حدیث نمبر: 11581
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ خُلَفَائِكُمْ خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا ، لَا يَعُدُّهُ عَدًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا، جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2914
حدیث نمبر: 11582
(حديث مرفوع) حدثنا إسماعيل , عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَ : يَدٌ بِيَدٍ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ , قَالَ : لَا بَأْسَ , فَلَقِيتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ , فَقَالَ : أَوَ قَالَ ذَاكَ ؟ أَمَّا إِنَّا سَنَكْتُبُ إِلَيْهِ فَلَنْ يُفْتِيَكُمُوهُ , : فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَ بَعْضُ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ ، فَأَنْكَرَهُ ، فَقَالَ : " كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ تَمْرِ أَرْضِنَا " , فَقَالَ : كَانَ فِي تَمْرِنَا الْعَامَ بَعْضُ الشَّيْءِ ، وَأَخَذْتُ هَذَا ، وَزِدْتُ بَعْضَ الزِّيَادَةِ ، فَقَالَ : " أَضْعَفْتَ ، أَرْبَيْتَ ، لَا تَقْرَبَنَّ هَذَا ، إِذَا رَابَكَ مِنْ تَمْرِكَ شَيْءٌ فَبِعْهُ ، ثُمَّ اشْتَرِ الَّذِي تُرِيدُ مِنَ التَّمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو نضرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کی فروخت کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا جب کہ معاملہ ہاتھوں ہاتھ ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں بتایا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال پوچھا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، انہوں نے فرمایا کیا انہوں نے یہ بات کہی ہے ؟ ہم انہیں خط لکھیں گے کہ وہ یہ فتویٰ نہ دیا کریں، بخدا ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوان کچھ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا، اس لئے اس سے فرمایا کہ یہ ہمارے علاقے کی کھجور نہیں لگتی، اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا، اس کے قریب بھی نہ جانا، جب تمہیں اپنی کوئی کھجور اچھی نہ لگے تو اسے بیچو پھر اپنی مرضی کی خرید لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2303، 2302، م:1594
حدیث نمبر: 11583
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ ، وَقَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِيكَ الْبَقْلَةِ فِي الثُّومِ ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا ، وَنَاسٌ جِيَاعٌ ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ ، فَقَالَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا ، فَلَا يَقْرَبْنَا فِي الْمَسْجِدِ " ، فَقَالَ نَاسٌ : حُرِّمَتْ ، حُرِّمَتْ , فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ ، وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح خیبر کے بعد ہم لوگ اس سبزی (لہسن) پر جھپٹ پڑے اور ہم نے اسے خوب کھایا، کچھ لوگ ویسے ہی خالی پیٹ تھے، جب ہم لوگ مسجد میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بو محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس گندے درخت کا پھل کھائے وہ ہماری مسجدوں میں ہمارے قریب نہ آئے، لوگ یہ سن کر کہنے لگے کہ لہسن حرام ہوگیا، حرام ہوگیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ! جس چیز کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے، مجھے اسے حرام قرار دینے کا اختیار نہیں ہے، البتہ مجھے اس درخت کی بو پسند نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 565
حدیث نمبر: 11584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُصِيبُهُ وصَبٌ وَلَا وَنصَبٌ وَلَا حَزَنٌ وَلَا سَقَمٌ وَلَا أَذًى ، حَتَّى الْهَمُّ يُهِمُّهُ إِلَّا اللَّهُ يُكَفِّرُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ خیالات " جو اسے تنگ کرتے ہیں " پہنچتے ہیں، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11584
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2573
حدیث نمبر: 11585
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَنَا مَعَهُ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي حَدِيثًا يَزْعُمُ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَفَسَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ ، وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سونے چاندی کی خریدو فروخت کے متعلق حدیث سنا رہا تھا، ابھی اس کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس کے گھر میں آگئے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے میرا اور اس آدمی کا ہاتھ پکڑا اور ہم حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کھڑے ہو کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
حدیث نمبر: 11586
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطَّرِيقِ " ، وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ : عَلَى الصُّعُدَاتِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا بُدَّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا , قَالَ : " فَأَدُّوا حَقَّهَا " , قَالُوا : وَمَا حَقُّهَا ؟ قَالَ : " رُدُّوا السَّلَامَ ، وَغُضُّوا الْبَصَرَ ، وَأَرْشِدُوا السَّائِلَ ، وَأْمُرُوا بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے گریز کیا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا، اس طرح ہم ایک دوسرے سے گپ شپ کرلیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ بیٹھنے سے گریز نہیں کرسکتے تو پھر راستے کا حق ادا کیا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! راستے کا حق کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نگاہیں جھکا کر رکھنا، ایذاء رسانی سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى سعيد، وقد سلف برقم: 11309 بإسناد صحيح دون زيادة: وأرشدوا السائل، ولها شاهد من حديث أبى هريرة عند أبى داود: 4816 وغيره
حدیث نمبر: 11587
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قال : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ذَاتَ يَوْمٍ بِنَهَارٍ ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَنَا إِلَى أَنْ غَابَتْ الشَّمْسُ ، فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا مِمَّا يَكُونُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثَنَاهُ ، حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَ ، وَنَسِيَ ذَلِكَ مَنْ نَسِيَ ، وَكَانَ ممَا قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا ، فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ، فَاتَّقُوا الدُّنْيَا ، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ، أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ ، يُنْصَبُ عِنْدَ اسْتِهِ يُجْزَى بِهِ ، وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ " ، ثُمَّ ذَكَرَ الْأَخْلَاقَ ، فَقَالَ : " يَكُونُ الرَّجُلُ سَرِيعَ الْغَضَبِ ، قَرِيبَ الْفَيْئَةِ ، فَهَذِهِ بِهَذِهِ ، وَيَكُونُ بَطِيءَ الْغَضَبِ ، بَطِيءَ الْفَيْئَةِ ، فَهَذِهِ بِهَذِهِ ، فَخَيْرُهُمْ بَطِيءُ الْغَضَبِ سَرِيعُ الْفَيْئَةِ ، وَشَرُّهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ بَطِيءُ الْفَيْئَةِ ، قَالَ : وَإِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ فِي قَلْبِ ابْنِ آدَمَ تَتَوَقَّدُ ، أَلَمْ تَرَوْا إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ ، وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَجْلِسْ " أَوْ قَالَ : فَلْيَلْصَقْ بِالْأَرْضِ ، قَالَ : ثُمَّ ذَكَرَ الْمُطَالَبَةَ ، فَقَالَ : " يَكُونُ الرَّجُلُ حَسَنَ الطَّلَبِ ، سَيِّئَ الْقَضَاءِ ، فَهَذِهِ بِهَذِهِ ، وَيَكُونُ حَسَنَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ ، فَهَذِهِ بِهَذِهِ ، فَخَيْرُهُمْ الْحَسَنُ الطَّلَبِ الْحَسَنُ الْقَضَاءِ ، وَشَرُّهُمْ السَّيِّئُ الطَّلَبِ السَّيِّئُ الْقَضَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ النَّاسَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ ، فَيُولَدُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا ، وَيَعِيشُ مُؤْمِنًا ، وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا ، وَيُولَدُ الرَّجُلُ كَافِرًا ، وَيَعِيشُ كَافِرًا ، وَيَمُوتُ كَافِرًا ، وَيُولَدُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا ، وَيَعِيشُ مُؤْمِنًا ، وَيَمُوتُ كَافِرًا ، وَيُولَدُ الرَّجُلُ كَافِرًا ، وَيَعِيشُ كَافِرًا ، وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا ، ثُمَّ قَالَ فِي حَدِيثِهِ : وَمَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنْ كَلِمَةِ عَدْلٍ تُقَالُ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ ، فَلَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ اتِّقَاءُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ " ، ثُمَّ بَكَى أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ : قَدْ وَاللَّهِ مَنَعَنَا ذَلِكَ , قَالَ : " وَإِنَّكُمْ تُتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ " ، ثُمَّ دَنَتْ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ ، فَقَالَ : " وَإِنَّ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی اور اس کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل قیامت تک پیش آنے والے حالات بیان کرتے ہوئے خطبہ ارشاد فرمایا : جس نے اسے یاد رکھ لیا سو رکھ لیا اور جو بھول گیا سو بھول گیا، اس خطبے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمدو ثناء کرنے کے بعد منجملہ دیگر باتوں کے یہ بھی فرمایا لوگو ! دنیا سرسبز و شاداب اور شیریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سر انجام دیتے ہو ؟ دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو، یاد رکھو ! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا، یاد رکھو سب سے زیادہ بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہوگا، بہترین آدمی وہ ہے جسے دیر سے غصہ آئے اور جلدی راضی ہوجائے اور بدترین آدمی وہ ہے جسے جلدی غصہ آئے اور دیر سے راضی ہو اور جب آدمی کو غصہ دیر سے آئے اور دیر سے ہی جائے، یا جلدی آئے اور جلدی ہی چلا جائے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ پھر اخلاق کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ غصہ ایک چنگاری ہے، جو ابن آدم کے پیٹ میں سلگتی ہے، تم غصے کے وقت اس کی آنکھوں کا سرخ ہونا اور اس کی رگوں کا پھول جاناہی دیکھ لو، جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے وہ زمین پر لیٹ جائے۔ یاد رکھو ! بہترین تاجر وہ ہے جو عمدہ انداز میں قرض ادا کرے اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے اور بدترین تاجر وہ ہے جو بھونڈے انداز میں ادا کرے اور اس انداز میں مطالبہ کرے اور اگر کوئی آدمی عمدہ انداز میں ادا اور بھونڈے انداز میں مطالبہ کرے یا بھونڈے انداز میں ادا اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ پھر فرمایا کہ بنی آدم کی پیدائش مختلف درجات میں ہوئی ہے، چنانچہ بعض تو ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں، مومن ہو کر زندہ رہتے ہیں اور مومن ہو کر ہی مرجاتے ہیں، بعض کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور کافر ہی ہو کر مرجاتے ہیں، بعض ایسے ہیں جو مومن پیدا ہوتے ہیں مومن ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور کافر ہو کر مرجاتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں کافر ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور مومن ہو کر مرجاتے ہیں۔ یاد رکھو ! سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے، یاد رکھو ! کسی شخص کو لوگوں کا رعب و دبدبہ کلمہ حق کہنے سے روکے جب کہ وہ اسے اچھی طرح معلوم بھی ہو۔ پھر جب غروب شمس کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو ! دنیا کی جتنی عمر گذر گئی ہے، بقیہ عمر کی اس کے ساتھ وہی نسبت ہے جو آج اسے گذرے ہوئے دن کے ساتھ اس وقت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 11588
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ مُجَالِدًا يَقُولُ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَرَوْنَ أَهْلَ عِلِّيِّينَ ، كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا " , فَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ جَالِسٌ مَعَ مُجَالِدٍ عَلَى الطِّنْفِسَةِ : وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں نازونعم میں ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11588
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذان إسنادان ضعيفان لضعف مجالد بن سعيد فى الأول منهما، و ضعف عطية العوفي فى الإسناد الثاني
حدیث نمبر: 11589
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : لَمَّا " أَمَرَنَا النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرْجُمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ ، خَرَجْنَا بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَوَاللَّهِ مَا حَفَرْنَا لَهُ ، وَلَا أَوْثَقْنَاهُ ، وَلَكِنَّهُ قَامَ لَنَا ، فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْخَزَفِ ، فَاشْتَكَى ، فَخَرَجَ يَشْتَدُّ ، حَتَّى انْتَصَبَ لَنَا فِي عُرْضِ الْحَرَّةِ ، فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْجَنْدَلِ حَتَّى سَكَتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو رجم کرنے کا حکم دیا تو ہم انہیں لے کر بقیع کر طرف نکل گئے، واللہ ہم نے ان کے لئے کوئی گڑھا کھودا اور نہ ہی انہیں باندھا، وہ خود ہی کھڑے رہے، ہم نے انہیں ہڈیاں اور ٹھیکریاں ماریں، انہیں تکلیف ہوئی تو وہ بھاگے اور عرض حرہ میں جا کر کھڑے ہوگئے، ہم نے انہیں چٹانوں کے بڑے پتھر مارے یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1694
حدیث نمبر: 11590
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَطْيَبُ الطِّيبِ الْمِسْكُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشک سب سے عمدہ خوشبو ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11590
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:2252
حدیث نمبر: 11591
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيِّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ تَقُولُ : إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ ! وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي لَمَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَإِنِّي أَيُّهَا النَّاسُ فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچا سکے گی، اللہ کی قسم میری قرابت داری دنیا اور آخرت دونوں میں بڑی رہے گی اور لوگو ! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11591
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حمزة بن أبى سعيد الخدري، ولاضطراب فى الإسناد
حدیث نمبر: 11592
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11592
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11593
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْر ، قَالَ أَبِي : كَذَا قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ فَوْقَ يَوْمَيْنِ ، إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا ، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا " . وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ ، وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فِي مَوَاضِعَ أُخَرَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عروہ دو دن سے زیادہ کا سفر اپنے شوہر یا محرم کے بغیر نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11593
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1197، وهذا الإسناد أخطأ فيه يحيى بن آدم بقوله: عبدالملك بن ميسرة، والصواب عبدالملك بن عمير كما فى الرواية السالفة برقم: 11683
حدیث نمبر: 11593M
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَدَّدَ آيَةً حَتَّى أَصْبَحَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات ایک ہی آیت کو بار بار دہراتے رہے حتیٰ کہ صبح ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11593M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد فيه إسماعيل بن مسلم الناجي لم نظفر له بترجمة
حدیث نمبر: 11594
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11594
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي
حدیث نمبر: 11595
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سَلَّامٍ الْحُبْشِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : جَاءَ بِلَالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ ، فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا ؟ " , فَقَالَ : كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ رَدِيءٌ ، فَبِعْتُهُ بِهَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّهْ , عَيْنُ الرِّبَا ، عَيْنُ الرِّبَا ، فَلَا تَقْرَبَنَّهُ ، وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ بِمَا شِئْتَ ، ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ مَا بَدَا لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی دو صاع رومی کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوہ ! یہ تو عین سود ہے، اس کے قریب بھی مت جاؤ البتہ پہلے اپنی کھجوروں کو بیج لو، پھر اس قیمت کے ذریعے جو مرضی خریدو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2312، م: 1594، هشام بن سعيد متابع
حدیث نمبر: 11596
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , قَالَا : أَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، وَقَيْسُ بْنُ وَهْبٍ , عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي سَبْيِ أَوْطَاسٍ : " لَا تُوطَأُ حَامِلٌ " ، قَالَ أَسْوَدُ : " حَتَّى تَضَعَ ، وَلَا غَيْرُ حَامِلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً " , قَالَ يَحْيَى : " أَوْ تُسْتَبْرِأَ بِحَيْضَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا تھا کوئی شخص کسی حاملہ باندی سے مباشرت نہ کرے، تاآنکہ وضع حمل ہوجائے اور اگر وہ غیر حاملہ ہو تو ایام کا ایک دور گذرنے تک اس سے مباشرت نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 11597
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وِصَالَ " يَعْنِي فِي الصَّوْمِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 11598
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، وَمُعَاوِيَةُ , قَالَا : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ ، وَعَنِ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ " ، فَقُلْتُ لِسُلَيْمَانَ : أَنْ يُنْبَذَا جَمِيعًا ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور، یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:1987
حدیث نمبر: 11599
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، قَالَ : حدثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي يَعْنِي الضِّبَابَ ، فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَلَمْ يُجَاوِزْ إِلَّا قَرِيبًا ، فَعَاوَدَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَعَاوَدَهُ ثَلَاثًا ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَمُسِخُوا دَوَابَّ ، فَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ بَعْضُهَا ، فَلَسْتُ بِآكِلِهَا وَلَا أَنْهَى عَنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ سوال عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں کھانے کے لئے اکثر گوہ ہوتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، تھوڑی دیر بعد اس نے پھر یہی سوال کیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اب بھی اسے جواب نہ دیا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک جماعت پر اللہ کی لعنت یا غضب نازل ہوا اور ان کی شکلوں کو مسخ کردیا گیا تھا، کہیں یہ وہی نہ ہو اس لئے میں اسے کھانے کا حکم دیتا ہوں نہ ہی منع کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1951، وفيه بيان أنه صلى الله عليه وسلم قال ذلك قبل أن يعلم بأن الممسوخ لا يبقى هو و ذريته بعد ثلاثة أيام
حدیث نمبر: 11600
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ الْأَحْوَلُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ ، يُقَالُ لَهُ فُلَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَوْ مُعَاوِيَةُ بْنُ فُلَانٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " الْمَيِّتُ يَعْرِفُ مَنْ يُغَسِّلُهُ ، وَيَحْمِلُهُ ، وَيُدَلِّيهِ " , قَالَ : فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِ أَبِي سَعِيدٍ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَمَرَّ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ ؟ قَالَ : مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میت اپنے اٹھانے والوں، غسل دینے والوں اور قبر میں اتارنے والوں تک کو جانتی ہے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس سے اٹھ کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں یہ بات بتائی، اتفاقاً حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی وہاں سے گذرے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لابهام راويه عن أبى سعيد
حدیث نمبر: 11601
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَنْظُرْ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ ، وَلَا تَنْظُرْ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی آدمی دوسرے آدمی کی شرمگاہ کو نہ دیکھے اور کوئی عورت دوسری عورت کی شرمگاہ کو نہ دیکھے، کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ جسم کے ساتھ نہ لیٹے اور کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ جسم کے ساتھ نہ لیٹے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 338
حدیث نمبر: 11602
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بن حبان ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ الشَّامِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صِرْمَةَ الْمَازِنِيَّ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولَانِ : أَصَبْنَا سَبَايَا فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، وَهِيَ الْغَزْوَةُ الَّتِي أَصَابَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُوَيْرِيَةَ ، وَكَانَ مِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَتَّخِذَ أَهْلًا ، وَمِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَمْتِعَ وَيَبِيعَ ، فَتَرَاجَعْنَا فِي الْعَزْلِ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْزِلُوا ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدَّرَ مَا هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر قیدی ملے، یہ وہی غزوہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ ملی تھیں، ہم میں سے بعض لوگوں کا ارادہ یہ تھا کہ ان باندیوں کو اپنے گھروں میں رکھیں اور بعض کا ارادہ یہ تھا کہ ان سے فائدہ اٹھا کر انہیں بیچ دیں، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم عزل نہ کرو تو کوئی حرج نہیں ہے، اللہ نے جو فیصلہ فرمالیا ہے وہ ہو کر رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11602
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، وهذا الإسناد زاد فيه الضحاك بن عثمان أبا صرمة، وذكره فيه ليس محفوظا
حدیث نمبر: 11603
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ النَّارِ ، فَيُحْتَبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى لِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب مسلمان جہنم سے نجات پاجائیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان سے ایک دوسرے کے مظالم اور معاملاتِ دنیوی کا قصاص لیا جائے گا۔ اور جب وہ پاک صاف ہوجائیں گے تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے دنیاوی گھر سے زیادہ جنت کے گھر کا راستہ جانتا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11603
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2440
حدیث نمبر: 11604
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَيَّارٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُزَنِيُّ وَكَانَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ شُجَاعًا عِنْدَ اللِّقَاءِ ، بَكَّاءً عِنْدَ الذِّكْرِ , عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، إِنَّ بَعْضَنَا لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ ، وَقَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا ، فَنَحْنُ نَسْمَعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ ، إِذْ وَقَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَعَدَ فِينَا لِيَعُدَّ نَفْسَهُ مَعَهُمْ ، فَكَفَّ الْقَارِئُ ، فَقَالَ : " مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ ؟ " , فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا كِتَابَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، وَحَلَّقَ بِهَا ، يُومِئُ إِلَيْهِمْ أَنْ تَحَلَّقُوا ، فَاسْتَدَارَتْ الْحَلْقَةُ ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي ، قَالَ : فَقَالَ : " أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ الصَّعَالِيكِ ، تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ ، وَذَلِكَ خَمْسُ مِئَةِ عَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کے حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، ہم لوگ ایک دوسرے سے اپنی شرمگاہیں چھپا رہے تھے اور ایک قاری صاحب ہمارے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے اور ہم اسے سن رہے تے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور ہمارے درمیان آکر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ان کے ساتھ شمار کرسکیں، قاری صاحب ایک دم رک گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا کہہ رہے تھے ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے قاری صاحب ہمیں قرآن کریم کی تلاوت سنا رہے تھے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے حلقہ بنانے کا اشارہ کیا، وہ لوگ حلقے کی شکل میں گھوم گئے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے میرے علاوہ کسی کو نہیں پہچانا اور فرمایا اے غریبوں کے گروہ ! خوش ہوجاؤ کہ تم لوگ مالداروں سے پانچ سو سال " جو قیامت کا نصف دن ہوگا " پہلے جنت میں داخل ہوگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وإسناده ضعيف لجهالة العلاء بن بشير المزني، وسيار بن خاتم ضعيف وهو متابع
حدیث نمبر: 11605
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي لَيَشْفَعُ لِلْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ مِنَ النَّاسِ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلرَّجُلِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ایک آدمی لوگوں کی جماعتوں میں سفارش کرے گا اور وہ اس کی برکت سے جنت میں داخل ہوں گے، کوئی پورے قبیلے کی سفارش کرے گا کوئی دس آدمیوں کی، کوئی تین آدمی کی، کوئی دو آدمیوں کی اور کوئی ایک آدمی کی سفارش کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11605
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11606
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا فُلَيْحٌ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَ : حدثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَرَّ بِي ابْنُ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : مِنْ أَيْنَ أَصْبَحْتَ غَادِيًا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ ، وَادِّخَارِهِ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا ، فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ وَالْأَنْبِذَةِ ، فَاشْرَبُوا ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا سکتے ہو اور جب تک چاہو ذخیرہ بھی کرسکتے ہو۔ کیونکہ اللہ نے وسعت پیدا کردی ہے نیز میں نے تمہیں کچھ مشروبات اور نبی ذوں سے منع کیا تھا، اب انہیں پی سکتے ہو لیکن (یاد رہے کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اگر تم وہاں جاؤ تو کوئی بےہودہ بات نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح غير قوله: فقد جاء الله بالسعة ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عمرو بن ثابت العتواري الليثي وابيه عمرو
حدیث نمبر: 11607
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَبَهْزٌ , قَالَا : حدثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ بَهْزٌ : السَّمَّانُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ قَالَ بَهْزٌ : إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے گذرنے نہ دے اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11607
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 509، م: 505
حدیث نمبر: 11608
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي ، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا ، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ ، وَلَا نَصِيفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہا کرو، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان میں سے کسی کے مد بلکہ اس کے نصف تک کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11608
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3673، م: 2540
حدیث نمبر: 11609
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنِي شَهْرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، وَذُكِرَتْ عِنْدَهُ صَلَاةٌ فِي الطُّورِ ، فقَالَ : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَنْبَغِي لِلْمَطِيِّ أَنْ تُشَدَّ رِحَالُهُ إِلَى مَسْجِدٍ يُبْتَغَى فِيهِ الصَّلَاةُ ، غَيْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى ، وَمَسْجِدِي هَذَا . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَلَا يَنْبَغِي لِامْرَأَةٍ دَخَلَتْ الْإِسْلَامَ ، أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا مُسَافِرَةً إِلَّا مَعَ بَعْلٍ ، أَوْ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا . وَلَا يَنْبَغِي الصَّلَاةُ فِي سَاعَتَيْنِ مِنَ النَّهَارِ : مِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْفَجْرِ إِلَى أَنْ تَدْخُلَ الشَّمْسُ ، وَلَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَلَا يَنْبَغِي الصَّوْمُ فِي يَوْمَيْنِ مِنَ الدَّهْرِ : يَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ ، وَيَوْمِ النَّحْرِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجدِ حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11609
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 11610
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يعنى ابْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَرْفَيْ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عن عبد الله بن عمر قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَيْنَ قَبْرِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ " . قَالَ عَبْدُ اللهِ : قَالَ أَبِي : إِسْحَاقُ بْنُ شَرْفَيْ . حَدَّثَنَا عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَقَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ : إِسْحَاقُ بْنُ شَرْفَيْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری قبر گھر اور منبر کا درمیانی حصہ جنت کا ایک باغ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11610
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو بكر بن عبدالرحمن بن عبدالله بن عمر، هو أبو بكر بن عمر بن عبدالرحمن بن عبدالله بن عمر، روايته عن جد أبيه منقطعة
حدیث نمبر: 11611
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ ، يَخْرُجُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ ، يَلِي قَتْلَهَا أَوْلَاهُمَا بِالْحَقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11611
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4351، م: 1064
حدیث نمبر: 11612
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 11613
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَسْوَدُ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ ، وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا ، فَيُصَلِّيَ مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی اس وقت آیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی آدمی جو اس پر صدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11613
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11614
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَخْرُجُ أُنَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ " قِيلَ : مَا سِيمَاهُمْ ؟ قَالَ : " سِيمَاهُمْ التَّحْلِيقُ وَالتَّسْبِيتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرق کی جانب سے ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر سے شکار نکل جاتا ہے اور وہ اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے یہاں تک کہ تیر اپنی کمان میں واپس آجائے، کسی نے ان کی نشانی پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی نشانی ٹنڈ کرانا اور لیس دار چیزوں سے بالوں کو جمانا ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11614
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7562، م:1064
حدیث نمبر: 11615
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ , وَسَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11615
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11616
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1738
حدیث نمبر: 11617
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ ، وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خروجِ یاجوج ماجوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ جاری رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1593
حدیث نمبر: 11618
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ , وَفَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَائِهِمْ ، إِلَّا مَا كَانَ لِمَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي
حدیث نمبر: 11619
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حدثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي إِبِلًا ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْهِجْرَةَ ، فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " هَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " وَتُؤَدِّي زَكَاتَهَا ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " وَتَحْلِبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , فَقَالَ : " انْطَلِقْ وَاعْمَلْ وَرَاءَ الْبِحَارِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ، وَإِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہجرت کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی ! ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے، یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو ؟ عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کو ہدیہ کے طور پر بھی دے دیتے ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا تم ان کا دودھ اس دن دوہتے ہو جب انہیں پانی کے گھاٹ پر لے جاتے ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا پھر سات سمندر پار کر بھی عمل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1452، م: 1865، محمد بن مصعب القرساني مختلف فيه