حدیث نمبر: 10944
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , حَدَّثَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا يَكْسِرُ الصَّلِيبَ , وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ , وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ , وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10944
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2448، م: 155 .
حدیث نمبر: 10945
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَخِي أَبِي مَرْثَدٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ , وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ بِيَمِينِهِ ، وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً , فَتَرْبُو لَهُ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ , حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ , كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے ایک کھجور صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرمالیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور اللہ کی طرف حلال چیز ہی چڑھ کر جاتی ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10945
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1410، م: 1014
حدیث نمبر: 10946
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى الْعَامِرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا , لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں (تا آنکہ وہ واپس آجائے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5194، م: 1436
حدیث نمبر: 10947
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قََالَ : قَتَادَةُ أَنْبَأَنِي , قََالَ : سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَزِيْدٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ شَيْبَانَ , قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ يَعْنِي الشُّونِيزَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ , لَيْسَ السَّامَ " , قَالَ قَتَادَةُ : " وَالسَّامُ : الْمَوْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10947
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
حدیث نمبر: 10948
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَهَاشِمٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ , عَنْ ثَابِتٍ , قََالَ : هَاشِمٌ , قََالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ , قََالَ : وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ , أَنَا فِيهِمْ , وَأَبُو هُرَيْرَةَ فِي رَمَضَانَ , فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لِبَعْضٍ الطَّعَامَ , قََالَ : وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ مَا يَدْعُونَا , قََالَ : هَاشِمٌ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَى رَحْلِهِ ، قََالَ : فَقُلْتُ : أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوَهُمْ إِلَى رَحْلِي , قََالَ : فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ , وَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعِشَاءِ , قََالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ , قََالَ : أَسَبَقْتَنِي , قََالَ هَاشِمٌ : قُلْتُ : نَعَمْ , قََالَ : فَدَعَوْتُهُمْ فَهُمْ عِنْدِي , قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَلَا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعَاشِرَ الْأَنْصَارِ ؟ , قَالَ : فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ , قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَخَلَ مَكَّةَ ، قَالَ : فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ , وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى , وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ , فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَتِيبَتِهِ , قَالَ : وَقَدْ وَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشَهَا , قَالَ : فَقَالُوا : نُقَدِّمُ هَؤُلَاءِ , فَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ كُنَّا مَعَهُمْ , وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا , قَالَ : فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَنَظَرَ فَرَآنِي , فَقَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " , فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اهْتِفْ لِي بِالْأَنْصَارِ , وَلَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيٌّ " , فَهَتَفْتُ بِهِمْ , فَجَاءُوا , فَأَطَافُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَقَالَ : " تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ , ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى : احْصُدُوهم حَصْدًا حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا " , قَالَ : فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَمَا يَشَاءُ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ مِنْهُمْ مَا شَاءَ , وَمَا أَحَدٌ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا مِنْهُمْ شَيْئًا , قَالَ : فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ , لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ , قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ , وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ " , قَالَ : فَغَلَّقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ , قَالَ : فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجَرِ , فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ , قَالَ : وَفِي يَدِهِ قَوْسٌ أَخَذَ بِسِيَةِ الْقَوْسِ , قَالَ : فَأَتَى فِي طَوَافِهِ عَلَى صَنَمٍ إِلَى جَنْبٍ الْبَيْتِ يَعْبُدُونَهُ , قَالَ : فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي عَيْنِهِ , وَيَقُولُ : " جَاءَ الْحَقُّ , وَزَهَقَ الْبَاطِلُ " , قَالَ : ثُمَّ أَتَى الصَّفَا , فَعَلَاهُ حَيْثُ يُنْظَرُ إِلَى الْبَيْتِ , فَرَفَعَ يَدَيْهِ , فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَهُ وَيَدْعُوهُ , قَالَ وَالْأَنْصَارُ تَحْتَهُ , قَالَ : يَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ , وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ , قَالَ : أَبُو هُرَيْرَةَ وَجَاءَ الْوَحْيُ , وَكَانَ إِذَا جَاءَ لَمْ يَخْفَ عَلَيْنَا , فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُقْضَى , قَالَ هَاشِمٌ : فَلَمَّا قَضِيَ الْوَحْيُ رَفَعَ رَأْسَهُ , ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ , أَقُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ , وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ ؟ " , قَالُوا : قُلْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " فَمَا اسْمِي إِذًا ؟ كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ , هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ , فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ , وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ " , قَالَ : فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ , وَيَقُولُونَ : وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذُرَانِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک میں کئی وفد " جن میں میں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے " حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور ہم ایک دوسرے کے لئے کھانا تیار کرتے تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں اکثر اپنے یہاں کھانے پر بلاتے تھے میں نے کہا کیا میں کھانا نہ پکاؤں اور پھر انہیں اپنے مکان پر آنے کی دعوت دوں تو میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا پھر شام کے وقت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آج رات میرے ہاں دعوت ہے انہوں نے کہا تم نے مجھ پر سبقت حاصل کرلی ہے میں نے کہا جی ہاں میں نے سب کو دعوت دی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے انصار کی جماعت کیا میں تمہیں تمہارے بارے میں ایک حدیث کی خبر نہ دوں ؟ پھر فتح مکہ کا ذکر کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ سے) چل کر مکہ پہنچے اور دو اطراف میں سے ایک جانب آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اور دوسری جانب خالد رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بےزرہ لوگوں پر امیر بنا کر بھیجا وہ وادی کے اندر سے گزرے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم الگ ایک فوجی دستہ میں رہ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا تو فرمایا ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس انصار کے علاوہ کوئی نہ آئے انصار کو میرے پاس (آنے کی) آواز دو پس وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہوگئے اور قریش نے بھی اپنے حمایتی اور متبعین کو اکٹھا کرلیا اور کہا ہم ان کو آگے بھیج دیتے ہیں اگر انہیں کوئی فائدہ حاصل ہوا تو ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوجائیں گے اور اگر انہیں کچھ ہوگیا تو ہم سے جو کچھ مانگا جائے گا دے دیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا تم قریش کے حمایتیوں اور متبعین کو دیکھ رہے ہو پھر اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا (تم چلو) اور تم مجھ سے کوہ صفا پر ملاقات کرنا ہم چل دیئے اور ہم میں سے جو کسی کو قتل کرنا چاہتا تو کردیتا اور ان میں سے کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہ کرسکتا حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قریش کی سرداری ختم ہوگئی آج کے بعد کوئی قریشی نہ رہے گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے وہ محفوظ ہے اور جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ امن میں رہے گا چنانچہ لوگوں نے اپنے دروازے بند کرلیے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا، بیت اللہ کا طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کمانی تھی اس کی نوک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بت کی آنکھ میں چھبو دی جس کی مشرکین عبادت کرتے تھے اور وہ خانہ کعبہ کے ایک کونے میں رکھا ہوا تھا اور یہ آیت پڑھتے حق آگیا اور باطل چلا گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ نظر آسکے اور اپنے ہاتھ اٹھا کر جب تک اللہ کو منظور ہوا ذکر اور دعاء کرتے رہے انصار اس کے نیچے تھے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر کی محبت اور اپنے قرابت داروں کے ساتھ نرمی غالب آگئی ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ سکتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہوجاتی پس جب وحی پوری ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار کی جماعت کیا تم نے کہا ہے کہ اس شخص کو اپنے شہر کی محبت غالب آگئی ہے انہوں نے عرض کیا واقعہ تو یہی ہوا تھا آپ نے فرمایا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے اب میری زندگی تمہاری زندگی کے ساتھ اور موت تمہاری موت کے ساتھ ہے پس (انصار) روتے ہوئے آپ کی طرف بڑھے اور عرض کرنے لگے اللہ کی قسم ہم نے جو کچھ کہا وہ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی حرص میں کہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10948
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:1780
حدیث نمبر: 10949
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ , فَإِنَّهُ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ , وَلَا تَحَسَّسُوا , وَلَا تَجَسَّسُوا , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا تَنَافَسُوا , وَلَا تَدَابَرُوا , وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمْ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان خدا ! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ جیسا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6724، م: 2563
حدیث نمبر: 10950
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ , وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ , وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔ اور غیرت الٰہی کا یہ حصہ ہے کہ انسان ایسی چیزوں سے اجتناب کرے جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5223، م: 2761
حدیث نمبر: 10951
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مَوْلَى آلِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : قََالَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبُ هَذِهِ الْحُجْرَةِ : " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صاحب الحجرۃ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رحمت اسی شخص سے کھینچتی جاتی ہے جو خود شقی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10952
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی بندے کے لئے مناسب نہیں ہے کہ یوں کہتا پھرے میں حضرت یونس (علیہ السلام) سے بہتر ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3416، م: 2376
حدیث نمبر: 10953
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , حَدَّثَنِي بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ , سَقَطَ مَيِّتًا , بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ , ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ , فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا ، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا " , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , حَدَّثَنِي بْنُ شِهَابٍ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنوہذیل کی دو عورتوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک نے دوسری کو جو امید سے تھی پتھر دے مارا اور اس عورت کو قتل کردیا اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرا ہوا پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے میں ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا پھر وہ عورت جس کے خلاف غرہ کا فیصلہ ہوا تھا وہ فوت ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کی وراثت اس کے بیٹوں اور شوہر کو ملے گی اور دیت اس کے عصبہ پر ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5758، م: 1681
حدیث نمبر: 10954
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى : حَدَّثَنَا لَيْثُ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَت
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5758، م: 1681
حدیث نمبر: 10955
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قََالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَظْهَرُ الْفِتَنُ , وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " , قُلْنَا : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ الْقَتْلُ " , وَقَالَ : " وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب فتنوں کا دور دورہ ہوگا ہرج کی کثرت ہوگی اور علم اٹھالیا جائے گا ہم نے " ہرج " کا معنی پوچھا تو فرمایا قتل قتل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
حدیث نمبر: 10956
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ كَثِيرٌ مَرَّةً حَدِيثٌ رَفَعَهُ , قَالَ : " النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ , خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا . " وَالْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ مَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ , وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ سونے اور چاندی کے چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں تم محسوس کروگے کہ ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔ اور انسانوں کی روحیں لشکروں کی شکل میں رہتی ہیں سو جس روح کا دوسری کے ساتھ تعارف ہوجاتا ہے ان میں الفت پیدا ہوجاتی ہے اور جن میں تعارف نہیں ہوتا ان میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:3496،م:2526،2638
حدیث نمبر: 10957
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيَسْأَلَنَّكُمْ النَّاسُ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ , حَتَّى يَقُولُوا : اللَّهُ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَمَنْ خَلَقَهُ ؟ " . قَالَ قَالَ يَزِيدُ : فَحَدَّثَنِي نَجَبَةُ بْنُ صَبِيغٍ السُّلَمِيُّ ، أَنَّهُ رَأَى رَكْبًا أَتَوْا أَبَا هُرَيْرَةَ , فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ , مَا حَدَّثَنِي خَلِيلِي بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ , وَأَنَا أَنْتَظِرُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے لوگ تم سے یقینا ہر چیز کے متعلق سوال کریں گے حتیٰ کہ وہ یہ بھی کہیں گے کہ ہر چیز کو تو اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ راوی حدیث یزید کہتے ہیں کہ مجھ سے نجبہ بن صبیغ سلمی نے بیان کیا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے کچھ سوار حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے یہی سوال پوچھا جس پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو بھی چیزبیان فرمائی تھی یا تو میں اسے دیکھ چکا ہوں یا اس کا انتظار کر رہاہوں۔ راوی حدیث جعفر کہتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب لوگ تم سے یہ سوال پوچھیں تو تم یہ جواب دو کہ اللہ ہر چیز سے پہلے تھا اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اللہ ہی ہر چیز کے بعد ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3276، م: 135، وأما الثانية وهى الأثر، فإسنادها ضعيف لجهالة نجبة، وأما الثالثة: فإسنادها منقطع
حدیث نمبر: 10958
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , قََالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ , يَقُولُ , قََالَ : أَبُو هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ لَا أَحْسِبُهُ إِلَّا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ , وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْفَقْرَ , وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ التَّكَاثُرَ , وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْخَطَأَ ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْعَمْدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالداری سازوسامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل میں مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔ بخدا ! مجھے تم پر فقروفاقہ کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر مال کی کثرت کا اندیشہ ہے اور مجھے تم پر غلطی کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر جان بوجھ کر (گناہوں میں ملوث ہونے کا) اندیشہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051
حدیث نمبر: 10959
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ , حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ , قََالَ : قِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : أَكْثَرْتَ أَكْثَرْتَ , قََالَ : " فَلَوْ حَدَّثْتُكُمْ بِكُلِّ مَا سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَرَمَيْتُمُونِي بِالْقَشْعِ , وَلَمَا نَاظَرْتُمُونِي " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت ابویرہرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ بڑی کثرت سے حدیثیں بیان کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہر حدیث بیان کرنا شروع کردوں تو تم مجھ پر چھلکے پھینکنے لگو اور مجھے دیکھنے تک کے روادار نہ رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10960
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ , وَلَكِنْ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مال و دولت کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2564
حدیث نمبر: 10961
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " عَبْدِي عِنْدَ ظَنِّهِ بِي , وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں اور میں اس کے اس کے ساتھ ہی ہوتاہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2420، م: 2675
حدیث نمبر: 10962
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ ، ثُمَّ أَخْرُجَ بِفِتْيَانِي مَعَهُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ , فَأُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ فِي بُيُوتِهِمْ , يَسْمَعُونَ النِّدَاءَ ثُمَّ لَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ " , فَسُئلَ يَزِيدُ : أَفِي الْجُمُعَةِ هَذَا أَمْ فِي غَيْرِهَا , قَالَ مَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ جُمُعَةً وَلَا غَيْرَهَا إِلَّا هَكَذَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرادل چاہتا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کردے پھر اپنے نوجوانوں کو لے کر نکلوں جن کے پاس لکڑیاں ہوں گٹھوں اور وہ ان لوگوں کے پاس جائیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے اور لکڑیوں کے گٹھوں سے ان کے گھروں میں آگ لگا دیں یزید نے پوچھا کہ اس حدیث کا تعلق جمعہ کے ساتھ ہے یا کسی اور نماز سے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث صرف اسی طرح بیان کرتے ہوئے سنا تھا انہوں نے اس میں جمعہ وغیرہ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 651
حدیث نمبر: 10963
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ , كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا بِلَيْلٍ , فَأَقْبَلَتْ إِلَيْهَا هَذِهِ الْفَرَاشُ وَالدَّوَابُّ الَّتِي تَغْشَى النَّارَ , فَجَعَلَ يَذُبُّهَا ، وَتَغْلِبُهُ إِلَّا تَقَحُّمًا فِي النَّارِ , وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ , أَدْعُوكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ , وَتَغْلِبُونِي إِلَّا تَقَحُّمًا فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے آس پاس کی جگہ کو روشن کردیا تو پروانے اور درندے اس میں گھسنے لگے وہ شخص انہیں پشت سے پکڑ کر کھینچنے لگے لیکن وہ اس پر غالب آجائیں اور آگ میں گرتے رہیں، یہی میری اور تمہاری مثال ہے کہ میں تمہیں پشت سے پکڑ کر کھینچ رہا ہوں کہ آگ سے بچ جاؤ اور تم اس میں گرے چلے جا رہے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3426، م: 2284
حدیث نمبر: 10964
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ , قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يَقُولُونَ : " أَكْثَرْتَ أَكْثَرْتَ فَلَوْ حَدَّثْتُكُمْ بِكُلِّ مَا سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَمَيْتُمُونِي بِالْقِشَعِ وَمَا نَاظَرْتُمُونِي " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت ابویرہرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ بڑی کثرت سے حدیثیں بیان کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہر حدیث بیان کرنا شروع کردوں تو تم مجھ پر چھلکے پھینکنے لگو اور مجھے دیکھنے تک کے روادار نہ رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10965
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ الْمَوْصِلِيُّ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ , وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالداری سازوسامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل میں مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051
حدیث نمبر: 10966
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ , وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ , وَيَشْهَدُ جِنَازَتَهُ إِذَا مَاتَ , وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ " , قَالَ أَبِي غَرِيبٌ يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں ملاقات ہو تو سلام کرے چھینک کر الحمد اللہ کہے تو جواب دے، بیمار ہو تو عیادت کرے، فوت ہوجائے تو جنازے میں شرکت کرے اور دعوت دے تو قبول کرے،
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
حدیث نمبر: 10967
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ ، فَإِنَّهُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو کچھ حبشی اپنے نیزوں سے کرتب دکھانے لگے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر ! انہیں چھوڑ دو یہ بنو ارفدہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2901، م: 893
حدیث نمبر: 10968
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , وَأَبُو الْمُغِيرَةِ , قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : أَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا هُوَ ذَكَرَنِي , وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ارشادنبوی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے نام پر حرکت کرتے ہیں تو میں اس وقت اس کے قریب ہی ہوتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7405، م: 2675
حدیث نمبر: 10969
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَنْفِرَ مِنْ مِنًى قَالَ : " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى بِالْمُحَصَّبِ ، بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ , حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ " , وَذَاكَ أَنَّ قُرَيْشًا تَقَاسَمُوا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ ، وَعَلَى بَنِي الْمُطَّلِبِ , أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُخَالِطُوهُمْ , حَتَّى يُسَلِّمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر سے اگلے دن (گیارہ ذی الحجہ کو) جبکہ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ ہی میں تھے) فرمایا کہ کل ہم (ان شاء اللہ) خیف بنی کنانہ جہاں قریش نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں میں پڑاؤ کریں گے۔ مراد وادی محصب تھی دراصل واقعہ یہ ہے کہ قریش اور بنوکنانہ نے بنوہاشم اور بنوعبدالمطلب کے خلاف باہم یہ معاہدہ کرلیا تھا کہ قریش اور بنوکنانہ ان سے باہمی مناکحت اور خریدوفروخت نہیں کریں گے تاآنکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کردیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1590، م: 1314
حدیث نمبر: 10970
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ أَبِي عَمَّارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , فِيهِ خُلِقَ آدَمُ , وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ , وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا , وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی اسی دن وہ جنت میں داخل ہوئے اور اسی دن جنت سے باہر نکالے گئے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:854
حدیث نمبر: 10971
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ , وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ , وَعَنِ الظُّرُوفِ كُلِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کدو کی تو نبی کھوکھلی لکڑی کے برتن اور عام برتنوں میں بھی نبیذ کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1993
حدیث نمبر: 10972
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ , وَأَوَّلُ شَافِعٍ , وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میں ہی تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا سب سے پہلے زمین مجھ سے ہی شق ہوگی (سب سے پہلے میری قبر کھلے گی) میں پہلا سفارش کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2278
حدیث نمبر: 10973
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عِيَاضٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ , وَالْقِلَّةِ , وَالذِّلَّةِ , وَأَنْ تَظْلِمَ أَوْ تُظْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فقروفاقہ قلت اور ذلت سے ظالم اور مظلوم بننے سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الجهالة جعفر
حدیث نمبر: 10974
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ , حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ایسا ضرور ہوگا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مقام " فج الروحاء " سے حج یا عمرہ کا احرام باندھیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1252
حدیث نمبر: 10975
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , عَنِ بْنِ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ عُبَيدِ اللَّهِ , عَنْ كَرِيمَةَ ابْنَةِ الْحَسْحَاسِ الْمُزَنِيَّةِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ فِي بَيْتِ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " أَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا هُوَ ذَكَرَنِي , وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد نبوی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے نام پر حرکت کرتے ہیں تو میں اس وقت اس کے قریب ہی ہوتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7405، م: 2675
حدیث نمبر: 10976
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ كَرِيمَةَ ابْنَةِ الْحَسْحَاسِ الْمُزَنِيَّةِ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ , قَالَتْ : حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَنَحْنُ فِي بَيْتِ هَذِهِ يَعْنِي : أُمَّ الدَّرْدَاءِ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْثُرُهُ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ قَالَ : " أَنَا مَعَ عَبْدِي مَا ذَكَرَنِي , وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد نبوی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے نام پر حرکت کرتے ہیں تو میں اس وقت اس کے قریب ہی ہوتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10977
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ رَجُلٍ مِنَ الطُّفَاوَةِ , قََالَ : نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، قََالَ : وَلَمْ أُدْرِكْ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَشَدَّ تَشْمِيرًا , وَلَا أَقْوَمَ عَلَى ضَيْفٍ مِنْهُ , فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ , وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ لَهُ , وَأَسْفَلَ مِنْهُ جَارِيَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ , وَمَعَهُ كِيسٌ فِيهِ حَصًى وَنَوًى , يَقُولُ : سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ , حَتَّى إِذَا أَنْفَذَ مَا فِي الْكِيسِ أَلْقَاهُ إِلَيْهَا , فَجَمَعَتْهُ , فَجَعَلَتْهُ فِي الْكِيسِ , ثُمَّ دَفَعَتْهُ إِلَيْهِ , فَقَالَ لِي : أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى , قَالَ : فَإِنِّي بَيْنَمَا أَنَا أُوعَكُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ , إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ , فَقَالَ : " مَنْ أَحَسَّ الْفَتَى الدَّوْسِيَّ ، مَنْ أَحَسَّ الْفَتَى الدَّوْسِيَّ ؟ " , فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ : هُوَ ذَاكَ يُوعَكُ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ , حَيْثُ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيَّ , وَقَالَ لِي : مَعْرُوفًا , فَقُمْتُ , فَانْطَلَقَ حَتَّى قَامَ فِي مَقَامِهِ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ , وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ صَفَّانِ مِنْ رِجَالٍ , وَصَفٌّ مِنْ نِسَاءٍ , أَوْ صَفَّانِ مِنْ نِسَاءٍ , وَصَفٌّ مِنْ رِجَالٍ , فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ , فَقَالَ : " إِنْ نَسَّانِي الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي , فَلْيُسَبِّحْ الْقَوْمُ , وَلْيُصَفِّقْ النِّسَاءُ " , فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَمْ يَنْسَ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا , فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِ . فَقَالَ : " مَجَالِسَكُمْ , هَلْ فِيكُمْ رَجُلٌ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَغْلَقَ بَابَهُ , وَأَرْخَى سِتْرَهُ , ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُحَدِّثُ , فَيَقُولُ : فَعَلْتُ بِأَهْلِي كَذَا ؟ وَفَعَلْتُ بِأَهْلِي كَذَا ؟ " , فَسَكَتُوا , فَأَقْبَلَ عَلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَ : " هَلْ مِنْكُنَّ مَنْ تُحَدِّثُ " , فَجَثَتْ فَتَاةٌ كَعَابٌ عَلَى إِحْدَى رُكْبَتَيْهَا , وَتَطَالَتْ لِيَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَيَسْمَعَ كَلَامَهَا , فَقَالَتْ : إِي وَاللَّهِ , إِنَّهُمْ لَيُحَدِّثُونَ , وَإِنَّهُنَّ لَيُحَدِّثْنَ , فَقَالَ : " فَهَلْ تَدْرُونَ مَا مَثَلُ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ إِنَّ مَثَلَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ , مَثَلُ شَيْطَانٍ وَشَيْطَانَةٍ , لَقِيَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ بِالسِّكَّةِ , قَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ " . ثُمَّ قَالَ : " أَلَا لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ , وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ , إِلَّا إِلَى وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ " , قَالَ : وَذَكَرَ ثَالِثَةً فَنَسِيتُهَا .
مولانا ظفر اقبال
ابی نضرہ سے روایت ہے کہ مجھ سے طفاوہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں مدینہ منورہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں مہمان ہوا تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے عبادت اور مہمان نوازی میں اس قدر مستعد کسی کو نہیں دیکھا کہ جس قدر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا میں ایک روز ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ابوہریرہ ایک تخت پر تشریف فرما تھے ایک تھیلی (ہاتھ میں) لئے ہوئے کہ جس میں کنکریاں گٹھلیاں بھری ہوئی تھیں اور نیچے ایک سیاہ رنگ کی باندی بیٹھی ہوئی تھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کنکریوں یا گٹھلیوں پر سبحان اللہ پڑھتے تھے جب تمام کنکریاں ختم ہوجاتی تو وہ باندی ان کو جمع کرکے پھر ان کو تھیلی میں ڈال دیتی اور ان کو اٹھا کر دے دیتی (پھر وہ ان کنکریوں پر تسبیح پڑھنا شروع کردیتے) انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں اپنی حالت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک نہ بیان کروں ؟ میں نے کہا ضرور انہوں انہوں نے فرمایا ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں بخار میں تپ رہا تھا کہ اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (قبیلہ) دوس کے نوجوان شخص کو کسی شخص نے دیکھا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یہی فرمایا ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ! (محبت و شفقت سے) اپنا دست مبارک مجھ پر پھیرا اور پیار سے گفتگو فرمائی میں اٹھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ پر پہنچے کہ جہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی جانب چہرہ انور فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مردوں کی دو صفیں تھیں اور ایک صف خواتین کی تھی یا خواتین کی دو صفیں تھیں اور ایک صف مردوں کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے شیطان نماز میں بھلا دے تو مرد سبحان اللہ کہیں اور خواتین ہاتھ پر ہاتھ ماریں راوی نے بیان کیا کہ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی جگہ بھول نہیں ہوئی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام حضرات اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو کیا تم لوگوں میں کوئی ایسا شخص ہے کہ جو اپنی بیوی کے پاس پہنچ کر دروازہ بند کرلیتا ہے اور وہاں پردہ ڈال لیتا ہے پھر باہر نکل کر لوگوں کے سامنے خلوت کی باتیں بیان کرتا ہے ؟ لوگ یہ بات سن کر خاموش ہوگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کی جانب مخاطب ہوئے اور ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایسی خاتون ہے جو دوسری خاتون سے ایسی ایسی باتیں نقل کرتی ہو (یعنی شوہر کے جماع کرنے کی کیفیت بیان کرتی ہو) یہ سن کر خواتین خاموش رہیں اتنے میں ایک خاتون نے گھٹنے زمین پر رکھ کر خود کو اونچا کیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ لیں اور اس کی بات سن لیں اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرد بھی اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں اور خواتین بھی اس بات کا تذکرہ کرتی ہیں (یعنی مرد بھی ایسے ہیں کہ جو بیوی سے جماع کی کیفیت کو دوسروں سے بیان کرتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم لوگ واقف ہو کہ اس بات کی کیا مثال ہے ؟ اس کی مثال یہ ہے کہ شیطان کسی شیطانہ سے راستہ میں ملاقات کرے اور اس سے اپنی خواہش نفسانی پوری کرے اور لوگ اس کو دیکھ رہے ہیں باخبر ہوجاؤ کہ مردوں کی خوشبو یہ ہے کہ اس کی خوشبو معلوم ہو اور اس کا رنگ معلوم نہ ہو اور خواتین کی خوشبو وہ ہے کہ جس کا رنگ معلوم ہو لیکن اس کی خوشبو معلوم نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الطفاوي، ولبعض قطع هذا الحديث طرق وشواهد تقويه
حدیث نمبر: 10978
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , عَنْ شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ , أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ , فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , حَدِّثْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , فَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَلَا إِنَّ الْإِيمَانَ يَمَانٍ , وَالْحِكْمَةَ يَمَانِيَةٌ , وَأَجِدُ نَفَسَ رَبِّكُمْ مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ , وَقَالَ أَبُو الْمُغِيرَةَ : مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ , أَلَا إِنَّ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَقَسْوَةَ الْقَلْبِ فِي الْفَدَّادِينَ , أَصْحَابِ الشَّعْرِ وَالْوَبَرِ , الَّذِينَ يَغْتَالُهُم الشَّيَاطِينُ عَلَى أَعْجَازِ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
شبیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگا کہ اے ابوہریرہ ! ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنایئے چنانچہ انہوں نے ایک حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یاد رکھو ! ایمان بھی اہل یمن میں ہے اور حکمت بھی اور میں یمن کی طرف سے تمہارے رب کی آہٹ محسوس کرتا ہوں اور یاد رکھو ! کفروفسق اور دل کی سختی ان بالوں اور پشم والے لوگوں میں ہوتی ہے جنہیں شیطان اونٹوں کی دموں پر اچک لیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 4388، م: 52، دون قوله: وأجد نفس ربكم من قبل اليمن وفيه نكارة، فقد تفرد به شبيب، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان
حدیث نمبر: 10979
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ أَبُو صَالِحٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ يَعْنِي بْنَ أَبِي الْوَضَّاحِ أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ فِي ذِي الْقَعْدَةِ سَنَةَ سَبْعِينَ , فَذَكَرَ حَدِيثًا , وَذَكَرَ هَذَا , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا تَصَدَّقَ بِتَمْرَةٍ مِنَ الطَّيِّبِ , وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ , وَقَعَتْ فِي يَدِ اللَّهِ , فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ , أَوْ فَصِيلَهُ , حَتَّى تَعُودَ فِي يَدِهِ مِثْلَ الْجَبَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے اور انسان ایک لقمہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک لقمہ پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1410، م: 1014
حدیث نمبر: 10980
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا بْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ النَّارَ , إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ لَوْ أَحْسَنَ , لِيَكُونَ عَلَيْهِ حَسْرَةً , وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ , إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ , لِيَزْدَادَ شُكْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد فرمایا ہر جہنمی کو جنت میں اس کا متوقع ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے اور وہ تمنا کرتا ہے کہ کاش مجھے بھی اللہ نے ہدایت سے سرفراز کیا ہوتا اور وہ اس کے لئے باعث حسرت بن جاتا ہے اسی طرح ہر جنتی کو جہنم میں اس کا متوقع ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں یہاں ہوتا اور پھر وہ اس پر شکر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ:6569
حدیث نمبر: 10981
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا بْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , وَالْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ أَبْنَاءُ عَلَّاتٍ , أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد فرمایا میں دنیا و آخرت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سب سے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء (علیہم السلام) باپ شریک بھائی ہیں اور ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3442، م: 2365
حدیث نمبر: 10982
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ , حَدَّثَنَا بْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا , وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً , الْفِقْهُ يَمَانٍ , وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 10983
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي بْنَ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَحبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ , عَنِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِيمَانُ يَمَانٍ , وَالْفِقْهُ يَمَانٍ , وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4388، م: 52، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، وهو متابع .