حدیث نمبر: 11024
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، وحدثناه حجَّاج ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ يَعْنِي مِثْلَ الْحَدِيثِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11024
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 5822، 367، م:1512
حدیث نمبر: 11025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ ، ثُمَّ نَهَى أَنْ يَبْصُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ ، وَقَالَ : " لِيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ مسجد میں تھوک یا ناپاک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کردیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11025
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 414، م: 548 .
حدیث نمبر: 11026
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ " اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کو الٹ کر اس میں سوراخ کرکے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5625، م: 2023 .
حدیث نمبر: 11027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رِوَايَةً ، وَقَالَ مَرَّةً : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ هُوَ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 858، م: 846 .
حدیث نمبر: 11028
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ شَيْئًا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ بعلمْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ، لَا جُنَاحَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ هُوَ فِي النَّارِ " يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ازار کے متعلق پوچھا کہ آپ نے اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد سنا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں ! یاد رکھو، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا، یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 11029
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ مِنْ حِلَقِ الْأَنْصَارِ ، فَجَاءَنَا أَبُو مُوسَى كَأَنَّهُ مَذْعُورٌ ، فَقَالَ : إِنَّ عُمَرَ 63 أَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، فَرَجَعْتُ ، وقد قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ " ، فَقَالَ : لَتَجِيئَنَّ بِبَيِّنَةٍ عَلَى الَّذِي تَقُولُ : وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى مَذْعُورًا أَوْ قَالَ : فَزِعًا ، فَقَالَ : أَسْتَشْهِدُكُمْ ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ ، فَقُمْتُ مَعَهُ ، وَشَهِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ انصار کے ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ہمارے پاس حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس آنے کا حکم دیا تھا، میں نے ان کے پاس جا کر تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی لیکن مجھے اجازت نہیں ملی اور میں واپس آگیا، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے، اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں کہ یا تو اس پر کوئی گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا، میں آپ میں سے کسی کو گواہ بنانے کے لئے آیا ہوں، اس پر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس معاملے میں تو آپ کے ساتھ ہم میں سے سب سے چھوٹی عمر کا لڑکا بھی جاسکتا ہے، میں ان لوگوں میں سب سے چھوٹا تھا اس لئے میں ان کے ساتھ چلا گیا اور جا کر اس بات کی شہادت دے دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی یہ فرمایا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11029
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6245، م: 2153 .
حدیث نمبر: 11030
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رِوَايَةً ، فَذَكَرَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11030
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1405،م:979
حدیث نمبر: 11031
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي صَعْصَعَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قاَلَ لِي أَبُو سَعِيدٍ ، وَكَانَ فِي حُجْرَةٍ فَقَالَ لِي : يَا بُنَيَّ ، إِذَا أَذَّنْتَ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيْسَ شَيْءٌ يَسْمَعُهُ إِلَّا شَهِدَ لَهُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ ، وَلَا حَجَرٌ " وقَالَ مَرَّةً : يَا بُنَيَّ ، إِذَا كُنْتَ فِي الْبَرَارِيِّ ، فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَسْمَعُهُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ ، وَلَا حَجَرٌ وَلَا شَيْءٌ يَسْمَعُهُ إِلَّا شَهِدَ لَهُ " ، قَال أَبِي : وَسُفْيَانُ مُخْطِئٌ فِي اسْمِهِ ، وَالصَّوَابُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی صعصعہ رحمہ اللہ اپنے والد سے " جو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے " نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا بیٹا ! جب بھی اذان دیا کرو تو اونچی آواز سے دیا کرو، کیوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو چیز بھی " خواہ وہ جن و انس ہو، یا پتھر " اذان کی آواز سنتی ہے وہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11031
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:609
حدیث نمبر: 11032
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ شَيْخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات گرنے کی جگہ پر چلا جائے اور فتنوں سے اپنے دین کو بچالے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11032
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:3600
حدیث نمبر: 11033
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ضَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ أَبِي : قُلْتُ سُفْيَانُ سَمِعَهُ ؟ قَالَ : زَعَمَ ، " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11033
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1197،م:827
حدیث نمبر: 11034
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وابن أبي لبيد ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ ، وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ ، مَرَّ بِنَا وَنَحْنُ نَنْقُلُ مَتَاعَنَا ، فَقَالَ : " مَنْ كَانَ مُعْتَكِفًا فَلْيَكُنْ فِي مُعْتَكَفِهِ ، إِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَنُسِّيتُهَا ، وَرَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ ، وَعَرِيشُ الْمَسْجِدِ جَرِيدٌ " فَهَاجَتْ السَّمَاءُ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ عَلَى أَنْفِهِ وَجَبْهَتِهِ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا : ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے، ہم اس وقت اپنا سامان منتقل کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص معتکف تھا، وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑگئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2040، م: 1167 وله ثلاثة أسانيد: أولها حسن، والثاني والثالث صحيحان
حدیث نمبر: 11035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ نَبَاتِ الْأَرْضِ ، وَزَهْرَةِ الدُّنْيَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ ؟ فَسَكَتَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ ، قَالَ : وَغَشِيَهُ بُهْرٌ وَعَرَقٌ ، فَقَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " ، فَقَالَ : هَا أَنَا وَلَمْ أُرِدْ إِلَّا خَيْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ ، إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ ، إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ ، وَلَكِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، وَكَانَ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ ، إِلَّا آكِلَةُ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا ، وَاسْتَقْبَلَتْ الشَّمْسَ ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَخَذَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ " . قال عبد الله : قال أبي : قَالَ سُفْيَانُ 63 وَكَانَ الْأَعْمَشُ يَسْأَلُنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر ایک مرتبہ فرمایا مجھے تم پر سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے کہ اللہ تمہارے لئے زمین کی نباتات اور دنیا کی رونقیں نکال دے گا، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا خیر بھی شر کو لاسکتی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پسینہ اور گھبراہٹ طاری ہوگئی، پھر فرمایا وہ سائل کہاں ہے ؟ اس نے عرض کیا میں یہاں موجود ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر ہی کا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا خیر ہمیشہ خیر ہی کو لاتی ہے، البتہ یہ دنیا بڑی شاداب اور شیریں ہے اور موسم بہار میں اگنے والی خود رو گھاس جانور کو پیٹ پھلا کر یا بدہضمی کرکے مار دیتی ہے، لیکن جو جانور عام گھاس چرتا ہے، وہ اسے کھاتا رہتا ہے، جب اس کی کھوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے آکر لید اور پیشاب کرتا ہے، پھر دوبارہ آکر کھالیتا ہے، اسی طرح جو شخص مال حاصل کرے اس کے حق کے ساتھ، تو اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو ناحق اسے پالیتا ہے، اس کے لئے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا جائے لیکن سیراب نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 921، 1465، م: 1052 .
حدیث نمبر: 11036
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَتَوَضَّأُ إِذَا جَامَعَ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ " ، قَالَ سُفْيَانُ : أَبُو سَعِيدٍ أَدْرَكَ الْحَرَّةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے، پھر دوبارہ جانے کی خواہش ہو تو وضو کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 308 .
حدیث نمبر: 11037
(حديث موقوف) قَالَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، " يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ خَبْطًا ، وَإِنَّمَا هُوَ حَبَطًا " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 921، 1465، م: 1052 .
حدیث نمبر: 11038
(حديث مرفوع) سَمِعْت سُفْيَانَ قَالَ : " وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ " ، وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین میں اپنا نائب بنایا ہے، اب وہ دیکھے گا کہ تم کس قسم کے اعمال سر انجام دیتے ہو، یاد رکھو ! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11038
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1738 على بن زيد قد توبع .
حدیث نمبر: 11039
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدْ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ ، يَنْظُرُ مَتَى يُؤْمَرُ " ، قَالَ الْمُسْلِمُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا نَقُولُ ؟ قَالَ : قُولُوا : " حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ناز و نعم کی زندگی کیسے گزار سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور اپنے منہ سے لگا رکھا ہے، اپنی پیشانی جھکا رکھی ہے اور اپنے کانوں کو متوجہ کیا ہوا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم ہوتا ہے، مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر ہمیں کیا کہنا چاہئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہا کرو " حسبنا اللہ ونعم الوکیل علیٰ اللہ توکلنا "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11039
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، ولاضطرابه فيه .
حدیث نمبر: 11040
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدًٍ رِوَايَة ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَنَهَى " عَنْ صِيَامِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْر " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَنَهَى " عَنْ صَلَاتَيْنِ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، اور نمازعصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11040
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد فيه عبدالملك بن عميراللخمي قد تغير حفظه لكبر سنه .
حدیث نمبر: 11041
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيَقُولُونَ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی، کوئی آدمی پوچھے گا کہ کیا تم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی موجود ہے ؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجائے گی، پھر ایک اور موقع پر لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی، کوئی آدمی پوچھے گا کیا تم میں صحابی کا صحابی موجود ہے ؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجائے گی، پھر ایک اور موقع پر لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی اور کوئی آدمی پوچھے گا کہ کیا تم میں صحابی کے صحابی کا صحابی موجود ہے ؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11041
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2897، م: 2532 .
حدیث نمبر: 11042
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ عَمْرًا ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَقَالَ سُفْيَانُ : لَا أَدْرِي مَنْ عَتَّابٌ ؟ ، " لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنِ النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ ، ثُمَّ أَرْسَلَهُ لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ بِهِ كَافِرِينَ ، يَقُولُونَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ سات سال تک لوگوں سے بارش کو روکے رکھے، تو جب وہ بارش برسائے گا، اس وقت بھی لوگوں کا ایک گروہ ناشکری کرتے ہوئے یہی کہے گا کہ مجدح کے ستارے کی تاثیر سے ہم پر بارش ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن ، عتاب بن حنين روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقال الحافظ فى التقريب: مقبول .
حدیث نمبر: 11043
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ إِلَى قُبَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ پیر کے دن قباء کی طرف گئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 180، م: 343 .
حدیث نمبر: 11044
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک اوقیہ چاندی کی قیمت اپنے پاس ہونے کے باوجود کسی سے سوال کرتا ہے، وہ الحاف (لپٹ کر سوال کرنا) کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 11045
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ حَائِطًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ ، فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ ، ثَلَاثًا ، فَإِنْ أَجَابَهُ ، وَإِلَّا فَلْيَأْكُلْ ، وَإِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِإِبِلٍ فَأَرَادَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا ، فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ ، أَوْ يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ ، فَإِنْ أَجَابَهُ ، وَإِلَّا فَلْيَشْرَبْ ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی باغ میں جائے اور کھانا کھانے لگے تو تین مرتبہ باغ کے مالک کو آواز دے کربلائے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اکیلا ہی کھالے، اسی طرح جب تم میں سے کوئی شخص کسی اونٹ کے پاس سے گذرے اور اس کا دودھ پینا چاہے تو اونٹ کے مالک کو آواز دے لے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا ورنہ اس کا دودھ پی سکتا ہے۔ اور ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعدجو کچھ ہوتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، مؤمل بن إسماعيل -وإن كان سيئ الحفظ - متابع، وله شواهد تقويه .
حدیث نمبر: 11046
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ ، وَقَالَ رَجُلٌ : هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ مَسْجِدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کی تعیین میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی، ایک آدمی کی رائے مسجد قباء کے متعلق تھی اور دوسرے آدمی کی مسجد نبوی کے متعلق تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد میری مسجد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1398 ابن أبى سعد - وإن اختلف فى تعيينه - متابع .
حدیث نمبر: 11047
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، أَنَّ مُحَمَّدًا حَدَّثَ ، أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ حَدَّثَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وأبي هرَيرة " أنهم نهوا عَنِ الصَّرْفِ " ، وَرَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ جابر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11047
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد ابن جعفر سمع من سعيد بعد الاختلاط، ولم يجود إسناده، فأسقط منه مطرا الوراق بين سعيد و محمد بن سيرين.
حدیث نمبر: 11048
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ ، قَالَ : وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا حَدَّثَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وأبي سعيد الخُدْرِي ، وأبي هُرَيْرة ، " أنهم نهوا عَنِ الصَّرْفِ " ، رَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ جابر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11048
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله .
حدیث نمبر: 11049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبي سعيد ، وجابر ، اثنين من هؤلاء الثلاثة ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الصَّرْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ جابر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11049
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله .
حدیث نمبر: 11050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءٍ : الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا ، وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالَّذِي يَأْمَنُهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ الَّذِي إِذَا أَشْرَفَ عَلَى طَمَعٍ تَرَكَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان دنیا میں تین حصوں پر منقسم ہیں۔ (١) وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے، پھر اس میں انہیں شک نہ ہوا اور وہ اپنی جان و مال سے اللہ کے راستے میں جہاد کرتے رہے۔ (٢) وہ لوگ جن کی طرف سے لوگوں کی جان مال محفوظ ہوں۔ (٣) وہ لوگ جنہیں کسی چیز کی طمع پیدا ہو اور پھر وہ اسے اللہ کی رضاء کے لئے چھوڑ دیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد، وأبو السمح دراج بن سمعان ضعف فى حديثه عن أبى الهيثم
حدیث نمبر: 11051
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي رُبَيْحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشٍ أَقْرَنَ ، وَقَالَ : " هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والے مینڈھے کی قربانی کی اور فرمایا یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے جو قربانی کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه ضعف، خفيف ربيع بن عبدالرحمن فيه كلام
حدیث نمبر: 11052
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعَيَّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ " ، وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ ، وَالْمُحَاقَلَةُ اسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، بیع مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح،خ:2186، م:1546
حدیث نمبر: 11053
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الضَّحَّاكِ الْمَشْرِقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ ؟ " ، قَالَ : فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالُوا : مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ، قَالَ : " يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَهِيَ ثُلُثُ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کیا تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو یہ بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت اخلاص پڑھ لیا کرو کہ وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5015 .
حدیث نمبر: 11054
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الرُّؤْيَا يُحِبُّهَا فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ اللَّهِ ، فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ عَلَيْهَا ، وَلْيُحَدِّثْ بِهَا ، فَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ ، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا ، وَلَا يَذْكُرُهَا لِأَحَدٍ ، فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اچھا خواب دیکھے تو سمجھ لے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے، اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور اسے بیان کردے اور اگر کوئی برا خواب دیکھے تو سمجھ لے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے، اس کے شر سے اللہ کی پناہ پکڑے اور کسی سے ذکر نہ کرے۔ وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6985 .
حدیث نمبر: 11055
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تُوَاصِلُوا ، فَأَيُّكُمْ أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ ، فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ " ، فَقَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي ، وَسَاقٍ يَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو جو شخص ایسا کرنا ہی چاہتا ہے تو وہ سحری تک ایسا کرلے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1963 .
حدیث نمبر: 11056
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو عثرة ، وَلَا حَكِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرِبَة " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لغزش اور ٹھوکریں کھانے والا ہی بردبار بنتا ہے اور تجربہ کار آدمی ہی عقلمند ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11056
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف دراج فى روايته عن أبى الهيثم .
حدیث نمبر: 11057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ ، إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا الشَّيْطَانَ ، أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ ، لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جارہے تھے کہ اچانک سامنے سے ایک شاعر اشعار پڑھتا ہوا آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو روکو، کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا، اشعار سے بھرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11057
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2259 .
حدیث نمبر: 11058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَبَّابِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ : " لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُجْعَلَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ ، يَبْلُغُ كَعْبَهُ ، يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے چچا خواجہ ابوطالب کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید قیامت کے دن میری سفارش انہیں فائدہ دے گی اور انہیں جہنم کے ایک کونے میں ڈال دیا جائے گا اور آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھولتا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11058
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3885، م:210
حدیث نمبر: 11059
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَن أَبِي يَعْقُوبَ الْخَيَّاطِ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْفِطْرَ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ ، فَسَأَلَهُ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَخْبَرَهُ أَبُو سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يَخْطُبَ ، فَصَلَّى يَوْمَئِذٍ قَبْلَ الْخُطْبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابویعقوب الخیاط رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عیدالفطر کے موقع پر مدینہ منورہ میں مصعب بن زبیر رحمہ اللہ کے ساتھ تھا، انہوں نے حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے قاصد کے ذریعے یہ معلوم کروایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عید کے دن کیا معمول تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے قبل نماز پڑھا کرتے تھے، چنانچہ مصعب رحمہ اللہ نے بھی اس دن خطبے سے پہلے نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11059
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى يعقوب الحناط .
حدیث نمبر: 11060
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَال : سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقَعَدْتُ ، قَالَ : فَاسْتَقْبَلَنِي ، فَقَالَ : " مَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ اسْتَكْفَى كَفَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ هِيَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ مجھے میری والدہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا اور کہا کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امداد کی درخواست کرو، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص اللہ سے کفایت طلب کرتا ہے، اللہ اسے کفایت دے دیتا ہے۔ اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے، یہ سن کر وہ آدمی واپس چلا گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ مانگا۔ اور جو شخص اوقیہ چاندی کی قیمت اپنے پاس ہونے کے باوجود کسی سے سوال کرتا ہے، وہ الحاف (لپٹ کر سوال کرنا) کرتا ہے، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میری اونٹنی " یاقوتہ " تو ایک اوقیہ سے بھی زیادہ کی ہے، لہٰذا میں واپس آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ مانگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11060
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 1469، م: 1053 .
حدیث نمبر: 11061
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11061
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، وهو مكرر ما قبله .
حدیث نمبر: 11062
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْقَارِئَ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ ، إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، سَوَاءً بِسَوَاءٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ : " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، اس میں کمی بیشی نہ کرو۔“ اور فرمایا : ”جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11062
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
حدیث نمبر: 11063
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اشْتَهَى الْمُؤْمِنُ الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ ، كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ كَمَا يَشْتَهِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی مسلمان کو جنت میں بچے کی خواہش ہوگی تو اس کا حمل، وضع حمل اور عمر تمام مراحل ایک لمحے میں اس کی خواہش کے مطابق ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وقد بسط هذه المسألة الخلافية البيهقي فى البعث والنشور، ص: 220،221،وابن القيم فى حادي الارواح ،ص:312،321