حدیث نمبر: 11620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَكْثُرُ الصَّوَاعِقُ عِنْدَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ ، حَتَّى يَأْتِيَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ ، فَيَقُولَ : مَنْ صَعِقَ تِلْكُمْ الْغَدَاةَ ؟ فَيَقُولُونَ : صَعِقَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب لوگوں پر بےہوشی کے دورے بڑی بکثرت سے پڑنے لگیں گے، حتیٰ کہ ایک آدمی لوگوں سے آکر پوچھے گا کہ صبح تم سے پہلے کون بےہوش ہوا تھا اور وہ جواب دیں گے کہ فلاں اور فلاں شخص۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن مصعب القرقساني مختلف فيه، وقد توبع
حدیث نمبر: 11621
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , وَالضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ يَقْسِمُ مَالًا ، إِذْ أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، اعْدِلْ ، فَوَاللَّهِ مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي " ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَأْذَنُ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ؟ فَقَالَ : " لَا ، إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يَنْظُرُ صَاحِبُهُ إِلَى فُوقِهِ فَلَا يَرَى شَيْئًا ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ كَالْبَضْعَةِ ، أَوْ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ ، يَخْرُجُونَ عَلَى فِرْقَتَيْنِ مِنَ النَّاسِ ، يَقْتُلُهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِاللَّهِ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنِّي شَهِدْتُ عَلِيًّا حِينَ قَتَلَهُمْ ، فَالْتُمِسَ فِي الْقَتْلَى ، فَوَجَدَ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ تمیمی آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدنصیب ! اگر میں ہی انصاف سے کام نہیں لوں گا تو اور کون لے گا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑو، اس کے کچھ ساتھی ہیں ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ ان میں ایک سیاہ فام آدمی ہوگا جس کے ایک ہاتھ پر عورت کی چھاتی یا چبائے ہوئے لقمے جیسا نشان ہوگا، ان لوگوں کو خروج انقطاع زمانہ کے وقت ہوگا اور انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی " ان میں سے بعض وہ ہیں جو صدقات میں آپ پر عیب لگاتے ہیں " حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے قتال کیا ہے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا اور ایک آدمی اسی حلئے کا پکڑ کر لایا گیا تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6163، م: 1064، محمد بن مصعب القرقساني فيه كلام من جهة حفظه
حدیث نمبر: 11622
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيَّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور کان لگا کر لوگوں کی باتیں سننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 11623
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَكَ وَخَيْبَرَ ، قَالَ : فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ فَدَكَ وَخَيْبَرَ ، فَوَقَعَ النَّاسُ فِي بَقْلَةٍ لَهُمْ ، هَذَا الثُّومُ وَالْبَصَلُ ، قَالَ : فَرَاحُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدَ رِيحَهَا ، فَتَأَذَّى بِهِ ، ثُمَّ عَادَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : " أَلَا لَا تَأْكُلُوهُ ، فَمَنْ أَكَلَ مِنْهَا شَيْئًا ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَجْلِسَنَا " . قَالَ : وَوَقَعَ النَّاسُ يَوْمَ خَيْبَرَ فِي لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، وَنَصَبُوا الْقُدُورَ ، وَنَصَبْتُ قِدْرِي فِيمَنْ نَصَبَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَنْهَاكُمْ عَنْهُ ، أَنْهَاكُمْ عَنْهُ " ، مَرَّتَيْنِ ، فَأُكْفِئَتْ الْقُدُورُ ، فَكَفَأْتُ قِدْرِي فِيمَنْ كَفَأَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ فدک اور خیبر کے غزوے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، اللہ نے اپنے پیغمبر کو دونوں موقعوں پر فتح عطاء فرمائی، تو لوگوں نے یہ لہسن اور پیاز خوب کثرت کے ساتھ کھایا، جب نماز کے وقت وہ مسجد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بو سے اذیت محسوس ہوئی، لوگوں نے جب دوبارہ اسے کھایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مت کھایا کرو، جو شخص اس میں سے کچھ کھائے تو وہ ہماری مجلس کے قریب نہ آئے۔ اسی طرح غزوہ خیبر کے موقع پر لوگوں نے پالتو گدھوں کا گوشت بھی حاصل کیا اور ہنڈیاں چڑھا دیں، ان میں میری ہانڈی بھی شامل تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا کہ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں، اس پر ساری ہانڈیاں الٹا دی گئیں، ان میں میری ہنڈیا بھی شامل تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب، وقد سلف نحوه بإسناد صحيح برقم: 11084، ونهيه صلى الله عليه وسلم عن لحوم الحمر الأهلية سياتي بالأرقام : 11778 و 11936، وسلف برقم : 4720، باسناد صحيح
حدیث نمبر: 11624
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : ثُمَّ هَاجَتْ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ ، فَلَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ، بَرَقَتْ بَرْقَةٌ ، فَرَأَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ ، فَقَالَ : " مَا السُّرَى يَا قَتَادَةُ ؟ " , قَالَ : عَلِمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ شَاهِدَ الصَّلَاةِ قَلِيلٌ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَهَا , قَالَ : " فَإِذَا صَلَّيْتَ فَاثْبُتْ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ " ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَعْطَاهُ الْعُرْجُونَ ، وَقَالَ : " خُذْ هَذَا ، فَسَيُضِيءُ أَمَامَكَ عَشْرًا ، وَخَلْفَكَ عَشْرًا ، فَإِذَا دَخَلْتَ الْبَيْتَ ، وَتَرَاءَيْتَ سَوَادًا فِي زَاوِيَةِ الْبَيْتِ ، فَاضْرِبْهُ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " , قَالَ : فَفَعَلَ ، فَنَحْنُ نُحِبُّ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ لِذَلِكَ , قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَةِ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ ، فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْهَا عِلْمٌ ؟ فَقَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا ، فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ قَدْ أُعْلِمْتُهَا ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، كَمَا أُنْسِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ " , قَالَ : ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس ساعت کا مختصر حال بیان فرمایا۔ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ بخدا ! اگر میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو ان سے اس گھڑی کے متعلق ضرور پوچھوں گا، ہوسکتا ہے انہیں اس کا علم ہو، چنانچہ ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہ چھڑیاں سیدھی کر رہے ہیں، میں نے ان سے پوچھا اے ابوسعید ! یہ کیسی چھڑیاں ہیں جو میں آپ کو سیدھی کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ وہ چھڑیاں ہیں جن میں اللہ نے ہمارے لئے برکت رکھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پسند فرماتے تھے اور انہیں چھپایا کرتے تھے۔ ہم انہیں سیدھا کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ مسجد کی طرف تھوک لگا ہوا دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ان میں سے ہی ایک چھڑی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چھڑی سے اسے صاف کردیا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو سامنے مت تھوکے کیونکہ سامنے اس کا رب ہوتا ہے، بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔ پھر اسی رات خوب زوردار بارش ہوئی، جب نماز عشاء کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ایک دم بجلی چمکی، اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ پر پڑی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا قتادہ ! رات کے اس وقت میں (اس بارش میں) آنے کی کیا ضرورت تھی ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے معلوم تھا کہ آج نماز کے لئے بہت تھوڑے لوگ آئیں گے تو میں نے سوچا کہ میں نماز میں شریک ہوجاؤں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم پڑھ چکو تو رک جانا، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس سے گذرنے لگوں۔ چنانچہ نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کو ایک چھڑی دی اور فرمایا یہ لے لو، یہ تمہارے دس قدم آگے اور دس قدم پیچھے روشنی دے گی، پھر جب تم اپنے گھر میں داخل ہو اور وہاں کسی کونے میں کسی انسان کا سایہ نظر آئے تو اس کے بولنے سے پہلے اسے اس چھڑی سے مار دینا کہ وہ شیطان ہوگا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اس وجہ سے ہم ان چھڑیوں کو پسند کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ اے ابوسعید ! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ساعت جمعہ کے حوالے سے ایک حدیث سنائی تھی، کیا آپ کو اس ساعت کا علم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ساعت کے متعلق دریافت کیا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پہلے تو وہ گھڑی بتائی گئی تھی لیکن پھر شب قدر کی طرح بھلا دی گئی، ابو سلمہ کہتے ہیں کہ پھر میں وہاں سے نکل کر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: بعضه صحيح، وبعضه حسن، وهذا إسناد فيه فليح - وهو ابن سليمان - تكلم فيه الأئمة من قبل حفظه، وانظر : 11025
حدیث نمبر: 11625
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَيَلْبَسُ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ، وَإِنْ كَانَ لَهُ طِيبٌ مَسَّ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا واجب ہے اور یہ کہ وہ اس دن عمدہ کپڑے پہنے اور اگر موجود ہو تو خوشبو بھی لگائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، خ: 880، م: 846، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو بكر بن المنكدر لم يسمع أبا سعيد، بينهما عمرو بن سليم
حدیث نمبر: 11626
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ هِيَ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَتْ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُفْتِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَصْلُحُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا گیا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فتویٰ دیتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11627
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ بِهِ ، فَقَالَ لَهُ : أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : أَرَدْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ ، وَعَنْ أَشْيَاءَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ مُحَدِّثٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا ، فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ أَوْ الْأَنْبِذَةِ ، فَاشْرَبُوا ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گذرے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمن ! کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جارہا ہوں، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ اے ابوسعید ! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کا گوشت کھانے، کچھ مشروبات اور قبرستان جانے کی ممانعت کرتے ہوئے سنا ہے، لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا میں نے اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے تمہیں قربانی کا گوشت (تین دن سے زیادہ) رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا اور ذخیرہ کرسکتے ہو کیونکہ اللہ نے وسعت پیدا کردی ہے، نیز میں نے تمہیں کچھ مشروبات اور نبی ذوں سے منع کیا تھا، اب انہیں پی سکتے ہو، لیکن (یاد رہے کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اگر تم وہاں جاؤ تو کوئی بےہودہ بات نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عمرو بن ثابت وأبيه عمرو
حدیث نمبر: 11628
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كُنَّا نُؤْذِنُهُ لِمَنْ حُضِرَ مِنْ مَوْتَانَا ، فَيَأْتِيهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ ، فَيَحْضُرُهُ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ ، وَيَنْتَظِرُ مَوْتَهُ , قَالَ : فَكَانَ ذَلِكَ رُبَّمَا حَبَسَهُ الْحَبْسَ الطَّوِيلَ ، فَيَشُقَّ عَلَيْهِ , قَالَ : فَقُلْنَا : أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ أَنْ لَا نُؤْذِنَهُ بِالْمَيِّتِ حَتَّى يَمُوتَ , قَالَ : فَكُنَّا إِذَا مَاتَ مِنَّا الْمَيِّتُ آذَنَّاهُ بِهِ ، فَجَاءَ فِي أَهْلِهِ ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ ، وَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ إِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَشْهَدَهُ ، انْتَظَرَ شُهُودَهُ ، وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْصَرِفَ انْصَرَفَ , قَالَ : فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ طَبَقَةً أُخْرَى ، قَالَ : فَقُلْنَا : أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْمِلَ مَوْتَانَا إِلَى بَيْتِهِ ، وَلَا نُشْخِصَهُ وَلَا نُعَنِّيَهُ ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ذَلِكَ ، فَكَانَ الْأَمْرُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم قریب المرگ لوگوں کی اطلاع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لاتے، اس کے لئے استغفار فرماتے اور اس کے مرنے تکوی ہیں بیٹھے رہتے جس میں بعض اوقات بہت زیادہ دیر بھی ہوجاتی تھی، جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت ہوتی، بالآخر ہم نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آسانی اسی میں ہے کہ کسی کے مرنے سے پہلے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع نہ کریں، چنانچہ اس کے بعد ہم نے یہ معمول اپنالیا کہ جب ہم میں سے کوئی شخص فوت ہوجاتا تب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اہل خانہ کے پاس آکر اس کے لئے استغفار کرتے اور اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے، پھر اگر رکنا مناسب سمجھتے تو رک جاتے ورنہ واپس چلے جاتے۔ کچھ عرصے تک ہم اس دوسرے معمول پر عمل کرتے رہے، پھر ہم نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آسانی اس میں ہے کہ ہم جنازے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے پاس لے جائیں اور اس کی تشخیص و تعیین نہ کریں، چنانچہ ہم نے ایسا ہی کرنا شروع کردیا اور اب تک ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 11629
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ صَائِدٍ : " مَا تَرَى ؟ " , قَالَ : أَرَى عَرْشًا عَلَى الْبَحْرِ حَوْلَهُ الْحَيَّاتُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں جس کے ارد گرد سانپ ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، وانظر بنحوه فى مسلم برقم: 2925
حدیث نمبر: 11630
وحَدَّثَنَاه مُؤَمَّلٌ ، فَقَالَ : عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وإسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11631
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَا : حدثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاتَيْنِ ، وَعَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ ، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ : عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْعِيدَيْنِ ، وَعَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ " . قَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ : لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ شَيْءٌ . وَقَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ : عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْأَضْحَى ، وَيَوْمِ الْفِطْرِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت کی نماز، دو دن کے روزے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے، نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عیدین کے دن روزے سے اور ایک کپڑے میں لیٹنے سے یا اس طرح گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے کہ انسان کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11632
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عن لِبْسَتَيْنِ ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ : اللِّمَاسِ ، وَالنِّبَاذِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس اور چھو کر یا کنکری پھینک کر خریدو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2147، م: 1512
حدیث نمبر: 11633
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَلَانِيَةِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَالْجُفُّ ، قَالَ : ذَاكَ أَشَرُّ وَأَشَرُّ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالعلانیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے، میں نے پوچھا کہ کھوکھلی لکڑی کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا وہ تو اس سے بھی زیادہ بدتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، لكنه منسوخ، م: 1996
حدیث نمبر: 11634
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " بَلَغَنِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ ، فَلَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ ؟ " . قَالَ : فَلَمْ يَأْمُرْ ، وَلَمْ يَنْهَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ سوال عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے علاقے میں گوہ کی بڑی کثرت ہوتی ہے، اس سلسلے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک جماعت کو مسخ کردیا گیا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون سا جانور ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1951
حدیث نمبر: 11635
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، سَوَاءٌ بِسَوَاءٍ مِثْلٌ بِمِثْلٍ ، مَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى ، الْآخِذُ وَالْمُعْطِي سَوَاءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر سرابر بیچا خریدا جائے، جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے، وہ سودی معاملہ کرتا ہے اور اس میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11635
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
حدیث نمبر: 11636
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ فِي وَادٍ أَوْ شِعْبٍ ، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر چل رہے ہو تو میں تمہارے راستے کو اختیار کروں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11636
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11637
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ : حدثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ ، وَعَنْ صَلَاتَيْنِ ، وَعَنْ نِكَاحَيْنِ ، سَمِعْتُهُ يَنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَعَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ، وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا ، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نمازوں سے اور دو قسم کے نکاحوں سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے، میں نے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے اور عورت اور اس کی خالہ یا عورت اور اس کی پھوپھی کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق
حدیث نمبر: 11638
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، (بیع مزابنہ سے مراد درختوں پر لگے ہوئے پھل کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2186، م: 1546 وهذا إسناده حسن
حدیث نمبر: 11639
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ قال : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلْقَمَةَ بْنَ مُجَزِّزٍ ، عَلَى بَعْثٍ أَنَا فِيهِمْ ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَأْسِ غَزَاتِنَا ، أَوْ كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ، أَذِنَ لِطَائِفَةٍ مِنَ الْجَيْشِ ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسٍ السَّهْمِيَّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ ، وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ يَعْنِي مُزَاحًا ، وَكُنْتُ مِمَّنْ رَجَعَ مَعَهُ ، فَنَزَلْنَا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ، قَالَ : وَأَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِيَصْنَعُوا عَلَيْهَا صَنِيعًا لَهُمْ ، أَوْ يَصْطَلُونَ , قَالَ : فَقَالَ لَهُمْ : أَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَمَا أَنَا بِآمِرِكُمْ بِشَيْءٍ إِلاَّ صَنَعْتُمُوهُ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : أَعْزِمُ عَلَيْكُمْ بِحَقِّي وَطَاعَتِي لَمَا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ , فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا ، حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ ، قَالَ : احْبِسُوا أَنْفُسَكُمْ ، فَإِنَّمَا كُنْتُ أَضْحَكُ مَعَكُمْ ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَدِمُوا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا تُطِيعُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر جس میں میں بھی شامل تھا، علقمہ بن مجزز رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ فرمایا : جب ہم اپنی منزل پر پہنچے یا راستے ہی میں تھے تو حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی درخواست پر انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی اور حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو جو بدری صحابی تھے اور ان کے مزاج میں حس مزاح بہت تھی، ان کا امیر مقرر کردیا، ان کے ساتھ واپس آنے والوں میں میں بھی تھا۔ راستے میں ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور لوگوں نے کھانا پکانے کے لئے یا سردی دور کرنے کے لئے آگ جلائی، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ لوگوں سے کہنے لگے کہ کیا تم پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا واجب نہیں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے کہا کہ میں تمہیں جو حکم دوں گا وہ کرو گے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، اس پر وہ کہنے لگے کہ میں تمہیں اپنے حق اور اطاعت کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ، لوگ کھڑے ہو کر آگ میں کودنے کے لئے کمر کسنے لگے، جب انہوں نے دیکھا کہ یہ تو واقعی آگ میں چھلانگ لگا دیں گے تو انہوں نے کہا رک جاؤ، میں تو تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا، لوگوں نے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تم کو کسی گناہ کے کام کا حکم دے اس کی اطاعت مت کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11639
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11640
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ غُلَامًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ ذَاتَ يَوْمٍ بِتَمْرٍ رَيَّانَ ، وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فِيهِ يُبْسٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّى لَكَ هَذَا التَّمْرُ ؟ " , فَقَالَ : هَذَا صَاعٌ ، اشْتَرَيْنَاهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَفْعَلْ ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَصْلُحُ ، وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ وَاشْتَرِ مِنْ أَيِّ تَمْرٍ شِئْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریان کھجوریں پیش کی گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں خشک " بعل " کھجوریں آتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے ؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو ، اس کے بعد اپنی ضرورت کی کھجوریں خرید لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11640
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2302،2303، م: 1593
حدیث نمبر: 11641
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " جُلِدَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُمَرَ جُلِدَ بَدَلَ كُلِّ نَعْلٍ سَوْطًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں شراب نوشی کی سزا میں چالیس جوتے مارے جاتے تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جوتے کی جگہ کوڑے مقرر کردیئے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11641
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف زيد العمي، والمسعودي : وهو عبدالرحمن بن عبدالله بن عتبة قد اختلط، وسماع يزيد بن هارون منه بعد الاختلاط
حدیث نمبر: 11642
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَأَبُو النَّضْرِ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ يَزِيدُ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ " ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ : أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أفواهها .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کو الٹ کر اس میں سوراخ کر کے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11642
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5625، م: 2033
حدیث نمبر: 11643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : حدثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ ، فَأَتَانَا بِزُبْدٍ وَكُتْلَةٍ ، فَأُسْقِطَ ذُبَابٌ فِي الطَّعَامِ ، فَجَعَلَ أَبُو سَلَمَةَ يَمْقُلُهُ بِأُصْبُعِهِ فِيهِ ، فَقُلْتُ : يَا خَالُ ، مَا تَصْنَعُ ؟ فَقَالَ : إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَحَدَ جَنَاحَيْ الذُّبَابِ سُمٌّ ، وَالْآخَرَ شِفَاءٌ ، فَإِذَا وَقَعَ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ ، فَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السُّمَّ ، وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن خالد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا، وہ ہمارے لئے مکھن اور کھجوروں کا گچھا لے کر آئے، اچانک کھانے میں ایک مکھی گر پڑی، انہوں نے اپنی انگلی سے اسے ڈبو دیا، میں نے ان سے کہا کہ ماموں ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی ہے کہ مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفاء ہوتی ہے، اس لئے کھانے میں مکھی پڑجائے تو اسے اچھی طرح اس میں ڈبو دو کیونکہ وہ زہر والے پر کو پہلے ڈالتی ہے اور شفاء والے پر کو پیچھے کرلیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11643
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11644
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا : أخبرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، حَتَّى ذَهَبَ هَوِيٌّ مِنَ اللَّيْلِ ، حَتَّى كُفِينَا ، وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ : وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا سورة الأحزاب آية 25 , قَالَ : " فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا ، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ ، وَأَحْسَنَ كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ، ثُمَّ أَقَامَ لِلْعَصْرِ ، فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ ، ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ ، ثُمَّ أَقَامَ الْعِشَاءَ ، فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ " . قَالَ حَجَّاجٌ : فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ : فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا سورة البقرة آية 239 . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن ہم لوگوں کو نماز پڑھنے کا موقع ہی نہیں ملا، یہاں تک کہ مغرب کے بعد بھی کچھ وقت بیت گیا، جب قتال کے معاملے میں ہماری کفایت ہوگئی " یعنی اللہ نے یہ فرما دیا کہ اللہ مسلمانوں کی قتال میں کفایت کرے گا۔ اور اللہ طاقتور اور غالب ہے " تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے ظہر کے لئے اقامت کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جیسے عام وقت میں نماز پڑھاتے تھے، پھر اقامت کہلوا کر نماز عصر بھی اسی طرح پڑھائی جیسے اپنے وقت میں پڑھاتے تھے، اسی طرح مغرب بھی اس کے اپنے وقت کی طرح پڑھائی۔ اس وقت تک نماز خوف کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11644
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11645
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ ، فَقَالَ : " وَمَا هُوَ ؟ " , قُلْنَا : الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ الْمُرْضِعُ ، فَيُصِيبُ مِنْهَا ، وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ ، فَيَعْزِلُ عَنْهَا ، وَتَكُونُ لَهُ الْجَارِيَةُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهَا ، فَيُصِيبُ مِنْهَا ، وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ ، فَيَعْزِلُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
معبد بن سیرین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کیا ہوتا ہے ؟ ہم نے بتایا کہ ایک آدمی کی بیوی بچے کو دودھ پلا رہی ہوتی ہے، اسی زمانے میں وہ اس کے قریب جاتا ہے لیکن وہ اس کے دوبارہ امید سے ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا لہٰذا آبِ حیات کو باہر ہی خارج کردیتا ہے، اسی طرح ایک آدمی کی ایک باندی ہو اور اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال نہ ہو، وہ اس کے قریب جاتا ہے لیکن اس کے امید سے ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا، لہٰذا وہ عزل کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس طرح نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اولاد کا ہونا تقدیر کے ساتھ وابستہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11645
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2542، م: 1438
حدیث نمبر: 11646
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، وَالْمُسْتَمِرِّ , قَالَا : سَمِعْنَا أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَكَرَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، حَشَتْ خَاتَمَهَا مِسْكًا ، وَالْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک عورت نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کے نگینے کے نیچے مشک بھر دی اور مشک سب سے بہترین خوشبو ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11646
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2252
حدیث نمبر: 11647
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، قَالَ أَبِي : وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، وَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَأَصَبْنَا سَبَايَا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ ، فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ ، وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ ، وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ ، وَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہمیں قیدی ملے، ہمیں عورتوں کی خواہش تھی اور تنہائی ہم پر بڑی شاق تھی اور چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، قیامت تک جس روح نے آنا ہے وہ آکر رہے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2542، م: 1438
حدیث نمبر: 11648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَعَثَ عَلِيٌّ وَهُوَ بِالْيَمَنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ ، وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ ، وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ الطَّائِيِّ ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ ، قَالَ : فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ ، فَقَالُوا : يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا ؟ قَالَ : " إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ " , قَالَ : فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ ، نَاتِئُ الْجَبِينِ ، كَثُّ اللِّحْيَةِ ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ ، مَحْلُوقٌ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، اتَّقِ اللَّهَ , قَالَ : " فَمَنْ يُطِعْ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ ؟ أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي ! " , قَالَ : فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَتْلَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، فَمَنَعَهُ ، فَلَمَّا وَلَّى ، قَالَ : " مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ ، كَمَا مُرُوقِ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی ہو " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زید الخیر، قرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل چار آدمیوں میں تقسیم کردیا، بعض قریشی صحابہ اور انصار وغیرہ کو اس پر کچھ بوجھ محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صناد یدِ نجد کو دیئے جاتے ہیں اور ہمیں چھوڑے دیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اتنی دیر میں گہری آنکھوں، سرخ رخساروں، کشادہ پیشانی، گھنی ڈاڑھی، تہبند خوب اوپر کیا ہو اور سر منڈوایا ہوا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کا خوف کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں اللہ کی نافرمانی کرنے لگوں تو اس کی اطاعت کون کرے گا ؟ کیا اللہ مجھے اہل زمین پر امین بنائے اور تم مجھے اس کا امین نہیں بنا سکتے ؟ غالباً حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن مار دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا اور جب وہ چلا گیا تو فرمایا کہ اسی شخص کی نسل میں ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت برستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں نے انہیں پالیا تو قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3344، 4667، م: 1064
حدیث نمبر: 11649
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ حَتَّى يُبَيَّنَ أَجْرُهُ ، وَعَنِ النَّجْشِ ، وَاللَّمْسِ ، وَإِلْقَاءِ الْحَجَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کسی شخص کو مزدوری پر رکھنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی اجرت نہ واضح کردی جائے، نیز بیع میں دھوکہ، ہاتھ لگانے یا پتھر پھینکنے کی شرط پر بیع کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11649
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله : "نهي عن استئجار الأجير حتي بيين اجره"، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، إبراهيم النخعي لم يسمع من أبى سعيد، وحماد عنده تخليط عن إبراهيم
حدیث نمبر: 11650
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ سچے خواب وہ ہوتے ہیں جو سحری کے وقت دیکھے جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف دراج فى روايته عن أبى الهيثم
حدیث نمبر: 11651
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ ، فَاشْهَدُوا عَلَيْهِ بِالْإِيمَانِ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ سورة التوبة آية 18 " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی شخص کو مسجد میں آنے کا عادی دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهذا إسناد سابقه
حدیث نمبر: 11652
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : سَيُعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ مِنْ أَهْلِ الْكَرَمِ " ، فَقِيلَ : وَمَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَجَالِسُ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے عنقریب یہاں جمع ہونے والوں کو معزز لوگوں کا پتہ چل جائے گا، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! معزز لوگوں سے کون لوگ مراد ہیں ؟ فرمایا مسجدوں میں مجلس ذکر والے لوگ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11652
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11650
حدیث نمبر: 11653
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ حَتَّى يَقُولُوا مَجْنُونٌ " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11650
حدیث نمبر: 11654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ , وَسُرَيْجٌ , قَالَا : حدثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَرْوَانَ وَهُوَ يَسْأَلُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ : هَلْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَنَفَّسَ وَهُوَ يَشْرَبُ فِي إِنَائِهِ ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : نَعَمْ , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ ؟ قَالَ : " فَإِذَا تَنَفَّسْتَ فَنَحِّ الْمَاءَ عَنْ وَجْهِكَ " ، قَالَ : فَإِنِّي أَرَى الْقَذَاةَ فَأَنْفُخُهَا ؟ قَالَ : " فَإِذَا رَأَيْتَهَا فَأَهْرِقْهَا ، وَلَا تَنْفُخْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابو المثنیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس تھا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں ؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، فليح بن سليمان- وإن تكلم بعض الأئمة فى حفظه- توبع
حدیث نمبر: 11655
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي أَبَا إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبَ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيَّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ الْعُمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ مَوْلَى آلِ أَبِي سُفْيَان ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْأَمَانَةِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ ، وَتُفْضِي إِلَيْهِ ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت اس شخص کے پاس ہوگی جو اپنی بیوی سے بےحجاب ہو اور وہ اس سے بےحجاب ہو، پھر وہ شخص اپنی بیوی کو پوشیدہ باتیں پھیلاتا پھرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1437
حدیث نمبر: 11656
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو لَيْلَى ، قَالَ أَبِي : سَمَّاهُ سُرَيْجٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَيْسَرَةَ الْخُرَاسَانِيَّ ، عَنْ عَتَّابٍ الْبَكْرِيِّ ، قَالَ : كُنَّا نُجَالِسُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ بِالْمَدِينَةِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ، فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ هَكَذَا : " لَحْمٌ نَاشِزٌ بَيْنَ كَتِفَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
غیاث بکری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مدینہ منورہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مجلس میں شریک ہوتے تھے، میں نے ایک مرتبہ ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت " جو دو کندھوں کے درمیان تھی " کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان گوشت کا اتنا بڑا بھرا ہوا ٹکڑا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن ميسرة الخراساني، ولجهالة عتاب البكري
حدیث نمبر: 11657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : حدثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ ، وَتَعَالَى جَدُّكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کرتے تو سبحانک اللھم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک کہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، جعفر بن سليمان الضبعي تفرد بهذا الحديث، وهو مختلف فيه، وعلي بن على اليشكري مختلف فيه كذلك، وقد انفرد بهذا الحديث
حدیث نمبر: 11658
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ , عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ ، وَالسِّوَاكَ ، وَأَنْ يَمَسَّ مِنَ الطِّيبِ مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا، مسواک کرنا اور اپنی گنجائش کے مطابق خوشبو لگاناخواہ اپنے گھر کی ہو، واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 880، م: 846
حدیث نمبر: 11659
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ صَبَرَ بِالْمَدِينَةِ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا ، كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور پریشانیوں پر صبر کرتا ہے، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارش کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1374، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، وسلمة بن الفضل الأبرش الانصاري مختلف فيه