حدیث نمبر: 11421
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں لپٹنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ انسان ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5822، م: 1512
حدیث نمبر: 11422
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَهَاشِمٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ . قَالَ : هَاشِمٌ قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں لپٹنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ انسان ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 367، م: 1512
حدیث نمبر: 11423
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَهَرٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالنَّاسُ صِيَامٌ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ مُشَاةً ، وَنَبِيُّ اللَّهِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ ، فَقَالَ : " اشْرَبُوا أَيُّهَا النَّاسُ " , قَالَ : فَأَبَوْا ، قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أَيْسَرُكُمْ ، إِنِّي رَاكِبٌ " ، فَأَبَوْا ، قَالَ : فَثَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخِذَهُ ، فَنَزَلَ ، فَشَرِبَ ، وَشَرِبَ النَّاسُ ، وَمَا كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَشْرَبَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا گذر ایک نہر پر ہوا جس میں بارش کا پانی جمع تھا، لوگوں کا اس وقت روزہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پی لو، لیکن روزے کی وجہ سے کسی نے نہیں پیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر خود پانی پی لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر سب ہی نے پانی پی لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11424
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَدِّثُوا عَنِّي وَلَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَقد تَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے تم حدیث بیان کرسکتے ہو، لیکن میری طرف جھوٹی نسبت نہ کرنا کیوں کہ جو شخص میری طرف جان بوجھ کر جھوٹی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے اور بنی اسرائیل کے حوالے سے بھی بیان کرسکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 3004
حدیث نمبر: 11425
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَلَّ سِبْطَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَأَرْهَبُ أَنْ تَكُونَ الضِّبَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں دو قبیلے گم ہوگئے تھے، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ گوہ ہی نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1951
حدیث نمبر: 11426
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ الْإِيَادِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدُّنْيَا ، فَقَالَ : " إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، فَاتَّقُوهَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ " . ثُمَّ ذَكَرَ نِسْوَةً ثَلَاثًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ تُعْرَفَانِ ، وَامْرَأَةً قَصِيرَةً لَا تُعْرَفُ ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ ، وَصَاغَتْ خَاتَمًا ، فَحَشَتْهُ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ الْمِسْكِ ، وَجَعَلَتْ لَهُ غَلَقًا ، فَإِذَا مَرَّتْ بِالْمَلَإِ أَوْ بِالْمَجْلِسِ قَالَتْ بِهِ ، فَفَتَحَتْهُ ، فَفَاحَ رِيحُهُ ، قَالَ الْمُسْتَمِرُّ بِخِنْصَرِهِ الْيُسْرَى : فَأَشْخَصَهَا دُونَ أَصَابِعِهِ الثَّلَاثِ شَيْئًا ، وَقَبَضَ الثَّلَاثَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا دنیا بڑی سرسبز و شاداب اور شیریں ہے، لہٰذا اس سے اور عورتوں سے بچو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کی تین عورتوں کا ذکر کیا جن میں سے دو کا قد اتنا لمبا تھا کہ دور سے ہی پہچان لی جاتی تھیں اور ایک ٹھگنے قد کی تھی، اس نے (اپنا قد اونچا کرنے کے لئے) لکڑی کی دو مصنوعی ٹانگیں بنوا لیں، اب جب وہ چلتی تو اس کے دائیں بائیں کی عورتیں چھوٹی لگتیں، پھر اس نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کے نگینے کے نیچے سب سے بہترین خوشبو مشک بھر دی، اب جب بھی وہ کسی مجلس سے گذرتی تو اپنی انگوٹھی کو حرکت دیتی اور وہاں اس کی خوشبو پھیل جاتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2252
حدیث نمبر: 11427
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يُرْفَعُ لَهُ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ ، أَلَا وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ مِنْ غَدْرَةِ أَمِيرِ عَامَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا اور حکمران کے دھوکے سے بڑھ کر کسی کا دھوکہ نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1738
حدیث نمبر: 11428
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ ، أَوْ بَشَرٍ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ أَوْ عَلِمَهُ ، أَوْ رَآهُ أَوْ سَمِعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خود اسے دیکھ لے، یا مشاہدہ کرلے یا سن لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11429
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى , قَالاَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر نہ بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
حدیث نمبر: 11430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ ، وَلَا تُفَضِّلُوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر نہ بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، فليح الخزاعي مختلف فيه، وحديثه حسن فى المتابعات والشواهد، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11431
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 11432
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا ، وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! ہمارے مد میں برکت عطاء فرما، اے اللہ ! ہمارے صاع میں برکت عطاء فرما اور اس برکت کو دو گ نافرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1374
حدیث نمبر: 11433
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَلِمْنَاهُ ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو سلام کرنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے، آپ پر درود کیسے پڑھیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو، اے اللہ ! اپنے بندے اور پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اسی طرح درود نازل فرما جیسے ابراہیم علیہ السلام پر نازل کیا تھا اور محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر برکتوں کا نزول فرما جیسے ابراہیم و آل ابراہیم علیہ السلام پر کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:4798
حدیث نمبر: 11434
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، فَمَرَرْنَا فِي بَنِي سَالِمٍ ، فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ على ِبَابِ بَنِي عِتْبَانَ ، فَصَرَخَ وَابْنُ عِتْبَانَ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِهِ ، فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ " , قَالَ ابْنُ عِتْبَانَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ إِذَا أَتَى امْرَأَةً وَلَمْ يُمْنِ عَلَيْهَا ، مَاذَا عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ پیر کے دن قباء کی طرف گئے، ہمارا گذر بنو سالم پر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابن عتان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر رک گئے اور ان کا نام لے کر انہیں آواز دی، اس وقت ابن عتان اپنی بیوی سے اپنی خواہش کی تکمیل کر رہے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن کر اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں دیکھ کر فرمایا شاید ہم نے انہیں جلدی فراغت پر مجبور کردیا، ابن عتان رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے اور انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وجوبِ غسل منی کے خروج پر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 180، م: 343
حدیث نمبر: 11435
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ طَعَامًا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ يَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ ، وَمَا رُزِقَ الْعَبْدُ رِزْقًا أَوْسَعَ لَهُ مِنَ الصَّبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے اہل خانہ نے کہا کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امداد کی درخواست کرو، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے تھے جو شخص صبر کرتا ہے اللہ اسے صبر دے دیتا ہے اور جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے اور انسان کو صبر سے زیادہ وسیع رزق کوئی نہیں دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1469، م: 1053، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11436
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ ، نَتَحَدَّثُ فِيهَا ، قَالَ : " فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا " , قَالُوا : وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَكَفُّ الْأَذَى ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے گریز کیا کرو، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا، اس طرح ہم ایک دوسرے سے گپ شپ کرلیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ بیٹھنے سے گریز نہیں کرسکتے تو پھر راستے کا حق ادا کیا کرو، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! راستے کا حق کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نگاہیں جھکا کر رکھنا، ایذاء رسانی سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6229، م: 2121
حدیث نمبر: 11437
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : مُرَّ عَلَى مَرْوَانَ بِجَنَازَةٍ ، فَلَمْ يَقُمْ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ ، فَقَامَ " , قَالَ : فَقَامَ مَرْوَانُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان کے سامنے سے کسی جنازے کا گذر ہوا لیکن وہ کھڑا نہیں ہوا، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جنازہ گذرا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے تھے، اس پر مروان کو بھی کھڑا ہونا پڑا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11438
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَكُنَّا نَلْتَمِسُ فِدَاءَهُنَّ ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ ، فَقَالَ : " اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ ، فَمَا قَضَى اللَّهُ فَهُوَ كَائِنٌ ، فَلَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی ملے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کرلو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، وهذا سند حسن، يونس بن عمرو السبيعي مختلف فيه، وهو متابع
حدیث نمبر: 11439
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : ذُكِرَ الْمِسْكُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے " مشک " کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2252
حدیث نمبر: 11440
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ إِذَا رَأَى أَمْرًا لِلَّهِ فِيهِ مَقَالٌ أَنْ يَقُولَ فِيهِ ، فَيُقَالُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ فِيهِ ، فَيَقُولُ : رَبِّ خَشِيتُ النَّاسَ ، قَالَ : فَأَنَا أَحَقُّ أَنْ تَخْشَى " , وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ يَعْنِي فِي الْحَدِيثِ : " وَإِنِّي كُنْتُ أَحَقُّ أَنْ تَخَافَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سمجھے کہ اس پر اللہ کی رضاء کے لئے کوئی بات کہنے کا حق ہو لیکن وہ اسے کہہ نہ سکے۔ کیوں کہ اللہ اس سے پوچھے گا کہ تجھے یہ بات کہنے سے کس چیز نے روکا تھا ؟ بندہ کہے گا کہ پروردگار ! میں لوگوں سے ڈرتا تھا، اللہ فرمائے گا کہ میں اس بات کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو البختري لم يسمع من أبى سعيد، بينهما رجل مبهم كما فى الرواية الآتية برقم: 11868
حدیث نمبر: 11441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَخْرُجُ النَاسٌ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا احْتَرَقُوا ، وَصَارُوا فَحْمًا ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، فَيَنْبُتُونَ فِيهَا كَمَا يَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کچھ لوگ جہنم سے اس وقت نکلیں گے جب وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے، وہ جنت میں داخل ہوں گے تو غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4581، م: 185
حدیث نمبر: 11442
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلَيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ السَّعْدَانَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11442
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا " تَبِعَ جَنَازَةً ، لَمْ يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11443
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 1309، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي
حدیث نمبر: 11444
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ ، قَالَ : " لَا ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بات پر پختہ قسم کھاتے تو یوں کہتے " لا والذی نفس ابی القاسم بیدہ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11444
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عاصم بن شميخ، وسيأتي بإسناد صحيح برقم: 11537
حدیث نمبر: 11445
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَبَهْزٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ . ووكيع , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عِيسَى ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُودُوا الْمَرْضَى ، وَاتَّبِعُوا الْجَنَائِزَ ، تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مریض کی عیادت کیا کرو اور جنازے کے ساتھ جایا کرو، اس سے تمہیں آخرت کی یاد آئے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11445
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11446
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : الْمَرِيضَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11446
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّبْعِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْجَوْزَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُفْتِي فِي الصَّرْفِ ، قَالَ : " فَأَفْتَيْتُ بِهِ زَمَانًا " ، قَالَ : ثُمَّ لَقِيتُهُ فَرَجَعَ عَنْهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : وَلِمَ ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا هُوَ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابو الجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے سونے چاندی کی خریدو فروخت کے معاملے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک فتویٰ سنا اور ایک عرصہ تک لوگوں کو وہی فتویٰ دیتا رہا، جب دوبارہ ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنے فتویٰ سے رجوع کرلیا تھا، میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ صرف میری رائے تھی جو میں نے قائم کرلی تھی، بعد میں مجھے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11447
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11448
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4351، م: 1064
حدیث نمبر: 11449
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ وَعَمِّهِ قَتَادَةَ أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ وَادَّخِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی کا گوشت کھا بھی سکتے ہو اور ذخیرہ بھی کرسکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11449
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1973
حدیث نمبر: 11450
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبى سعيد الخدري ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ ، وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ ، وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ مِنْ خَطَايَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ کانٹا جو اسے چبھتا ہے اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11450
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2573
حدیث نمبر: 11451
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا ، فَمَنْ اتَّبَعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11451
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1310، م: 959
حدیث نمبر: 11452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . وَيَزِيدُ , أخبرنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمیں ملی جلی کھجوریں کھانے کے لئے ملتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11452
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2080، م: 1595
حدیث نمبر: 11453
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وأبى سعيد الخدري , قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی " من " کا ایک جزو ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے اور عجوہ جنت کی کھجور ہے اور وہ زہر سے بھی شفاء دے دیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11453
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه وضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 11454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عُرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک آدمی امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11454
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 672، شجاع بن الوليد- وإن لم يتحرر لنا أمره أسمع من سعيد بن أبى عروبة قبل الاختلاط أو بعده - متابع
حدیث نمبر: 11455
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک آدمی امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خروجِ جوج ماجوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج جاری رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11455
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1593
حدیث نمبر: 11456
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَكُونُ بَعْدِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا ، وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11456
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2913، 2914
حدیث نمبر: 11457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . وَيَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ ، قَالَ يَزِيدُ : تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ ، وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ " . قَالَ يَزِيدُ : لَا صَاعَا تَمْرٍ بِصَاعٍ ، وَلَا صَاعَا حِنْطَةٍ بِصَاعٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمیں ملی جلی کھجوریں کھانے کے لئے ملتی تھیں، ہم اس میں سے دو صاع کھجوریں مثلاً ایک صاع کے بدلے میں دے دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو صاع ایک صاع کے بدلے دینا صحیح نہیں، اسی طرح دو صاع گندم ایک صاع کے بدلے میں اور دو درہم ایک درہم کے بدلے میں دینا بھی صحیح نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11457
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2080، م: 1595
حدیث نمبر: 11458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ شُعْبَةُ : قُلْتُ لَهُ : سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ ، قَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل (مادہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اولاد کا ہونا تقدیر کا حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11458
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2542، م: 1438
حدیث نمبر: 11459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي ، فَلَا يَتْرُكْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گذرنے دے اور حتیٰ الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11459
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 509، م: 505
حدیث نمبر: 11460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ قَدَّمَ الْخُطْبَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا مَرْوَانُ ، خَالَفْتَ السُّنَّةَ , قَالَ : تُرِكَ مَا هُنَاكَ يَا أَبَا فُلَانٍ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا مروان ! تم نے خلافِ سنت کام کیا ہے، اس نے کہا کہ یہ چیز متروک ہوچکی ہے، اس مجلس میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے کھڑے ہو کر فرمایا اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11460
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 49