حدیث نمبر: 11740
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " افْتَخَرَتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتْ النَّارُ : أَيْ رَبِّ ، يَدْخُلُنِي الْجَبَابِرَةُ وَالْمُلُوكُ وَالْعُظَمَاءُ وَالْأَشْرَافُ , وَقَالَتْ الْجَنَّةُ : أَيْ رَبِّ ، يَدْخُلُنِي الْفُقَرَاءُ وَالضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلنَّارِ : أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مِنْ أَشَاءُ ، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ : أَنْتِ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا ، فَأَمَّا النَّارُ فَيُلْقَى فِيهَا أَهْلُهَا ، وَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ، حَتَّى يَأْتِيَهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَضَعُ قَدَمَهُ عَلَيْهَا فَتُزْوَى ، وَتَقُولُ : قَدْنِي قَدْنِي , وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَتَبْقَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَبْقَى ، ثُمَّ يُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا بِمَا يَشَاءُ " ، وقَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ : وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَتَبْقَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَبْقَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا، جنت کہنے لگی کہ پروردگار ! میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے ؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے ؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے، میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے سے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے، میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعہ سے رحم کروں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا۔ چنانچہ جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا، جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے ؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے، اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس، بس، بس اور جنت کے لئے تو اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 11741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَكْرٌ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَأَى رُؤْيَا أَنَّهُ يَكْتُبُ ص ، فَلَمَّا بَلَغَ إِلَى سَجْدَتِهَا ، قَالَ : رَأَى الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ ، وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِهِ انْقَلَبَ سَاجِدًا ، قَالَ : فَقَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ سورت ص لکھ رہے ہیں جب آیت سجدہ پر پہنچے تو دیکھا کہ دوات، قلم اور ہر وہ چیز جو وہاں موجود تھی، سب سجدے میں گرگئے، بیدار ہو کر انہوں نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس میں سجدہ تلاوت کرنے لگے۔
حدیث نمبر: 11742
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ النِّدَاءَ ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی جملے کہا کرو جو مؤذن کہتا ہے۔
حدیث نمبر: 11743
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَرَظَةَ يُحَدِّث ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قُلْتُ : سَمِعَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ مُحَمَّدٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : اشْتَرَيْتُ أُضْحِيَّةً ، فَجَاءَ الذِّئْبُ ، فَأَكَلَ مِنْ ذَنَبِهَا ، أَوْ أَكَلَ ذَنَبَهَا ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ضَحِّ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے قربانی کے لئے ایک مینڈھا خریدا، اتفاق سے ایک بھیڑیا آیا اور اس کے سرین کا حصہ نوچ کر کھا گیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (کہ اس کی قربانی ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔
حدیث نمبر: 11744
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : سُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ ، قَالَ : حدثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " أَنْتَ تَخْلُقُهُ ؟ أَنْتَ تَرْزُقُهُ ؟ أَقِرَّهُ قَرَارَهُ ، أَوْ مَقَرَّهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " عزل " کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کیا اس نومولود کو تم پیدا کرو گے ؟ کیا تم اسے رزق دو گے ؟ اللہ نے اسے اس کے ٹھکانے میں رکھ دیا ہے تو یہ تقدیر کا حصہ ہے اور یہی تقدیر ہے۔
حدیث نمبر: 11745
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ سورة فاطر آية 32 ، قَالَ : " هَؤُلَاءِ كُلُّهُمْ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ , وَكُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا " پھر جب ہم نے اپنی کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنادیا، جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا، پھر ان میں سے بعض اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو اور بعض نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں " فرمایا یہ سب ایک ہی مرتبے میں ہیں اور سب جنت میں جائیں گے۔
حدیث نمبر: 11746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ ، لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ ، وَلَكِنَّهَا تُصِيبُ قَوْمًا بِذُنُوبِهِمْ ، أَوْ خَطَايَاهُمْ ، حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ ، فَيُخْرَجُونَ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ ، فَيُلْقَوْنَ عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، أَهْرِيقُوا عَلَيْهِمْ مِنَ الْمَاءِ ، قَالَ : فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جہنمی اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان پر تو موت آئے گی اور نہ ہی انہیں زندگانی نصیب ہوگی، البتہ جن لوگوں پر اللہ اپنی رحمت کا ارادہ فرمائے گا، انہیں جہنم میں بھی موت دے گا، پھر سفارش کرنے والے ان کی سفارش کریں گے اور وہ گروہ در گروہ وہاں سے نکلیں گے، وہ لوگ ایک خصوصی نہر میں " جس کا نام نہر حیاء یا حیوان یا حیات یا نہر جنت ہوگا " غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے۔
حدیث نمبر: 11747
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الذَّوْدِ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِي خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ ، أَوْ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَوْلًى لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ عَذْرَاءَ فِي خِدْرِهَا ، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عُرِفَ فِي وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11749
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا فِي جَيْشٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ، قِبَلَ هَذَا الْمَشْرِقِ ، قَالَ : فَكَانَ فِي الْجَيْشِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَيَّادٍ ، وَكَانَ لَا يُسَايِرُهُ أَحَدٌ ، وَلَا يُرَافِقُهُ ، وَلَا يُؤَاكِلُهُ ، وَلَا يُشَارِبُهُ ، وَيُسَمُّونَهُ الدَّجَّالَ ، فَبَيْنَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ نَازِلٌ فِي مَنْزِلٍ لِي ، إِذْ رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَيَّادٍ جَالِسًا ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا يَصْنَعُ النَّاسُ ، لَا يُسَايِرُنِي أَحَدٌ ، وَلَا يُرَافِقُنِي أَحَدٌ ، وَلَا يُشَارِبُنِي أَحَدٌ ، وَلَا يُؤَاكِلُنِي أَحَدٌ ، وَيَدْعُونِي الدَّجَّالَ ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنْتَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ " ، وَإِنِّي وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يُولَدُ لَهُ " ، وَقَدْ وُلِدَ لِي ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ هَمَمْتُ مِمَّا يَصْنَعُ بِي هَؤُلَاءِ النَّاسُ ، أَنْ آخُذَ حَبْلًا ، فَأَخْلُوَ ، فَأَجْعَلَهُ فِي عُنُقِي ، فَأَخْتَنِقَ ، فَأَسْتَرِيحَ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّاسِ ، وَاللَّهِ مَا أَنَا بِالدَّجَّالِ ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ شِئْتَ ، لَأَخْبَرْتُكَ بِاسْمِهِ ، وَاسْمِ أَبِيهِ ، وَاسْمِ أُمِّهِ ، وَاسْمِ الْقَرْيَةِ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مشرق کی طرف سے لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ منورہ سے واپس آرہے تھے، اس لشکر میں عبداللہ بن صیاد بھی شامل تھا، کوئی بھی اس سے بات چیت کرتا تھا اور نہ ہی اس کی رفاقت کے لئے تیار ہوتا تھا اور کوئی بھی اس کے ساتھ کھاتا پیتا نہ تھا، بلکہ سب ہی اسے " دجال " کہتے تھے، ایک دن میں کسی پڑاؤ کے موقع پر اپنے خیمے میں تھا کہ مجھے عبداللہ بن صیاد نے دیکھ لیا، وہ میرے پاس آکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا اے ابوسعید ! آپ میرے ساتھ لوگوں کا رویہ نہیں دیکھتے ؟ میرے ساتھ کوئی بھی بات چیت، رفاقت اور کھانے پینے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور سب مجھے دجال کہہ کر پکارتے ہیں، جب کہ اے ابوسعید ! آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا اور میں تو پیدا ہی مدینہ منورہ میں ہوا ہوں اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ دجال کی کوئی اولاد نہ ہوگی جب کہ میری تو اولاد بھی ہے، بخدا ! لوگوں کا یہ رویہ دیکھ کر میرا دل چاہتا ہے کہ ایک رسی لوں، تنہائی میں اسے اپنے گلے میں ڈال کر اپنا گلا گھونٹ لوں اور ان لوگوں سے نجات پالوں، بخدا ! میں دجال نہیں ہوں، لیکن اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس کا، اس کے ماں باپ کا اور اس بستی کا نام بھی بتاسکتا ہوں جہاں سے وہ خروج کرے گا۔
حدیث نمبر: 11750
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَفْتَرِقُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ ، فَتَمْرُقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ ، فَيَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔
حدیث نمبر: 11751
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 11752
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يده : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ : هَلْ يُقِرُّ الْخَوَارِجُ بِالدَّجَّالِ ؟ فَقُلْتُ : لَا ، فَقَالَ : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي خَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ وَأَكْثَرُ ، مَا بُعِثَ نَبِيٌّ يُتَّبَعُ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ ، وَإِنِّي قَدْ بُيِّنَ لِي مِنْ أَمْرِهِ مَا لَمْ يُبَيَّنْ لِأَحَدٍ ، وَإِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، وَعَيْنُهُ الْيُمْنَى عَوْرَاءُ جَاحِظَةٌ وَلَا تَخْفَى ، كَأَنَّهَا نُخَامَةٌ فِي حَائِطٍ مُجَصَّصٍ ، وَعَيْنُهُ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ، مَعَهُ مِنْ كُلِّ لِسَانٍ ، وَمَعَهُ صُورَةُ الْجَنَّةِ خَضْرَاءُ ، يَجْرِي فِيهَا الْمَاءُ ، وَصُورَةُ النَّارِ سَوْدَاءُ تُدْخُنُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالوداک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا خوارج دجال کے وجود کا اقرار کرتے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں ہزار یا اس سے بھی زیادہ انبیاء کے آخر میں آیا ہوں، جو نبی متبوع بھی مبعوث ہوا اس نے اپنی امت کو دجال سے ضرور ڈرایا ہے اور مجھے اس کے متعلق ایک ایسی چیز بتائی گئی ہے جو کسی کو نہیں بتائی گئی تھی، یاد رکھو ! وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دائیں آنکھ تو کانی ہوگی اور تم پر یہ بات مخفی نہ رہے کہ وہ کسی چونے کی دیوار میں لگے ہوئے تھوک یا ناک کی ریزش کی طرح ہوگی اور بائیں آنکھ کسی روشن ستارے کی طرح ہوگی اور اس کے پاس ہر زبان بولنے کی صلاحیت ہوگی، نیز اس کے پاس سرسبز و شاداب جنت کا ایک عکس بھی ہوگا جس میں پانی بہتا ہوگا اور ایک نمونہ جہنم کا ہوگا جو کالی سیاہ اور دھوئیں دار ہوگی۔
حدیث نمبر: 11753
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُتَعَالِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : ذُكِرَ ابْنُ صَيَّادٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يَمُرُّ بِشَيْءٍ إِلَّا كَلَّمَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ابن صیاد کا تذکرہ ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ جہاں سے گذر جاتا ہے ہر چیز اس سے بات کرنے لگتی ہے۔
حدیث نمبر: 11754
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتْ النَّارُ : فِيَّ الْجَبَّارُونَ ، وَالْمُتَكَبِّرُونَ ، وَقَالَتْ الْجَنَّةُ : فِيَّ ضُعَفَاءُ النَّاسِ ، وَمَسَاكِينُهُمْ ، قَالَ : فَقَضَى بَيْنَهُمَا إِنَّكِ الْجَنَّةُ رَحْمَتِي ، أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ ، وَأَنَّكِ النَّارُ عَذَابِي ، أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ ، وَلِكِلَاكُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا، جنت کہنے لگی کہ پروردگار ! میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے ؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے ؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے، میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے سے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے، میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعہ سے رحم کروں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا۔
حدیث نمبر: 11755
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْأَفْعَى ، وَالْعَقْرَبَ ، وَالْحِدَاءَ ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ ، وَالْفُوَيْسِقَةَ " ، قُلْتُ : مَا الْفُوَيْسِقَةُ ؟ قَالَ : " الْفَأْرَةُ " , قُلْتُ : وَمَا شَأْنُ الْفَأْرَةِ ؟ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ ، وَقَدْ أَخَذَتْ الْفَتِيلَةَ ، فَصَعِدَتْ بِهَا إِلَى السَّقْفِ لِتُحَرِّقَ عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محرم سانپ، بچھو، چوہا، باؤلا کتا مار سکتا ہے (اس حدیث میں چوہے کے لئے " فویسقہ " کا لفظ آیا ہے لہٰذا) راوی کہتے ہیں کہ میں نے فویسقہ کا معنی پوچھا تو انہوں نے فرمایا چوہا، میں نے پوچھا کہ چوہے کا کیا مسئلہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ایک چوہا چراغ کا فیتہ لے کر چھت پر چڑھ گیا تاکہ اسے آگ لگا دوں (اس وقت سے اسے فویسقہ کہا جانے لگا)
حدیث نمبر: 11756
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ تمام خواتین جنت کی " سوائے حضرت مریم کے " سردار ہوں گی۔
حدیث نمبر: 11757
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ : وسمعته أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ عِنْدَ انْقِطَاعٍ مِنَ الزَّمَانِ ، وَظُهُورٍ مِنَ الْفِتَنِ ، رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ السَّفَّاحُ ، فَيَكُونُ إِعْطَاؤُهُ الْمَالَ حَثْيًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اختتام زمانہ اور فتنوں کے دور میں ایک آدمی نکلے گا جسے لوگ " سفاح " کہتے ہوں گے وہ بھر بھر کر لوگوں کو مال و دولت دیا کرے گا۔
حدیث نمبر: 11758
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بَلَغَ بَنُو آلِ فُلَانٍ ثَلَاثِينَ رَجُلًا ، اتَّخَذُوا مَالَ اللَّهِ دُوَلًا ، وَدِينَ اللَّهِ دَخَلًا ، وَعِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب فلاں شخص کی نسل میں تیس بیٹے پیدا ہوجائیں گے تو لوگ اللہ کے مال کو اپنی دولت سمجھنے لگیں گے، اللہ کے دین میں دخل اندازی کرنے لگیں گے اور اللہ کے بندوں کے ساتھ ہنسی اور ٹھٹھہ کرنے لگیں گے۔
حدیث نمبر: 11759
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَتْ امْرَأَةُ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ , فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ ، وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ ، وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، قَالَ وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ ، قَالَ : فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا قَوْلُهَا : يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ ، فَإِنَّهَا تَقْرَأُ سُورَتَيْنِ ، فَقَدْ نَهَيْتُهَا عَنْهَا , قَالَ : فَقَالَ : " لَوْ كَانَتْ سُورَةٌ وَاحِدَةٌ لَكَفَتْ النَّاسَ " ، وَأَمَّا قَوْلُهَا : يُفَطِّرُنِي ، فَإِنَّهَا تَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ ، فَلَا أَصْبِرُ , قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ : " لَا تَصُومَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا " ، قَالَ : وَأَمَّا قَوْلُهَا : بِأَنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ ، لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، قَالَ : " فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صفوان بن معطل کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت ہم لوگ یہیں تھے اور وہ کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب میں نماز پڑھتی ہوں تو میرا شوہر صفوان بن معطل مجھے مارتا ہے اور جب روزہ رکھتی ہوں تو تڑوا دیتا ہے اور خود فجر کی نماز نہیں پڑھتا حتیٰ کہ سورج نکل آتا ہے، صفوان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے جو یہ کہا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو یہ مجھے مارتا ہے تو یہ ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھتی ہے، میں نے اسے منع کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سورت تمام لوگوں کے لئے بھی کافی ہوتی ہے، رہی یہ بات کہ میں اس کا روزہ ختم کروا دیتا ہوں تو یہ نفلی روزے رکھتی ہے، میں نوجوان آدمی ہوں مجھ سے صبر نہیں ہوتا، اسی دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت اپنے شوہر کی مرضی کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اور رہا اس کا یہ کہنا کہ میں فجر کی نماز نہیں پڑھتا یہاں تک کہ سورج نکل آتا ہے تو ہمارے اہل خانہ کے حوالے سے یہ بات ہر جگہ مشہور ہے کہ ہم لوگ سورج نکلنے کے بعد ہی سو کر اٹھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم بیدار ہوا کرو تو نماز پڑھ لیا کرو۔
حدیث نمبر: 11760
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ ، وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پانی پینے اور اس میں پھونکیں مارنے (سانس لینے) سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11761
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . قَالَ مُجَالِدٌ : أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ : الرَّجُلُ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ ، وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوا لِلصَّلاَةِ ، وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوا لِلْقِتَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمیوں کو دیکھ کر اللہ کو ہنسی آتی ہے، ایک وہ آدمی جو رات کو کھڑا ہو کر نماز پڑھے، دوسرے وہ لوگ جو نماز کے لئے صف بندی کریں اور تیسرے وہ لوگ جو جہاد کے لئے صف بندی کریں۔
حدیث نمبر: 11762
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " أَلَا إِنَّ أَحْرَمَ الْأَيَّامِ يَوْمُكُمْ هَذَا ، وَإِنَّ أَحْرَمَ الشُّهُورِ شَهْرُكُمْ هَذَا ، وَإِنَّ أَحْرَمَ الْبِلَادِ بَلَدُكُمْ هَذَا ، أَلَا وَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا یاد رکھو ! تمہارا سب سے معزز دن آج کا ہے، سب سے معزز مہینہ آج کا مہینہ ہے اور سب سے معزز شہر یہ والا ہے، یاد رکھو ! تمہاری جان و مال کی حرمت ایک دوسرے پر اسی طرح ہے جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے میں اور اس شہر میں ہے، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! تو گواہ رہنا۔
حدیث نمبر: 11763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11764
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَرَادَ الْمُؤْمِنُ الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ ، كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ كَمَا يَشْتَهِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی مسلمان کو جنت میں بچے کی خواہش ہوگی تو اس کا حمل، وضع حمل اور عمر تمام مراحل ایک لمحے میں اس کی خواہش کے مطابق ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 11765
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى إِحْدَى خِصَالٍ ثَلَاثَةٍ : تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى مَالِهَا ، وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى جَمَالِهَا ، وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى دِينِهَا ، فَخُذْ ذَاتَ الدِّينِ وَالْخُلُقِ ، تَرِبَتْ يَمِينُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت سے شادی تین میں سے کسی ایک وجہ سے کی جاتی ہے، یا تو اس کے مال کی وجہ سے یا اس کے حسن و جمال کی وجہ سے یا اس کے دین کی وجہ سے تم اس عورت سے شادی کرو جو دین و اخلاق والی ہو، تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو۔
حدیث نمبر: 11766
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخدْرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ ، إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ ، فَقَرَأَ ، ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَى ، فَقَرَأَ ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا ، فَقَالَ أُسَيْدٌ : فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَهُ فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي ، فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ ، عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا ، قَالَ : فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ ، أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي ، إِذْ جَالَتْ فَرَسِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ " ، قَالَ : فَقَرَأْتُ ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ " ، فَقَرَأْتُ ، ثُمَّ جَالَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ " ، قَالَ : فَانْصَرَفْتُ , وَكَانَ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا ، فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ ، فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ ، عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ ، كَانَتْ تَسْتَمِعُ لَكَ ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ رَآهَا النَّاسُ لَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ رات کے وقت اپنے اونٹوں کے باڑے میں قرآن کریم پڑھ رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، وہ جوں جوں پڑھتے جاتے، وہ مزید بدکتا جاتا، حضرت اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں وہ میرے بیٹے یحییٰ کو ہی نہ روند ڈالے، چنانچہ میں اس کی طرف گیا، اچانک مجھے اپنے سر کے اوپر ایک سائبان سا محسوس ہوا جس میں چراغ جیسی چیزیں تھیں، وہ آسمان کی طرف بلند ہوا حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ اگلے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج رات میں اپنے باڑے میں قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن حضیر ! تم پڑھتے رہتے، انہوں نے عرض کیا کہ میں پڑھتا رہا لیکن اس کے بدکنے میں اور اضافہ ہوگیا، تین مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا : آخر میں انہوں نے عرض کیا کہ چونکہ یحییٰ اس کے قریب تھا اس لئے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ اسے نہ روند ڈالے، چنانچہ میں اس کے پاس چلا گیا، میں نے اس وقت ایک سائبان دیکھا جس میں چراغ جیسی چیزیں تھیں، وہ سائبان آسمان کی طرف بلند ہوا یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ فرشتے تھے جو تمہاری تلاوت سن رہے تھے، اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح کو لوگ انہیں دیکھ لیتے اور کوئی چیز ان سے چھپ نہ سکتی۔
حدیث نمبر: 11767
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ مُوسَى قَالَ : أَيْ رَبِّ ، عَبْدُكَ الْمُؤْمِنُ تُقَتَّرٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا ! قَالَ : فَيُفْتَحُ لَهُ بَابُ الْجَنَّةِ ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا ، قَالَ : يَا مُوسَى ، هَذَا مَا أَعْدَدْتُ لَهُ ، فَقَالَ مُوسَى : أَيْ رَبِّ ، وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ ، لَوْ كَانَ أَقْطَعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ يُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ مُنْذُ يَوْمَ خَلَقْتَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَكَانَ هَذَا مَصِيرَهُ ، لَمْ يَرَ بُؤْسًا قَطُّ , قَالَ : ثُمَّ قَالَ مُوسَى : أَيْ رَبِّ ، عَبْدُكَ الْكَافِرُ تُوَسِّعُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا ! قَالَ : فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ , فَيُقَالُ : يَا مُوسَى ، هَذَا مَا أَعْدَدْتُ لَهُ , فَقَالَ مُوسَى : أَيْ رَبِّ ، وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ ، لَوْ كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا مُنْذُ يَوْمَ خَلَقْتَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَكَانَ هَذَا مَصِيرَهُ كَأَنْ لَمْ يَرَ خَيْرًا قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ پروردگار ! آپ کے بندہ مومن پر دنیا میں بڑی تکالیف آتی ہیں، اللہ نے انہیں جنت کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا اور فرمایا کہ اے موسیٰ ! یہ سب میں نے اسی کے لئے تیار کر رکھا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار ! تیری عزت اور جلال کی قسم ! اگر کوئی آدمی اپنی پیدائش کے دن سے قیامت تک اپنے چہرے کے بل چلتا رہے اور اس کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے ہوں لیکن اس کا ٹھکانہ یہ ہو تو بھی وہ اس میں کچھ تکلیف محسوس نہ کرے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار ! آپ کے کافر بندہ پر دنیا میں بڑی وسعت ہوتی ہے ؟ اللہ نے انہیں جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا اور فرمایا کہ اے موسیٰ ! یہ میں نے اس کے لئے تیار کر رکھا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار ! تیری عزت اور جلال کی قسم ! اگر اسے اپنی پیدائش سے لے کر قیامت تک کے لئے دنیا دے دی جائے لیکن اس کا ٹھکانہ یہ ہو تو اسے کوئی اچھائی نہ ملی۔
حدیث نمبر: 11768
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وأبى أمامة بن سهل بن حنيف , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , وأبى هريرة ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاسْتَاكَ ، وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ ، وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ ، فَلَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ ، ثُمَّ رَكَعَ مَا شَاءَ أَنْ يَرْكَعَ ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي قَبْلَهَا " ، قَالَ : وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ : وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ زِيَادَةٌ ، إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے مسواک کرے، خوشبو لگائے، بشرطیکہ موجود بھی ہو اور اچھے کپڑے پہنے، پھر نکل کر مسجد میں آئے، لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے اور حسب منشا نوافل پڑھے، جب امام نکل آئے تو خاموشی اختیار کرے اور نماز سے فارغ ہونے تک کوئی بات نہ کرے تو یہ اس جمعہ اور پچھلے جمعہ کے درمیان کے تمام گناہوں کا کفارہ بن جائے گا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اگلے تین دن بھی شامل کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا مقرر فرما رکھا ہے۔
حدیث نمبر: 11769
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ ، فَيَكْتُبُونَ النَّاسَ مَنْ جَاءَ مِنَ النَّاسِ عَلَى مَنَازِلِهِمْ ، فَرَجُلٌ قَدَّمَ جَزُورًا ، وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَقَرَةً ، وَرَجُلٌ قَدَّمَ شَاةً ، وَرَجُلٌ قَدَّمَ دَجَاجَةً ، وَرَجُلٌ قَدَّمَ عُصْفُورًا ، وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَيْضَةً , قَالَ : فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، وَجَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، طُوِيَتْ الصُّحُفُ ، وَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ ، يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور درجہ بدرجہ آنے والوں کا ثواب لکھتے رہتے ہیں، کسی کا ثواب اونٹ صدقہ کرنے کے برابر، کسی کا گائے، کسی کا بکری، کسی کا مرغی، کسی کا چڑیا اور کسی کا انڈہ صدقہ کرنے کے برابر، پھر جب مؤذن اذان دے دیتا ہے اور امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو نامہ اعمال لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور فرشتے مسجد میں داخل ہو کر ذکر سننے لگتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11770
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ ، وَلَا نَصَبٍ ، وَلَا سَقَمٍ ، وَلَا حَزَنٍ ، وَلَا أَذًى ، حَتَّى الْهَمِّ يُهِمُّهُ ، إِلَّا اللَّهُ يُكَفِّرُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ خیالات " جو اسے تنگ کرتے ہیں " پہنچتے ہیں، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11771
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ أَخْبَرَاهُ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ طَعَامًا مُخْتَلِفًا ، بَعْضُهُ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ ، قَالَ : فَذَهَبْنَا نَتَزَايَدُ بَيْنَنَا ، فَمَنَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " نَبْتَاعَهُ ، إِلَّا كَيْلًا بِكَيْلٍ ، لَا زِيَادَةَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ لوگوں میں کچھ کھانے کی چیزیں تقسیم فرمائیں جن میں سے بعض دوسروں سے عمدہ تھیں، ہم آپس میں ایک دوسرے سے بولی لگانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا کہ صرف ناپ کر ہی بیع کی جائے، اس میں کچھ زیادتی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11772
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ حَدَّثَهُ مِثْلَ ذَلِكَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ مِثْلًا بِمِثْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اسی مضمون کی ایک حدیث بیان کر رہے تھے کہ ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ملاقات کے لئے آئے اور کہنے لگے کہ اے ابوسعید ! یہ کیا حدیث ہے جو آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سونا سونے کے بدلے برابر سرابر بیچو اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر بیچو۔
حدیث نمبر: 11773
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا مِنْ بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ ، قَالَ : فَقُمْنَا مَعَهُ ، فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ ، فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ يَخْصِفُهَا ، فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَضَيْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ قَامَ يَنْتَظِرُهُ ، وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ هَذَا الْقُرْآنِ ، كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ " , فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَقَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ " ، قَالَ : فَجِئْنَا نُبَشِّرُهُ ، قَالَ : وَكَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی اہلیہ محترمہ کے گھر سے تشریف لے آئے، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑے، راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی ٹوٹ گئی، حضرت علی رضی اللہ عنہ رک کر جوتی سینے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے چل پڑے، ہم بھی چلتے رہے، ایک جگہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے، ہم بھی کھڑے ہوگئے اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جو قرآن کریم کی تاویل و تفسیر پر اسی طرح قتال کرے گا جیسے میں نے اس کی تنزیل پر قتال کیا ہے، یہ سن کر ہم جھانک جھانک کر دیکھنے لگے، اس وقت ہمارے درمیان حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جوتی سینے والا ہے، اس پر ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ خوشخبری سنانے کے لئے گیئے تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے انہوں نے بھی یہ بات سن لی ہے۔
حدیث نمبر: 11774
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ مَرْوَانَ الْكَلَاعِيِّ ، وَعَقِيلِ بْنِ مُدْرِكٍ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ ، فَقَالَ : أَوْصِنِي , فَقَالَ : سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَبْلِكَ : " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ شَيْءٍ ، وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ ، فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ ، وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللَّهِ ، وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّهُ رَوْحُكَ فِي السَّمَاءِ ، وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے، انہوں نے فرمایا کہ تم نے وہی درخواست کی جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی، میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ وہ ہر چیز کی بنیاد ہے، جہاد کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ وہ اسلام کی رہبانیت ہے اور ذکر اللہ اور تلاوت قرآن کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ وہ آسمان تمہاری روح اور زمین تمہارا ذکر ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے انہوں نے بھی یہ بات سن لی ہے۔
حدیث نمبر: 11775
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَأَتَيْتُهُ لِأُبَشِّرَهُ ، قَالَ : فَلَمْ يَرْفَعْ بِهِ رَأْسًا ، كَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ .
حدیث نمبر: 11776
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَيَّادٍ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " , قَالَ هُوَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا " ، قَالَ : دُخٌّ , قَالَ : " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے پلٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ میرے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تیرے لئے اپنے ذہن میں ایک بات سوچی ہے، بتا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا " دخ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دور ہو، تو اپنے مقام سے ہرگز آگے نہیں بڑھ سکتا۔
حدیث نمبر: 11777
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن و حسین رضی اللہ عنہ نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔
حدیث نمبر: 11778
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَكُنَّا نَعْزِلُ عَنْهُنَّ ، نَلْتَمِسُ أَنْ نُفَادِيَهُنَّ مِنْ أَهْلِهِنَّ ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : تَفْعَلُونَ هَذَا وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ائْتُوهُ فَسَلُوهُ ، فَأَتَيْنَاهُ ، أَوْ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : " مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ ، إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمْرًا كَانَ " , وَمَرَرْنَا بِالْقُدُورِ ، وَهِيَ تَغْلِي ، فَقَالَ لَنَا : " مَا هَذَا اللَّحْمُ ؟ " , فَقُلْنَا : لَحْمُ حُمُرٍ ، فَقَالَ لَنَا : " أَهْلِيَّةٍ أَوْ وَحْشِيَّةٍ ؟ " , فَقُلْنَا : بَلْ أَهْلِيَّةٍ , قَالَ : فَقَالَ لَنَا : " فَأكْفِئُوهَا " ، قَالَ : فَكَفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ نَشْتَهِيهِ , قَالَ : وَكُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نُوكِي الْأَسْقِيَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی ملے، ہم ان سے عزل کرتے تھے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں، ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بھی تم یہ کام کرتے ہو، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کرلو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔ پھر ہمارا گذر کچھ ہنڈیوں پر ہوا جو ابل رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ یہ کیا گوشت ہے ؟ ہم نے عرض کیا گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پالتو یا جنگلی ؟ ہم نے عرض کیا پالتو گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہانڈیاں الٹ دو ، چنانچہ ہم نے انہیں الٹا دیا، حالانکہ ہمیں اس وقت بھوک لگی ہوئی تھی اور کھانے کی طلب محسوس ہور ہی تھی۔ اور ہمیں مشکیزوں کا منہ بند رکھنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 11779
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ : " قَوْمٌ يَخْرُجُونَ عَلَى فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ مُخْتَلِفَةٍ ، يَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔
…