حدیث نمبر: 11381
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ ، حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ ، يَوْمَ الْفِطْرِ ، صَلَّى بِالنَّاسِ تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ وَقَامَ ، فَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ ، فَقَالَ : " تَصَدَّقُوا " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَبِالْخَاتَمِ وَبِالشَّيْءِ ، فَإِنْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَةٌ أَنْ يَضْرِبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا ذَكَرَهُ لَهُمْ ، وَإِلَّا انْصَرَفَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر سلام پھیر کر کھڑے ہوجاتے اور آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرمالیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ کردیا کرتی تھیں، پھر اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرمادیتے، ورنہ واپس چلے جاتے۔
حدیث نمبر: 11382
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ ، ثُمَّ دَلَكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے میں تھوکا اور اسے مل لیا۔
حدیث نمبر: 11383
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا أَوْهَمَ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب کسی شخص کو اپنی نماز میں شک ہوجائے اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے زیادہ رکعتیں پڑھ لی ہیں یا کم کردی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔
حدیث نمبر: 11384
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْن زَكَرِيَّا ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُكْمِلٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ ثَلَاثُ بَنَاتٍ ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ ، أَوْ ابْنَتَانِ ، أَوْ أُخْتَانِ ، فَيَتَّقِي اللَّهَ فِيهِنَّ ، وَيُحْسِنُ إِلَيْهِنَّ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا اور ان سے عمدہ سلوک کرتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 11385
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبِيًا مُشَبِّكٌ أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا فِي بَعْضٍ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَفْطِنْ الرَّجُلُ لِإِشَارَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ ، فَقَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَا يُشَبِّكَنَّ ، فَإِنَّ التَّشْبِيكَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی معیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، مسجد کے درمیان میں ایک آدمی گوٹ مار کر بیٹھا ہوا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا رکھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارہ سے منع کیا لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ سمجھ نہ سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں ہو تو انگلیاں ایک دوسرے میں نہ پھنسائے کیونکہ یہ شیطانی حرکت ہے اور جو شخص جب تک مسجد میں رہتا ہے، مسجد سے نکلنے تک اس کا شمار نماز پڑھنے والوں میں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 11386
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ هَبَطَ ، فَيَقُولُ : هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى ، هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ مِنْ ذَنْبٍ ، هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے کہ میں اسے قبول کرلوں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطاء کروں ؟۔
حدیث نمبر: 11387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : صَلَّى رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَرْكَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ ، وَيَرْفَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ، قَالَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ " ، قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ تَعْلَمُ ذَلِكَ أَمْ لَا ؟ ، فَقَالَ : " اتَّقُوا خِدَاجَ الصَّلَاةِ إِذَا رَكَعَ الْإِمَامُ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع سے قبل رکوع اور ان کے سر اٹھانے سے پہلے اپنا سر اٹھالیا، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ایسا کس نے کیا ہے ؟ اس شخص نے اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایسا کیا ہے، دراصل میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ آپ کو پتہ چلتا ہے یا نہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو نامکمل کرنے سے بچو، جب امام رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم سر اٹھاؤ۔
حدیث نمبر: 11388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، وَقَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَأَلَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ : إِنَّ الذِّئْبَ قَطَعَ ذَنَبَ شَاةٍ لِي فَأُضَحِّي بِهَا ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، وَقَالَ عَفَّانُ : عَنْ ذَنَبِ شَاةٍ لَهُ ، فَقَطَعَهَا الذِّئْبُ ، فَقَالَ أُضَحِّي بِهَا ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے یا کسی اور نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک بھیڑیا میری بکری کی دم کاٹ کر بھاگ گیا ہے، کیا میں اس کی قربانی کرسکتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! کرسکتے ہو۔
حدیث نمبر: 11389
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ : دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ انتہائی سفید اور خالص مشک کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی۔
حدیث نمبر: 11390
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : حَجَجْنَا ، فَنَزَلْنَا تَحْتَ شَجَرَةٍ ، وَجَاءَ ابْنُ صَائِدٍ ، فَنَزَلَ فِي نَاحِيَتِهَا ، فَقُلْتُ : إِنَّا لِلَّهِ مَا صَبَّ هَذَا عَلَيَّ ! قَالَ : فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، مَا أَلْقَى مِنَ النَّاسِ وَمَا يَقُولُونَ لِي ؟ ! يَقُولُونَ إِنِّي الدَّجَّالُ ! أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الدَّجَّالُ لَا يُولَدُ لَهُ ، وَلَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ ، وَلَا مَكَّةَ " ، قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، وَقَالَ : قَدْ وُلِدَ لِي ، وَقَدْ خَرَجْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَكَأَنِّي رَقَقْتُ لَهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِمَكَانِهِ لَأَنَا ، قَالَ قُلْتُ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے حج کیا، ہم ایک درخت کے نیچے اترے، ابن صائد آیا اور اس نے بھی اس کے ایک کونے میں پڑاؤ ڈال لیا، میں نے " اناللہ " پڑھ کر سوچا کہ یہ کیا مصیبت میرے گلے پڑگئی ہے ؟ اسی دوران وہ کہنے لگا کہ لوگ میرے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اور مجھے دجال کہتے ہیں کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں نہیں جاسکے گا، اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی، میں نے کہا کیوں نہیں، اس نے کہا کہ پھر میرے یہاں تو اولاد بھی ہے اور میں مدینہ منورہ سے نکلا ہوں اور مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ ہے، میرے دل میں اس کے لئے نرمی پیدا ہوگئی، لیکن وہ آخر میں کہنے لگا کہ اس کے باوجود میں یہ جانتا ہوں کہ وہ اب کہاں ہے ؟ یہ سن کر میں نے اس سے کہا کہ کم بخت ! تو برباد ہو۔
حدیث نمبر: 11391
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ ، يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات گرنے کی جگہ پر چلا جائے اور فتنوں سے اپنے دین کو بچالے۔
حدیث نمبر: 11392
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي جَارًا يَقُومُ اللَّيْلَ ، ولَا يَقْرَأُ إِلَّا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ كَأَنَّهُ يُقَلِّلُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا ایک پڑوسی ہے، وہ ساری رات قیام کرتا ہے لیکن سورت اخلاص کے علاوہ کچھ نہیں پڑھتا، اس کا خیال یہ تھا کہ یہ بہت تھوڑی چیز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حدیث نمبر: 11393
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَالْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ الْخُزَاعِيُّ ، ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : لَهُ إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ ، فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ ، فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ ، وَقَالَ الْخُزَاعِيُّ : " لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ أَبُو : سَعِيدٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی صعصعہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور جنگل سے محبت کرتے ہو اس لئے تم اپنی بکریوں یا جنگل میں جب بھی اذان دیا کرو تو اونچی آواز سے دیا کرو، کیونکہ جو چیز بھی " خواہ جن و انس ہو، یا پتھر " اذان کی آواز سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گی یہ بات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
حدیث نمبر: 11394
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ أَبَى فَليُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے گذرنے نہ دے اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔
حدیث نمبر: 11395
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَسِيَ الْوَتْرَ أَوْ نَامَ عَنْهَا ، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، أَوْ إِذَا أَصْبَحَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وتر پڑھے بغیر سو گیا یا بھول گیا، اسے چاہئے کہ جب یاد آجائے یا بیدار ہوجائے، تب پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 11396
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السُّحُورُ أَكْلَةٌ بَرَكَةٌ ، فَلَا تَدَعُوهُ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جَرْعَةً مِنْ مَاءٍ ، فَإِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کھانا باعث برکت ہے اس لئے اسے ترک نہ کیا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، کیونکہ اللہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں کے لئے اپنے اپنے انداز میں رحمت کا سبب بنتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11397
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، عَنْ الْإِزَارِ ، فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ : سَقَطْتَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِزْرَةُ الْمُسْلِمِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ ، وَلَا حَرَجَ أَوْ لَا جُنَاحَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ ، فَمَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ ، مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے ازار کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک باخبر آدمی سے سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے۔ پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا اور اللہ اس شخص پر نظر کرم نہیں فرمائے گا جو اپنا تہبند تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے۔
حدیث نمبر: 11398
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى : أَحْسِبُهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ ، وَلَا عَاقٌّ ، وَلَا مُدْمِنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی احسان جتانے والا، والدین کا نافرمان اور عادی شراب خور جنت میں نہیں جائے گا۔
حدیث نمبر: 11399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، فَلَمْ يَقْرُوهُمْ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ ، إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ ، فَقَالُوا هَلْ فِيكُمْ دَوَاءٌ أَوْ رَاقٍ ؟ ، فَقَالُوا : إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا ، وَلَا نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا ، فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنْ شَاءٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ ، وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ ، وَيَتْفُلُ ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ ، فَأَتَوْهُمْ بِالشَّاءِ ، فَقَالُوا : لَا نَأْخُذُهَا حَتَّى نَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَضَحِكَ ، وَقَالَ : " مَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ ! خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي فِيهَا بِسَهْمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ (ایک سفر میں تھے، دورانِ سفر ان) کا گذر عرب کے کسی قبیلے پر ہوا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اہل قبیلہ سے مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا، اتفاقاً ان کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آکر کہنے لگے کہ کیا آپ میں کوئی جھاڑ پھونک جانتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ چونکہ تم نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی لہٰذا ہم یہ کام اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک تم اس کی اجرت مقرر نہیں کرتے، انہوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ مقرر کردیا، تو ایک آدمی نے اس آدمی کے پاس جا کر سورت فاتحہ پڑھ کر دم کردیا، وہ تندرست ہوگیا، ان لوگوں نے انہیں بکریوں کا ریوڑ پیش کیا لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا، تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے، پھر فرمایا کہ بکریوں کا وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی شامل کردو۔
حدیث نمبر: 11400
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ سَأَلَنَا شَيْئًا فَوَجَدْنَاهُ أَعْطَيْنَاهُ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے۔
حدیث نمبر: 11401
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ حِصْنٍ ، قَالَ : نَزَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَضَمَّنِي وَإِيَّاهُ الْمَجْلِسُ ، قَالَ : فَحَدَّثَ أَنَّهُ أَصْبَحَ ذَاتَ يَوْمٍ ، وَقَدْ عَصَبَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا مِنَ الْجُوعِ ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ أَوْ أُمُّهُ : ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ ، فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ ، فَسَأَلَهُ ، فَأَعْطَاهُ ، وَأَتَاهُ فُلَانٌ ، فَسَأَلَهُ ، فَأَعْطَاهُ ، فَقَالَ : قُلْتُ : حَتَّى أَلْتَمِسَ شَيْئًا ، قَالَ : فَالْتَمَسْتُ ، فَأَتَيْتُهُ ، قَالَ حَجَّاجٌ : فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ اسْتَعَفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ اسْتَغْنَى يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَمَنْ سَأَلَنَا إِمَّا أَنْ نَبْذُلَ لَهُ ، وَإِمَّا أَنْ نُوَاسِيَهُ أَبُو حَمْزَةَ الشَّاكُّ ، وَمَنْ يَسْتَعِفُّ عَنَّا أَوْ يَسْتَغْنِي أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّنْ يَسْأَلُنَا " ، قَالَ : فَرَجَعْتُ ، فَمَا سَأَلْتُهُ شَيْئًا ، فَمَا زَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَرْزُقُنَا ، حَتَّى مَا أَعْلَمُ فِي الْأَنْصَارِ أَهْلَ بَيْتٍ أَكْثَرَ أَمْوَالًا مِنَّا .
مولانا ظفر اقبال
بلال بن حصن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے یہاں ٹھہرا ہوا تھا، ایک موقع پر ہم دونوں بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن جب صبح ہوئی تو انہوں نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا، ان کی بیوی یا والدہ نے ان سے کہا کہ فلاں فلاں آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر امداد کی درخواست کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دے دیا لہٰذا تم بھی جا کر ان سے درخواست کرو، میں نے کہا کہ میں پہلے تلاش کرلوں کہ میرے پاس جو کچھ ہے تو نہیں، تلاش کے بعد جب مجھے کچھ نہ ملا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے تے جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے، یا پھر اس سے غمخواری کریں گے، یہ سن کر آدمی واپس آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ مانگا اس کے بعد اللہ نے ہمیں اتنا رزق عطاء فرمایا کہ اب میرے علم کے مطابق انصار میں ہم سے زیادہ مالدار گھرانہ کوئی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11402
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنِي أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ حِصْنٍ أَخَا بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ ، فَنَزَلْتُ دَارَ أَبِي سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11403
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مِنْكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ أَوْ عَلِمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خواہ اسے دیکھ لے یا مشاہدہ کرلے یا سن لے۔
حدیث نمبر: 11404
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف سے کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 11405
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الذَّوْدِ صَدَقَةٌ ، وَلَا خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ ، وَلَا خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11406
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ مِنْ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ عَامًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص راہ اللہ میں ایک دن کا روزہ رکھے، اللہ اس دن کی برکت سے اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت پر دور کردے گا۔
حدیث نمبر: 11407
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔
حدیث نمبر: 11408
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ ؟ " , فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى مَعَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی، نماز کے بعد ایک آدمی آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون اس پر صدقہ کرکے اس کے ساتھ نماز پڑھے گا ؟ اس پر ایک آدمی نے اس کے ساتھ جا کر نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 11409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ إِبْرَاهِيمَ ، وَمَسْجِدِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " صَلَاةٍ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الْغَدَاةِ وَقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ : بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ : الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، أَوْ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ " , قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فِي حَدِيثِهِ : قَزَعَةُ مَوْلَى زِيَادٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجدِ حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے بھی منع فرمایا کہ کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے۔
حدیث نمبر: 11410
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تُشْرِقَ الشَّمْسُ وَلَمْ يَشُكَّ ثَلَاثَ لَيَالٍ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 11411
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عِيسَى . قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فِي حَدِيثِهِ : عَنْ أَبِي عِيسَى الْحَارِثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11412
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ ، وَكَانَ تَمْرُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا بَعْلًا فِيهِ يَبْسٌ ، فَقَالَ : " أَنَّى لَكُمْ هَذَا التَّمْرُ ؟ " , فَقَالُوا : وهَذَا تَمْرٌ ابْتَعْنَا صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَصْلُحُ ذَلِكَ ، وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ ، ثُمَّ ابْتَعْ حَاجَتَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریان کھجوریں پیش کی گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں خشک " بعل " کھجوریں آتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے ؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو ، اس کے بعد اپنی ضرورت کی کھجوریں خرید لو۔
حدیث نمبر: 11413
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثِنْتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً بَقِيَتْ مِنْ رَمَضَانَ مَخْرَجَهُ إِلَى حُنَيْنٍ ، فَصَامَ طَوَائِفُ مِنَ النَّاسِ ، وَأَفْطَرَ آخَرُونَ ، فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھ لیتے اور کچھ نہ رکھتے، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی احسان نہیں جتاتا تھا (مطلب یہ ہے کہ جب آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی، وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا)
حدیث نمبر: 11414
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْجَنِينِ : " ذَكَاتُهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیٹ کے بچے کے ذبح ہونے کے لئے اس کی ماں کا ذبح ہونا ہی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 11415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَمَا تَيَسَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سورت فاتحہ اور جو سورت آسانی سے پڑھ سکیں کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 11416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَكُونُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ ، يَخْرُجُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهَا أَوْلَاهُمَا بِالْحَقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔
حدیث نمبر: 11417
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِي ، وَمَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا مَعَ زَوْجٍ ، أَوْ ذِي مَحْرَمٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَنَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ , وَيَوْمِ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجدِ حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ اور کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، قَالَ : لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَمَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ : جِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالُوا : إِنَّهُ نَشْوَانُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ , قَالَ : فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ ، وَنُهِزَ بِالْأَيْدِي , " وَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابن دواک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جب سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے، میں نے عہد کرلیا ہے کہ نبیذ نہیں پیوں گا، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نشے کی حالت میں ایک نوجوان کو لایا گیا، اس نے کہا کہ میں نے شراب نہیں پی بلکہ ایک مٹکے میں رکھی ہوئی کشمش اور کھجور کا پانی پیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے ہاتھوں اور جوتوں سے مارا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے اور کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرما دیا ہے۔
حدیث نمبر: 11419
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ أَبِي عُلْوَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَحِلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا ، فَإِنَّهُ خَاتَمُهُمْ عَلَيْهَا ، فَإِذَا كُنْتُمْ بِقَفْرٍ ، فَرَأَيْتُمْ الْوَطْبَ , أَوْ الرَّاوِيَةَ , أَوْ السِّقَاءَ مِنَ اللَّبَنِ ، فَنَادُوا أَصْحَابَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا ، فَإِنْ سَقَاكُمْ فَاشْرَبُوا ، وَإِلَّا فَلَا ، وَإِنْ كُنْتُمْ مُرْمِلِينَ " , قَالَ أَبُو النَّضْرِ : " وَلَمْ يَكُنْ مَعَكُمْ طَعَامٌ ، فَلْيُمْسِكْهُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ ، ثُمَّ اشْرَبُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے حلال نہیں ہے کہ کسی اونٹنی کے تھنوں پر بندھا ہوا دھاگا اس کے مالک کی اجازت کے بغیر کھولے، کیونکہ وہ ان کی مہر ہے، جب تم کسی جنگل میں ہو اور وہاں تمہیں دودھ کا کوئی مٹکا یا مشکیزہ نظر آئے تو تین مرتبہ اونٹ کے مالکان کو آواز دو ، اگر وہ تمہیں پلا دیں تو پی لو، ورنہ مت پیو اور اگر تم ضرورت مند ہو اور تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہ ہو تو اسے تم میں سے دو آدمی روک لیں، پھر اسے پی لو۔
حدیث نمبر: 11420
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ . وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْوَهْمِ : " يُتَوَخَّى " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فِيمَا أَعْلَمُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے وہم کے بارے میں مروی ہے کہ اس کا قصد کیا جاتا ہے، ایک آدمی نے راوی سے پوچھا کیا یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہے ؟ تو راوی نے کہا کہ میرے علم کے مطابق تو ایسا ہی ہے۔
…