حدیث نمبر: 11780
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي ، مُعْتَمًّا بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ ، مُرْخٍ طَرَفَهَا مِنْ خَلْفِهِ ، مُصْفَرَّ اللِّحْيَةِ ، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَرَدَّنِي ، ثُمَّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ ، فَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفَهُ ، فَقَرَأَ ، فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ : " لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ ، فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي ، فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ إِصْبَعَيَّ هَاتَيْنِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا ، وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ ، فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ ، فَلْيَفْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے عطاء بن یزید لیثی رحمہ اللہ کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہیں، انہوں نے سیاہ رنگ کا عمامہ باندھا ہوا تھا اور اس کا ایک کنارہ پیچھے لٹکا ہوا تھا اور ان کی ڈاڑھی زرد ہو رہی تھی۔ میں ان کے آگے سے گذرنے لگا تو انہوں نے مجھے روک دیا، پھر نماز کے بعد کہنے لگے کہ مجھ سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز فجر پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے، وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے، نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرأت میں التباس ہوگیا، نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم دیکھ سکتے تو میں نے ہاتھ بڑھا کر ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور میں نے اس کا گلا گھونٹنا شروع کردیا تھا، حتیٰ کہ اس کے منہ سے نکلنے والے تھوک کی ٹھنڈک مجھے اپنی ان دو انگلیوں ،" انگوٹھا اور ساتھ والی انگلی " کے درمیان محسوس ہونے لگی، اگر میرے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعاء نہ ہوتی تو وہ اس مسجد کے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے، اس لئے تم میں سے جس شخص میں اس چیز کی طاقت ہو کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو اسے ایسا ہی کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11781
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنِي مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ خَمْسٍ : مُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ ، وَلَا كَاهِنٌ ، وَلَا مَنَّانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان پانچ میں سے کوئی آدمی بھی جنت میں داخل نہ ہوگا، عادی شراب خور، جادو پر یقین رکھنے والا، قطع رحمی کرنے والا، کاہن اور احسان جتانے والا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مندل بن على وعطية العوفي
حدیث نمبر: 11781M
حَدَّثَنَا (٦) أَبُو الْجَوَابِ : حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ الطَّائِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ خَمْسٍ : مُدْمِنُ سُكْرٍ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ، وَلَا مَنَّانٌ، وَلَا كَاهِنَّ». [راجع: 11107].
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11781M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11782
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ، ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا ، فَلْيَطْرَحْ الشَّكَّ ، وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا ، كَانَتْ شَفْعًا لِصَلَاتِهِ " ، قَالَ مُوسَى مَرَّةً : " فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا ، شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامَ أَرْبَعٍ ، كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوں اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ یقین پر بناء کرلے اور اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے کیونکہ اگر اس کی نماز طاق ہوگئی تو جفت ہوجائے گی اور اگر جفت ہوئی تو شیطان کی رسوائی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م : 571
حدیث نمبر: 11783
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَسِيلَةُ دَرَجَةٌ عِنْدَ اللَّهِ لَيْسَ فَوْقَهَا دَرَجَةٌ ، فَسَلُوا اللَّهَ أَنْ يُؤْتِيَنِي الْوَسِيلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " وسیلہ " اللہ کے یہاں ایک درجے کا نام ہے جس سے اوپر کوئی درجہ نہیں ہے، سو تم اللہ سے میرے لئے وسیلہ کی دعا کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11784
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ الْأَرْضِ مَسْجِدٌ وَطَهُورٌ ، إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ساری زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ، سوائے قبرستان اور حمام کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، محمد بن إسحاق - وإن عنعن - قد توبع
حدیث نمبر: 11785
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، أبو البختري لم يسمع من أبى سعيد، ولضعف شريك النخعي
حدیث نمبر: 11786
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ ضُرِبَ الْجَبَلُ بِمَقْمَعٍ مِنْ حَدِيدٍ ، لَتَفَتَّتَ ، ثُمَّ عَادَ كَمَا كَانَ ، وَلَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا ، لَأَنْتَنَ أَهْلُ الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر پہاڑوں پر لوہے کا ایک گرز مار دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں اور اگر " غساق " (جہنم کے پانی) کا ایک ڈول زمین پر بہا دیا جائے تو ساری دنیا میں بدبو پھیل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف ، علته دراج ، فانه ضعيف فى روايته عن أبى الهيثم ، وابن لهيعة - وإن يكن سيئ الحفظ - متابع
حدیث نمبر: 11787
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : نَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَأَتَيْنَا امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيمٌ ، فَهَلْ مِنْكُمْ مِنْ رَاقٍ ؟ قَالَ : فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مَا كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً ، فَانْطَلَقَ مَعَهَا ، فَرَقَاهُ ، فَبَرَأَ ، فَأَعْطَوْهُ ثَلَاثِينَ شَاةً , قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَدْ قَالَ : وَأَسْقَوْنَا لَبَنًا , فَلَمَّا رَجَعَ إِلَيْنَا قُلْنَا لَهُ : أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً ؟ قَالَ : لَا ، إِنَّمَا رَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , قَالَ : فَقُلْتُ لَهُمْ : لَا تُحْدِثُوا فِيهَا شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ، اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا بِسَهْمِي مَعَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، ہمارے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ ہمارے سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، کیا آپ میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے ؟ اس کے ساتھ ایک آدمی چل پڑا، ہم نہیں سمجھتے تھے کہ یہ اچھی طرح جھاڑ پھونک کرسکتا ہے، اس نے اس آدمی کے پاس جا کر اسے دم کردیا، وہ تندرست ہوگیا، ان لوگوں نے انہیں تیس بکریوں کا ایک ریوڑ پیش کیا اور ہمیں دودھ پلایا، جب وہ واپس آیا تو ہم نے ان سے کہا کہ کیا تم جھاڑ پھونک کرنا جانتے ہو ؟ اس نے کہا نہیں، میں نے تو اسے صرف سورت فاتحہ پڑھ کر دم کیا ہے۔ میں نے اس سے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے سے پہلے کوئی نیا کام نہ کرو، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ ذکر کیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے ؟ پھر فرمایا کہ بکریوں کو وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11787
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 5007، م : 2201
حدیث نمبر: 11788
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ : عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَلَمْ يَجُزْ سُفْيَانُ أَبَاهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ساری زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ، سوائے قبرستان اور حمام کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11788
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وله إسنادان ، أحدهما موصول من طريق حماد بن سلمة ، والآخر مرسل من طريق سفيان الثوري ، وهذا معنى قوله : "ولم يجز سفيان أباه" يعني لم يذكر أبا سعيد يحيي بن عمارة والد عمرو بن يحيي
حدیث نمبر: 11789
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، فَقَالَ : عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فِيمَا يَحْسَبُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11789
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، و شك حماد فى وصله لا يضر ، فقد رواه يزيد بن هارون من طريقه من غير شك فى الرواية السابقه برقم : 11788
حدیث نمبر: 11790
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، بَاعَدَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص راہ اللہ میں ایک دن کا روزہ رکھے، اللہ اس دن کی برکت سے اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت پر دور کر دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11790
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 2840، م : 1153
حدیث نمبر: 11791
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ أَضَلَّ رَاحِلَتَهُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَطَلَبَهَا ، فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهَا ، فَتَسَجَّى لِلْمَوْتِ ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةَ الرَّاحِلَةِ حِينَ بَرَكَتْ ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ، فَإِذَا هُوَ بِرَاحِلَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں، جنگل میں جس کی سواری گم ہوگئی ہو، وہ اسے تلاش کرتا پھرے لیکن اسے وہ کہیں نہ مل سکے اور وہ موت کے لئے کپڑا اوڑھ کر لیٹ جائے، اچانک اس کے کان میں اپنی سواری کی آواز پہنچے اور وہ اپنا چہرہ کھول کر دیکھے تو وہ اس کی اپنی سواری ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11791
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11792
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : عَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ ، فَأَخَذَهَا ، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي ، فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ ، فَأَقْعَى الذِّئْبُ عَلَى ذَنَبِهِ ، قَالَ : أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ ، تَنْزِعُ مِنِّي رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيَّ ، فَقَالَ : يَا عَجَبِي ، ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلَى ذَنَبِهِ يُكَلِّمُنِي كَلَامَ الْإِنْسِ ؟ فَقَالَ الذِّئْبُ : أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَثْرِبَ ، يُخْبِرُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ , قَالَ : فَأَقْبَلَ الرَّاعِي يَسُوقُ غَنَمَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ ، فَزَوَاهَا إِلَى زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنُودِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ لِلرَّاعِي : " أَخْبِرْهُمْ " , فَأَخْبَرَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ ، وَيُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ ، وَشِرَاكُ نَعْلِهِ ، وَيُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ کرلے گیا، چرواہا اس کی تلاش میں نکلا اور اسے بازیاب کرا لیا، وہ بھیڑیا اپنی دم کے بل بیٹھ کر کہنے لگا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے کہ تم نے مجھ سے میرا رزق " جو اللہ نے مجھے دیا تھا " چھین لیا ؟ وہ چرواہا کہنے لگا تعجب ہے کہ ایک بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ کر مجھ سے انسانوں کی طرح بات کر رہا ہے ؟ وہ بھیڑیا کہنے لگا کہ میں تمہیں اس سے زیادہ تعجب کی بات نہ بتاؤں ؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یثرب میں لوگوں کو ماضی کی خبریں بتا رہے ہیں، جب وہ چرواہا اپنی بکریوں کو ہانکتا ہوا مدینہ منورہ واپس پہنچا تو اپنی بکریوں کو ایک کونے میں چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ گوش گذار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر " الصلوٰۃ جامعۃ " کی منادی کردی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلے اور چرواہے سے فرمایا کہ لوگوں کے سامنے اپنا واقعہ بیان کرو، اس نے لوگوں کے سامنے سارا واقعہ بیان کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے باتیں نہ کرنے لگیں اور انسان سے اس کے کوڑے کا دستہ اور جوتے کا تسمہ باتیں نہ کرنے لگے اور ان کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ نے کیا کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11792
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 11793
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِالْحَقِّ إِذَا شَهِدَهُ ، أَوْ عَلِمَهُ " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ قَتَادَةَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ؟ حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِالْحَقِّ ، إِذَا شَهِدَهُ ، أَوْ عَلِمَهُ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَحَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ أَنْ رَكِبْتُ إِلَى مُعَاوِيَةَ ، فَمَلَأْتُ أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، قَالَ شُعْبَةُ : حَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ : قَتَادَةُ ، وَأَبُو مَسْلَمَةَ ، وَالْجُرَيْرِيُّ ، وَرَجُلٌ آخَرُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ اس کے علم میں آجائے، یہ کہہ کر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا بخدا ! ہم نے یہ حالات دیکھے لیکن ہم کھڑے نہ ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وله إسنادان ، الأول : يزيد بن هارون .................. عن رجل عن أبى سعيد ، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن أبى سعيد والثاني : يزيد بن هارون عن شعبة ، عن قتادة ، عن ابي نضرة عن أبى سعيد ، وهذا إسناد صحيح
حدیث نمبر: 11794
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ ، فَلَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا ، فَلْيَقُمْ ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً ، قَالَ يَزِيدُ : حَتَّى يَكُونَ الشَّكُّ فِي الزِّيَادَةِ ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلَاتَهُ ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى أَرْبَعًا فَهُمَا يُرْغِمَانِ الشَّيْطَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ یقین پر بناء کرلے اور اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے کیونکہ اگر اس کی نماز طاق ہوگئی تو جفت ہوجائے گی اور اگر جفت ہوئی تو شیطان کی رسوائی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م : 571
حدیث نمبر: 11795
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى . قَالَ أَبِي : وَأَبُو بَدْرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م : 672
حدیث نمبر: 11796
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا ، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً ، وَإِنَّ أَكْثَرَ ذَاكُمْ غَدْرًا أَمِيرُ الْعَامَّةِ " , فَمَا نَسِيتُ رَفْعَهُ بِهَا صَوْتَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا سرسبز و شاداب اور شیریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سر انجام دیتے ہو ؟ یاد رکھو ! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا اور سب سے بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، الحسن البصري لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 11797
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابُوا سَبَايَا يَوْمَ أَوْطَاسٍ ، لَهُنَّ أَزْوَاجٌ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ ، فَكَانَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَفُّوا ، وَتَأَثَّمُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ . قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ : وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ اوطاس کے قیدیوں میں مال غنیمت کے طور پر عورتیں ملیں، وہ عورتیں شوہروں والی تھیں، ہمیں یہ چیز اچھی محسوس نہ ہوئی کہ ان کے شوہروں کی زندگی میں ان سے تعلقات قائم کریں (چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا) تو یہ آیت نازل ہوئی کہ شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں، البتہ جو تمہاری باندیاں ہیں، ان سے فائدہ اٹھانا حلال ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م : 1456 ، ابن أبى عدي - وهو محمد بن إبراهيم - وإن روي عن سعيد - وهو ابن إبي عروبة - بعد الاختلاط - متابع ، زاد يزيد بن زريع فى رواية : أى : فهن لكم حلال إذا انقضت عدتهن ، كذا فى مسلم
حدیث نمبر: 11798
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا : حدثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : نِسَاءً .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11799
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : رَأَيْتُ رُؤْيَا وَأَنَا أَكْتُبُ سُورَةَ ص ، قَالَ : فَلَمَّا بَلَغْتُ السَّجْدَةَ ، رَأَيْتُ الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِي انْقَلَبَ سَاجِدًا . قَالَ : فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ سورت ص لکھ رہے ہیں، جب آیت سجدہ پر پہنچے تو دیکھا کہ دوات، قلم اور ہر وہ چیز جو وہاں موجود تھی، سب سجدے میں گرگئے، بیدار ہو کر انہوں نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس میں سجدہ تلاوت کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، بكر المذني لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 11800
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ ، شِبْرًا بِشِبْرٍ ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَتَبِعْتُمُوهُمْ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ؟ قَالَ : " فَمَنْ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پہلے لوگوں کی بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر عادات کی پیروی کرو گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کرو گے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اور کون ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 3456، م : 2669
حدیث نمبر: 11801
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : جَاءَتْ امْرَأَةُ صَفْوَانَ بْنِ مُعَطَّلٍ ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : إِنَّ صَفْوَانَ يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ ، وَيَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ ، وَلَا يُصَلِّي الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا تَقُولُ هَذِهِ ؟ " , قَالَ : أَمَّا قَوْلُهَا : يُفَطِّرُنِي ، فَإِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ ، وَقَدْ نَهَيْتُهَا أَنْ تَصُومَ , قَالَ : فَيَوْمَئِذٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصُومَ الْمَرْأَةُ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا . قَالَ : وَأَمَّا قَوْلُهَا : إِنِّي أَضْرِبُهَا عَلَى الصَّلَاةِ ، فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْ ، فَتُعَطِّلُنِي , قَالَ : " لَوْ قَرَأَهَا النَّاسُ مَا ضَرَّكَ " , وَأَمَّا قَوْلُهَا : إِنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَإِنِّي ثَقِيلُ الرَّأْسِ ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يُعْرَفُونَ بِذَاكَ ، بِثِقَلِ الرُّءُوسِ ، قَالَ : " فَإِذَا قُمْتَ فَصَلِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صفوان بن معطل کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت ہم لوگ یہیں تھے اور وہ کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب میں نماز پڑھتی ہوں تو میرا شوہر صفوان بن معطل مجھے مارتا ہے اور جب روزہ رکھتی ہوں تو تڑوا دیتا ہے اور خود فجر کی نماز نہیں پڑھتا حتیٰ کہ سورج نکل آتا ہے، صفوان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے جو یہ کہا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو یہ مجھے مارتا ہے تو یہ ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھتی ہے، میں نے اسے منع کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سورت تمام لوگوں کے لئے بھی کافی ہوتی ہے، رہی یہ بات کہ میں اس کا روزہ ختم کروا دیتا ہوں تو یہ نفلی روزے رکھتی ہے، میں نوجوان آدمی ہوں مجھ سے صبر نہیں ہوتا، اسی دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت اپنے شوہر کی مرضی کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اور رہا اس کا یہ کہنا کہ میں فجر کی نماز نہیں پڑھتا یہاں تک کہ سورج نکل آتا ہے تو ہمارے اہل خانہ کے حوالے سے یہ بات ہر جگہ مشہور ہے کہ ہم لوگ سورج نکلنے کے بعد ہی سو کر اٹھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم بیدار ہوا کرو تو نماز پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، أبوبكر : وهو ابن عياش ثقه عابد إلا أنه لما كبر ساء حفظه ، وكتابه صحيح ، وهو متابع
حدیث نمبر: 11802
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقُومُ فِي الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ ثَلَاثِينَ آيَةً ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً ، وَكَانَ يَقُومُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَتَيْنِ ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً ، وَفِي الْأُخْرَتَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ہم لوگ نماز ظہر اور عصر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے، چنانچہ ہمارا اندازہ یہ تھا کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی دو رکعتوں میں تیس آیات کی تلاوت کے بقدر قیام فرماتے ہیں اور آخری دو رکعتوں میں اس کا نصف قیام فرماتے ہیں، جب کہ نماز عصر کی پہلی دو رکعتوں میں اس کا بھی نصف اور آخری دو رکعتوں میں اس کا بھی نصف قیام فرماتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م : 452
حدیث نمبر: 11803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْعُو بِعَرَفَةَ هَكَذَا ، يَعْنِي بِظَاهِرِ كَفِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب رکھی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي
حدیث نمبر: 11804
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي ، والاضطراب حمد بن سلمة فيه
حدیث نمبر: 11805
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَا : حدثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْكُرَّاثِ ، وَالْبَصَلِ ، وَالثُّومِ " ، فَقُلْنَا : أَحَرَامٌ هُوَ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن اور پیاز سے منع فرمایا ہے، ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ چیزیں حرام ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي، وقد سلف نحوه بإسناد صحيح برقم: 11084
حدیث نمبر: 11806
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ , يَقُولُ : " وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ ، فَجَعَلَ يَدْعُو هَكَذَا ، وَجَعَلَ ظَهْرَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ ، وَرَفَعَهُمَا فَوْقَ ثَنْدُوَتِهِ ، وَأَسْفَلَ مِنْ مَنْكِبَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے سینے کے سامنے اور کندھوں سے نیچے بلند کر رکھے تھے اور ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب رکھی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي
حدیث نمبر: 11807
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ , يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ : " كُنَّا نَتَزَوَّدُ مِنْ وَشِيقِ الْحَجِّ ، حَتَّى يَكَادَ يَحُولُ عَلَيْهِ الْحَوْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حج کے بچے ہوئے سامان زاد کے طور پر استعمال کرتے تھے اور قریب قریب پورا سال اس پر گذر جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 11808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ النَّاجِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ الظُّهْرَ ، قَالَ : فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا حَبَسَكَ يَا فُلَانُ عَنِ الصَّلَاةِ ؟ " , قَالَ : فَذَكَرَ شَيْئًا اعْتَلَّ بِهِ , قَالَ : فَقَامَ يُصَلِّي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ ؟ " , قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، فَصَلَّى مَعَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز ظہر پڑھائی، نماز کے بعد ایک آدمی آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں نماز سے کس چیز نے روکا ؟ اس نے کوئی وجہ بیان کی اور نماز کا ارادہ کرنے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون اس پر صدقہ کر کے اس کے ساتھ نماز پڑھے گا ؟ اس پر ایک آدمی نے اس کے ساتھ جا کر نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله : ما حسبك يا فلان! عن الصلاة ، وهذا إسناد ضعيف لضعف على ابن عاصم الواسطي
حدیث نمبر: 11809
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا لَهُ : لَوْ قَوَّمْتَ لَنَا سِعْرَنَا ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُقَوِّمُ أَوْ الْمُسَعِّرُ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أُفَارِقَكُمْ ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي مَالٍ ، وَلَا نَفْسٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مہنگائی بڑھ گئی تو صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے نرخ مقرر فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیمت مقرر کرنے اور نرخ مقرر کرنے والا اللہ ہی ہے، میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم سے جدا ہو کر جاؤں تو تم میں سے کوئی اپنے مال یا جان پر کسی ظلم کا مجھ سے مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف على ابن عاصم الواسطي والجريري قد اختلط، وسماع الواسطي منه بعد اختلاط
حدیث نمبر: 11810
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً ، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 1310، م : 959 ، على بن عاصم الواسطي - وإن يكن ضعيفا - متابع
حدیث نمبر: 11811
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " ، قَالَ : فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَنَا عِيَالًا ، قَالَ : " كُلُوا ، وَادَّخِرُوا ، وَأَحْسِنُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا، لوگوں نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے بال بچے بھی تو ہیں ؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کھا بھی سکتے ہو، ذخیرہ بھی کرسکتے ہو اور عمدگی کے ساتھ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عبدالوهاب بن عطاء الخفاف سمع من الجريري قبل الاختلاط، وهو متابع
حدیث نمبر: 11812
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَتَيْتَ عَلَى حَائِطٍ ، فَنَادِ صَاحِبَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلَّا فَكُلْ مِنْ غَيْرِ أَنْ لاَ تُفْسِدَ ، وَإِنْ أَتَيْتَ عَلَى رَاعٍ ، فَنَادِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنْ أَجَابَكَ ، وَإِلَّا فَكُلْ وَاشْرَبْ مِنْ غَيْرِ أَنْ لا تُفْسِدَ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا بَعْدُ فَصَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی باغ میں جاؤ اور کھانا کھانے لگو تو تین مرتبہ باغ کے مالک کو آواز دے کر بلاؤ، آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اکیلے ہی کھالو لیکن حد سے آگے نہ بڑھو، اسی طرح جب تم کسی چرواہے کے پاس سے گذرو تو اسے تین مرتبہ آواز دے لو، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اس کا دودھ پی سکتا ہے جبکہ حد سے آگے نہ بڑھے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، وہ صدقہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف دون قوله: الضيافة ثلاثة أيام فما بعده فصدقة، فهو صحيح. على بن عاصم الواسطي ضعيف، وسماعه من الجريري بعد الاختلاط
حدیث نمبر: 11813
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، وهما رجلان من الأنصار من بني مازن بن النجار وكانا ثقة ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، وَهُمَا مِنْ رَهْطِهِمَا وَكَانَا ثِقَةً ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم کھجور میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1405، م: 979، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11814
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ ، وَمَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ " ، قَالُوا : فَمَا أَوَّلْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الدِّينُ " ، قَالَ يَعْقُوبُ : مَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا صَالِحٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں اور انہوں نے قمیصیں پہن رکھی ہیں، لیکن کسی کی قمیص چھاتی تک اور کسی کی اس سے نیچے تک ہے، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گذرے تو انہوں نے جو قمیص پہن رکھی تھی وہ زمین پر گھس رہی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7008، م: 2390
حدیث نمبر: 11815
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلِيطُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُسْتَقَى لَكَ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ بِئْرِ بَنِي سَاعِدَةَ ، وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا مَحَايِضُ النِّسَاءِ ، وَلَحْمُ الْكِلَابِ ، وَعَذِرُ النَّاسِ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ ، لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں ؟ دراصل اس کنوئیں میں عورتوں کے گندے کپڑے، دوسری بدبو دار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيدالله بن عبدالرحمن - ويقال: ابن عبدالله بن رافع، ولجهالة سليط بن أيوب
حدیث نمبر: 11816
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَوْ أَخِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، وَرَأَيْتُ أَنَّ فِي ذِرَاعِي سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَكَرِهْتُهُمَا ، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا هَذَيْنِ الْكَذَّابَيْنِ : صَاحِبَ الْيَمَنِ ، وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگو ! میں نے شب قدر کو دیکھا لیکن پھر بھلا دی گئی، نیز میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دیئے گئے مجھے وہ بڑے گراں گذرے چنانچہ میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے، میں نے اس کی تعبیر دو کذابوں سے کی یعنی یمن ولا (اسود عنسی ' اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11817
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ ، وَكَانَتْ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : اشْتَكَى عَلِيًّا النَّاسُ ، قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا خَطِيبًا ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، لَا تَشْكُوا عَلِيًّا ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأُخَيْشِنٌ فِي ذَاتِ اللَّهِ " ، أَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگو ! علی سے شکوہ نہ کیا کرو، واللہ ! وہ اللہ کی ذات میں یا اللہ کی راہ میں بڑا سخت آدمی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11817
حدیث نمبر: 11818
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا الْمَحِيضُ ، وَلُحُومُ الْكِلَابِ ، وَالنَّتْنُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ ، لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں ؟ دراصل اس کنوئیں میں عورتوں کے گندے کپڑے، دوسری بدبو دار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگو ! میں نے شب قدر کو دیکھا لیکن پھر بھلا دی گئی، نیز میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دیئے گئے، مجھے وہ بڑے گراں گذرے چنانچہ میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے، میں نے اس کی تعبیر دو کذابوں سے کی یعنی یمن والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگون نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگو ! علی سے شکوہ نہ کیا کرو، بخدا ! وہ اللہ کی ذات میں یا اللہ کی راہ میں بڑا سخت آدمی ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں ؟ دراصل اس کنوئیں میں عورتوں کے گندے کپڑے، دوسری بدبو دار چیزیں اور کتوں کا گوشت پھینکا جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعف الجهالة عبيدالله بن عبدالرحمن - ويقال: ابن عبدالله بن رافع ابن خديج