حدیث نمبر: 11700
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، لَا يَشِفُّ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، لَا يَشِفُّ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ ، وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔
حدیث نمبر: 11701
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ أَوْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وعَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي التَّطَوُّعِ ، حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ ، يُومِئُ إِيمَاءً ، وَيَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ " . قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَالصَّوَابُ عَطِيَّةُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ہی نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے، خواہ اس کا رخ کسی طرف بھی ہوتا اور یہ نماز اشارے سے پڑھتے تھے اور سجدہ، رکوع کی نسبت زیادہ جھکتا ہوا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11702
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11703
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ ، لَا يَشْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 11704
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ نَتَحَدَّثُ ؟ قَالَ : فَخَرَجَ ، قَالَ : قُلْتُ : حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ؟ قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأُوَلَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : " مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْيَرْجِعْ ، فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، وَإِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي وَتْرٍ ، وَإِنِّي أُنْسِيتُهَا ، وَإِنِّي رَأَيْتُ كَأَنِّي أَسْجُدُ فِي طِينٍ وَمَاءٍ " . قَالَ : وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَالَ هَمَّامٌ : أَحْسَبُهُ قَالَ : قَزَعَةً ، سَمَّى الْغَيْمَ بِاسْمٍ فَجَاءَتْ سَحَابَةٌ ، وَكَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ جَرِيدَ النَّخْلِ ، فَأُمْطِرْنَا ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ وَالْمَاءِ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْنَبَتِهِ ، تَصْدِيقًا لِرُؤْيَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور عرض کیا کہ باغ میں چل کر باتیں نہ کریں، وہ چل پڑے، میں نے ان سے عرض کیا کہ شب قدر کے حوالے سے آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے وہ مجھے بھی بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے کا اعتکاف فرمایا : ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، حضرت جبرائیل ان کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ جس چیز کو تلاش کررہے ہیں وہ آگے ہے۔ (چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا اور اس میں بھی یہی ہوا) جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا جو شخص معتکف تھا وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں ہی رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس وقت آسمان پر دور دور تک بادل نہیں تھے، اچانک بادل آئے، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑگئے ہیں، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کی تصدیق تھی۔
حدیث نمبر: 11705
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتَّ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ ، فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلَمْ يَعِبْ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے سترہ یا اٹھارہ رمضان کو روانہ ہوئے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا)
حدیث نمبر: 11706
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ سورة الأعراف آية 43 ، قَالَ : حدثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَّ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ ، فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى لِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ لِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا " ، قَالَ قَتَادَةُ : وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَا يُشْبِهُ لَهُمْ ، إِلَّا أَهْلُ جُمُعَةٍ حِينَ انْصَرَفُوا مِنْ جُمُعَتِهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب مسلمان جہنم سے نجات پاجائیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان سے ایک دوسرے کے مظالم اور معاملاتِ دنیوی کا قصاص لیا جائے گا۔ اور جب وہ پاک صاف ہوجائیں گے تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے دنیاوی گھر سے زیادہ جنت کے گھر کا راستہ جانتا ہوگا۔
حدیث نمبر: 11707
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11708
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبى هريرة ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ آخِرَ رَجُلَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنَ النَّارِ ، يَقُولُ اللَّهُ لِأَحَدِهِمَا : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ هَلْ رَجَوْتَنِي ؟ فَيَقُولُ : لَا أَيْ رَبِّ ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، فَهُوَ أَشَدُّ أَهْلِ النَّارِ حَسْرَةً ، وَيَقُولُ لِلْآخَرِ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ أَوْ رَجَوْتَنِي ؟ فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرْجُوكَ , قَالَ : فَيَرْفَعُ لَهُ شَجَرَةً ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَقِرَّنِي تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا ، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا ، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى ، وَأَغْدَقُ مَاءً ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَقِرَّنِي تَحْتَهَا ، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا ، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا ، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأَوَّلَتَيْنِ ، وَأَغْدَقُ مَاءً . فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ , هَذِهِ أَقِرَّنِي تَحْتَهَا ، فَيُدْنِيَهُ مِنْهَا ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلَمْ يَتَمَالَكْ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ الْجَنَّةَ ، أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : سَلْ وَتَمَنَّهْ ، فَيَسْأَلَهُ وَيَتَمَنَّى مِقْدَارِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا ، وَيُلَقِّنُهُ اللَّهُ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ ، فَيَسْأَلُ وَيَتَمَنَّى ، فَإِذَا فَرَغَ ، قَالَ : لَكَ مَا سَأَلْتَ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : وَمِثْلُهُ مَعَهُ . وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ . قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ ، وَأُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْتُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم سے سب سے آخر میں دو آدمی نکلیں گے، ان میں سے ایک سے اللہ فرمائے گا کہ اے بنی آدم ! تو نے آج کے دن کے لئے کیا تیاری کی ہے ؟ کیا کوئی نیک عمل کیا ہے ؟ یا مجھ سے کوئی امید رکھی ہے ؟ وہ کہے گا نہیں، چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے دوبارہ جہنم میں داخل کردیا جائے گا اور وہ تمام اہل جہنم میں سب سے زیادہ حسرت کا شکار ہوگا، پھر دوسرے سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم ! تو نے آج کے دن کے لئے کیا تیاری کی ہے ؟ کیا کوئی نیک عمل کیا ہے ؟ یا مجھ سے کوئی امید رکھی ہے ؟ وہ کہے گا جی پروردگار ! مجھے امید تھی کہ اگر تو نے مجھے ایک مرتبہ جہنم سے نکالا تو دوبارہ اس میں داخل نہیں کرے گا۔ اسی اثناء میں وہ ایک درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس درخت کے پھل کھاؤں۔ اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے جنت میں داخل فرما۔ اس کے بعد حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے مطابق اسے جنت میں داخل کرکے دنیا اور اس سے ایک گنا مزید دیا جائے گا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنا مزید دیا جائے گا، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ اپنی سنی ہوئی حدیث بیان کرتے رہیں اور میں اپنی سنی ہوئی حدیث بیان کرتا رہتا ہوں۔
حدیث نمبر: 11709
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَوْ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَدِمْنَا مع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا ، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ ، قَالَ : " اجْعَلُوهَا عُمْرَةً " ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ، أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج پر نکلے، سارے راستے ہم بآواز بلند حج کا تلبیہ پڑھتے رہے، لیکن جب بیت اللہ کا طواف کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے عمرہ بنالو، چنانچہ جب آٹھ ذی الحجہ ہوئی تو ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا۔
حدیث نمبر: 11710
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَوْ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَكَى ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ ، اللَّهُ يَشْفِيكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے اور ہر حاسد کے شر سے اور نظربد سے، اللہ آپ کو شفا عطاء فرمائے۔
حدیث نمبر: 11711
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " كُلُّ حَرْفٍ مِنَ الْقُرْآنِ يُذْكَرُ فِيهِ الْقُنُوتُ ، فَهُوَ الطَّاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کا ہر وہ حرف جس میں " قنوت '' ذکر کی گئی ہو، وہ طاعت ہے۔
حدیث نمبر: 11712
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " وَيْلٌ : وَادٍ فِي جَهَنَّمَ ، يَهْوِي فِيهِ الْكَافِرُ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهُ ، وَالصَّعُودُ : جَبَلٌ مِنْ نَارٍ ، يَتَصَعَّدُ فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ، يَهْوِي بِهِ كَذَلِكَ فِيهِ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ویل " جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر گرنے کے بعد گہرائی تک پہنچنے سے قبل چالیس سال تک لڑھکٹا رہے گا اور " صعود " آگ کے ایک پہاڑ کا نام ہے جس پر وہ ستر سال تک چڑھے گا، پھر نیچے گرپڑے گا اور یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا۔
حدیث نمبر: 11713
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اسْتَكْثِرُوا مِنَ الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ " ، قِيلَ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْمِلَّةُ " ، قِيلَ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْمِلَّةُ " ، قِيلَ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " التَّكْبِيرُ ، وَالتَّهْلِيلُ ، وَالتَّسْبِيحُ ، وَالتَّحْمِيدُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " باقیات صالحات " کی کثرت کیا کرو، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ملت، کسی نے پوچھا اس سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ملت، تیسری مرتبہ سوال پوچھنے پر فرمایا کہ اس سے مراد تکبیر و تہلیل اور تسبیح وتحمید اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ ہے۔
حدیث نمبر: 11714
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُنْصَبُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِقْدَارُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، كَمَا لَمْ يَعْمَلْ فِي الدُّنْيَا ، وَإِنَّ الْكَافِرَ لَيَرَى جَهَنَّمَ وَيَظُنُّ أَنَّهَا مُوَاقِعَتُهُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کا دن کافر کو پچاس ہزار سال کے برابر محسوس ہوگا، کیونکہ اس نے دنیا میں کوئی عمل نہ کیا تھا اور کافر جب چالیس سال کی مسافت سے جہنم کو دیکھے گا تو اسے ایسا محسوس ہوگا کہ ابھی جہنم میں گرپڑے گا۔
حدیث نمبر: 11715
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَّكِئُ فِي الْجَنَّةِ سَبْعِينَ سَنَةً قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ ، ثُمَّ تَأْتِيهِ امْرَأَتُهُ ، فَتَضْرِبُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ، فَيَنْظُرُ وَجْهَهُ فِي خَدِّهَا أَصْفَى مِنَ الْمِرْآةِ ، وَإِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا تُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، فَتُسَلِّمُ عَلَيْهِ , قَالَ : فَيَرُدُّ السَّلَامَ ، وَيَسْأَلُهَا مَنْ أَنْتِ ؟ وَتَقُولُ : أَنَا مِنَ الْمَزِيدِ ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ ثَوْبًا أَدْنَاهَا مِثْلُ النُّعْمَانِ مِنْ طُوبَى ، فَيَنْفُذُهَا بَصَرُهُ حَتَّى يَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ ، وَإِنَّ عَلَيْهَا مِنَ التِّيجَانِ إِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک آدمی جنت میں ستر سال تک ٹیک لگائے رکھے گا اور پہلو نہ بدلے گا، اس دوران ایک عورت آئے گی اور اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ دے گی، وہ اس کے چہرے پر نظر ڈالے گا تو وہ آئینہ سے زیادہ صاف ہوگا اور اس عورت کے جسم پر ایک ادنیٰ موتی بھی مشرق اور مغرب کے درمیان ساری جگہ کو روشن کرنے کے لئے کافی ہوگا، وہ آکر اسے سلام کرے گی، وہ شخص اس کا جواب دے کر اس سے پوچھے گا کہ آپ کون ہیں ؟ وہ کہے گی کہ میں زائد انعام کے طور پر آپ کی ہوں، اس کے جسم پر ستر کپڑے ہوں گے جن میں سب سے کم تر کپڑا بھی انتہائی ملائم ہوگا اور وہ طوبی درخت سے بنے ہوں گے، اس کے باوجود اس جنتی کی نگاہیں چھن کر اس کے جسم پر پڑیں گی اور اس کی پنڈلی کا گودا تک اس کے پیچھے سے اسے نظر آئے گا اور اس کے سر پر ایسا شاندار تاج ہوگا جس کا ایک ادنیٰ موتی بھی مشرق و مغرب کی درمیانی جگہ کو روشن کر دے گا۔
حدیث نمبر: 11716
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موسم سرما مومن کے لئے موسم بہار ہے۔
حدیث نمبر: 11717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، مَا أَطْوَلَ هَذَا الْيَوْمَ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُ لَيُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ ، حَتَّى يَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ مِنْ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ يُصَلِّيهَا فِيَّ الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ قیامت کا دن " جو پچاس ہزار سال کا ہوگا " کتنا لمبا ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، مسلمان کے لئے وہ دن اس فرض نماز سے بھی ہلکا ہوگا جو دنیا میں پڑھتا تھا۔
حدیث نمبر: 11718
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَجَالِسَ ثَلَاثَةٌ : سَالِمٌ ، وَغَانِمٌ ، وَشَاجِبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجالس تین طرح کی ہوتی ہیں۔ سالم (گناہوں سے محفوظ) غانم (نیکیوں کا مال غنیمت بننے والی) اور شاجب (بک بک کرنے والی)
حدیث نمبر: 11719
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ سورة الواقعة آية 34 ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ ارْتِفَاعَهَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَإِنَّ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَمَسِيرَةُ خَمْسِ مِئَةِ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " وفرش مرفوعہ " کی تفسیر میں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، ان کی بلندی اتنی ہوگی جیسے آسمان اور زمین کے درمیان ہے اور ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔
حدیث نمبر: 11720
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّهُ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْعِبَادِ أَفْضَلُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهِ فِي الْكُفَّارِ وَالْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَنْكَسِرَ ، وَيَخْتَضِبَ دَمًا ، لَكَانَ الذَّاكِرُونَ اللَّهَ أَفْضَلَ مِنْهُ دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب بندوں میں سے افضل ترین آدمی کون ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے لوگ، پھر میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ان کا درجہ مجاہد رضی اللہ عنہ سے بھی بڑھ کر ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ کفار اور مشرکین میں اتنی تلوار چلائے کہ اس کی تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں لت پت ہوجائے تب بھی ذکر کرنے والوں کا درجہ ان سے افضل ہی ہوگا۔
حدیث نمبر: 11721
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : هَاجَرَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَجَرْتَ الشِّرْكَ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ ، هَلْ بِالْيَمَنِ أَبَوَاكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَذِنَا لَكَ ؟ " , قَالَ : لَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْجِعْ إِلَى أَبَوَيْكَ ، فَاسْتَأْذِنْهُمَا ، فَإِنْ فَعَلَا ، وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک آدمی یمن سے ہجرت کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے شرک سے تو ہجرت کرلی، البتہ جہاد باقی ہے، کیا یمن میں تمہارے والدین موجود ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ان کی طرف سے تمہیں جہاد میں شرکت کی اجازت ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے والدین کے پاس واپس جاؤ ان سے اجازت لو، اگر وہ اجازت دے دیں تو بہت اچھا، ورنہ تم ان ہی کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔
حدیث نمبر: 11722
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ : سَيُعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ الْيَوْمَ مِنْ أَهْلِ الْكَرَمِ " ، فَقِيلَ : وَمَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَهْلُ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے عنقریب یہاں جمع ہونے والوں کو معزز لوگوں کا پتہ چل جائے گا، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! معزز لوگوں سے کون لوگ مراد ہیں ؟ فرمایا مسجدوں میں مجلس ذکر کرنے والے۔
حدیث نمبر: 11723
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً الَّذِي لَهُ ثَمَانُونَ أَلْفَ خَادِمٍ ، وَاثْنَانِ وَسَبْعُونَ زَوْجَةً ، وَيُنْصَبُ لَهُ قُبَّةٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَيَاقُوتٍ وَزَبَرْجَدٍ ، كَمَا بَيْنَ الْجَابِيَةِ وَصَنْعَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے کم درجہ اس آدمی کا ہوگا جس کے اسی ہزار خادم ہوں گے، بہتر بیویاں ہوں گی اور اس کے لئے موتیوں، یاقوت اور زبرجد کا اتنا بڑا خیمہ لگایا جائے گا جیسے جابیہ اور صنعاء کا درمیانی فاصلہ ہے۔
حدیث نمبر: 11724
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ دَرَجَةً ، رَفَعَهُ اللَّهُ دَرَجَةً ، حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي عِلِّيِّينَ ، وَمَنْ تَكَبَّرَ عَلَى اللَّهِ دَرَجَةً ، وَضَعَهُ اللَّهُ دَرَجَةً ، حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي أَسْفَلِ السَّافِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے ایک درجہ تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ اسے ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے، حتیٰ کہ اس طرح اسے " علیین " میں پہنچا دیتا ہے اور جو شخص ایک درجہ اللہ کے سامنے تکبر کرتا ہے اللہ اسے ایک درجے نیچے گرا دیتا ہے، حتیٰ کہ اسے اسفل السافلین میں پہنچا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 11725
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ ، فَاشْهَدُوا لَهُ بِالْإِيمَانِ ، فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ : إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ سورة التوبة آية 18 " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی شخص کو مسجد میں آنے کا عادی دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11726
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ " , قَالَهَا ثَلَاثًا ، قَالَ : وَمَا كَرَامَةُ الضَّيْفِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مہمان کا اکرام کب تک ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن تک، اس کے بعد اگر وہ وہاں ٹھہرتا ہے تو وہ صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 11727
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا ، فَكَفَّارَتُهَا تَرْكُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور بعد میں اسے کسی دوسری چیز میں خیر نظر آئے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ اسے ترک کر دے۔
حدیث نمبر: 11728
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ أَثْنَى عَلَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ سَبْعَةَ أَضْعَافٍ لَمْ يَعْمَلْهَا ، وَإِذَا أَبْغَضَ اللَّهُ الْعَبْدَ أَثْنَى عَلَيْهِ مِنَ الشَّرِّ سَبْعَةَ أَضْعَافٍ لَمْ يَعْمَلْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو اس کی طرف خیر کر کے سات ایسے کام پھیر دیتا ہے جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے اور جب کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو شر کے سات ایسے کام اس کی طرف پھیر دیتا ہے جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے۔
حدیث نمبر: 11729
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " قَالَ إِبْلِيسُ : أَيْ رَبِّ ، لَا أَزَالُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ , قَالَ : فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ : لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان نے کہا تھا کہ پروردگار ! مجھے تیری عزت کی قسم ! میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی اور پروردگار عالم نے فرمایا تھا مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔
حدیث نمبر: 11730
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ , عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : لَمَّا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَى مِنْ تِلْكَ الْعَطَايَا فِي قُرَيْشٍ ، وَقَبَائِلِ الْعَرَبِ ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْأَنْصَارِ مِنْهَا شَيْءٌ ، وَجَدَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي أَنْفُسِهِمْ ، حَتَّى كَثُرَتْ فِيهِمْ الْقَالَةُ ، حَتَّى قَالَ قَائِلُهُمْ : لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمَهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا الْحَيَّ قَدْ وَجَدُوا عَلَيْكَ فِي أَنْفُسِهِمْ لِمَا صَنَعْتَ فِي هَذَا الْفَيْءِ الَّذِي أَصَبْتَ ، قَسَمْتَ فِي قَوْمِكَ ، وَأَعْطَيْتَ عَطَايَا عِظَامًا فِي قَبَائِلِ الْعَرَبِ ، وَلَمْ يَك فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ ، قَالَ : " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ ذَلِكَ يَا سَعْدُ ؟ " , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَنَا إِلَّا امْرُؤٌ مِنْ قَوْمِي ، وَمَا أَنَا ؟ قَالَ : " فَاجْمَعْ لِي قَوْمَكَ فِي هَذِهِ الْحَظِيرَةِ " قَالَ : فَخَرَجَ سَعْدٌ ، فَجَمَعَ النَّاسَ فِي تِلْكَ الْحَظِيرَةِ ، قَالَ : فَجَاءَ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فَتَرَكَهُمْ ، فَدَخَلُوا ، وَجَاءَ آخَرُونَ فَرَدَّهُمْ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا أَتَاهُ سَعْدٌ ، فَقَالَ : قَدْ اجْتَمَعَ لَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، مَا قَالَةٌ بَلَغَتْنِي عَنْكُمْ وَجِدَةٌ وَجَدْتُمُوهَا فِي أَنْفُسِكُمْ ، أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ ؟ وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ ؟ وَأَعْدَاءً فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ ؟ " , قَالُوا : بَلْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ وَأَفْضَلُ , قَالَ : " أَلَا تُجِيبُونَنِي يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ " ، قَالُوا : وَبِمَاذَا نُجِيبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ , قَالَ : " أَمَا وَاللَّهِ لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ فَلَصَدَقْتُمْ وَصُدِّقْتُمْ ، أَتَيْتَنَا مُكَذَّبًا فَصَدَّقْنَاكَ ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ ، وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ ، وَعَائِلًا فَأَغْنَيْنَاكَ ، أَوَجَدْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فِي لُعَاعَةٍ مِنَ الدُّنْيَا ، تَأَلَّفْتُ بِهَا قَوْمًا لِيُسْلِمُوا ، وَوَكَلْتُكُمْ إِلَى إِسْلَامِكُمْ ؟ أَفَلَا تَرْضَوْنَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رِحَالِكُمْ ؟ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ شِعْبًا ، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْأَنْصَارَ ، وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ ، وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " . قَالَ : فَبَكَى الْقَوْمُ حَتَّى أَخْضَلُوا لِحَاهُمْ , وَقَالُوا : رَضِينَا بِرَسُولِ اللَّهِ قِسْمًا وَحَظًّا , ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَفَرَّقُوا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور دیگر قبائل عرب میں کچھ چیزیں تقسیم کیں، انصار کے حصے میں اس میں سے کچھ بھی نہ آیا، یہ چیز ان کے ذہن میں آئی اور کثرت سے یہ باتیں ہونے لگیں حتیٰ کہ ایک آدمی نے یہ بھی کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم سے جا ملے ہیں، یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انصار کا یہ قبیلہ آپ کے متعلق اپنے ذہن میں بوجھ کا شکار ہے کہ آپ نے اس مال غنیمت میں کیا طریقہ اختیار فرمایا : آپ نے اسے اپنی قوم میں تقسیم کردیا اور قبائل عرب کو بڑے بڑے عطیے دیئے اور انصار کا اس میں سے کچھ بھی حصہ نہ ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ سعد ! اس معاملے میں تم کس طرف ہو ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری کیا حیثیت ہے، میں تو اپنی قوم کا صرف ایک فرد ہوں اور اس کے علاوہ میں کیا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بارے میں اپنی قوم کو جمع کرو۔ چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نکلے اور انہوں نے سب کو جمع کرلیا، کچھ مہاجرین بھی آئے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی جانے دیا چنانچہ وہ اندر چلے گئے، کچھ دیگر مہاجرین آئے تو انہوں نے روک دیا، الغرض ! جب سب جمع ہوگئے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ انصار جمع ہوگئے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اے گروہ انصار ! یہ کیا باتیں ہیں جو مجھے تمہارے طرف سے پہنچ رہی ہیں کہ تمہیں کچھ ناراضگی ہے۔ کیا تم گمراہی میں نہ پڑے ہوئے تھے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت سے سرفراز فرمایا : کیا تم مالی تنگدستی کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں غناء سے سرفراز فرمایا ؟ تم ایک دوسرے کے دشمن نہ تھے کہ اللہ نے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ڈالی ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کا احسان اور مہربانی ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتے ؟ بخدا ! اگر تم چاہو تو یہ کہہ سکتے ہو اور اس میں تم سچے ہوگے، آپ ہمارے پاس اس حال میں آئے تھے کہ آپ کو آپ کے اپنوں نے چھوڑ دیا تھا، ہم نے آپ کو پناہ دی، آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے، ہم نے آپ کو امن دیا ؟ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ گائے اور بکریاں لے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو لے جاؤ اور اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ ؟ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر چل رہے ہو تو میں تمہارے راستے کو اختیار کروں گا، اے اللہ ! انصار پر، ان کے بیٹوں پر اور ان کے پوتوں پر رحم فرما، اس پر وہ سب رونے لگے حتیٰ کہ ان کی ڈاڑھیاں ان کے آنسوؤں سے تر ہوگئیں اور وہ کہنے لگے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے حصے اور تقسیم کے اعتبار سے راضی ہیں، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے اور وہ لوگ بھی منتشر ہوگئے۔
حدیث نمبر: 11731
(حديث مرفوع) حدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، ثُمَّ الظَّفَرِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمأْجُوجُ ، يَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ سورة الأنبياء آية 96 ، فَيَغْشَوْنَ الْأَرْضَ ، وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ ، وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ ، وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الْأَرْضِ ، حَتَّى إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَمُرُّ بِالنَّهَرِ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهِ ، حَتَّى يَتْرُكُوهُ يَبَسًا ، حَتَّى إِنَّ مَنْ بَعْدَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهَرِ ، فَيَقُولُ : قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَاءٌ مَرَّةً ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا أَحَدٌ فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ ، قَالَ قَائِلُهُمْ : هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْأَرْضِ ، قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ ، بَقِيَ أَهْلُ السَّمَاءِ ، قَالَ : ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ ، فَتَرْجِعُ مُخْتَضِبَةً دَمًا لِلْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ ، فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ ، كَنَغَفِ الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِمْ ، فَيُصْبِحُونَ مَوْتَى لَا يُسْمَعُ لَهُمْ حِسًّا ، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ : أَلَا رَجُلٌ يَشْرِي نَفْسَهُ فَيَنْظُرَ مَا فَعَلَ هَذَا الْعَدُوُّ, قَالَ : فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِذَلِكَ مُحْتَسِبًا لِنَفْسِهِ ، قَدْ أَظَنَّهَا عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ ، فَيَنْزِلُ ، فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَيُنَادِي : يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، أَلَا أَبْشِرُوا ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ , فَيَخْرُجُونَ مِنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ ، وَيُسَرِّحُونَ مَوَاشِيَهُمْ ، فَمَا يَكُونُ لَهَا رَعْيٌ إِلَّا لُحُومُهُمْ ، فَتَشْكَرُ عَنْهُ كَأَحْسَنِ مَا تَشْكَرُ عَنْ شَيْءٍ مِنَ النَّبَاتِ أَصَابَتْهُ قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب یاجوج ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ لوگوں پر اس طرح خروج کریں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ ہر بلندی سے پھسلتے ہوئے محسوس ہوں گے تو وہ روئے زمین پر چھا جائیں گے اور مسلمان اپنے اپنے شہروں اور قلعوں میں سمٹ جائیں گے، یاجوج ماجوج ان کے مویشیوں کو پکڑ لیں گے اور زمین کا سارا پانی پی جائیں گے، حتیٰ کہ ان میں سے کچھ لوگ ایک نہر سے گذریں گے تو اس کا سارا پانی پی کر اسے خشک کردیں گے، پھر ان کے بعد ان ہی کے کچھ لوگ وہاں سے گذریں گے تو کہیں گے کہ کبھی یہاں بھی پانی ہوتا ہوگا۔ الغرض ! جب روئے زمین پر کوئی انسان نہ بچے گا سوائے ان لوگوں کے جو قلعوں یا شہروں میں اپنے آپ کو محفوظ کرلیں گے تو ان میں سے ایک بولے گا کہ زمین والوں سے تو ہم نمٹ لئے اب آسمان والے رہ گئے، یہ کہہ کر وہ اپنے نیزے کو حرکت دے کر آسمان کی طرف پھینکے گا تو وہ نیزہ ان کے امتحان اور آزمائش کے لئے خون میں لت پت کر کے ان کی طرف واپس لوٹا دیا جائے گی اسی دوران اللہ ان کی گردنوں پر ٹڈی کی طرح ایک کیڑا مسلط کر دے گا جو ان کی گردنوں کے پاس نکل آئے گا اور بیک وقت وہ سارے مرجائیں گے اور اگلے دن ان کی کوئی آواز نہ سنائی دے گی، مسلمان آپس میں کہیں گے کہ کوئی ایسا آدمی ہے جو اپنی جان کی بازی لگا کر یہ دیکھ کر آئے کہ اس دشمن کا کیا بنا ؟ چنانچہ آدمی ثواب کی نیت سے " یہ سمجھ کر وہ قتل ہوجائے گا " قلعے سے نیچے اترے گا تو دیکھے گا کہ وہ سب مرے پڑے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر ان کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں، وہ اس وقت پکار کر کہے گا کہ اے گروہ مسلمین ! تمہارے لئے خوشخبری ہے اللہ نے تمہارے دشمن سے تمہاری کفایت فرمالی، چنانچہ مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں سے نکل آئیں گے، جب ان کے جانور چرنے کے لئے نکلیں گے تو ان کے لئے یاجوج ماجوج کا گوشت ہی چرنے کے لئے ہر طرف پھیلا ہوا ہوگا، جسے کھا کر وہ اتنے صحت مند اور فربہ ہوجائیں گے کہ کسی گھاس وغیرہ سے کبھی اتنے صحت مند نہ ہوئے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 11732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " سَيَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ قَدْ احْتَرَقُوا ، وَكَانُوا مِثْلَ الْحُمَمِ ، فَلَا يَزَالُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمْ الْمَاءَ ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِي حَمِيلَةِ السَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب جہنم سے ایک قوم نکلے گی، جو جل کر کوئلہ طرح ہوچکی ہوگی، اہل جنت ان پر مسلسل پانی ڈالتے رہیں گے یہاں تک وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں کوڑا کرکٹ اگ آتا ہے۔
حدیث نمبر: 11733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَهْمٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَوْمَ يَوْمَ عِيدٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ ، إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عید کے دن کوئی روزہ نہیں ہے۔ کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے، اور سوائے تین مسجدوں کے یعنی مجسد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔
حدیث نمبر: 11734
قَالَ : وَوَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا ، فَقَالَ لَهُ : " أَيْنَ تُرِيدُ ؟ " , قَالَ : أُرِيدُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَصَلَاةٌ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ أَفْضَلُ " , يَعْنِي مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ .
مولانا ظفر اقبال
اور مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو رخصت کرتے ہوئے اس سے پوچھا کہ تمہارا کہاں کے سفر کا ارادہ ہے ؟ اس نے بتایا کہ میرا ارادہ بیت المقدس کا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس مسجد میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب "" مسجد حرام کو نکال کر "" باقی تمام مساجد کے مقابلے میں ایک ہزار درجہ افضل ہے۔
حدیث نمبر: 11735
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْأَلُهُ ، يَقُولُ : أَيْ عَبْدِي ، رَأَيْتَ مُنْكَرًا فَلَمْ تُنْكِرْهُ ، فَإِذَا لَقَّى اللَّهُ عَبْدًا حُجَّتَهُ ، قَالَ : يَا رَبِّ ، وَثِقْتُ بِكَ ، وَخِفْتُ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم سے ہر چیز کا حساب ہوگا، حتیٰ کہ یہ سوال بھی پوچھا جائے گا کہ جب تم نے کوئی گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھا تھا تو اس سے رکا کیوں نہیں تھا ؟ پھر جسے اللہ دلیل سمجھا دے گا وہ کہہ دے گا کہ پروردگار ! مجھے آپ سے معافی کی امید تھی لیکن لوگوں سے خوف تھا۔
حدیث نمبر: 11736
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا فِيمَنْ سَلَفَ ، أَوْ قَالَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا : أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا ، قَالَ : " فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ ، قَالَ لِبَنِيهِ : أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ ؟ قَالُوا : خَيْرَ أَبٍ ، قَالَ : فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَطُّ " ، قَالَ : فَفَسَّرَهَا قَتَادَةُ : لَمْ يَدَّخِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا ، " وَإِنْ يَقْدِرْ اللَّهُ عَلَيْهِ يُعَذِّبْهُ ، فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ، حَتَّى إِذَا صِرْتُ فَحْمًا ، فَاسْحَقُونِي ، أَوْ قَالَ فَاسْهَكُونِي ، ثُمَّ إِذَا كَانَ رِيحٌ عَاصِفٌ فَأَذْرُونِي فِيهَا " ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ : " فَأَخَذَ مَوَاثِيقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ " ، قَالَ : " فَفَعَلُوا ذَلِكَ وَرَبِّي ، فَلَمَّا مَاتَ أَحْرَقُوهُ ، ثُمَّ سَحَقُوهُ ، أَوْ سَهَكُوهُ ، ثُمَّ ذَرُّوهُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ ، قَالَ : فَقَالَ اللَّهُ لَهُ : كُنْ ، فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ قَائِمٌ ، قَالَ اللَّهُ : أَيْ عَبْدِي ، مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ ؟ فَقَالَ : يَا رَبِّ مَخَافَتَكَ ، أَوْ فَرَقًا مِنْكَ ، قَالَ : فَمَا تَلَافَاهُ أَنْ رَحِمَهُ ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى : فَمَا تَلَافَاهُ غَيْرُهَا أَنْ رَحِمَهُ " . قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهَا أَبَا عُثْمَانَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ هَذَا مِنْ سَلْمَانَ غَيْرَ مَرَّةٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ : ثُمَّ أَذْرُونِي فِي الْبَحْرِ ، أَوْ كَمَا حَدَّثَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا، جسے اللہ نے مال و اولاد سے خوب نواز رکھا تھا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ میں تمہارا کیسا باپ ثابت ہوا ؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا لیکن تمہارے باپ نے کبھی کوئی نیکی کا کام نہیں کیا، اس لئے جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا کر میری راکھ کو پیس لینا اور تیز آندھی والے دن سمندر میں بہا دینا اس نے ان سے اس پر وعدہ لیا، انہوں نے وعدہ کرلیا اور اس کے مرنے کے بعد وعدے پر عمل کیا، اللہ نے " کن " فرمایا تو وہ جیتا جاگتا کھڑا ہوگیا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی ؟ اس نے جواب دیا کہ آپ کے خوف کی وجہ سے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اللہ نے اسے یہ بدلہ دیا کہ اس کی مغفرت فرما دی۔
حدیث نمبر: 11737
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَرْبَعَةُ رِجَالٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ قُسَيْمٍ مَوْلَى عُمَارَةَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى ، وَمَسْجِدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔
حدیث نمبر: 11739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا ، رَجُلٌ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ ، مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى كَعْبَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى أَرْنَبَتِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى صَدْرِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ قَدْ اغْتَمَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جہنم میں اس شخص کو سب سے ہلکا عذاب ہوگا جس کے پاؤں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ ٹخنوں تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ ناک کے بانسے تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ سینے تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ پورے کے پورے آگ میں دھنسے ہوں گے۔
…