حدیث نمبر: 11541
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمُثَنَّى يَقُولُ : سَمِعْتُ مَرْوَانَ يَسْأَلُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ : أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَنْهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ , قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : فَإِنِّي لَا أُرْوَى يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ ؟ قَالَ : " فَأَبِنْ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ ، ثُمَّ تَنَفَّسْ " ، قَالَ : إِنِّي أَرَى الْقَذَى فِيهِ ؟ قَالَ : " فَأَهْرِقْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالمثنیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو۔ اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک ماروں ؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11542
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات کے گرنے کی جگہ پر چلا جائے اور فتنوں سے اپنے دین کو بچا لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:3600
حدیث نمبر: 11543
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَعَنْ ابْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، كِلَاهُمَا يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي كُنْتُ حَرَّمْتُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَكُلُوا وَتَزَوَّدُوا ، وَادَّخِرُوا مَا شِئْتُمْ " . وَقَالَ الْآخَرُ : كُلُوا وَأَطْعِمُوا ، وَادَّخِرُوا مَا شِئْتُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا سکتے ہو اور جب تک چاہو ذخیرہ بھی کرسکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح متصل، م: 1973
حدیث نمبر: 11544
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَرَوْحٌ , قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ ، أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ أَخْبَرَهُ ، وَحَسَنًا أَخْبَرَهُمَا ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاكَ ، مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنَ الْأَشْرِبَةِ ؟ فَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ " , فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، جَعَلنَا اللَّهُ فِدَاكَ ، أَوَتَدْرِي مَا النَّقِيرُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ ، وَلَا فِي الدُّبَّاءِ ، وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ ، وَعَلَيْكُمْ بِالْمُوكَى " , قَالَ رَوْحٌ : بِالْمُوكَى مَرَّتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو عبدالقیس کے وفد میں کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی ! ہم آپ پر قربان ہوں، مشروبات کے حوالے سے ہمارے لئے کیا مناسب ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " نقیر " میں کوئی چیز نہ پیا کرو، انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ! ہم آپ پر قربان ہوں، کیا آپ " نقیر " کے بارے جانتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! وہ لکڑی جو درمیان سے کھوکھلی کرلی جائے، اسی طرح کدو اور مٹکے میں بھی نہ پیا کرو بلکہ سر بند مشکیزے میں پیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 18
حدیث نمبر: 11545
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ ، فَقَالَ : أَوَ إِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ , قَالَ : " فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَقْضِ لِنَفْسٍ أَنْ يَخْلُقَهَا إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل (مادیہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایسا کرتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے جس نفس کو وجود عطاء فرمانے کا فیصلہ کرلیا ہو وہ وجود میں آکر رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، وهذا الإسناد خالف فيه معمر يونس وعقيل وشعيب بن أبى حمزة و من تابعهم، فذكر عطاء بن يزيد، بدل: ابن محيريز
حدیث نمبر: 11546
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو النَّدَبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُوَاصِلُوا " ، قَالُوا : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو جو شخص ایسا کرنا ہی چاہتا ہو تو وہ سحری تک ایسا کرلے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى عمرو الندبي
حدیث نمبر: 11547
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : اجْتَمَعَ أُنَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : آثَرَ عَلَيْنَا غَيْرَنَا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ ، ثُمَّ خَطَبَهُمْ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّةً فَأَعَزَّكُمْ اللَّهُ ؟ " , قَالُوا : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ , قَالَ : " أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ ؟ " , قَالُوا : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ , قَالَ : " أَلَمْ تَكُونُوا فُقَرَاءَ فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ ؟ " , قَالُوا : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تُجِيبُونَنِي ، أَلَا تَقُولُونَ : أَتَيْتَنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ ، وَأَتَيْتَنَا خَائِفًا فَأمَنَّاكَ ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْبُقْرَانِ يَعْنِي الْبَقَرَ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ فَتُدْخِلُونَهُ بُيُوتَكُمْ ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شُعْبَةً ، وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا أَوْ شُعْبَةً ، لَسَلَكْتُ وَادِيَكُمْ أَوْ شُعْبَتَكُمْ ، لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ انصاری لوگ جمع ہو کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر دوسروں کو ترجیح دینے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انصار کو جمع کیا اور ان کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے گروہ انصار ! کیا تم ذلت کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں عزت عطاء فرمائی ؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا : پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم گمراہی میں نہ پڑے ہوئے تھے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت سے سرفراز فرمایا ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا : پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم تنگدستی کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں غناء سے سرفراز فرمایا ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا : پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میری بات کیوں نہیں مانتے ؟ کیا تم میرے متعلق یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس اس حال میں تھے کہ آپ کو آپ کے اپنوں نے چھوڑ دیا تھا، ہم نے آپ کو پناہ دی، آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے، ہم نے آپ کو امن دیا ؟ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ گائے اور بکریاں لے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو لے جاؤ اور اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ ؟ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر چل رہے ہو تو میں تمہارے راستے کو اختیار کروں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا اور تم لوگ میرے بعد بھی ترجیحات دیکھو گے، اس موقع پر صبر کرنا تاآنکہ تم مجھ سے حوض کوثر پر آملو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11548
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، فِي قَوْلِهِ : وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ سورة الأعراف آية 43 ، قَالَ : حدثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ ، فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب مسلمان جہنم سے نجات پاجائیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان سے ایک دوسرے کے مظالم اور معاملاتِ دنیوی کا قصاص لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2440
حدیث نمبر: 11549
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ ؟ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ ، أَوْ عَلَى قَدَمَيْهِ ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا ، يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ ، لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال کھجور کے ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں بہترین اور بدترین انسان کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ بہترین آدمی تو وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے، اونٹ یا اپنے پاؤں پر موت تک جہاد کرتا رہے اور بدترین آدمی وہ فاجر شخص ہے جو گناہوں پر جری ہو، قرآن کریم پڑھتا ہو لیکن اس سے کچھ اثر قبول نہ کرتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الخطاب المصري
حدیث نمبر: 11550
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَاهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً فَحَتَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، لِيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کردیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 411، 410، م: 548
حدیث نمبر: 11551
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا ، فَكَثُرَ دَيْنُهُ , قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے پھل خریدے لیکن اس میں اسے نقصان ہوگیا اور اس پر بہت زیادہ قرض چڑھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس پر صدقہ کرنے کی ترغیب دی لوگوں نے اسے صدقات دے دیئے، لیکن وہ اتنے نہ ہوسکے جن سے اس کے قرضے ادا ہوسکتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ جو مل رہا ہے وہ لے لو، اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1556
حدیث نمبر: 11552
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وُضِعَتْ الْجِنَازَةُ ، فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً ، قَالَتْ : قَدِّمُونِي ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ : يَا وَيْلَهَا ، أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا ؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصُعِقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتی ہے کہ مجھے جلدی لے چلو اور اگر نیک نہ ہو تو کہتی ہے کہ ہائے افسوس ! مجھے کہاں لے جاتے ہو ؟ اس کی یہ آواز انسانوں کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے اور اگر انسان بھی اس آواز کو سن لے تو بےہوش ہو جائے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1314
حدیث نمبر: 11553
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : لَصَعِقَ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده كسابقه، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11554
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، وحدثَنَاه الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ ، فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنَ الْمَدِينَةِ ، وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ ، لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا فَيَمُوتُ ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِذَا كَانَ مُسْلِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسعید رحمہ اللہ " جو مہری کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ (میرے بھائی کا انتقال ہوا تو میں) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مدینہ منورہ سے ترک وطن کے بارے ان سے مشورہ کیا، اہل و عیال کی کثرت اور سفر کی مشکلات کا ذکر کیا اور یہ کہ اب مدینہ منورہ کی مشقت پر صبر نہیں ہو رہا، انہوں نے فرمایا تمہاری سوچ پر افسوس ہے، میں تو تمہیں یہاں سے جانے کا مشورہ نہیں دوں گا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور پریشانیوں پر صبر کرتا ہے میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارش کروں گا جب کہ وہ مسلمان بھی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1374
حدیث نمبر: 11555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَنْبَأَنِي أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ صَاحِبَ التَّمْرِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ ، فَأَنْكَرَهَا ، فَقَالَ : " أَنَّى لَكَ هَذَا ؟ " , قَالَ : اشْتَرَيْنَا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا صَاعًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَيْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کھجور والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے ؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2303، 2302،م: 1594
حدیث نمبر: 11556
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثُوا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ , عَيْنًا بِعَيْنٍ ، مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى " . قَالَ شُرَحْبِيلُ : إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ ، فَأَدْخَلَنِي اللَّهُ النَّارَ .
مولانا ظفر اقبال
شرجیل کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے بعینہ برابر برابر بیچا جائے، جو شخص اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے اس نے سودی معاملہ کیا، شرجیل کہتے ہیں کہ اگر میں نے یہ حدیث اپنے کانوں سے نہ سنی ہوتی تو اللہ مجھے جہنم میں داخل فرمائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2177، م: 1584، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل المدني، لكن يعتبر بحديثه
حدیث نمبر: 11557
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ ، فَرَقَاهُ ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ ، مِنْ كُلِّ عَيْنٍ وَحَاسِدٍ يَشْفِيكَ " ، أَوْ قَالَ : اللَّهُ يَشْفِيكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ بیمار ہوگئے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے اور ہر نفس کے شر سے اور نظر بد سے، اللہ آپ کو شفا عطاء فرمائے، میں اللہ کا نام لے کر آپ پر دم کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2186، محمد بن عبدالرحمن الطفاوي فيه كلام، وهو حسن الحديث، وهو متابع
حدیث نمبر: 11558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَجِيءُ النَّبِيُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَعَهُ الرَّجُلُ ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ ، وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ ، فَيُدْعَى قَوْمُهُ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : هَلْ بَلَّغَكُمْ هَذَا ؟ فَيَقُولُونَ : لَا , فَيُقَالُ لَهُ : هَلْ بَلَّغْتَ قَوْمَكَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ , فَيُقَالُ لَهُ : مَنْ يَشْهَدُ لَكَ ؟ فَيَقُولُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ , فَيُدْعَى مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : هَلْ بَلَّغَ هَذَا قَوْمَهُ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ , فَيُقَالُ : وَمَا عِلْمُكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : جَاءَنَا نَبِيُّنَا ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا سورة البقرة آية 143 ، قَالَ : يَقُولُ : عَدْلًا ، لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا سورة البقرة آية 143 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ایک نبی آئیں گے، ان کے ساتھ صرف ایک آدمی ہوگا، ایک نبی کے ساتھ صرف دو آدمی ہوں گے، ان سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے پیغامِ توحید پہنچا دیا تھا ؟ وہ جواب دیں گے جی ہاں ! پھر ان کی قوم کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ جواب دیں گے نہیں، پیغمبر سے کہا جائے گا کہ آپ کے حق میں کون گواہی دے گا ؟ وہ جواب دیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت، چنانچہ ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے اپنی قوم کو پیغامِ توحید پہنچایا تھا ؟ وہ جواب دیں گے جی ہاں ! ان سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں کیسے پتہ چلا ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے پاس ہمارے نبی آئے تھے اور انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ تمام پیغمبروں نے پیغامِ توحید پہنچا دیا تھا، یہی مطلب ہے اس آیت کا " کذالک جعلناکم امۃ وسطاً " کہ اس میں وسط سے مراد معتدل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3339
حدیث نمبر: 11559
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي أَرْطَاةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ ، وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، م: 1987، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى أرطاة
حدیث نمبر: 11560
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنِ سُمَيٍّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص راہ اللہ میں ایک دن کا روزہ رکھے، اللہ اس دن کی برکت سے اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت پر دور کر دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11560
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2840، م: 1153، وهذا إسناد معلول
حدیث نمبر: 11561
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ ، لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي ، الثَّقَلَيْنِ ، وَأَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ ، كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي ، أَلَا وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جن میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے، ایک تو کتاب اللہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی ہے اور دوسرے میرا اہل بیت ہیں، یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11561
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، دون قوله: وإنهما لن يفترقا حتى يردا على الحوض ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11562
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑے میں اس کے دونوں پلو کندھوں پر ڈال کر بھی نماز پڑھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11562
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 519
حدیث نمبر: 11563
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 519
حدیث نمبر: 11564
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ زَكَاةٌ ، وَالْوَسْقُ سِتُّونَ مَخْتُومًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11564
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: والواسق ستون مختوما، خ:1405 ،م:979 ،وقال ابن خزيمه: يريد المختوم الصاع، ولا خلاف بين العلماء أن الواسق ستون صاعا، وسيأتي بهذا اللفظ برقم:11785 بإسناد ضعيف
حدیث نمبر: 11565
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ حَتَّى يُبَيَّنَ لَهُ أَجْرُهُ ، وَعَنِ النَّجْشِ ، وَاللَّمْسِ ، وَإِلْقَاءِ الْحَجَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک کسی شخص کو مزدوری پر رکھنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی اجرت واضح نہ کردی جائے، نیز بیع میں دھوکہ، ہاتھ لگانے یا پتھر پھینکنے کی شرط پر بیع کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11565
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: نهى عن استئجار الأجير يبين له أجره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، إبراهيم النخعي لم يسمع من أبى سعيد، وحماد عنده تخليط عن إبراهيم
حدیث نمبر: 11566
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ ، فَقَالَ : " لَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا اور اللہ جب کسی کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11566
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، عمر بن عبيد لا يعرف سماعه من أبى إسحاق السبيعي، هل هو قبل الاختلاط أم بعده
حدیث نمبر: 11567
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : حدثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ ، إِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھ چکے اپنے گھر کے لئے بھی نماز کا حصہ رکھا کرے، کیونکہ نماز کی برکت سے اللہ گھر میں خیر نازل فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11567
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11568
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھ چکے اپنے گھر کے لئے بھی نماز کا حصہ رکھا کرے، کیونکہ نماز کی برکت سے اللہ گھر میں خیر نازل فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11568
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11569
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ " , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ولعنعنة أبى الزبير
حدیث نمبر: 11570
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ " , وَهَذِهِ أُخْتِي تُوَاصِلُ ، وَأَنَا أَنْهَاهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے، میری یہ بہن اس طرح روزے رکھتی ہے اور میں اسے منع بھی کرتا ہوں (لیکن یہ باز نہیں آتی)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11570
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف بشر بن حرب
حدیث نمبر: 11571
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَا : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ ، مِنْ حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم یا کھجور میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1405، م: 979
حدیث نمبر: 11572
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ , وَقَالَ : تَمْرٍ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : ثَمَرٍ ، وَقَالَ : حدثَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11572
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 11573
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3259
حدیث نمبر: 11574
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ : بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11574
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1197، م:827
حدیث نمبر: 11575
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ، وَلَا خَمْسَةِ أَوَاقٍ ، وَلَا خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم یا کھجور میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11575
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1459، م: 979
حدیث نمبر: 11576
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ , وَمَالِكٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11576
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11577
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ " ، وَالْمُزَابَنَةُ : اشْتِرَاءُ الثَّمَرَةِ فِي رُؤُوسِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا ، وَالْمُحَاقَلَةُ : كِرَاءُ الْأَرْضِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، بیع مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11577
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2186، م: 1546
حدیث نمبر: 11578
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , قَالَ أَبِي : وحَدَّثَنَاه أَبُو سَلَمَةَ يَعْنِي الْخُزَاعِيَّ ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " غُسْلُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11578
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 879، م: 846
حدیث نمبر: 11579
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ ، وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ ، وَأَعْمَالَكُمْ مَعَ أَعْمَالِهِمْ ، يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَى شَيْئًا ، ثُمَّ يَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلَا يَرَى شَيْئًا ، وَيَنْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلَا يَرَى شَيْئًا ، وَيَتَمَارَى فِي الْفُوقِ " . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : حَدَّثَنَا بِهِ مَالِكٌ ، يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں ایک قوم نکلے گی ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5058، م: 1064
حدیث نمبر: 11580
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، وَكَانَ صَدِيقًا لِي ، فَقُلْتُ : اخْرُجْ بِنَا إِلَى النَّخْلِ ، فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ ، فَقُلْتُ : سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عِشْرِينَ ، فَقَالَ : " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا ، أَوْ قَالَ فَنَسِيتُهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوَتْرِ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ " ، فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً ، فَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا ، حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ ، وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ ، وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا : ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے، ہم اس وقت اپنا سامان منتقل کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص معتکف تھا، وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑگئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2036، م:1167