حدیث نمبر: 11341
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتِيلًا بَيْنَ قَرْيَتَيْنِ " فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذُرِعَ مَا بَيْنَهُمَا ، قَالَ : وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى شِبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَلْقَاهُ عَلَى أَقْرَبِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بستیوں کے درمیان ایک آدمی کو مقتول پایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر دونوں بستیوں کی مسافت کی پیمائش کی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بالشت اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے قریب کی بستی میں اسے بھجوا دیا۔
حدیث نمبر: 11342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بُعِثَ مِنْ نَبِيٍّ وَلَا اسْتُخْلِفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ ، بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ ، وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ ، وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جو نبی بھی مبعوث فرمایا یا جس شخص کو بھی خلافت عطاء فرمائی، اس کے قریب دو گروہ رہے ہیں، ایک گروہ اسے خیر کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور دوسرا گروہ اسے شر کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور بچتا وہی ہے جسے اللہ بچالے۔
حدیث نمبر: 11343
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیٹ کے بچے ذبح ہونے کے لئے اس کی ماں کا ذبح ہونا ہی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 11344
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا إِلَّا الْقُرْآنَ ، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا فَلْيَمْحُهُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ : " حَدِّثُوا عَنِّي ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے حوالے سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو، اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے اور فرمایا : میرے حوالے سے حدیث بیان کر سکتے ہو، اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 11345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " تَزْعُمُونَ أَنَّ قَرَابَتِي لَا تَنْفَعُ قَوْمِي ، وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لِي قَوْمٌ يُؤْمَرُ بِهِمْ ذَاتَ الْيَسَارِ ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ : يَا مُحَمَّدُ ، أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، وَيَقُولُ الْآخَرُ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، فَأَقُولُ : أَمَّا النَّسَبُ قَدْ عَرَفْتُ ، وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي ، وَارْتَدَدْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ الْقَهْقَرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ سمجھتے ہو کہ میری قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچا سکے گی، اللہ کی قسم ! میری قرابت داری دنیا اور آخرت دونوں میں جڑی رہے گی اور قیامت کے دن میرے سامنے کچھ لوگوں کو پیش کیا جائے گا جن کے متعلق بائیں جانب کا حکم ہوچکا ہوگا، تو ایک آدمی کہے گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں فلاں بن فلاں ہوں اور دوسرا کہے گا میں فلاں بن فلاں ہوں، میں انہیں جواب دوں گا کہ تمہارا نسب تو مجھے معلوم ہوگیا لیکن میرے بعد تم نے دین میں بدعات ایجاد کرلی تھیں اور تم الٹے پاؤں واپس ہوگئے تھے۔
حدیث نمبر: 11346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے خیر رکھ دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 11347
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ ، فَلَمْ يَلْغُ وَلَمْ يَجْهَلْ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ ، وَفِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، وَالْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر جمعہ کے لئے آئے اور کوئی لغو کام کرے اور نہ ہی جہالت کا کوئی کام کرے، یہاں تک کہ امام واپس چلا جائے تو یہ اگلے جمعے تک اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ضرور آتی ہے جو اگر کسی مسلمان کو مل جائے تو وہ اس میں اللہ سے جو سوال کرے، اللہ اسے ضرور عطاء فرمائے گا اور فرض نمازوں کے درمیانی وقت کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 11348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَلَا صِيَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے اور عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْوَهْمِ : " يُتَوَخَّى " ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فِيمَا أَعْلَمُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے وہم کے بارے میں مروی ہے کہ اس کا قصد کیا جاتا ہے، ایک آدمی نے راوی سے پوچھا کہ کیا یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہے ؟ تو راوی نے کہا کہ میرے علم کے مطابق تو ایسا ہی ہے۔
حدیث نمبر: 11350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَإِنَّ لَهُ بَيْتًا فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے، اس کے لئے جہنم میں ایک گھر تیار کردیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 11351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُرْفَعُ لِلْغَادِرِ لِوَاءٌ بِغَدْرِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ : هَذَا لِوَاءُ غَدْرَةِ فُلَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں آدمی کا دھوکہ ہے۔
حدیث نمبر: 11352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي بِهَذَا ابْنُ عُمَرَ أَيْضًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس شخص پر نظر کرم نہیں فرمائے گا جو تہبند تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے۔
حدیث نمبر: 11353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَا رَجُلٌ يَمْشِي بَيْنَ بُرْدَيْنِ مُخْتَالًا ، خَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی دو نفیس چادروں میں تکبر کی چال چلتا ہوا جارہا تھا کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسایا دیا۔ اب وہ قیامت تک اس میں دھنستا ہی رہے گا۔
حدیث نمبر: 11354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ ، يَتَكَلَّمُ يَقُولُ وُكِّلْتُ الْيَوْمَ بِثَلَاثَةٍ بِكُلِّ جَبَّارٍ ، وَبِمَنْ جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ ، وَبِمَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ ، فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ ، فَيَقْذِفُهُمْ فِي غَمَرَاتِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم سے ایک گردن نکلے گی جو کہے گی مجھے آج کے دن تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے، ہر ظالم پر، اللہ کے ساتھ دوسروں کو معبود بنانے والوں پر اور ناحق کسی کو قتل کرنے والے پر، چنانچہ وہ ان سب کو لپیٹ کر جہنم کی گہرائی میں پھینک دے گی۔
حدیث نمبر: 11355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَان رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُفْطِرُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے کچھ کھالیا کرتے تھے اور نماز عید سے پہلے نوافل نہیں پڑھتے تھے، جب نماز عید پڑھ لیتے تب دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 11356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو الْمُغِيرَةِ الْقَاصُّ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَا رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ خَرَجَ فِي بُرْدَيْنِ أَخْضَرَيْنِ ، يَخْتَالُ فِيهِمَا ، أَمَرَ اللَّهُ الْأَرْضَ فَأَخَذَتْهُ ، وَإِنَّهُ لَيَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی دو نفیس چادروں میں تکبر کی چال چلتا ہوا جارہا تھا کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسایا دیا۔ اب وہ قیامت تک اس میں دھنستا ہی رہے گا۔
حدیث نمبر: 11357
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعْ اللَّهُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دکھاوے کے لئے کوئی عمل کرتا ہے، اللہ اسے اس عمل کے حوالے کردیتا ہے اور جو شہرت حاصل کرنے کے لئے کوئی عمل کرتا ہے، اللہ اسے شہرت کے حوالے کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 11358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ جَارٌ فَقِيرٌ ، فَيَدْعُوَهُ فَيَأْكُلَ مَعَهُ ، أَوْ يَكُونَ ابْنَ سَبِيلٍ ، أَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار کے لئے صدقہ زکوٰۃ حلال نہیں، الاّ یہ کہ اس کا کوئی ہمسایہ فقیر ہو اور وہ اس کی دعوت کرے اور وہ اس کے یہاں کھانا کھالے، یا جہاد فی سبیل اللہ میں یا حالت سفر میں ہو۔
حدیث نمبر: 11359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ فَيْحِ الْمِسْكِ ، قَالَ : صَامَ هَذَا مِنْ أَجْلِي ، وَتَرَكَ شَهْوَتَهُ عَنِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مِنْ أَجْلِي ، فَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس نے میری خاطر روزہ رکھا، میری خاطر اپنے کھانے پینے کی خواہش کو ترک کیا، گویا روزہ میری خاطر ہوا اس لئے اس کا بدلہ میں خود ہی دونگا۔
حدیث نمبر: 11360
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ : اقْرَأْ وَاصْعَدْ ، فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً ، حَتَّى يَقْرَأَ آخِرَ شَيْءٍ مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن حامل قرآن سے " جب وہ جنت میں داخل ہوجائے گا " کہا جائے گا کہ پڑھتاجا اور درجاتِ جنت چڑھتا جا، چنانچہ وہ ہر آیت پر ایک ایک درجہ چڑھتا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اپنے حافظے میں موجود آخری آیت پڑھ۔
حدیث نمبر: 11361
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَقَرَّبَ إِلَى اللَّهِ شِبْرًا تَقَرَّبَ اللَّهُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيْهِ ذِرَاعًا تَقَرَّبَ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَمَنْ أَتَاهُ يَمْشِي أَتَاهُ اللَّهُ هَرْوَلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے اور جو ایک گز کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے اور جو اللہ کے پاس چل کر آتا ہے، اللہ اس کے پاس دوڑ کر آتا ہے۔
حدیث نمبر: 11362
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ لَا يَرْحَمُهُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 11363
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّمْحِ دَرَّاجًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنَ الْخَيْرِ لَمْ يَعْمَلْهَا ، وَإِذَا سَخِطَ عَلَيْهِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنَ الشَّرِّ لَمْ يَعْمَلْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ کسی بندے سے راضی ہوجاتا ہے تو اس کی طرف خیر کے سات ایسے کام پھیر دیتا ہے، جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے اور جب کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو شر کے سات ایسے کام اس کی طرف پھیر دیتا ہے جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے۔
حدیث نمبر: 11364
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ امْرَأَةٌ قَصِيرَةٌ ، فَصَنَعَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ ، فَكَانَتْ تَسِيرُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ قَصِيرَتَيْنِ ، وَاتَّخَذَتْ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَحَشَتْ تَحْتَ فَصِّهِ أَطْيَبَ الطِّيبِ الْمِسْكَ ، فَكَانَتْ إِذَا مَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ حَرَّكَتْهُ فَنَفَخَ رِيحَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک ٹھنگے قد کی عورت تھی، اس نے (اپنا قد اونچا کرنے کے لئے) لکڑی کی دو مصنوعی ٹانگیں بنوالیں، اب جب وہ چلتی تو اس کے دائیں بائیں کی عورتیں چھوٹی لگتیں، پھر اس نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کے نگینے کے نیچے بہترین خوشبو مشک بھر دی، اب جب بھی وہ کسی مجلس سے گزرتی تو اپنی انگوٹھی کو حرکت دیتی اور وہاں اس کی خوشبو پھیل جاتی۔
حدیث نمبر: 11365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى الْمَازِنِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ضُرِبَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ لَهُ : ضَرَبَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِكَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِمَ فَعَلْتَ ؟ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَضَّلَ مُوسَى عَلَيْكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُفَضِّلُوا بَعْضَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَى بَعْضٍ ، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ التُّرَابِ ، فَأَجِدُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْعَرْشِ لَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صُعِقَ أَمْ لَا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے چہرے پر ضرب کے آثار تھے اور اس نے آکر کہا مجھے آپ کے ایک صحابی نے مارا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعلقہ آدمی سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت دی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو، کیونکہ قیامت کے دن سب لوگوں پر بےہوشی طاری ہوجائے گی اور سب سے پہلے مٹی سے سر اٹھانے والا میں ہوں گا، میں اس وقت حضرت موسیٰ کو عرش کے پاس دیکھوں گا، اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بےہوش ہونے والوں میں ہوں گے یا نہیں۔
حدیث نمبر: 11366
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا ، فَمَنْ اتَّبَعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔
حدیث نمبر: 11367
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ لِرَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتْ الْأَرْوَاحُ فِيهِمْ ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ : فَبِعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان نے کہا تھا کہ پروردگار ! مجھے تیری عزت کی قسم ! میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی اور پروردگار عالم نے فرمایا تھا مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔
حدیث نمبر: 11368
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ ، إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ ، لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ اچانک سامنے سے ایک شاعر اشعار پڑھتا ہوا آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو روکو، کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اشعار سے بھرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 11369
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عن صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ إِذْ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ ، فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا حَيَّةٌ ، فَقُمْتُ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : مَا لَكَ ؟ ، قُلْتُ : حَيَّةٌ هَاهُنَا ، فَقَالَ : فَتُرِيدُ مَاذَا ؟ ، فَقُلْتُ : أُرِيدُ قَتْلَهَا ، فَأَشَارَ لِي إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ ، اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ ، وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، فَأَذِنَ لَهُ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلَاحِهِ مَعَهُ ، فَأَتَى دَارَهُ ، فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ ، فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ ، فَقَالَتْ : لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي ، فَدَخَلَ الْبَيْتَ ، فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ ، فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ ، ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ ، قَالَ : لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعُ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوْ الْحَيَّةُ ، فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا ، قَالَ : " اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ مَرَّتَيْنِ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ ، فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ ، فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّالِثَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں ابھی ان کے پاس بیٹھا ہی تھا کہ چارپائی کے نیچے سے کسی چیز کی آہٹ محسوس ہوئی، میں نے دیکھا تو وہاں ایک سانپ تھا، میں فوراً کھڑا ہوگیا، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ میں نے کہا کہ یہاں سانپ ہے، انہوں نے پوچھا اب تم کیا کرنا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا کہ میں اسے مار دوں گا، انہوں نے اپنے گھر کے ایک کمرے کی طرف " جو ان کے کمرے کے سامنے ہی تھا " اشارہ کرکے فرمایا کہ میرا ایک چچا زاد بھائی یہاں رہا کرتا تھا، غزوہ خندق کے دن اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آنے کی اجازت مانگی، کیونکہ اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور اسلحہ ساتھ لے جانے کا حکم دیا۔ وہ اپنے گھر پہنچا تو دیکھا کہ اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہے، اس نے اپنی بیوی کی طرف نیزے سے اشارہ کیا تو اس نے کہا کہ مجھے مارنے کی جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ مجھے گھر سے باہر نکلنے پر کس چیز نے مجبور کیا ہے ؟ وہ گھر میں داخل ہوا تو وہاں ایک عجیب و غریب سانپ نظر آیا، اس نے اسے اپنا نیزہ دے مارا اور نیزے کے ساتھ اسے گھسیٹتا ہوا باہر لے آیا، مجھے نہیں خبر کہ دونوں میں سے پہلے کون مرا، وہ نوجوان یا سانپ ؟ اس کی قوم کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ سے دعاء فرمائیے کہ وہ ہمارے ساتھی کو ہمارے پاس لوٹا دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا اپنے ساتھی کے لئے استغفار کرو، پھر فرمایا کہ جنات کے ایک گروہ نے اسلام قبول کرلیا ہے اس لئے اگر تم میں سے کوئی شخص کسی سانپ کو دیکھے تو اسے تین مرتبہ ڈرائے پھر بھی اگر اسے مارنا مناسب سمجھے تو تیسری مرتبہ کے بعد مارے۔
حدیث نمبر: 11370
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رُبَيْحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ کا نام نہ لے۔
حدیث نمبر: 11371
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ کا نام نہ لے۔
حدیث نمبر: 11372
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وُضِعَتْ الْجَنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ قَدِّمُونِي ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ ، قَالَتْ يَا وَيْلَهَا ، أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا ؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصُعِقَ " ، قَالَ حَجَّاجٌ : لَصُعِقَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھالیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتی ہے کہ مجھے جلدی لے چلو اور اگر نیک نہ ہو تو کہتی ہے کہ ہائے افسوس ! مجھے کہاں لے جاتے ہو ؟ اس کی یہ آواز انسانوں کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے اور اگر انسان بھی اس آواز کو سن لے تو بےہوش ہوجائے۔
حدیث نمبر: 11373
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُتِيَ بِضَبٍّ ، فَقَلَّبَهُ بِعُودٍ كَانَ فِي يَدِهِ ظَهْرَهُ لِبَطْنِهِ ، فَقَالَ : " تَاهَ سِبْطٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِنْ يَكُنْ فَهُوَ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں جو لکڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس لکڑی سے الٹ پلٹ کر دیکھا اور فرمایا بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ مسخ ہوگیا تھا، اگر وہ باقی ہوا تو یہی ہوگا۔
حدیث نمبر: 11374
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ ، خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ ، إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ ، أَوْ عَلَى قَدَمَيْهِ ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا ، يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال کھجور کے ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کیا میں تمہیں بہترین اور بدترین انسان کے بارے نہ بتاؤں ؟ بہترین آدمی تو وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے، اونٹ یا اپنے پاؤں پر موت تک جہاد کرتا رہے اور بدترین آدمی وہ فاجر شخص ہے جو گناہوں پر جری ہو، قرآن کریم پڑھتا ہو، لیکن اس سے کوئی اثر قبول نہ کرتا ہو۔
حدیث نمبر: 11375
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، " كَانَ يَشْتَكِي رِجْلَهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَخُوهُ وَقَدْ جَعَلَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُضْطَجِعٌ ، فَضَرَبَهُ بِيَدِهِ عَلَى رِجْلِهِ الْوَجِعَةِ ، فَأَوْجَعَهُ ، فَقَالَ : أَوْجَعْتَنِي ، أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رِجْلِي وَجِعَةٌ ؟ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ هَذِهِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
ابونضر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاؤں میں درد ہو رہا تھا، انہوں نے لیٹ کر ایک ٹانگ دوسری پر رکھی ہوئی تھی کہ ان کے ایک بھائی صاحب آئے اور اپنا ہاتھ اسی ٹانگ پر مارا جس میں درد ہو رہا تھا، اس سے ان کے درد میں اور اضافہ ہوگیا اور وہ کہنے لگے کہ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ میرے پاؤں میں درد ہو رہا ہے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا پھر تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ کہنے لگا کہ کیا تم نے نہیں سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقے سے لیٹنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11376
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ ، فَقَالَ : " اقْلِبُوهُ لِظَهْرِهِ " ، فَقُلِبَ لِظَهْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اقْلِبُوهُ لِبَطْنِهِ " ، فَقُلِبَ لِبَطْنِهِ ، فَقَالَ : " تَاهَ سِبْطٌ مِمَّنْ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا ، فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا ، فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے الٹا کرو، لوگوں نے اسے الٹا کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب اسے پیٹ کی جانب پلٹو، چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ مسخ ہوگیا تھا، اگر وہ باقی ہوا تو یہی ہوگا، یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔
حدیث نمبر: 11377
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَهْضَمٌ يَعْنِي الْيَمَامِيَّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ مَا فِي ضُرُوعِهَا إِلَّا بِكَيْلٍ ، وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ ، وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ ، وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ ، وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضع حمل سے پہلے جانوروں کے پیٹ میں موجود بچے خریدنے اور ماپے بغیر ان کے تھنوں میں موجود دودھ خریدنے سے، بھگوڑا غلام اور تقسیم سے قبل مال غنیمت اور قبضہ سے پہلے صدقات خریدنے سے منع فرمایا ہے، نیز غوطہ خور کی ایک چھلانگ پر جو ہاتھ میں آنے کی بنیاد پر معاملہ کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11378
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى " أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ ، أَوْ فِي خُفٍّ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک پاؤں میں جوتا یا موزہ پہن کر چلنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 11379
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اصْبِرْ أَبَا سَعِيدٍ ، فَإِنَّ الْفَقْرَ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنْكُمْ ، أَسْرَعُ مِنَ السَّيْلِ عَلَى أَعْلَى الْوَادِي ، وَمِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ إِلَى أَسْفَلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگدستی کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوسعید ! صبر کرو، کیونکہ مجھ سے محبت کرنے والوں کی طرف فقر وفاقہ اس سیلاب سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے جو اوپر کی جانب سے نیچے آئے۔
حدیث نمبر: 11380
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ اونٹ والے اپنے اوپر فخر کرنے لگے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سکون اور وقار بکریوں والوں میں ہوتا ہے اور فخر وتکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے۔
…