حدیث نمبر: 10864
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ , تَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ , وَدَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دو بڑے عظیم لشکروں میں جنگ نہ ہوجائے ان دونوں کے درمیان خوب خونریزی ہوگی اور دونوں کا دعوی ایک ہی ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10864
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6935، م: 157
حدیث نمبر: 10865
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْبَعِثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ , كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تیس کے قریب دجال وکذاب لوگ نہ آجائیں جن میں سے ہر ایک کا گمان یہی ہوگا کہ وہ اللہ کا پیغمبر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10865
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7121، م: 157، 7342
حدیث نمبر: 10866
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ ، فَيَقُولَ : يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ ، مَا بِهِ حُبُّ لِقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک (ایسانہ ہوجائے گا) ایک آدمی دوسرے کی قبر پر سے گذرے گا اور کہے گا کہ اے کاش میں تیری جگہ ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10866
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7115، م: 157، 7301
حدیث نمبر: 10867
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ , اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ , لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ , فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعاء کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرمادے مجھ پر رحم فرمادے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعاء کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی نہیں کرنے والا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10867
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
حدیث نمبر: 10868
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي , لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10868
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 887، م: 252
حدیث نمبر: 10869
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْهِ قَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ , إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ , فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي بَطْنِهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی بہترین لباس زیب تن کرکے نازوتکبر کی چال چلتا ہوا جا رہا تھا اسے اپنے بالوں پر بڑا عجب محسوس ہورہا تھا اور اس نے اپنی شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10869
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5789، م:2088
حدیث نمبر: 10870
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ ذَكْوَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُكْلَمُ عَبْدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ , يَجِيءُ جُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ , وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10870
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2803، م: 1876
حدیث نمبر: 10871
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الْمَدَنِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ لَا يَدَعُهَا النَّاسُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ : النِّيَاحَةُ , وَالتَّعَايُرُ فِي الْأَحْسَابِ , وَقَوْلُهُمْ : سُقِينَا بِنَوْءِ كَذَا ، وَالْعَدْوَى : جَرِبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِئَةً , فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے۔ حسب نسب میں عار دلانا، میت پر نوحہ کرنا، بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور بیماری کو متعدی سمجھنا، ایک اونٹ خارش زدہ ہوا اور اس نے سو اونٹوں کو خارش میں مبتلا کردیا، تو پہلے اونٹ کو خارش زدہ کس نے کیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10871
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10872
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَالِمٍ , قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ , يَقُولُ : إِنِّي لَشَاهِدٌ يَوْمَ مَاتَ الْحَسَنُ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ , فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي , وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے در حقیقت وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان دونوں سے بغض رکھتا ہے درحقیقت وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10872
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10873
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قََالَ : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ ، عَتَقَ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی کسی غلام میں شراکت ہو اور وہ اپنے حصے کے بقدر اسے آزاد کردے تو اگر وہ مالدار ہے تو اس کی مکمل جان خلاصی کرانا اس کی ذمہ داری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10873
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2492، م: 1503
حدیث نمبر: 10874
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ , فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اقامت ہونے کے بعد وقتی فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10874
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 710
حدیث نمبر: 10875
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ , عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ , قََالَ : كَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُرْمُزَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يَذْكُرُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً يَحْمِلُ مِنْ عُلُوِّهَا , وَحَثَا فِي قَبْرِهَا , وَقَعَدَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَهُ , آبَ بِقِيرَاطَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ , كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی جنازہ کے ساتھ شریک ہو اسے کندھا دے قبر میں مٹی ڈالے اور دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10875
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالله، وأما أصل الحديث فصحيح، انظر: خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 10876
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَمِعَ الشَّيْطَانُ الْمُنَادِيَ يُنَادِي بِالصَّلَاةِ , خَرَجَ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الصَّوْتَ , فَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ , فَإِذَا أُخَذَ فِي الْإِقَامَةِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے پھر جب اقامت شروع ہوتی ہے تو دوبارہ بھاگ جاتا ہے اور اقامت مکمل ہونے پر پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10876
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 389
حدیث نمبر: 10877
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ , صَلَاةُ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ , وَصَلَاةُ الْفَجْرِ , وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا , لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا , وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ إِذَا وَجَدَ عَرْقًا مِنْ شَاةٍ سَمِينَةٍ , أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ , لَأَتَيْتُمُوهَا أَجْمَعِينَ , لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ , ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ , ثُمَّ آخُذَ حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ , فَآتِيَ الَّذِينَ تَخَلَّفُوا عَنِ الصَّلَاةِ , فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ " , وَحَدَّثَنَاه أَبُو مُعَاوِيَةَ , وَابْنُ نُمَيْرٍ , وَهَذَا أَتَمُّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فجر اور عشاء کی نمازیں منافقین پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں اور اگر انہیں ان دونوں کا ثواب پتہ چل جائے تو وہ ان میں ضرور شرکت کریں اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل چل کر ہی آنا پڑے میرا دل چاہتا ہے مؤذن کو اذان کا حکم دوں اور ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کردے، پھر اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے جاؤں جن کے ہمراہ لکڑی کے گٹھے ہوں اور وہ ان لوگوں کے پاس جائیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے ان کے گھروں میں آگ لگا دیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10877
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 657، م:651
حدیث نمبر: 10878
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ يَعْنِي بْنَ غَالِبٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْإِيمَانُ بِاللَّهِ , وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " , قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : تُعِينُ ضَائِعًا ، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ , فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " احْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ , فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا اس نے پوچھا کہ اگر میں اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہوں تو ؟ فرمایا پھر اپنے آپ کو شر اور گناہ کے کاموں سے بچا کر رکھو کیونکہ یہ بھی ایک عمدہ صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دوگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10878
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 26، م: 83
حدیث نمبر: 10879
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبَّادٍ السَّدُوسِيُّ , قََالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَنْ يُقْرَأَ بِالسَّمَوَاتِ فِي الْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء کی نماز میں ان سورتوں کی تلاوت کا حکم دیا گیا تھا جو لفظ والسماء سے شروع ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10879
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف أبى المهزم
حدیث نمبر: 10880
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا حَرْبٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , أَخْبَرَنَا بَابُ بْنُ عُمَيْرٍ الْحَنَفِيُّ , حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ , أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُتْبَعُ الْجِنَازَةُ بِصَوْتٍ ، وَلَا نَارٍ , وَلَا يُمْشَى بَيْنَ يَدَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنازے کے ساتھ آگ اور آوازیں (باجے) نہ لے کر جایا جائے اور نہ ہی اس کے آگے چلا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10880
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الرجل المدني وأبيه
حدیث نمبر: 10881
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ الضَّحَّاكِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ قَاعِدًا , وَلَا يَحْبِسُهُ إِلَّا انْتِظَارُ الصَّلَاةِ , وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ , اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ , مَا لَمْ يُحْدِثْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے راوی نے بےوضو ہونے کا مطلب پوچھا تو فرمایا آہستہ سے یا زور سے ہوا خارج ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10881
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ:445،م:649
حدیث نمبر: 10882
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ , حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ , عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ : " مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ ، إِنْسَانًا قَدْ سَمَّاهُ " , قَالَ الضَّحَّاكُ : فَحَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّهُ قَالَ : " صَلَّيْتُ وَرَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلِ , فَرَأَيْتُهُ يُطَوِّلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ , وَيُخِفُّ الْأُخْرَيَيْنِ , وَيُخَِفُّ الْعَصْرَ , وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ , وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَمَا يَشْبَهُهَا , ثُمَّ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِالطُّوَلِ مِنَ الْمُفَصَّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے مشابہہ ہو سوائے فلاں شخص کے راوی کہتے ہیں کہ وہ نماز ظہر میں پہلی دو رکعتوں کو نسبتا لمبا اور آخری دو رکعتوں کو مختصر پڑھتا تھا عصر کی نماز ہلکی پڑھتا تھا مغرب میں قصار مفصل میں سے کسی سورت کی تلاوت کرتا عشاء میں اوساط مفصل میں سے اور نماز فجر میں طوال مفصل میں سے قرأت کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10882
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 10883
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ , عَنْ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , أَوْ رَوْحَةٌ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک صبح یا شام اللہ کی راہ میں جہاد کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10883
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2793، م: 1882
حدیث نمبر: 10884
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ , أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10884
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10885
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْفِرْيَابِيَّ بِمَكَّةَ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلام کو مختصر کرنا سنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10885
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف قرة
حدیث نمبر: 10886
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْمَعْ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا , وَلَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ خَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 10887
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي بْنَ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي بْنَ الْحُصَيْنِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے سلام کے بعد کئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10887
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573
حدیث نمبر: 10888
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ مَالِكٍ , وَبْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنْصِتْ ، فَقَدْ لَغَوْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10888
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 10889
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ بَزَقَ فِي الْمَسْجِدِ , فَلْيَحْفِرْ فَلْيُبْعِدْ , وَإِلَّا بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسجد میں تھوکے تو اسے چاہئے کہ وہ دور چلا جائے اگر ایسا نہ کرسکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10889
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده حسن، خ: 416، م: 550
حدیث نمبر: 10890
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الْأَشْعَرِيِّ , قََالَ : سَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ , فَقََالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمُ عِيدٍ , فَلَا تَجْعَلُوا يَوْمَ عِيدِكُمْ يَوْمَ صِيَامٍ , إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عامر اشعری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جمعہ کا دن عید کا دن ہوتا ہے اس لئے عید کے دن روزہ نہ رکھا کرو الاّ یہ کہ اس کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ بھی رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10890
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 1985، م: 1144
حدیث نمبر: 10891
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعٍ مُتَّكِئًا عَلَى يَدِي , فَطَافَ فِيهَا , ثُمَّ رَجَعَ فَاحْتَبَى فِي الْمَسْجِدِ , وَقَالَ : " أَيْنَ لَكَاعِ ؟ ادْعُوا لِي لَكَاعًا " , فَجَاءَ الْحَسَنُ ، فَاشْتَدَّ حَتَّى وَثَبَ فِي حَبْوَتِهِ , فَأَدْخَلَ فَمَهُ فِي فَمِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ " , ثَلَاثًا ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا رَأَيْتُ الْحَسَنَ إِلَّا فَاضَتْ عَيْنِي , أَوْ دَمَعَتْ عَيْنِي , أَوْ بَكَيتُ شَكَّ الْخَيَّاطُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنوقینقاع کے بازار میں میرے ہاتھ سے سہارا لگائے ہوئے نکلے وہاں کا چکر لگا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے صحن میں پہنچ کر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو آوازیں دینے لگے او بچے او بچے۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ آگئے وہ آتے ہی دوڑتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت فرما حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جب بھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10891
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 239، م: 282
حدیث نمبر: 10892
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ، ثُمَّ يُتَوَضَّأُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے کہ پھر اس سے وضو کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10892
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 239، م: 282
حدیث نمبر: 10893
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , قََالَ : وَحَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , عَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ بْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , وَبْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ الْإِقَامَةَ فَامْشُوا وَلَا تُسْرِعُوا , وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ , فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا , وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا " , وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ : " فَأْتُوا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10893
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 10894
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَجَاءَ مَعَ الرَّسُولِ , فَذَاكَ لَهُ إِذْنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو بلایا جائے اور وہ قاصد کے ساتھ ہی آجائے تو یہ اس کے لئے اجازت ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10894
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، أما قوله: اللهم إني أحبه فأحبه وأحب من يحبه صحيح، خ: 2122، م: 2421
حدیث نمبر: 10895
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي بْنَ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , قََالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ , وَمَا يَرَى أَنَّهَا تَبْلُغُ حَيْثُ بَلَغَتْ , يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات انسان کوئی بات کرتا ہے وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں ستر سال تک جہنم میں لڑھکتا رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6478، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10896
قََالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٍ , عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ ، وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ ، فَأَخَّرَهُ , فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ , فَغَفَرَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اللہ نے اس کی قدردانی کی اور اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 652، م: 1914
حدیث نمبر: 10897
وَقََالَ : " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ : الْمَطْعُونُ , وَالْمَبْطُونُ , وَالْغَرِقُ , وَصَاحِبُ الْهَدْمِ , وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا شہداء کی پانچ قسمیں ہیں طاعون میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہو کر مرنا بھی شہادت ہے اور عمارت کے نیچے دب کر مرنا بھی شہادت ہے، جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 653، م: 1915
حدیث نمبر: 10898
وَقََالَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا لَهُمْ فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوْلِ , ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ , لَاسْتَهَمُوا , وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ , لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ , وَلَوْ عَلِمُوا مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ , لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور صف اول میں نماز کا کیا ثواب ہے اور پھر انہیں یہ چیزیں قرعہ اندازی کے بغیر حاصل نہ ہو سکیں تو وہ ان دونوں کا ثواب حاصل کرنے کے لئے قرعہ اندازی کرنے لگیں اور اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ جلدی نماز میں آنے کا کتنا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کرنے لگیں اور اگر انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ نماز عشاء اور نماز فجر کا کتنا ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرورت شرکت کریں خواہ انہیں گھسٹ گھسٹ کر ہی آنا پڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 615، م:437
حدیث نمبر: 10899
قََالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ , وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391
حدیث نمبر: 10900
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي بْنَ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ ، وَمَا يَرَى أَنَّهَا تَبْلُغُ حَيْثُ بَلَغَتْ , يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6478، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10901
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ فِي صَلاةٍ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ لَا يَحْبِسُهُ إِلَّا انْتِظَارُ الصَّلَاةِ , وَالْمَلَائِكَةُ مَعَهُ تَقُولُ : اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ , اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ , مَا لَمْ يُحْدِثْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بےوضونہ ہوجائے راوی نے بےوضو ہونے کا مطلب پوچھا تو فرمایا آہستہ سے یا زور سے ہوا خارج ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي ، خ: 445، م: 649
حدیث نمبر: 10902
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , أَوْ رَوْحَةٌ , خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " , أَوْ " الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک صبح یا شام اللہ کی راہ میں جہاد کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2793، م: 1882
حدیث نمبر: 10903
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , وَأَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ , قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ لُوطٌ : لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً , أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ " , قَالَ : " قَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ , وَلَكِنَّهُ عَنَى عَشِيرَتَهُ , فَمَا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْدَهُ نَبِيًّا , إِلَّا بَعَثَهُ فِي ذِرْوَةِ قَوْمِهِ " , قَالَ أَبُو عُمَرَ : " فَمَا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيًّا بَعْدَهُ , إِلَّا فِي مَنَعَةٍ مِنْ قَوْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوان لی بکم قوۃ۔۔۔۔ کی تفسیر میں فرمایا حضرت لوط (علیہ السلام) کسی مضبوط ستون " کا سہارا ڈھونڈ رہے تھے ان کے بعد اللہ نے جو نبی بھی مبعوث فرمایا انہیں اپنی قوم کے صاحب ثروت لوگوں میں سے بنایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ:3387،م:151