلْيُلْقِ الشَّكَّ ، وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ ، وَلْيُصَلِّ سَجْدَتَيْنِ ، فَإِنْ كَانَتْ خَمْسًا شَفَعَ بِهِمَا ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى أَرْبَعًا ، كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ یقین پر بناء کرلے اور اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے کیونکہ اگر اس کی نماز طاق ہوگئی تو جفت ہوجائے گی اور اگر جفت ہوئی تو شیطان کی رسوائی ہوگی۔
حدیث نمبر: 11831
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ ، أَنْ يَقُولَ الْحَقَّ إِذَا رَآهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ اسے خود دیکھ لے۔
حدیث نمبر: 11832
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : ذُكِرَ الْمِسْكُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَوَلَيْسَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے " مشک " کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔
حدیث نمبر: 11833
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ عَذْرَاءَ فِي خِدْرِهَا ، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11834
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا اسْتُخْلِفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ : بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ ، فَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جس شخص کو بھی خلافت عطاء فرمائی، اس کے قریب دو گروہ رہے ہیں، ایک گروہ اسے خیر کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور دوسرا گروہ اسے شر کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور بچتا وہی ہے جسے اللہ بچالے۔
حدیث نمبر: 11835
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُونَ : لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ ، فَيَقُولُ : هَلْ رَضِيتُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، فَيَقُولُ : أَنَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالُوا : يَا رَبَّنَا ، فَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي ، فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ اے اہل جنت ! وہ کہیں گے " لبیک وسعدیک " اللہ فرمائے گا کیا تم خوش ہو ؟ وہ کہیں گے کہ پروردگار ! ہم کیوں خوش نہ ہوں گے جب کہ آپ نے ہمیں وہ کچھ عطاء فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطاء نہیں فرمایا ہوگا اللہ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز دوں گا، وہ کہیں گے کہ پروردگار ! اس سے زیادہ افضل چیز اور کیا ہوگی ؟ اللہ فرمائے گا کہ آج میں تم پر اپنی خوشنودی نازل کرتا ہوں اور آج کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا۔
حدیث نمبر: 11836
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو شُجَاعٍ ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ سورة المؤمنون آية 104 ، قَالَ : تَشْوِيهِ النَّارُ ، فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا ، حَتَّى تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِهِ ، وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى ، حَتَّى تَضْرِبَ سُرَّتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " وھم فیھا کالحون " کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ جہنم کی آگ اسے جھلسا دے جس کی وجہ سے اس کا اوپر والا ہونٹ سوج کر وسط سر تک پہنچ جائے گا اور نیچے والا ہونٹ لٹک کر ناف تک آجائے گا۔
حدیث نمبر: 11837
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ , أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَاهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً ، فَحَتَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کردیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتے ہوئے تھوکنا چاہے تو سامنے یا دائیں جانب نہ دیکھے بلکہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 11838
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّهُ قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ " ، فَقَالُوا : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ ، يَتَّقِي اللَّهَ ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین آدمی کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مومن جو اپنی جان و مال سے راہ اللہ میں جہاد کرے، سائل نے پوچھا اس کے بعد کون ہے ؟ فرمایا وہ مومن جو کسی بھی محلے میں رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بچاتا ہو۔
حدیث نمبر: 11839
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخبرنا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الْجُمَحِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا ، فَنُحِبُّ الْإِثْمَانَ ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكُمْ ، لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ ، إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں قیدی ملے، ہم چاہتے ہیں کہ انہیں فدیہ دے کر چھوڑ دیں تو عزل کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایسے کرتے ہو ؟ اگر تم ایسا نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اللہ نے جس روح کو وجود عطا کرنے کا فیصلہ فرمالیا ہے وہ آکر رہے گی۔
حدیث نمبر: 11840
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَوْزاعِيِّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ شُعَيْبٍ .
مولانا ظفر اقبال
(١١٨٤٠) حدیث نمبر ١١٨٦٠ اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11841
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنِي شَهْرٌ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ حَدَّثَهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بَيْنَا أَعْرَابِيٌّ فِي بَعْضِ نَوَاحِي الْمَدِينَةِ فِي غَنَمٍ لَهُ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ ، فَأَخَذَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ ، فَأَدْرَكَهُ الْأَعْرَابِيُّ ، فَاسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ وَهَجْهَجَهُ ، فَعَانَدَهُ الذِّئْبُ يَمْشِي ، ثُمَّ أَقْعَى مُسْتَذْفِرًا بِذَنَبِهِ يُخَاطِبُهُ ، فَقَالَ : أَخَذْتَ رِزْقًا رَزَقَنِيهِ اللَّهُ , قَالَ : وَاعَجَبًا مِنْ ذِئْبٍ مُقْعٍ مُسْتَذْفِرٍ بِذَنَبِهِ يُخَاطِبُنِي , فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَتْرُكُ أَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : وَمَا أَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّخْلَتَيْنِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُحَدِّثُ النَّاسَ عَنْ نَبَإِ مَا قَدْ سَبَقَ وَمَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَنَعَقَ الْأَعْرَابِيُّ بِغَنَمِهِ ، حَتَّى أَلْجَأَهَا إِلَى بَعْضِ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى ضَرَبَ عَلَيْهِ بَابَهُ ، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيْنَ الْأَعْرَابِيُّ صَاحِبُ الْغَنَمِ ، فَقَامَ الْأَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَدِّثْ النَّاسَ بِمَا سَمِعْتَ وَمَا رَأَيْتَ " ، فَحَدَّثَ الْأَعْرَابِيُّ النَّاسَ بِمَا رَأَى مِنَ الذِّئْبِ وَسَمِعَ مِنْهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " صَدَقَ ، آيَاتٌ تَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ أَحَدُكُمْ مِنْ أَهْلِهِ ، فَيُخْبِرَهُ نَعْلُهُ , أَوْ سَوْطُهُ , أَوْ عَصَاهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ کرلے گیا، چرواہا اس کی تلاش میں نکلا اور اسے بازیاب کرا لیا، وہ بھیڑیا اپنی دم کے بل بیٹھ کر کہنے لگا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے کہ تم نے مجھ سے میرا رزق " جو اللہ نے مجھے دیا تھا " چھین لیا ؟ وہ چرواہا کہنے لگا تعجب ہے کہ ایک بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ کر مجھ سے انسانوں کی طرح بات کر رہا ہے ؟ وہ بھیڑیا کہنے لگا کہ میں تمہیں اس سے زیادہ تعجب کی بات نہ بتاؤں ؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یثرب میں لوگوں کو ماضی کی خبریں بتا رہے ہیں، جب وہ چرواہا اپنی بکریوں کو ہانکتا ہوا مدینہ منورہ واپس پہنچا تو اپنی بکریوں کو ایک کونے میں چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ گوش گذار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر " الصلوٰۃ جامعۃ " کی منادی کردی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلے اور چرواہے سے فرمایا کہ لوگوں کے سامنے اپنا واقعہ بیان کرو، اس نے لوگوں کے سامنے سارا واقعہ بیان کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے باتیں نہ کرنے لگیں اور انسان سے اس کے کوڑے کا دستہ اور جوتے کا تسمہ باتیں نہ کرنے لگے اور ان کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ نے کیا کیا۔
حدیث نمبر: 11842
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِأَصْحَابِهِ : أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ أَنَّهُ لَوْ قَدْ اسْتَقَامَتْ الْأُمُورُ قَدْ آثَرَ عَلَيْكُمْ , قَالَ : فَرَدُّوا عَلَيْهِ رَدًّا عَنِيفًا ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَاءَهُمْ , فَقَالَ لَهُمْ أَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَكُنْتُمْ لَا تَرْكَبُونَ الْخَيْلَ ؟ " , قَالَ : فَكُلَّمَا قَالَ لَهُمْ شَيْئًا قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَلَمَّا رَآهُمْ لَا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ شَيْئًا ، قَالَ : " أَفَلَا تَقُولُونَ : قَاتَلَكَ قَوْمُكَ فَنَصَرْنَاكَ ، وَأَخْرَجَكَ قَوْمُكَ فَآوَيْنَاكَ ؟ " , قَالُوا : نَحْنُ لَا نَقُولُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْتَ تَقُولُهُ ، قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا ، وَتَذْهَبُونَ أَنْتُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ ؟ " , قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَا تَرْضَوْنَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ لَوْ سَلَكُوا وَادِيًا ، وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا ، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ ؟ " , قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، الْأَنْصَارُ كَرِشِي ، وَأَهْلُ بَيْتِي ، وَعَيْبَتِي الَّتِي آوِي إِلَيْهَا ، فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ، وَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ : أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّنَا سَنَرَى بَعْدَهُ أَثَرَةً ؟ قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا أَمَرَكُمْ ؟ قُلْتُ : أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ ، قَالَ : فَاصْبِرُوا إِذًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میں تم سے اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں کہ اگر یہ معاملات اسی طرح سیدھے سیدھے چلتے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم پر دوسروں کو ترجیح دیں گے، انہوں نے اسے اس کا سخت جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے کچھ باتیں کیں جو مجھے اب یاد نہیں ہیں، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان سے کچھ فرماتے وہ اس کا یہی جواب دیتے " کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! " جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ کسی بات کا جواب نہیں دے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم لوگوں نے یہ نہیں کہا کہ آپ کی قوم آپ سے لڑی اور ہم نے آپ کی مدد کی اور آپ کی قوم نے آپ کو نکالا اور ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا ؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بات جو آپ فرما رہے ہیں یہ ہم نے نہیں کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ انصار ! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو لے جاؤ ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر فرمایا اے گروہ انصار ! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر تو میں انصار کے راستے کو اختیار کرلوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا، انصار میرا پردہ، میرے اہل خانہ اور میرا ٹھکانہ ہیں، تم ان کے گناہگار سے درگذر کرو اور ان کے نیکوکاروں کو قبول کرو۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں پہلے ہی بتادیا تھا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ترجیحات دیکھیں گے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا حکم دیا تھا ؟ میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبر کا حکم دیا تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر آپ صبر کا دامن تھامے رہیں۔
حدیث نمبر: 11843
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَتَبِعْتُمُوهُمْ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ؟ قَالَ : " فَمَنْ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پہلے لوگوں کی بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر عادات کی پیروی کرو گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کرو گے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اور کون ؟ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ کرلے گیا، چرواہا اس کی تلاش میں نکلا اور اسے بازیاب کرا لیا، وہ بھیڑیا اپنی دم کے بل بیٹھ کر کہنے لگا۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 11844
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنِي شَهْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ ، يَهُشُّ عَلَيْهَا فِي بَيْداءِ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، إِذْ عَدَا عَلَيْهِ ذِئْبٌ ، فَانْتَزَعَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ ، فَجَهْجَأَهُ الرَّجُلُ ، فَرَمَاهُ بِالْحِجَارَةِ ، حَتَّى اسْتَنْقَذَ مِنْهُ شَاتَهُ ، ثُمَّ إِنَّ الذِّئْبَ أَقْبَلَ حَتَّى أَقْعَى مُسْتَذْفِرًا بِذَنَبِهِ مُقَابِلَ الرَّجُلِ ، فَذَكَرَهُ نَحْوَ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ .
حدیث نمبر: 11845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ إِسْمَاعِيلُ الْمُلَائِيُّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : وُجِدَ قَتِيلٌ بَيْنَ قَرْيَتَيْنِ ، أَوْ مَيِّتٌ ، " فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذُرِعَ مَا بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ إِلَى أَيِّهِمَا كَانَ أَقْرَبَ ؟ فَوُجِدَ أَقْرَبَ إِلَى أَحَدِهِمَا بِشِبْرٍ ، قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى شِبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَهُ عَلَى الَّذِي كَانَ أَقْرَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بستیوں کے درمیان ایک آدمی کو مقتول پایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر دونوں بستیوں کی مسافت کی پیمائش کی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بالشت اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے قریب کی بستی میں اسے بھجوا دیا۔
حدیث نمبر: 11846
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخَدْرِيُّ . وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ ، وَقَالَ الْآخَرُ : هُوَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ مَسْجِدِي هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کی تعیین میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی، ایک آدمی کی رائے مسجد قباء کے متعلق تھی اور دوسرے آدمی کی مسجد نبوی کے متعلق تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد میری مسجد ہے۔
حدیث نمبر: 11847
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ : عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْحَابَهُ ، حَلَّقُوا رُؤُوسَهُمْ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، وَأَبِي قَتَادَةَ ، " فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حدیبیہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہ نے اور " سوائے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے " احرام باندھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کرانے والوں کے لئے تین مرتبہ اور قصر کرانے والوں کے لئے ایک مرتبہ مغفرت کی دعاء فرمائی۔
حدیث نمبر: 11848
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، أَنَّ أَبَا إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ , قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11849
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نهَى عَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ ، وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11850
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , قَالَا : حدثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَأَنْ يُخْلَطَ بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ ، وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو، مٹکے، کھوکھلی لکڑی اور لک کے برتن میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11851
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَأَنْ يُخْلَطَ بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ ، وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو، مٹکے، کھوکھلی لکڑی اور لک کے برتن میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11852
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ. وَقَالَ: «انْتَبِذْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهِ»
حدیث نمبر: 11853
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي مَنْ لَقِيَ الْوَفْدَ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ، فِيهِمْ الْأَشَجُّ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى ، وَلَمْ يَذْكُرْ : " إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، نقیر اور مزفت سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اپنے مشکیزے میں نبیذ بنا لیا کرو اور اس کا منہ بند کردیا کرو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ دور دراز سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 11854
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى الْقَصِيرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشُّرْبِ فِي الْحَنْتَمَةِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم، دباء، نقیر میں پینے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11855
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " سَيَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ النَّارِ ، قَدْ احْتَرَقُوا وَكَانُوا مِثْلَ الْحُمَمِ ، ثُمَّ لَا يَزَالُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمْ الْمَاءَ ، حَتَّى يَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْغُثَاءِ فِي السَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب جہنم سے ایک قوم نکلے گی، جو جل کر کوئلہ کی طرح ہوچکی ہوگی، اہل جنت ان پر مسلسل پانی ڈالتے رہیں گے یہاں تک وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں کوڑا کرکٹ اگ آتا ہے۔
حدیث نمبر: 11856
حَدَّثَنَا مُوسَى ، أخبرنا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " سَيَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ النَّارِ " ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11857
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَخْرُجُ ضِبَارَةٌ مِنَ النَّارِ ، قَدْ كَانُوا فَحْمًا ، قَالَ : فَيُقَالُ : بُثُّوهُمْ فِي الْجَنَّةِ ، وَرُشُّوا عَلَيْهِمْ مِنَ الْمَاءِ ، قَالَ : فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ " , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : كَأَنَّكَ كُنْتَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب جہنم سے ایک قوم نکلے گی، جو جل کر کوئلہ کی طرح ہوچکی ہوگی، اہل جنت ان پر مسلسل پانی ڈالتے رہیں گے یہاں تک وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں کوڑا کرکٹ اگ آتا ہے۔
حدیث نمبر: 11858
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ إِسْحَاقَ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ نَعُودُهُ ، فَقَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ : أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ " الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ ، أَوْ صُورَةٌ " . شَكَّ إِسْحَاقُ لَا يَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ .
مولانا ظفر اقبال
رافع بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن ابی طلحہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے ان کے گھر میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ہم سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں یا مورتیاں۔
…