حدیث نمبر: 11660
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكَانَ أَحَدَ الصَّالِحِينَ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَمُوتُ ، فَقُلْتُ لَهُ : " أَقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي السَّلَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن منکدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے مرض الوفات میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا سلام کہہ دیجئے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده هذا الأثر صحيح
حدیث نمبر: 11661
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ هُوَ ابْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو عَثْرَةٍ ، وَلَا حَكِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرِبَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لغزشیں اور ٹھوکریں کھانے والا ہی بردبار بنتا ہے اور تجربہ کار آدمی ہی عقلمند ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف دراج فى روايته عن أبى الهيثم
حدیث نمبر: 11662
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کو الٹ کر اس میں سوراخ کر کے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5626، م: 2023
حدیث نمبر: 11663
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ مَوْلًى لِآلِ عَلِيٍّ ، قَالَ : حدثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، قَالَ : كَانَتْ جَنَازَةٌ فِي الْحِجْرِ ، فَجَاءَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَوَسَّعُوا لَهُ ، فَأَبَى أَنْ يَتَقَدَّمَ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ خَيْرَ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی عمرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو کسی جنازے کی اطلاع دی گئی، جب وہ آئے تو انہیں دیکھ کر لوگوں نے اپنی جگہ سے ہٹنا شروع کردیا، لیکن انہوں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین مجلس وہ ہوتی ہے جو زیادہ کشادہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11664
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ خَلَا مِنَ النَّاسِ ، رَغَسَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا , فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ وَدَعَا بَنِيهِ , فَقَالَ : أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ ؟ قَالُوا : خَيْرَ أَبٍ , قَالَ : فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا ابْتَأَرَ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَطُّ ، فَإِذَا مَاتَ فَأَحْرِقُوهُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ فَحْمًا فَاسْحَقُوهُ ، ثُمَّ أَذْرُهُ فِي يَوْمٍ يَعْنِي رِيحًا عَاصِفًا " , قَالَ : وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخَذَ مَوَاثِيقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَرَبِّي ، فَفَعَلُوا وَرَبِّي ، لَمَّا مَاتَ أَحْرَقُوهُ حَتَّى إِذَا كَانَ فَحْمًا سَحَقُوهُ ، ثُمَّ أَذْرَوْهُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ . قَالَ رَبُّهُ : كُنْ ، فَإِذَا هُوَ رَجُلُ قَائِمٌ ، قَالَ لَهُ رَبُّهُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ ؟ قَالَ : رَبِّ خِفْتُ عَذَابَكَ , قَالَ : فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا تَلَافَاهُ غَيْرُهَا أَنْ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . قَالَ الْحَسَنُ مَرَّةً : مَا تَلَاقَاهُ غَيْرُهَا أَنْ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ . قَالَ قَتَادَةُ : رَجُلٌ خَافَ عَذَابَ اللَّهِ ، فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنْ مَخَافَتِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا، جسے اللہ نے مال و اولاد سے خوب نواز رکھا تھا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ میں تمہارا کیسا باپ ثابت ہوا ؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا لیکن تمہارے باپ نے کبھی کوئی نیکی کا کام نہیں کیا، اس لئے جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا کر میری راکھ کو پیس لینا اور تیز آندھی والے دن سمندر میں بہا دینا اس نے ان سے اس پر وعدہ لیا، انہوں نے وعدہ کرلیا اور اس کے مرنے کے بعد وعدے پر عمل کیا، اللہ نے " کن " فرمایا تو وہ جیتا جاگتا کھڑا ہوگیا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی ؟ اس نے جواب دیا کہ آپ کے خوف کی وجہ سے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اللہ نے اسے یہ بدلہ دیا کہ اس کی مغفرت فرما دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3478، م: 2757
حدیث نمبر: 11665
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حدثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ، وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ , عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُمْلَأُ الْأَرْضُ جَوْرًا وَظُلْمًا ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ عِتْرَتِي ، يَمْلِكُ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا ، فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی، پھر میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی نکلے گا، وہ زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی اور وہ سات یا نو سال تک رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله : "يملك سبعاً أو تسعاً"، مطر الوراق فيه ضعف من جهة حفظه وتوبع، وأبوهارون العبدي متروك وقد توبع
حدیث نمبر: 11666
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ ، أَلَا وَلَا غَدْرَ أَعْظَمُ مِنْ إِمَامِ عَامَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو ! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا، یاد رکھو سب سے زیادہ بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1738، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 11667
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبى هريرة , قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آخِرُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ رَجُلَانِ ، يَقُولُ اللَّهُ لِأَحَدِهِمَا : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا أَوْ رَجَوْتَنِي ؟ فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، وَهُوَ أَشَدُّ أَهْلِ النَّارِ حَسْرَةً , وَيَقُولُ لِلْآخَرِ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا أَوْ رَجَوْتَنِي ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ يَا رَبِّ , قَدْ كُنْتُ أَرْجُو إِذْ أَخْرَجْتَنِي أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا أَبَدًا , فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَقِرَّنِي تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا ، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى ، وَأَغْدَقُ مَاءً ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، أَقِرَّنِي تَحْتَهَا ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا ، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ ، وَأَغْدَقُ مَاءً , فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، فَأَقِرَّنِي تَحْتَهَا ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، وَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا ، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، فَيَقُولُ ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا , فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلَا يَتَمَالَكُ , فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ . فَيَقُولُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : سَلْ وَتَمَنَّ ، فَيَسْأَلْ وَيَتَمَنَّى ، وَيُلَقِّنُهُ اللَّهُ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ ، فَيَسْأَلَ وَيَتَمَنَّى مِقْدَارَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : ابْنَ آدَمَ ، لَكَ مَا سَأَلْتَ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : وَمِثْلُهُ مَعَهُ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ ، وَأُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْتُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم سے سب سے آخر میں دو آدمی نکلیں گے، ان میں سے ایک سے اللہ فرمائے گا کہ اے بنی آدم ! تو نے آج کے دن کے لئے کیا تیاری کی ہے ؟ کیا کوئی نیک عمل کیا ہے ؟ یا مجھ سے کوئی امید رکھی ہے ؟ وہ کہے گا نہیں، چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے دوبارہ جہنم میں داخل کردیا جائے گا اور وہ تمام اہل جہنم میں سب سے زیادہ حسرت کا شکار ہوگا، پھر دوسرے سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم ! تو نے آج کے دن کے لئے کیا تیاری کی ہے ؟ کیا کوئی نیک عمل کیا ہے ؟ یا مجھ سے کوئی امید رکھی ہے ؟ وہ کہے گا جی پروردگار ! مجھے امید تھی کہ اگر تو نے مجھے ایک مرتبہ جہنم سے نکالا تو دوبارہ اس میں داخل نہیں کرے گا۔ اسی اثناء میں وہ ایک درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس درخت کے پھل کھاؤں۔ اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار ! مجھے جنت میں داخل فرما۔ اس کے بعد حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے مطابق اسے جنت میں داخل کر کے دنیا اور اس سے ایک گناہ مزید دیا جائے گا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنا مزید دیا جائے گا، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ اپنی سنی ہوئی حدیث بیان کرتے رہیں اور میں اپنی سنی ہوئی حدیث بیان کرتا رہتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، وقوله: قال أبو سعيد الخدري: "ومثله معه" قال أبو هريرة: "وعشرة أمثاله" هو مقلوب، والصحيح ما وقع فى البخاري برقم : 6574، وأشرنا إليه تحت رقم : 11200
حدیث نمبر: 11668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَفْلَحَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُبُّ الْأَنْصَارِ إِيمَانٌ ، وَبُغْضُهُمْ نِفَاقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کی محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، حماد بن سلمة لم يدرك أفلح، وهو مولي أبى أيوب الأنصاري
حدیث نمبر: 11669
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَجَلَسَ الْأَعْرَابِيُّ فِي آخِرِ النَّاسِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ ؟ " , قَالَ : لَا ، قَالَ : فَأَمَرَهُ ، فَأَتَى الرَّحَبَةَ الَّتِي عِنْدَ الْمِنْبَرِ ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ ایک دیہاتی آدمی مسجد نبوی میں داخل ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، وہ پیچھے بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے دو رکعتیں پڑھی ہیں اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا، چنانچہ اس نے منبر کے پاس آکر دو رکعتیں پڑھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 11670
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَوَجَدَ رِيحَ ثُومٍ مِنْ رَجُلٍ ، فَقَالَ لَهُ لَمَّا فَرَغَ : " يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ فَيَأْكُلُ مِنْ هَذَا الْخَبِيثِ ، ثُمَّ يَأْتِي فَيُؤْذِينَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، ایک آدمی کے منہ سے لہسن کی بو محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا تم میں سے ایک آدمی جا کر اس گندی چیز کو کھاتا ہے اور پھر ہمارے پاس آکر ہمیں اذیت دیتا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11670
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر : 11084
حدیث نمبر: 11671
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَنَشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَالْمُهْلِ سورة الكهف آية 29 ، قَالَ : كَعَكَرِ الزَّيْتِ ، فَإِذَا قَرُبَ إِلَيْهِ ، سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " کالمھل " کی تفسیر میں فرمایا جیسے زیتون کے تیل کا تلچھٹ ہوتا ہے، جب وہ کسی جہنمی کے قریب کیا جائے گا تو اس کے چہرے کی کھال جھلس جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف دراج فى روايته عن أبى الهيثم
حدیث نمبر: 11673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حدثَنَا دَرَّاجٌ أَبُو السَّمْحِ ، أَنَّ أَبَا الْهَيْثَمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طُوبَى لِمَنْ رَآكَ وَآمَنَ بِكَ ، قَالَ : " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي ، ثُمَّ طُوبَى ، ثُمَّ طُوبَى ، ثُمَّ طُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي " , قَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَمَا طُوبَى ؟ قَالَ : " شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ مِئَةِ عَامٍ ، ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں جنہیں آپ کی زیارت نصیب ہوئی اور وہ آپ پر ایمان لائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واقعی طوبی (خوشخبری) ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لائے اور طوبی پھر طوبی پھر طوبی ہے ان لوگوں کے لئے جو مجھ پر بن دیکھے ایمان لائیں گے، اس آدمی نے پوچھا کہ " طوبی " سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا کہ یہ جنت کے ایک درخت کا نام ہے جس کی مسافت سو سال کے برابر ہے اور اہل جنت کے کپڑے اسی کی تہہ میں سے نکلیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه دون قوله : "طوبي لمن رآني وآمن بي، وطوبي لمن آمن بي ولم يرني" فحسن لغيره
حدیث نمبر: 11674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ ، حَتَّى يَقُولُوا مَجْنُونٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْوَتْرِ ، فَقَالَ : " أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر صبح سے پہلے پہلے پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 754
حدیث نمبر: 11676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ ، حَتَّى يُبَيَّنَ لَهُ أَجْرُهُ ، وَعَنْ إِلْقَاءِ الْحَجَرِ ، وَاللَّمْسِ ، وَالنَّجْشِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کسی شخص کو مزدوری پر رکھنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی اجرت واضح نہ کردی جائے، نیز بیع میں دھوکہ، ہاتھ لگانے یا پتھر پھینکنے کی شرط پر بیع کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله : "نهي عن استئجار الأجير حتي يبين اجره"، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، إبراهيم النخعي لم يسمع من أبى سعيد، وحماد عنده تخليط عن إبراهيم
حدیث نمبر: 11677
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ " , فَلَمَّا كَانَ عَشِيَّةُ التَّرْوِيَةِ ، أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج پر نکلے، سارے راستے ہم بآواز بلند حج کا تلبیہ پڑھتے رہے، لیکن جب بیت اللہ کا طواف کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے عمرہ بنالو، الاّ یہ کہ کسی کے پاس ہدی کا جانور بھی ہو، (چنانچہ ہم نے اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیا) پھر جب آٹھ ذی الحجہ ہوئی تو ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا اور منیٰ کی طرف روانہ ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11677
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1247
حدیث نمبر: 11678
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مَهَابَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُومَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهُ " . قَالَ : ثُمَّ بَكَى أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : قَدْ وَاللَّهِ شَهِدْنَاهُ ، فَمَا قُمْنَا بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ اس کے علم میں آجائے، یہ کہہ کر حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا بخدا ! ہم نے یہ حالات دیکھے لیکن ہم کھڑے نہ ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11678
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، ولانقطاعه، الحسن بصري لم يسمع من أبى سعيد - وقول أبى سعيد : قد والله شهدناه، فما قمنا به، وسياتي بإسناد صحيح برقم : 11793
حدیث نمبر: 11679
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اطْلُبُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ : فِي تِسْعٍ يَبْقَيْنَ ، وَسَبْعٍ يَبْقَيْنَ ، وَخَمْسٍ يَبْقَيْنَ ، وَثَلَاثٍ يَبْقَيْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شب قدر کو رمضان کے عشرہ اخیر میں تلاش کیا کرو، جب کہ نو راتیں باقی رہ جائیں، یا سات، یا پانچ یا تین۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11679
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ : أَنَّ أَهْلَ قُرَيْظَةَ لَمَّا نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أرسل إليه رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ " أَوْ إِلَى خَيْرِكُمْ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ " , قَالَ : إِنِّي أَحْكُمُ أَنْ يُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ ، وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ ، قَالَ : " لَقَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو قریظہ کے لوگوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے رضا مندی ظاہر کردی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سردار کا کھڑے ہو کر استقبال کرو، پھر ان سے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہوگئے، انہوں نے عرض کیا کہ آپ ان کے جنگجو افراد کو قتل کروا دیں اور ان کے بچوں کو قیدی بنالیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا تم نے وہی فیصلہ کیا جو اللہ کا فیصلہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4121، م: 1768
حدیث نمبر: 11681
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ أَنْبَأَنِي ، قَالَ : سَأَلْتُ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : أَرْبَعٌ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْجَبْنَنِي ، وَآنَقْنَنِي ، قَالَ : " لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ أَوْ لَيْلَتَيْنِ , إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا , أَوْ ذُو مَحْرَمٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا يَصُومُ يَوْمَيْنِ : يَوْمَ الْفِطْرِ ، وَيَوْمَ النَّحْرِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ : بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى ، وَمَسْجِدِي هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چار چیزیں سنی ہیں جو مجھے بہت اچھی لگی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی عورت دو دن کا سفر اپنے محرم شوہر کے بغیر کرے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1197، م: 827
حدیث نمبر: 11682
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ " يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا ، وَالزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1987
حدیث نمبر: 11683
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا ، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11683
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2320
حدیث نمبر: 11684
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتِسْعَ عَشْرَةَ ، أَوْ سَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَصَامَ صَائِمُونَ ، وَأَفْطَرَ مُفْطِرُونَ ، فَلَمْ يَعِبْ هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ ، وَلَا هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے سترہ یا اٹھارہ رمضان کو روانہ ہوئے، تو ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھ لیتے اور کچھ نہ رکھتے، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا (مطلب یہ ہے کہ جب آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1116
حدیث نمبر: 11685
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ شُعْبَةُ : قُلْتُ لَهُ : سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ ، قَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل (مادیہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اولاد کا ہونا تقدیر کا حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2542، م: 1438
حدیث نمبر: 11686
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قُلْنَ النِّسَاءُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، غَلَبَ عَلَيْكَ الرِّجَالُ ، فَعِدْنَا مَوْعِدًا ، فَوَعَدَهُنَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ قَدَّمَتْ ثَلَاثًا مِنْ وَلَدِهَا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ " ، قَالَتْ امْرَأَةٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ , قَالَ : " وَاثْنَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ خواتین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی مجلس میں شرکت کے حوالے سے مرد ہم پر غالب ہیں، آپ ہمارے لئے بھی ایک دن مقرر فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک وقت مقررہ کا وعدہ فرمالیا اور وہاں انہیں وعظ و نصیحت فرمائی اور فرمایا کہ تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہوجائیں وہ اس کے لئے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے، ایک عورت نے پوچھا کہ میرے دو بچے فوت ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ہوں تو بھی یہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 101، م: 2633
حدیث نمبر: 11687
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ رَجُلًا قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا ، فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا ، فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَقَدْ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا ، فَلَيْسَتْ لَهُ تَوْبَةٌ ، قَالَ : فَانْتَضَى سَيْفَهُ فَقَتَلَهُ ، فَكَمَّلَ مِئَةً ، ثُمَّ إِنَّهُ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ قَتَلَ مِئَةَ نَفْسٍ ، فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَالَ : وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ ، اخْرُجْ مِنَ الْقَرْيَةِ الْخَبِيثَةِ الَّتِي أَنْتَ بِهَا إِلَى قَرْيَةِ كَذَا وَكَذَا ، فَاعْبُدْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا ، قَالَ : فَخَرَجَ وَعَرَضَ لَهُ أَجَلُهُ ، فَاخْتَصَمَ فِيهِ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ ، وَمَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ ، قَالَ إِبْلِيسُ : إِنَّهُ لَمْ يَعْصِنِي سَاعَةً قَطُّ , قَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ : إِنَّهُ خَرَجَ تَائِبًا " ، فَزَعَمَ حُمَيْدٌ أَنَّ بَكْرًا حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : " فَبَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا فَاخْتَصَمَا إِلَيْهِ " ، رَجَعَ الْحَدِيثُ إِلَى حَدِيثِ قَتَادَةَ ، قَالَ : " انْظُرُوا إِلَى أَيِّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ ، فَأَلْحِقُوهُ بِهَا " , قَالَ قَتَادَةُ : " فَقَرَّبَ اللَّهُ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ ، وَبَاعَدَ عَنْهُ الْقَرْيَةَ الْخَبِيثَةَ ، فَأَلْحَقُوهُ بِأَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے، اس کے بعد (توبہ کرنے کے ارادہ سے) یہ دریافت کرنے نکلا کہ (روئے زمین پر) سب سے بڑا عالم کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا فلاں شخص بڑا عالم ہے، یہ شخص اس کے پاس گیا اور دریافت کیا کہ میں نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا ہے، کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ عالم نے کہا نہیں، اس نے عالم کو بھی قتل کردیا اس طرح سو کی تعداد پوری ہوگئی اور پھر لوگوں سے دریافت کرنے لگا کہ اب سب سے بڑا عالم کون ہے ؟ لوگوں نے ایک آدمی کا پتہ دیا یہ اس کے پاس گیا اور اس سے اپنا مدعا کہا عالم نے کہا ہاں اس میں کون سی رکاوٹ ہے، اس گندے علاقے سے نکل کر فلاں گاؤں میں جاؤ (وہاں تمہاری توبہ قبول ہوگی) اور وہاں اپنے رب کی عبادت کرو، یہ شخص اس گاؤں کی طرف چل دیا لیکن راستہ میں ہی موت کا وقت آگیا۔ مجبوراً یہ شخص سینہ کے بل اس گاؤں کی طرف گھسٹتا رہا اب رحمت اور عذاب کے فرشتوں نے اس شخص کی نجات اور عذاب کے متعلق باہم اختلاف کیا، شیطان نے آکر کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں کیوں کہ اس نے ایک لمحے کے لئے بھی کبھی میری نافرمانی نہیں کی تھی اور رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ توبہ کر کے نکلا تھا، (اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو بھیجا اور) اس نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں بستیوں میں سے یہ شخص جس بستی کے زیادہ قریب ہوا اسے اس میں ہی شمار کرلو، راوی کہتے ہیں کہ قبل ازیں وہ اپنی موت کا وقت قریب دیکھ کر نیک گاؤں کے قریب ہوگیا تھا لہٰذا فرشتوں نے اسے ان ہی میں شمار کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3470، م: 2766
حدیث نمبر: 11688
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، أَنَّهُمْ أَصَابُوا سَبَايَا ، فَأَرَادُوا أَنْ يَسْتَمْتِعُوا بِهِنَّ ، وَلَا يَحْمِلْنَ ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہمیں قیدی ملے، ہمیں عورتوں کی خواہش تھی اور تنہائی ہم پر بڑی شاق تھی اور چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، قیامت تک جس روح نے آنا ہے وہ آکر رہے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11688
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7409، م: 1438
حدیث نمبر: 11689
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ، فَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْقَنَ أَنْ قَدْ أَتَمَّ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، فَإِنَّهُ إِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ وِتْرًا ، صَارَتْ شَفْعًا ، وَإِنْ كَانَتْ شَفْعًا كَانَ ذَلِكَ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ یقین پر بناء کرلے اور اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے کیونکہ اگر اس کی نماز طاق ہوگئی تو جفت ہوجائے گی اور اگر جفت ہوئی تو شیطان کی رسوائی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11689
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 571
حدیث نمبر: 11690
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ ، كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات ولے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں نازونعم میں ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11691
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " أَصَبْنَا نِسَاءً مِنْ سَبْيِ أَوْطَاسٍ ، وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ ، فَكَرِهْنَا أَنْ نَقَعَ عَلَيْهِنَّ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24 قَالَ : فَاسْتَحْلَلْنَا بِهَا فُرُوجَهُنَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ اوطاس کے قیدیوں میں مال غنیمت کے طور پر عورتیں ملی، وہ عورتیں شوہروں والی تھیں، ہمیں یہ چیز اچھی محسوس نہ ہوئی کہ ان کے شوہروں کی زندگی میں ان سے تعلقات قائم کریں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ " شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں، البتہ جو تمہاری باندیاں ہیں ان سے فائدہ اٹھانا حلال ہے " چنانچہ ہم نے انہیں اپنے لئے حلال سمجھ لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11691
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، بين ابي الخليل وبين أبى سعيد أبو علقمة الهاشمي كما فى مسلم : 1456 وفي المسند برقم : 11797،11798
حدیث نمبر: 11692
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبْغَضَنَّ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 88
حدیث نمبر: 11693
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " بَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ ، وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ ، وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ الطَّائِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی تھی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زید الخیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل چار آدمیوں میں تقسیم کردیا، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3344،4667، م: 1064
حدیث نمبر: 11694
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ غَسْلِ الرَّأْسِ ، فَقَالَ : يَكْفِيكَ ثَلَاثُ حَفَنَاتٍ ، أَوْ ثَلَاثُ أَكُفٍّ , ثُمَّ جَمَعَ يَدَيْهِ ، ثُمّ قَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعْرِ , قَالَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے غسل جنابت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا تین مرتبہ جسم پر پانی بہانا، اس نے کہا کہ میرے سر پر بال بہت زیادہ ہیں ؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے بھی زیادہ اور معطر تھے، (لیکن پھر بھی وہ تین مرتبہ ہی جسم پر پانی بہاتے تھے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11695
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْيَمَنِ ، بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ ، وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ ، وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ الطَّائِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ ، قَالَ : فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ , قَالُوا : يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا , قَالَ : " إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ " , قَالَ : فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ ، نَاتِئُ الْجَبِينِ ، كَثُّ اللِّحْيَةِ ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ ، مَحْلُوقٌ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، اتَّقِ اللَّهَ , قَالَ : " فَمَنْ يُطِيعُ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ ، يَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي " , قَالَ : فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَتْلَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، فَمَنَعَهُ ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ : " إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی تھی " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زید الخیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل چار آدمیوں میں تقسیم کردیا، بعض صحابہ رضی اللہ عنہ اور انصار وغیرہ کو اس پر کچھ بوجھ محسوس ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے ؟ میں تو آسمان والے کا امین ہوں، میرے پاس صبح شام آسمانی خبریں آتی ہیں، اتنی دیر میں گہری آنکھوں، سرخ رخساروں، کشادہ پیشانی، گھنی ڈاڑھی، تہبند خوب اوپر کیا ہوا اور سر منڈایا ہوا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کا خوف کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا بدنصیب ! کیا اہل زمین میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے کا حقدار میں ہی نہیں ہوں۔ پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چلا گیا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن مار دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ یہ نماز پڑھتا ہو، انہوں نے عرض کیا کہ بہت سے نمازی ایسے بھی ہیں جو اپنی زبان سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں سوراخ کرتا پھروں یا ان کے پیٹ چاک کرتا پھروں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک نظر دیکھا جو پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا اور فرمایا یاد رکھو ! اسی شخص کی نسل میں ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں نے انہیں پالیا تو قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3344،4667، م: 1064
حدیث نمبر: 11696
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّورِ قَدْ الْتَقَمَ الصُّورَ ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ ، وَأَصْغَى سَمْعَهُ ، يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ناز و نعم کی زندگی کیسے گزار سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور اپنے منہ سے لگا رکھا ہے، اپنی پیشانی جھکا رکھی ہے اور اپنے کانوں کو متوجہ کیا ہوا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم ہوتا ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11696
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي ولاضطرابه فيه
حدیث نمبر: 11697
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا ثَمَرٍ صَدَقَةٌ ، حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسَاقٍ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم یا کھجور میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1405، م: 979
حدیث نمبر: 11698
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا نُؤَدِّي صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ، صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ، فَلَمَّا جَاءَ مُعَاوِيَةُ جَاءَتْ السَّمْرَاءُ ، فَرَأَى أَنَّ مُدًّا يَعْدِلُ مُدَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمیشہ ایک صاع کھجور یا جو، پنیر یا کشمش صدقہ فطر کے طور پر دی جاتی تھی۔ پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں گندم آگئی اور ان کی رائے یہ ہوئی کہ اس کا ایک مد دو کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1505,1508، م: 985
حدیث نمبر: 11699
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ أَنْ يَرَى أَمْرَ اللَّهِ فِيهِ مَقَالًا ، فَلَا يَقُولُ فِيهِ ، فَيُقَالُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكُونَ قُلْتَ فِي كَذَا وَكَذَا ؟ فَيَقُولُ : مَخَافَةُ النَّاسِ , فَيَقُولُ : إِيَّايَ أَحَقُّ أَنْ تَخَافَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سمجھے کہ اس پر اللہ کی رضاء کے لئے کوئی بات کہنے کا حق ہو لیکن وہ اسے کہہ نہ سکے۔ کیوں کہ اللہ اس سے پوچھے گا کہ تجھے یہ بات کہنے سے کس چیز نے روکا تھا ؟ بندہ کہے گا کہ پروردگار ! میں لوگوں سے ڈرتا تھا، اللہ فرمائے گا کہ میں اس بات کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو البختري لم يسمع من أبى سعيد، بينهما رجل مبهم كما فى الرواية رقم : 11868