حدیث نمبر: 10904
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ , وَيُونُسُ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ يُونُسُ : رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ كَانَ مَلَكُ الْمَوْتِ يَأْتِي النَّاسَ عِيَانًا ، قَالَ : فَأَتَى مُوسَى ، فَلَطَمَهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ , فَأَتَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , فَقَالَ : يَا رَبِّ , عَبْدُكَ مُوسَى فَقَأَ عَيْنِي , وَلَوْلَا كَرَامَتُهُ عَلَيْكَ , لَعَنَّفْتُ بِهِ , وَقَالَ يُونُسُ : لَشَقَقْتُ عَلَيْهِ , فَقَالَ لَهُ : اذْهَبْ إِلَى عَبْدِي ، فَقُلْ لَهُ : فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى جِلْدِ ، أَوْ مَسْكِ ثَوْرٍ ، فَلَهُ بِكُلِّ شَعَرَةٍ وَارَتْ يَدُهُ سَنَةٌ , فَأَتَاهُ , فَقَالَ لَهُ ، فقال : مَا بَعْدَ هَذَا ؟ قَالَ : الْمَوْتُ , قَالَ : فَالْآنَ , قَالَ : فَشَمَّهُ شَمَّةً فَقَبَضَ رُوحَهُ " , قَالَ يُونُسُ : " فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَيْنَهُ , فَكَانَ يَأْتِي النَّاسَ خُفْيَةً " , حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ , قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَام , فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملک الموت پہلے سب کے سامنے آکر روح قبض کیا کرتے تھے چنانچہ جب وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی روح قبض کرنے کے لئے ان کے پاس پہنچے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک طمانچہ مارا ان کی آنکھ پھوڑ دی وہ پروردگار کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ کے بندے نے میری آنکھ پھوڑ دی اگر آپ کی مہربانی ان پر نہ ہوتی تو میں بھی انہیں سخت جواب دیتا اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال أگئے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہوجائے گا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کہ اے پروردگار پھر کیا ہوگا فرمایا پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی چنانچہ ملک الموت نے انہیں کوئی چیز سونگھائی اور ان کی روح قبض کرلی۔
حدیث نمبر: 10905
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ : حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : «كَانَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَذَكَرَهُ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 10906
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَى إِلَى كِتَابِهَا سورة الجاثية آية 28 , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ النَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَقَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ ؟ " , فَقَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ ؟ " وقال عبد الرزَّاق مرَّةً : " لِلقمرِ ليلةَ البَدْرِ ليسَ دُونَه سَحابٌ " , فَقَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ , يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ , فَيَقُولُ : مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ , فَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ , وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ , وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ , وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا , فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ , فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ " , فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ , هَذَا مَكَانُنَا , حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ , فَإِذَا جَاءَنَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ ، قَالَ : " فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ ، فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ رَبُّنَا , فَيَتَّبِعُونَهُ " ، قَالَ : " وَيُضْرَبُ بِجِسْرٍ عَلَى جَهَنَّمَ " . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ , وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ , اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَبِهَا كَلَالِيبُ , مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ " , قَالُوا : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ , غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ , فَمِنْهُمْ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ , وَمِنْهُمْ الْمُخَرْدَلُ , ثُمَّ يَنْجُو حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَرْحَمَ , مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ , فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلَامَةِ آثَارِ السُّجُودِ , وَحَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنَ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ , فَيُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النَّارِ قَدْ امْتَحَشُوا , فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مِنْ مَاءٍ يُقَالُ لَهُ , مَاءُ الْحَيَاةِ , فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ . " وَيَبْقَى رَجُلٌ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ إِلَى النَّارِ , فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ , قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا , وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا , فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ , قَالَ : فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَقُولَ : فَلَعَلَّ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ , فَيَقُولُ : وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ , فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ , ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ : يَا رَبِّ قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ , فَيَقُولُ : أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنَّكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهُ , وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ , فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَقُولَ : فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ , فَيَقُولُ : لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ , وَيُعْطِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهُ فَيُقَرِّبُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ , فَإِذَا دَنَا مِنْهَا انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ , فَإِذَا رَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْحَبْرَةِ وَالسُّرُورِ يَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ , ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ , فَيَقُولُ : أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ , أَوْ قَالَ : فَيَقُولُ : أَوَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عَهْدَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ , فَيَقُولُ : يَا رَبِّ , لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ , فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَضْحَكَ , فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ , أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ فِيهَا , فَإِذَا دَخَلَ قِيلَ لَهُ : تَمَنَّ مِنْ كَذَا , فَيَتَمَنَّى , ثُمَّ يُقَالُ تَمَنَّ مِنْ كَذَا , فَيَتَمَنَّى , حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ , فَيُقَالُ : هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ " , قَالَ : وَأَبُو سَعِيدٍ جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يُغَيِّرُ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ قَوْلِهِ , حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ : " هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ " , قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " هَذَا لَكَ , وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ " , قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : حَفِظْتُ " وَمِثْلُهُ مَعَهُ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا سورج کو دیکھنے میں جبکہ درمیان میں کوئی بادل نہ ہو دشواری ہوتی ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا نہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں جبکہ درمیان میں کوئی بادل بھی نہ ہو کوئی دشواری پیش آتی ہے ؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم اسی طرح اپنے رب کا دیدار کروگے۔ اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرکے فرمائیں گے جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے اور جو چاند کو پوجتا تھا وہ اس کے ساتھ ہوجائے اور جو بتوں اور شیطانوں کی عبادت کرتا تھا وہ انہی کے ساتھ ہوجائے اور اس میں اس امت کے منافق باقی رہ جائیں گے اللہ تعالیٰ ایسی صورت میں ان کے سامنے آئے گا کہ جس صورت میں وہ اسے نہیں پہچانتے ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جب تک ہمارے رب نہ آئے ہم اس جگہ ٹھہرتے ہیں پھر جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں آئیں گے جسے وہ پہچاتے ہوں گے اور کہیں گے کہ میں تمہارا رب ہوں وہ جواب دیں گے بیشک تو ہمارا رب ہے پھر سب اس کے ساتھ ہوجائیں گے اور جہنم کی پشت پر پل صراط قائم کیا جائے گا اور سب سے پہلے اس پل صراط سے گزریں گے رسولوں کے علاوہ اس دن کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور رسولوں کی بات بھی اس دن " اللہم سلم سلم اے اللہ سلامتی رکھ " ہوگی اور جہنم میں سعد ان نامی خاردار جھاڑی کی طرح کانٹے ہوں گے کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کانٹوں کو کوئی نہیں جانتا کہ کتنے بڑے ہوں گے ؟ لوگ اپنے اپنے اعمال میں جھکے ہوئے ہوں گے اور بعض مومن اپنے (نیک) اعمال کی وجہ سے بچ جائیں گے اور بعضوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور بعض پل صراط سے گزر کر نجات پاجائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرکے فارغ ہوجائیں گے اور اپنی رحمت سے دوزخ والوں میں سے جسے چاہیں گے فرشتوں کو حکم دیں گے کہ ان کو دوزخ سے نکال دیں جہنوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا اور ان میں سے جس پر اللہ اپنا رحم فرمائیں اور جو لا الہ الا اللہ کہتا ہوگا فرشتے ایسے لوگوں کو اس علامت سے پہچان لیں گے کہ ان کے (چہروں) پر سجدوں کے نشان ہوں گے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ پر حرام کردیا ہے کہ وہ انسان کے سجدہ کے نشان کو کھائے پھر ان لوگوں کو جلے ہوئے جسم کے ساتھ نکالا جائے گا پھر ان پر آب حیات بہایا جائے گا جس کی وجہ سے یہ لوگ اس طرح تروتازہ ہو کر اٹھیں گے کہ جیسے کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ اگ پڑتا ہے پھر ایک شخص رہ جائے گا کہ جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہوگا اور وہ اللہ سے عرض کرے گا اے میرے پروردگار میرا چہرہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی تپش مجھے جلا رہی ہے وہ دعا کرتا رہے گا پھر اللہ اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمائیں گے کہ میں نے تیرا سوال پورا کردیا تو پھر تو اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا ؟ وہ کہے گا کہ آپ کی عزت کی قسم میں اس کے علاوہ کوئی سوال آپ سے نہیں کروں گا چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو دوزخ سے پھیر دیں گے (اور جنت کی طرف کردیں گے) پھر کہے گا اے میرے پروردگار مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے تو اللہ اس سے کہیں گے کہ کیا تو نے مجھے عہدوپیمان نہیں دیا تھا کہ میں اس کے علاوہ اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا۔ افسوس ابن آدم تو بڑا وعدہ شکن ہے وہ اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ پروردگار فرمائیں گے کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کردوں تو پھر اور تو کچھ نہیں مانگے گا ؟ وہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم میں کچھ اور نہیں مانگوں گا اللہ تعالیٰ اس سے جو چاہیں گے نئے وعدہ کی پختگی کے مطابق عہدوپیمان لیں گے اور اس کو جنت کے دروازے پر کھڑا کردیں گے جب وہ وہاں کھڑا ہوگا تو ساری جنت آگے نظر آئے گی جو بھی اس میں راحتیں اور خوشیاں ہیں سب اسے نظر آئیں گی پھر جب تک اللہ چاہیں گے وہ خاموش رہے گا پھر کہے گا اے پروردگار مجھے جنت میں داخل کردے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ کیا تو نے مجھ سے یہ عہدوپیمان نہیں کیا تھا کہ اس کے بعد اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا وہ کہے گا
حدیث نمبر: 10907
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَقُّ الضِّيَافَةِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ , فَمَا أَصَابَ بَعْدَ ذَلِكَ , فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت (مہمان نوازی) تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ بھی ہے وہ صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 10908
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ , وَمَا بَيْنَ حُجْرَتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہ منبر جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر ہوگا اور میرے حجرے اور میرے منبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔
حدیث نمبر: 10909
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي " . " لَله أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ بِالْفَلَاةِ " , قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : أُرَاهُ ضَالَّتَهُ . " وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا , وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا , فَإِذَا أَقْبَلَ إِلَيَّ يَمْشِي أَقْبَلْتُ إِلَيْهِ أُهَرْوِلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتاہوں اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی جو تم میں سے کسی کو جنگل میں اپنا گمشدہ سامان (یا سواری) ملنے سے ہوتی ہے اور جو شخص ایک ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتاہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتاہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔
حدیث نمبر: 10910
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ , عَنْ أَبِي الْحُبَابِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي ؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي , يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ میرے جلال کی قسم ! آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہیں۔ جگہ عطاء کروں گا۔
حدیث نمبر: 10911
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ , وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ , وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ , وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں، ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 10912
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ , قََالَ : قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " مَا شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَغْنَمًا قَطُّ إِلَّا قَسَمَ لِي , إِلَّا خَيْبَرَ , فَإِنَّهَا كَانَتْ لِأَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ خَاصَّةً , وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ , وَأَبُو مُوسَى , جَاءَا بَيْنَ الْحُدَيْبِيَةِ , وَخَيْبَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس غزوے میں بھی شریک ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس میں سے مال غنیمت کا حصہ ضرور عطاء فرمایا سوائے خیبر کے کہ وہ خاص طور پر اہل حدیبیہ کے لئے تھا یاد رہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ اشعری عزوہ حدیبیہ اور خیبر کے درمیان آئے تھے۔
حدیث نمبر: 10913
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَ طُولُ آدَمَ سِتِّينَ ذِرَاعًا فِي سَبْعِ أَذْرُعٍ عَرْضًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) کا قد لمبائی میں ساٹھ اور چوڑائی میں سات گز تھا۔
حدیث نمبر: 10914
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً , وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ موسي فِيهِ الْحَيَاءُ وَالْخَفَرُ , فَكَانَ يَسْتَتِرُ إِذَا اغْتَسَلَ , فَطَعَنُوا فِيهِ بِعَوْرَةٍ , قَالَ : فَبَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ يَغْتَسِلُ يَوْمًا , إِذْ وَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ , فَانْطَلَقَتْ الصَّخْرَةُ , فَاتَّبَعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ ضَرْبًا بِالْعَصَا : ثَوْبِي يَا حَجَرُ , ثَوْبِي يَا حَجَرُ , حَتَّى انْتَهَتْ بِهِ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , وَتَوَسَّطَتْهُمْ , فَقَامَتْ ، فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ ثِيَابَهُ , فَنَظَرُوا إِلَى أَحْسَنِ النَّاسِ خَلْقًا , وَأَعْدَلِهِمْ صُورَةً , فَقَالَ : الْمَلَأُ , قَاتَلَ اللَّهُ أَفَّاكِي بَنِي إِسْرَائِيلَ , فَكَانَتْ بَرَاءَتُهُ الَّتِي بَرَّأَهُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ برہنہ ہو کر غسل کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھا کرتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) شرم و حیاء کی وجہ سے تنہا غسل کیا کرتے تھے بنی اسرائیل کے لوگ ان پر جسمانی کمزوری کا الزام لگانے لگے ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غسل کرنے کے لئے گئے تو اپنے کپڑے حسب معمول اتار کر پتھر پر رکھ دئیے وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پیچھے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک مجلس کے عین بیچ میں پہنچ کر رک گیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے اپنے کپڑے لے لئے اور لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ سب سے زیادہ حسین اور معتدل جسامت والے تھے وہ لوگ یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ بنی اسرائیل کے تہمت لگانے والوں پر اللہ کی مار ہو یہ وہی برأت تھی جو اللہ نے فرمائی تھی۔
حدیث نمبر: 10915
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَفْضَلُ صَلَاةٍ بَعْدَ الْمَفْرُوضَةِ , صَلَاةُ اللَّيْلِ , وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ , شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ فرض نمازوں کے بعد سب سے زیادہ افضل نماز رات کے درمیانی حصے میں پڑھی جانے والی نماز ہے اور ماہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ افضل روزہ اللہ کے اس مہینے کا ہے جسے تم محرم کہتے ہو۔
حدیث نمبر: 10916
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , وأبي سَلَمة , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ , فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا , فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ , وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا " , فَقَالَ حَمَلُ بْنُ نَابِغَةَ الْهُذَلِيُّ : كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ , وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ ؟ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هُوَ مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ " , مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنوہذیل کی دو عورتوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک نے دوسری کو جو امید سے تھی پتھر دے مارا اور اس عورت کو قتل کردیا اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرا ہوا پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے میں قاتلہ کے خاندان والوں پر مقتولہ کی دیت اور اس کے بچے کے حوالے سے ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا اس فیصلے پر ایک شخص نے اعتراض کرتے ہوئے (مسجع کلام میں) کہا کہ اس بچے کی دیت کا فیصلہ کیسے عقل میں آسکتا ہے جس نے کچھ کھایا پیا اور نہ بولا چلایا اس قسم کی چیزوں کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے بقول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شخص کاہنوں کا بھائی ہے۔
حدیث نمبر: 10917
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ , حَدَّثَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ يَطُوفُ فِي مِنًى , " أَنْ لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ , فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو منیٰ میں گھوم پھر کر یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ ان ایام میں روزہ نہ رکھو ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔
حدیث نمبر: 10918
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ , حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ الْحُرِّ النَّخَعِيُّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ , عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ , فَقَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , هَلَكَ الْأَكْثَرُونَ , إِلَّا مَنْ قَالَ : هَكَذَا وَهَكَذَا , وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " فَمَشَيْتُ مَعَهُ , ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَة تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ " , قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " حَقُّهُ أَنْ يَعْبُدُوهُ , لَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " , ثُمَّ قَالَ : " تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ , فَإِنَّ حَقَّهُمْ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ , أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " , قُلْتُ : أَفَلَا أُخْبِرُهُمْ , قَالَ : " دَعْهُمْ فَلْيَعْمَلُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اہل مدینہ میں سے کسی کے باغ میں چلا جارہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ ! مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ ! کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں فرمایا یوں کہا کرو لاحول ولاقوۃ الاباللہ و لا ملجا من اللہ الا الیہ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر لوگوں کا کیا حق ہے ؟ اور لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ یہ کرلیں تو اللہ پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں لوگوں کو اس سے مطلع نہ کردوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں عمل کرنے دو ۔
حدیث نمبر: 10919
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّ بْنَ حُنَيْنٍ أَخْبَرَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , حَتَّى خَتَمَهَا , فَقَالَ : وَجَبَتْ, قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا وَجَبَتْ ؟ قَالَ : الْجَنَّةُ " , قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ فَأُبَشِّرَهُ , فَآثَرْتُ الْغَدَاءَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَفَرِقْتُ أَنْ يَفُوتَنِي الْغَدَاءُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الرَّجُلِ فَوَجَدْتُهُ قَدْ ذَهَبَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سورت اخلاص کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا واجب ہوگئی لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ ! کیا چیز واجب ہوگئی فرمایا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سوچا اس کے پاس جا کر اسے یہ خوشخبری دے دوں اور اپنا ناشتہ قربان کردوں لیکن پھر مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میرا ناشتہ فوت نہ ہوجائے چنانچہ بعد میں اس آدمی کے پاس پہنچا تو وہ جا چکا تھا۔
حدیث نمبر: 10920
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ سُهَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ بْنِ آدَمَ لَهُ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا ، فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ , وَزِنَا الْيَدَيْنِ الْبَطْشُ , وَزِنَا الرِّجْلَيْنِ الْمَشْيُ , وَزِنَا الْفَمِ الْقُبَلُ , وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى , وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ " , وَحَلَّقَ عَشْرَةً , ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ فِيهَا , يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَحْمُهُ وَدَمُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چنانچہ آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑنا ہے پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اوان کا زنا چل کر جانا ہے منہ بھی زنا کرتا ہے اور اس کا زنا بوسہ دینا ہے دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 10921
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ , قََالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ , نِسَاءُ قُرَيْشٍ , أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ , وَأَرْأَفُهُ بِزَوْجٍ عَلَى قِلَّةِ ذَاتِ يَدِهِ " , ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَقَدْ عَلِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَةَ عِمْرَانَ لَمْ تَرْكَبْ الْإِبِلَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ حضرت مریم (علیہا السلام) نے کبھی اونٹ پر سواری نہیں کی۔
حدیث نمبر: 10922
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي بْنَ أَيُّوبَ مِنْ وَلَدِ جَرِيرٍ , قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُذْكَرُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَفَرَّقُ الْمُتَبَايِعَانِ عَنْ بَيْعٍ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کسی بھی معاملے میں اس وقت تک جدا نہ ہوں جب تک باہمی رضامندی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 10923
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ مِنْ وَلَدِ جَرِيرٍ , قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُذْكَرُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلَدٍ لَهَا مَرِيضٍ يَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ وَالْعَافِيَةِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ مَاتَ لِي ثَلَاثَةٌ , قَالَ : " فِي الْإِسْلَامِ ؟ " , قَالَتْ : فِي الْإِسْلَامِ , فَقَالَ : " ما من مُسلِمٍ يُقَدِّمُ ثَلاثَةً في الإِسلامِ ، لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ يَحْتَسِبُهُمْ , إِلَّا احْتَظَرَ بِحَظِرٍ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (کی زندگی) کے لئے دعاء فرما دیجئے کہ میں اس سے پہلے اپنے تین بچے دفنا چکی ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پوچھا زمانہ اسلام میں ؟ اس نے کہا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین نابالغ بچے زمانہ اسلام میں فوت ہوں، اس نے جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو خوب بچا لیا۔
حدیث نمبر: 10924
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ , قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ , وَرَبَّ الْأَرَضِينَ , وَرَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ , فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى , مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ , أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ , أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ , اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ , وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے کے لئے آتے تو یوں فرماتے کہ اسے ساتوں آسمانوں۔ زمین اور ہر چیز کے رب دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے اللہ تورات انجیل اور قرآن نازل کرنے والے میں ہر شریر کے شر سے جس کی پیشانی آپ کے قبضے میں ہے آپ کی پناہ میں آتا ہوں آپ اول ہیں آپ سے پہلے کچھ نہیں آپ آخر ہیں آپ کے بعد کچھ نہیں آپ ظاہر ہیں آپ سے اوپر کچھ نہیں آپ باطن ہیں آپ سے پیچھے کچھ نہیں میرے قرضوں کو ادا فرمائیے اور مجھے فقروفاقہ سے بےنیاز فرما دیجئے۔
حدیث نمبر: 10925
حَدَّثَنَا حَسَن , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ , وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ , مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ , وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ , وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں خواہ وہ نماز روزہ کرتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔
حدیث نمبر: 10926
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , وَهَاشِمٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ زِيَادِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ , يَنْقُصُ الْعِلْمُ , وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " , قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل عرب کے لئے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ لگا ہے علم کم ہوجائے گا اور ہرج کی کثرت ہوجائے گی میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل۔
حدیث نمبر: 10927
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , وَهَاشِمٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ , قََالَ : سَمِعْتُ مَرْوَانَ يَقُولُ : لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيُوشِكَنَّ رَجُلٌ يَتَمَنَّى أَنَّهُ خَرَّ مِنْ عِنْدِ الثُّرَيَّا , وَأَنَّهُ لَمْ يَلِ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا " . قََالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ هَلَاكَ الْعَرَبِ عَلَى أيْدِي غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ " , قَالَ : فَقَالَ مَرْوَانُ لَبِئْسَ الْغِلْمَةُ أُولَئِكَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ مروان نے کہا کہ اے ابوہریرہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان یہ تمنا کرے گا کاش وہ ثریا ستارے کی بلندی سے گر جاتا لیکن کاروبار حکومت میں سے کوئی ذمہ داری اس کے حوالے نہ کی جاتی۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عرب کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھوں ہوگی مروان کہنے لگا واللہ وہ تو بدترین نوجوان ہوں گے۔
حدیث نمبر: 10928
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , قََالَ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغَارُ , وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ , وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے اور غیرت الٰہی کا یہ حصہ ہے کہ انسان ایسی چیزوں سے اجتناب کرے جنہیں اللہ نے اس پر حرام قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 10929
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , عَنْ أَبَانَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْمُؤْمِنُ يَغَارُ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 10930
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلُّونَ بِكُمْ , فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ وَلَهُمْ , وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ تمہیں نماز پڑھاتے ہیں اگر صحیح پڑھاتے ہیں تو تمہیں بھی ثواب ملے گا اور انہیں بھی اور اگر کوئی غلطی کرتے ہیں تو تمہیں ثواب ہوگا اور اس کا گناہ ان کے ذمے ہوگا۔
حدیث نمبر: 10931
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ , وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ , وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ كَمَا بَيْنَ قُدَيْدٍ إِلَى مَكَّةَ , وَكَثَافَةُ جِلْدِهِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا بِذِرَاعِ الْجَبَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن کافر کی ایک ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کی کھال کی چوڑائی ستر گز ہوگی اور اس کی ران ورقان پہاڑ کے برابر ہوگی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ قدید اور مکہ کے درمیانی فاصلے جتنی ہوگی اور اس کی کھال کی موٹائی جبار کے حساب سے بیالیس گز ہوگی۔
حدیث نمبر: 10932
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ الضَّرِيرُ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً , إِنَّ لَهُ لَسَبْعَ دَرَجَاتٍ , وَهُوَ عَلَى السَّادِسَةِ , وَفَوْقَهُ السَّابِعَةُ , وَإِنَّ لَهُ لَثَلَاثَ مِائَةِ خَادِمٍ , وَيُغْدَى عَلَيْهِ وَيُرَاحُ كُلَّ يَوْمٍ بِثَلَاثُ مِائَةِ صَحْفَةٍ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : مِنْ ذَهَبٍ فِي كُلِّ صَحْفَةٍ لَوْنٌ لَيْسَ فِي الْأُخْرَى , وَإِنَّهُ لَيَلَذُّ أَوَّلَهُ كَمَا يَلَذُّ آخِرَهُ , وَمِنَ الْأَشْرِبَةِ ثَلَاثُ مِئَةِ إِنَاءٍ ، فِي كُلِّ إِنَاءٍ لَوْنٌ لَيْسَ فِي الْآَخْرِ , وَإِنَّهُ لَيَلَذُّ أَوَّلَهُ كَمَا يَلَذُّ آخِرَهُ , وَإِنَّهُ لَيَقُولُ : يَا رَبِّ , لَوْ أَذِنْتَ لِي لَأَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ وَسَقَيْتُهُمْ , لَمْ يَنْقُصْ مِمَّا عِنْدِي شَيْءٌ , وَإِنَّ لَهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَاثْنَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً , سِوَى أَزْوَاجِهِ مِنَ الدُّنْيَا , وَإِنَّ الْوَاحِدَةَ مِنْهُنَّ لَيَأْخُذُ مَقْعَدُهَا قَدْرَ مِيلٍ مِنَ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت میں سب سے کم درجے کے جنتی کے لئے سات درجے ہوں گے جن میں سے چھٹے پر وہ خود ہوگا اور اس کے اوپر سا تو اں درجہ ہوگا اس کے پاس تین سو خادم ہوں گے ہر روز صبح و شام اس کے سامنے تین سو ڈشیں پیش کی جائیں گی ہر ڈش کا رنگ دوسری سے مختلف ہوگا اور وہ پہلی اور آخری ڈش سے یکساں لذت اندوز ہوگا (اسی طرح مشروبات کے تین سو برتن ہوں ہر برتن کا رنگ دوسرے سے جدا ہوگا اور وہ پہلے اور آخری برتن سے یکساں لطف اندوز ہوگا) اور وہ عرض کرے گا کہ پروردگار ! اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام اہل جنت کی دعوت کروں اور اس میں میرے پاس جتنی چیزیں موجود ہیں کسی کی کمی محسوس نہ ہو اور اسے دنیوی بیویوں کے علاوہ 72 حورعین دی جائیں گی جن میں سے ہر ایک کی رہائش زمین کے ایک میل کے برابر ہوگی۔
حدیث نمبر: 10933
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , وَشَرِيكٌ , عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَمَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ , فَقَالَ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قََالَ : وَفِي حَدِيثِ شَرِيكٍ , ثُمَّ قََالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ , فَلَا يَخْرُجْ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء محاربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دی ایک آدمی اٹھا اور مسجد سے نکل گیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس آدمی نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جب تم مسجد میں ہو اور اذان ہوجائے تو مسجد سے نماز پڑھے بغیر نہ نکلا کرو۔
حدیث نمبر: 10934
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ , قََالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ , فَلَا يَخْرُجْ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ " .
حدیث نمبر: 10935
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ , حَتَّى تَهَوَّرَ اللَّيْلُ , فَذَهَبَ ثُلُثُهُ أَوْ قَرَابَتُهُ , ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ , فَإِذَا النَّاسُ عِزُونَ , وَإِذَا هُمْ قَلِيلٌ , قَالَ : فَغَضِبَ غَضَبًا مَا أَعْلَمُ أَنِّي رَأَيْتُهُ غَضِبَ غَضَبًا قَطُّ أَشَدَّ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا دَعَا النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ , أَتَوْهُ لِذَلِكَ وَلَمْ يَتَخَلَّفُوا , وَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ , لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ , وَأَتَّبِعَ هَذِهِ الدُّورَ الَّتِي تَخَلَّفَ أَهْلُوهَا عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ ، فَأُضْرِمَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو اتنامؤخر کردیا کہ قریب تھا کہ ایک تہائی رات ختم ہوجاتی، پھر وہ مسجد میں تشریف لائے تو لوگوں کو متفرق گروہوں میں دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید غصہ آیا اور فرمایا اگر کوئی آدمی لوگوں کے سامنے ایک ہڈی یا دو کھروں کی پیشکش کرے تو وہ ضرور اسے قبول کرلیں، لیکن نماز چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے رہیں گے، میں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ جو لوگ نماز سے ہٹ کر اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ان کی تلاش میں نکلے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دے۔
حدیث نمبر: 10936
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ , يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُ جُرْحِهِ لَوْنُ الدَّمِ , وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 10937
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ , قََالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْتَ الَّذِي تَنْهَى النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوا فِي نِعَالِهِمْ ؟ قََالَ : هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ , هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ , لَقَدْ " رَأَيْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى هَذَا الْمَقَامِ فِي نَعْلَيْهِ , ثُمَّ انْصَرَفَ وَهُمَا عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
زیاد حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ وہی ہیں جو لوگوں کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنے سے روکتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اسی جگہ پر کھڑے ہو کر جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے اور واپس جاتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 10938
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَمَمْتُمْ النَّاسَ فَخَفِّفُوا , فَإِنَّ فِيهِمْ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَالصَّغِيرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بچے سب ہی ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 10939
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ " , قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ , فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا , وَاغْدُوا وَرُوحُوا , وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ , وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے لہذا تم راہ راست پر رہو۔ لیکن صراط مستقیم کے قریب رہو صبح و شام نکلو رات کا کچھ وقت عبادت کے لئے رکھو اور میانہ روی اختیار کرو منزل مقصد تک پہنچ جاؤگے۔
حدیث نمبر: 10940
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , وَهَاشِمٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمْرٌ , وَلَمْ يَغْسِلْهُ , فَأَصَابَهُ شَيْءٌ , فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے ہاتھ پر چکنائی کے اثرات ہوں اور وہ انہیں دھوئے بغیر ہی سوجائے جس کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو ملامت کرے (کہ کیوں ہاتھ دھوکر نہ سویا)
حدیث نمبر: 10941
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔
حدیث نمبر: 10942
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ , فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔
حدیث نمبر: 10943
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَقَارَبَ الزَّمَانُ , فَتَكُونَ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ , وَيَكُونَ الشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ , وَتَكُونَ الْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ , وَيَكُونَ الْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ , وَتَكُونَ السَّاعَةُ كَاحْتِرَاقِ السَّعَفَةِ الْخُوصَةُ " , زَعَمَ سُهَيْلٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک زمانہ قریب نہ آجائے چنانچہ سال مہینے کی طرح مہینہ ہفتہ کی طرح ہفتہ دن کی طرح دن گھنٹے کی طرح اور گھنٹہ چنگاری سلگنے کے بقدر رہ جائے گا۔
…