حدیث نمبر: 11501
حَدَّثَنَاه يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ . وحدثناه عبد الرزاق , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
حدیث نمبر: 11502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو رِفَاعَةَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ , قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لِي أَمَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا ، وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ ، وَإِنَّ اليهود تَزْعُمُ أَنَّهَا الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى ؟ قَالَ : " كَذَبَتْ يهود ، لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَهُ ، لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَرُدَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک باندی ہے، میں اس سے عزل کرتا ہوں، میں وہی چاہتا ہوں کہ جو ایک مرد چاہتا ہے اور میں اس کے حاملہ ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا اور یہودی کہا کرتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی صورت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس میں رکاوٹ بن سکے۔
حدیث نمبر: 11503
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ : " أَنْتَ تَخْلُقُهُ ، أَنْتَ تَرْزُقُهُ ، أَقِرَّهُ قَرَارَهُ ، فَإِنَّمَا ذَلِكَ الْقَدَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " عزل " کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کیا اس نومولود کو تم پیدا کرو گے ؟ کیا تم اسے رزق دو گے ؟ اللہ نے اسے اس کے ٹھکانے میں رکھ دیا ہے تو یہ تقدیر کا حصہ ہے اور یہی تقدیر ہے۔
حدیث نمبر: 11504
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ . وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ النِّدَاءَ ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی جملے کہا کرو جو مؤذن کہتا ہے۔
حدیث نمبر: 11505
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَصُومُوا يَوْمَيْنِ ، وَلَا تُصَلُّوا صَلَاتَيْنِ ، وَلَا تَصُومُوا يَوْمَ الْفِطْرِ ، وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى ، وَلَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا ، إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِي ، وَمَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو دن کا روزہ اور دو موقع پر نماز نہ پڑھو، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کا روزہ نہ رکھو، نمازِ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نوافل نہ پڑھو۔ کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے، اور سوائے تین مسجدوں کے یعنی مجسد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔
حدیث نمبر: 11506
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ووكيع , عَنْ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ , قَالَ : كَانَ أَبُو سَعِيدٍ وَمَرْوَانُ جَالِسَيْنِ ، فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ ، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : اجْلِسْ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ " , فَقَامَ مَرْوَانُ ، وَقَالَ وَكِيعٌ : مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ ، فَقَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور مروان بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں سے کسی جنازے کا گذر ہوا، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے لیکن مروان کہنے لگا کہ بیٹھ جائیے، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جنازہ گذرا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے تھے، اس پر مروان کو بھی کھڑا ہونا پڑا۔
حدیث نمبر: 11507
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ يُصَلِّي تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے۔
حدیث نمبر: 11508
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِيَاضٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ " ، قَالَ يَحْيَى : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ، فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ ، فَيَقُومُ قَائِمًا ، فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ بِوَجْهِهِ ، وَيَقُولُ : تَصَدَّقُوا ، فَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : بِالْخَاتَمِ وَالْقُرْطِ وَالشَّيْءِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ أَوْ أَرَادَ أَنْ يَضَعَ بَعْثًا ، تَكَلَّمَ ، وَإِلَّا انْصَرَفَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرما لیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ دیا کرتی تھیں، پھر اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما دیتے، ورنہ چلے جاتے۔
حدیث نمبر: 11509
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَفَّانُ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالُوا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11510
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ؟ فَقَالَ : ثَلَاثًا , فَقَالَ : إِنِّي كَثِيرُ الشَّعَرِ , قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكْثَرَ شَعَرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے غسل جنابت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا تین مرتبہ جسم پر پانی بہانا، اس نے کہا کہ میرے سر پر بال بہت زیادہ ہیں ؟ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے بھی زیادہ اور معطر تھے، (لیکن پھر بھی وہ تین مرتبہ ہی جسم پر پانی بہاتے تھے)
حدیث نمبر: 11511
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا ، فَقَالَ : " تَقَدَّمُوا فَائْتَمُّوا بِي ، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ ، وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ کچھ پیچھے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم آگے بڑھ کر میری اقتداء کیا کرو، بعد والے تمہاری اقتداء کریں گے، کیونکہ لوگ مسلسل پیچھے ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ انہیں قیامت کے دن پیچھے کر دے گا۔
حدیث نمبر: 11512
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي سَعِيدٍ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَدَخَلُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَى رَجُلًا جَالِسًا وَسَطَ الْمَسْجِدِ ، مُشَبِّكًا بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، يُحَدِّثُ نَفْسَهُ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَفْطَنْ ، قَالَ : فَالْتَفَتَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ ، فَقَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلَا يُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، فَإِنَّ التَّشْبِيكَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ فِي صَلَاةٍ ، مَا دَامَ فِي الْمَسْجِدِ ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کی معیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مسجد کے درمیان میں ایک آدمی گوٹ مار کر بیٹھا ہوا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا رکھی تھیں اور اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارہ سے منع کیا لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ نہ سمجھ سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے آئے تو انگلیاں ایک دوسرے میں نہ پھنسائے کیونکہ یہ شیطانی حرکت ہے اور جو شخص جب تک مسجد میں رہتا ہے مسجد سے نکلنے تک اس کا شمار نماز پڑھنے والوں میں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 11513
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِهِ ، فَقَالَ : إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ ، فَلْيَقُلْ : كَذَبْتَ ، مَا لَمْ يَجِدْ رِيحًا بِأَنْفِهِ ، أَوْ يَسْمَعْ صَوْتًا بِأُذُنِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّیہ کہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان اس کی آواز سن لیں۔
حدیث نمبر: 11514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ عِيدٍ قَبْلَ الصَّلَاةِ ، مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ؟ فَقَالَ مَرْوَانُ : تُرِكَ مَا هُنَالِكَ أَبَا فُلَانٍ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا ، فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا، جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا نماز خطبہ سے پہلے ہوتی ہے، اس نے کہا کہ یہ چیز متروک ہوچکی ہے، اس مجلس میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
حدیث نمبر: 11515
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ سَفَرَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا ، إِلَّا مَعَ أَبِيهَا ، أَوْ أَخِيهَا ، أَوْ ابْنِهَا ، أَوْ زَوْجِهَا ، أَوْ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین یا زیادہ دن کا سفر اپنے باپ، بھائی، بیٹے، شوہر یا محرم کے بغیر نہ کرے۔
حدیث نمبر: 11516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا ، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان میں سے کسی کے مد بلکہ اس کے نصف تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11517
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
حدیث نمبر: 11518
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، مِثْلَهُ .
حدیث نمبر: 11519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، فَلْيَجْعَلْ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے دونوں پہلو اپنے کندھوں پر ڈال لے۔
حدیث نمبر: 11520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ حَيْوَةُ : حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ ، فَقَالَ : " لَعَلَّهُ أَنْ تَنْفَعَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُجْعَلَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ ، يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ ، يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے چچا خواجہ ابوطالب کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید قیامت کے دن میری سفارش انہیں فائدہ دے گی اور انہیں جہنم کے ایک کونے میں ڈال دیا جائے گا اور آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھولتا ہوگا۔
حدیث نمبر: 11521
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ حَيْوَةُ : حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جماعت کے ساتھ نماز تنہا نماز پر پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
حدیث نمبر: 11522
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَآنِي الْحَقَّ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَكَوَّنُ بِي " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے سچا خواب دیکھا کیونکہ شیطان میری شباہت اختیار نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 11523
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ ، فَيُرِيدُ أَنْ يَنَامَ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ يَنَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر رات کو وہ " ناپاک " ہوجائیں تو پھر سونا چاہیں تو کیا کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وضو کر کے سو جایا کریں۔
حدیث نمبر: 11524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْطٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ، وَعَرَفَ حُدُودَهُ ، وَتَحَفَّظَ مِمَّا كَانَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَحَفَّظَ فِيهِ ، كَفَّرَ مَا قَبْلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص رمضان کے روزے رکھے، اس کی حدود کو پہچانے اور جن چیزوں سے بچنا چاہیے ان سے بچے تو وہ اس کے گزشتہ سارے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔
حدیث نمبر: 11525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا ، إِمَامٌ عَادِلٌ ، وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَشَدَّهُمْ عَذَابًا ، إِمَامٌ جَائِرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں سب سے پسندیدہ اور مجلس کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب شخص منصف حکمران ہوگا اور اس دن سب سے زیادہ مبغوض اور سخت عذاب کا مستحق ظالم حکمران ہوگا۔
حدیث نمبر: 11526
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ ، كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهِ ، يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ ، فَأَطْعِمُوا طَعَامَكُمْ الْأَتْقِيَاءَ ، وَأَوْلُوا مَعْرُوفَكُمْ الْمُؤْمِنِينَ " . حَدَّثَنَاه أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، وَهَذَا أَتَمُّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کی سی ہے جو اپنے کھونٹے پر بندھا ہوا ہو، کہ گھوڑا گھوم پھر کر اپنے کھونٹے ہی کی طرف واپس آتا ہے اور مؤمن بھی گھوم پھر کی ایمان ہی کی طرف واپس آجاتا ہے، سو تم اپنا کھانا پرہیز گاروں اور نیکوکار مسلمانوں کو کھلایا کرو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11527
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لِحْيَانَ ، قَالَ : يَعْنِي : " لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ، وَقَالَ لِلْقَاعِدِ : أَيُّكُمَا خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ ، كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دور میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور پیچھے رہنے والے کے متعلق فرمایا کہ تم میں سے جو شخص جہاد پر جانے والے کے پیچھے اس کے اہل خانہ اور مال و دولت کا اچھے طریقے سے خیال رکھتا ہے، اسے جہاد پر نکلنے والے کا نصف ثواب ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 11528
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ حَدَّثَهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ أُتِيَ بِتَمْرٍ ، فَأَعْجَبَهُ جَوْدَتُهُ ، فَقَالُوا : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَخَذْنَا صَاعًا بِصَاعَيْنِ لِنَطْعَمَهُ ، فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں پیش کی گئیں، جن کی عمدگی آپ کو بہت اچھی لگی، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ہم نے آپ کے تناول فرمانے کے لئے دو صاع کے بدلے ایک صاع لی ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور اس سے منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 11529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جماعت کے ساتھ نماز تنہا نماز پر پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
حدیث نمبر: 11530
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِئَةُ رَحْمَةٍ ، فَقَسَمَ مِنْهَا جُزْءًا وَاحِدًا بَيْنَ الْخَلْقِ ، فَبِهِ يَتَرَاحَمُ النَّاسُ ، وَالْوَحْشُ ، وَالطَّيْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں، جن میں سے اللہ نے تمام جن و انس اور جانوروں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے، اسی کی برکت سے وہ ایک دوسرے پر مہربانی کرتے اور رحم کھاتے ہیں اور اسی ایک رحمت کے سبب وحشی جانور تک اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِلَّهِ مِئَةُ رَحْمَةٍ ، عِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ ، وَجَعَلَ عِنْدَكُمْ وَاحِدَةً ، تَرَاحَمُونَ بِهَا بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَبَيْنَ الْخَلْقِ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ضَمَّهَا إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام جن و انس اور جانوروں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے، اسی کی برکت سے وہ ایک دوسرے پر مہربانی کرتے اور رحم کھاتے ہیں اور اسی ایک رحمت کے سبب وحشی جانور تک اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس ہیں اور قیامت کے دن وہ ایک رحمت بھی ان ننانوے کے ساتھ ملا دے گا۔
حدیث نمبر: 11532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ يَسْرِقُهَا ؟ قَالَ : لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز میں چوری کیسے ہوسکتی ہے ؟ فرمایا اس طرح کہ رکوع و سجود کو مکمل ادا نہ کرے۔
حدیث نمبر: 11533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ ، قَالَ : فَيُخْرَجُونَ قَدْ امْتَحَشُوا ، وَعَادُوا فَحْمًا ، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ : نَهَرُ الْحَيَاةِ ، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ، أَوْ قَالَ فِي حَمِيلَةِ السَّيْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَمْ تَرَوْا أَنَّهَا تَنْبُتُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جس شخص کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان پایا جاتا ہو اسے جہنم سے نکال لو، جب انہیں وہاں سے نکالا جائے گا تو وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے، پھر وہ لوگ ایک خصوصی نہر میں جس کا نام نہر حیات ہوگا، غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذرا غور تو کرو کہ درخت پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 11534
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اشْتَكَيْتَ يَا مُحَمَّدُ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ , فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ ، مِنْ شَرِّ كُلِّ عَيْنٍ وَنَفْسٍ يَشْفِيكَ ، بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ بیمار ہیں ؟ فرمایا جی ہاں ! تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ " میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے، نظر بد کے شر سے اور نفس کے شر سے، اللہ آپ کو شفاء دے، میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 11535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ " ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " مُؤْمِنٌ اعْتَزَلَ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ أَوْ الشُّعْبَةِ كَفَى النَّاسَ شَرَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین آدمی کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مومن جو اپنی جان و مال سے راہ اللہ میں جہاد کرے، سائل نے پوچھا اس کے بعد کون ہے ؟ فرمایا وہ مؤمن جو کسی بھی محلے میں رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بچاتا ہو۔
حدیث نمبر: 11536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا غَيْرَ الْقُرْآنِ ، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا غَيْرَ الْقُرْآنِ ، فَلْيَمْحُهُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ : " حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ ، حَدِّثُوا عَنِّي وَلَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ " ، قَالَ : " وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ " ، قَالَ هَمَّامٌ : أَحْسَبُهُ قَالَ : " مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو، اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹا دے۔ اور فرمایا بنی اسرائیل کے حوالے سے بیان کر سکتے ہو اس میں کوئی حرج نہیں، میرے حوالے سے بھی حدیث بیان کرسکتے ہو، البتہ میری طرف جھوٹی نسبت نہ کرنا، کیونکہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی نسبت کرے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 11537
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْسِمُ قِسْمًا ، إِذْ جَاءَهُ ابْنُ ذِي الْخُوَيْصِرَةِ التَّمِيمِيُّ ، فَقَالَ : اعْدِلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُ ، فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْتَقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِ ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، فَيُنْظَرُ فِي قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ، ثُمَّ يُنْظَرُ فِي نَضِيَّتِهِ ، فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ، ثُمَّ يُنْظَرُ فِي رِصَافِهِ ، فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ، ثُمَّ يُنْظَرُ فِي نَصْلِهِ ، فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ، قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ ، مِنْهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ فِي إِحْدَى يَدَيْهِ ، أَوْ قَالَ : إِحْدَى ثَدْيَيْهِ ، مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ ، أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ ، تَدَرْدَرُ ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ النَّاسِ ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ سورة التوبة آية 58 الْآيَةَ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا حِينَ قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ جِيءَ بِالرَّجُلِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ تمیمی آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدنصیب ! اگر میں ہی انصاف سے کام نہیں لوں گا تو اور کون لے گا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑو، اس کے کچھ ساتھی ہیں ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ ان میں ایک سیاہ فام آدمی ہوگا جس کے ایک ہاتھ پر عورت کی چھاتی یا چبائے ہوئے لقمے جیسا نشان ہوگا، ان لوگوں کا خروج انقطاع زمانہ کے وقت ہوگا اور انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی " ان میں سے بعض وہ ہیں جو صدقات میں آپ پر عیب لگاتے ہیں " حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے قتال کیا ہے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا اور ایک آدمی اسی حلئے کا پکڑ کر لایا تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 11538
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ : لِعَامِلٍ عَلَيْهَا ، أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ ، أَوْ غَارِمٍ ، أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ مِنْهَا ، فَأَهْدَى مِنْهَا لِغَنِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار کے لئے صدقہ زکوٰۃ حلال نہیں سوائے پانچ مواقع کے، زکوٰۃ وصول کرنے والے کے لئے اپنے مال سے اسے خریدنے والے کے لئے، مقروض کے لئے، جہاد فی سبیل اللہ میں اور ایک اس صورت میں کہ اس کے غریب پڑوسی کو کسی نے صدقہ کی کوئی چیز بھیجی ہو اور وہ اسے مالدار کے پاس ہدیۃً بھیج دے۔
حدیث نمبر: 11539
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَبْدَأُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، ثُمَّ يَخْطُبُ ، فَتَكُونُ خُطْبَتُهُ الْأَمْرُ بِالْبَعْثِ وَالسَّرِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدا لاضحی کے دن خطبے سے پہلے نماز پڑھاتے، پھر خطبہ ارشاد فرماتے اور اس خطبے کے حوالے سے احکام بیان فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 11540
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَ سُتْرَتِكَ أَحَدٌ فَارْدُدْهُ ، فَإِنْ أَبَى فَادْفَعْهُ ، فَإِنْ أَبَى فَقَاتِلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو کسی کو اپنے آگے سے نہ گذرنے دے اور حتیٰ الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔
…