حدیث نمبر: 10784
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ - وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ - : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : «أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ» فَذَكَرَهُ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعیف کسابقہ،وانظر ماقبلہ
حدیث نمبر: 10785
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى , وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى , وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " , قَالَ : سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا مَنْ تَعُولُ ؟ قَالَ : امْرَأَتُكَ تَقُولُ : أَطْعِمْنِي أَوْ أَنْفِقْ عَلَيَّ شَكَّ أَبُو عَامِرٍ أَوْ طَلِّقْنِي ، وَخَادِمُكَ يَقُولُ : أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي , وَابْنَتُكَ تَقُولُ : إِلَى مَنْ تَذَرُنِي ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کرے) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم صدقہ کرنے میں ان لوگوں سے ابتداء کیا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ذمہ داری والے افراد کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا تمہاری بیوی کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ مجھے طلاق دے دو خادم کہتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کردو اولاد کہتی ہے کہ آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 5355
حدیث نمبر: 10786
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , عَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشِعْبٍ فِيهِ عُيَيْنَةُ مَاءٍ عَذْبٍ ، فَأَعْجَبَهُ طِيبُهُ ، فَقَالَ : لَوْ أَقَمْتُ فِي هَذَا الشِّعْبِ فَاعْتَزَلْتُ النَّاسَ , وَلَا أَفْعَلُ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَا تَفْعَلْ , فَإِنَّ مَقَامَ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاةِ سِتِّينَ عَامًا خَالِيًا ، أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ الْجَنَّةَ ؟ اغْزُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ , وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک صحابی کا کسی ایسی جگہ سے گذر ہوا جہاں پر میٹھے پانی کا چشمہ تھا اور انہیں وہاں کی آب وہوا بھی اچھی لگی انہوں نے سوچا کہ میں یہیں رہائش اختیار کر کے خلوت گزیں ہوجاتا ہوں پھر انہوں نے سوچا کہ نہیں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا چنانچہ انہوں نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کا جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہونا اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتے ہوئے ساٹھ سال تک مسلسل عبادت کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور تم جنت میں داخل ہوجاؤ ؟ اللہ کی راہ میں جہاد کرو جو شخص اونٹنی کے تھن میں دودھ اترنے کی مقدار کے برابر بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10787
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ خِلَاسٍ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً وَلَمْ يَكُنْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ , " فَأَمَرَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان ایک جانور کے بارے میں جھگڑا ہوگیا لیکن ان میں سے کسی کے پاس بھی اپنی ملکیت ثابت کرنے کے لئے گواہ نہیں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کرنے کا حکم دیا (جس کے نام قرعہ نکل آئے وہ قسم کھالے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10787
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح،خ:2674
حدیث نمبر: 10788
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ , قََالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا , يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُقْبَضُ الْعِلْمُ , وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ , وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " , قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ بِيَدِهِ : هَكَذَا , يَعْنِي : الْقَتْلَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علم کو اٹھا نہ لیا جائے فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا نبی اللہ ! ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل قتل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10788
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: وإسناده حسن، خ: 7061، م: 2672
حدیث نمبر: 10789
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ , وَلَا يُنَجِّيهِ مِنَ النَّارِ " ، قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَفَضْلٍ " , مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل کرکے جہنم سے نجات نہیں دلاسکتا جب تک کہ اللہ کا فضل و کرم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یارسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ دہرایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10789
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح،خ:5673، م: 2816
حدیث نمبر: 10790
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي ، قََالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا طِيَرَةَ ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ " , قِيلَ : وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : " الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے البتہ " فال " سب سے بہتر ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! فال سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا اچھا کلمہ جو تم میں کوئی سنے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10790
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح،خ:5755، م: 2223،وھذا إسناد ضعیف لضعف النعمان
حدیث نمبر: 10791
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , قََالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يَزِيدَ الْأَيْلِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا , وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَكْرَهَهُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ , وَتَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں تم محسوس کروگے کہ ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں اور تم اس معاملے میں اس آدمی کو سب سے بہترین پاؤگے جو اس دین میں داخل ہونے سے پہلے بھی معزز تھا اور تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10791
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحیح،خ:2493،م:2526
حدیث نمبر: 10792
حَدَّثَنَا وَهْبٌ , حَدَّثَنَا أَبِي ، قََالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ , وَيَفِيضُ الْمَالُ , وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ , وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " , قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ قریب آجائے گا مال پانی کی طرح بہنے لگے گا فتنوں کا ظہور ہوگا اور " ہرج " کی کثرت ہوجائے گی کسی نے پوچھا کہ ہرج کا کیا معنی ہے ؟ فرمایا قتل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10792
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحیح،خ:7061،م:2672
حدیث نمبر: 10793
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجَاوَزُوا فِي الصَّلَاةِ , فَإِنَّ خَلْفَكُمْ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ " , قَالَ : وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ , عَنْ عَبْدِ الِلَّهِ , بِمِثْلِ ذَلِكَ , قََالَ : وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ , عَنْ عَبْدِ اللهِ , مِثْلَ ذَلِكَ ، قََالَ : وَحَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ تمہارے پیچھے نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور ضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحیح،خ؛803،م:467
حدیث نمبر: 10794
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ هِشَامٍ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَوَجَدَ رَجُلٌ عِنْدَهُ مَالَهُ ، وَلَمْ يَكُنْ اقْتَضَى مِنْ مَالِهِ شَيْئًا ، فَهُوَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2402، م: 1559، وهذا إسناد منقطع، الحسن االبصری لم یسمع من أبی ھریرۃ
حدیث نمبر: 10795
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلِ الْمَدِينَةِ , فَقَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , أَوْ يَا أَبَا هِرٍّ , هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ , إِنَّ الْمُكْثِرِينَ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , إِلَّا مَنْ قَالَ : بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا , وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " . " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ " . " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ , وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا , وَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اہل مدینہ میں سے کسی کے باغ میں چلا جارہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ ! مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں پھر کچھ دیرچلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ ! کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں فرمایا یوں کہا کرو لاحول ولاقوۃ الا باللہ و لاملجا من اللہ الا الیہ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر لوگوں کا کیا حق ہے ؟ اور لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ یہ کرلیں تو اللہ پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 10796
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا تَدَابَرُوا , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے تجارت نہ کرے آپس میں قطع رحمی نہ کرو ایک دوسرے کو تجارت میں دھوکہ نہ دو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کررہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6724،م:2563
حدیث نمبر: 10797
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَإِذَا لَقِيتُمْ الْمُشْرِكِينَ بِالطَّرِيقِ , فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ , وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم مشرکین سے راستے میں ملو تو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحیح،م: 2167
حدیث نمبر: 10798
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ , عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَفْضُلُ الصَّلَاةُ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ , بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 648، م: 649
حدیث نمبر: 10799
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ يَسَافٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْحَنَفِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى صَلَاةِ رَجُلٍ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ اس آدمی کی نماز پر نظر بھی نہیں فرماتا جو رکوع اور سجدے کے درمیان اپنی کمر کو سیدھا نہیں کرتا۔ (اطمینان سے ارکان ادا نہیں کرتا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث حسن،وھذا إسناد مختلف فیہ،عامر: مختلف فیہ
حدیث نمبر: 10800
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي بْنَ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ سَلْمَانَ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُبَيِّتُ الْقَوْمَ بِالنِّعْمَةِ , ثُمَّ يُصْبِحُونَ وَأَكْثَرُهُمْ كَافِرُونَ , يَقُولُونَ : مُطِرْنَا بِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا " , قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، فَقَالَ : وَنَحْنُ قَدْ سَمِعْنَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں پر رات کے وقت اپنی نعمت (بارش) برساتا ہے اور صبح کے وقت اکثر لوگ اس کی ناشکری کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم پر فلاں ستارے کی تاثیر سے بارش ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 72
حدیث نمبر: 10801
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي بْنَ مُحَمَّدٍ , عَنْ وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا , اسْتَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ , كُلَّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرمادیں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2517، م: 1509
حدیث نمبر: 10802
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ , فَإِذَا هُمْ عِزُونَ مُتَفَرِّقُونَ , فَغَضِبَ غَضَبًا مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ غَضَبًا قَطُّ أَشَدَّ مِنْهُ , ثُمَّ قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَادَى النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَأَتَوْهُ لِذَلِكَ , وَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّلَاةِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ , ثُمَّ أَتْبَعَ أَهْلَ هَذِهِ الدُّورِ الَّتِي يَتَخَلَّفُ أَهْلُهَا عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ , فَأُضْرِمَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو اتنا مؤخر کردیا کہ قریب تھا کہ ایک تہائی رات ختم ہوجاتی، پھر وہ مسجد میں تشریف لائے تو لوگوں کو متفرق گروہوں میں دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید غصہ آیا اور فرمایا اگر کوئی آدمی لوگوں کے سامنے ایک ہڈی یا دو کھروں کی پیشکش کرے تو وہ ضرور اسے قبول کرلیں، لیکن نماز چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے رہیں گے، میں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ جو لوگ نماز سے ہٹ کر اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ان کی تلاش میں نکلے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 10803
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا قُطْبَةُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ , فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا , أَوْ آوَى مُحْدِثًا , فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ , لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ حرم ہے جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفل قبول نہ کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 657، م: 651
حدیث نمبر: 10804
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ لَهُ رَجُلٌ أَنْتَ الَّذِي تَنْهَى النَّاسَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ؟ قََالَ : فَقَالَ : هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْكَعْبَةِ , هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْكَعْبَةِ ثَلَاثًا , لَقَدْ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَصُومُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحْدَهُ إِلَّا فِي أَيَّامٍ مَعَهُ " . وَلَقَدْ " رَأَيْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ نَعْلَاهُ , وَيَنْصَرِفُ وَهُمَا عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
زیاد حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ ہی لوگوں کو جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں بخدا ! اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کوئی شخص صرف جمعہ کا روزہ نہ رکھے، الاّ یہ کہ وہ اس کا معمول میں آجائے پھر دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا آپ وہی ہیں جو لوگوں کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنے سے روکتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اسی جگہ پر کھڑے ہو کر جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے اور واپس جاتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1371
حدیث نمبر: 10805
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ , حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَنْبِذُوا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا ، وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا , وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ عَلَى حِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے۔ ایک کھجور اور ایک انگور۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کشمش اور کھجور کچی اور پکی کو ملا کر نبیذ مت بناؤ البتہ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بنا سکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره،خ:1985،م:1144،وھذا إسناد ضعیف،شریک سیی الحفظ،وزیادالحارثی: لا یعرف
حدیث نمبر: 10806
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ : حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : «الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ : النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ»
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ:1985
حدیث نمبر: 10807
وَقَالَ رَسُولَ اللهِ: لَا تَنْبِدُوا التَّمْرَ وَالذَّبِيبَ جَمِيعًا ، وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا ، وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ عَلَى حِدَةٍ»
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن،م:1989
حدیث نمبر: 10808
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ لَهِيعَةَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ , حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ قَيْصَرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى بَعَّدَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جَهَنَّمَ , كَبُعْدِ غُرَابٍ طَارَ وَهُوَ فَرْخٌ حَتَّى مَاتَ هَرِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی رضاء کے لئے ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ اسے جہنم سے اتنا دور کردیتا ہے جتنی مسافت ایک کوے کی ہوتی ہے جو بچپن سے اڑنا شروع کرے اور بڑھاپے کی حالت میں پہنچ کر مرے۔ فائدہ۔ کوا طویل عمر کے لئے مشہور ہے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوا اپنی ساری عمر میں اڑ کر جتنی مسافت طے کرتا ہے ایک روزے کی برکت سے روزہ دار اور جہنم کے درمیان اتنی مسافت حائل کردی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعیف،لعلل
حدیث نمبر: 10809
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهُنَّ النَّاسُ : النِّيَاحَةُ عَلَى المْيَتِ ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ , وَالْأَنْوَاءُ , يَقُولُ الرَّجُلُ : سُقِينَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا , وَالْإِعْدَاءُ أُجْرِبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِائَةً , فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جہنیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے حسب نسب میں عار دلانا میت پر نوحہ کرنا بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور بیماری کو متعدی سمجھنا ایک اونٹ خارش زدہ ہوا اور اس نے سو اونٹوں کو خارش میں مبتلا کردیا تو پہلے اونٹ کو خارش زدہ کس نے کیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعیف لاختلاط المسعودی
حدیث نمبر: 10810
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةَ رَحْمَةٍ , فَجَعَلَ مِنْهَا رَحْمَةً فِي الدُّنْيَا تَتَرَاحَمُونَ بِهَا , وَعِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً , فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ضَمَّ هَذِهِ الرَّحْمَةَ إِلَى التِّسْعَةِ وَالتِّسْعِينَ رَحْمَةً , ثُمَّ عَادَ بِهِنَّ عَلَى خَلْقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سورحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام زمین والوں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ نے اپنے اولیاء کے لئے رکھ چھوڑی ہیں پھر اللہ اس ایک رحمت کو بھی لے کر ان ننانوے رحمتوں کے ساتھ ملا دے گا اور قیامت کے دن اپنے اولیاء پر پوری سو رحمتیں فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح،م:2752،وھذا إسناد ضعیف من أجل مؤمل، لکنہ متابع
حدیث نمبر: 10811
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ , عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ , وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ , وَإِسْرَافِي , وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے تھے اے اللہ میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر سب گناہوں اور حد تجاوز کرنے کو معاف فرما اور ان گناہوں کو بھی معاف فرما جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح لغیرہ،وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10812
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ , عَنْ أَبِيهِ مَعْبَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ , أَنَّه سَمَعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ " أَوْصَانِي بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى ، وَبِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) چاشت کی دو رکعتوں کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ:1178،م821
حدیث نمبر: 10813
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ الْقُرَشِيُّ , أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ , فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَإِنَّهُ كُفْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنے آباؤ اجداد سے اعراض نہ کرو کیونکہ اپنے باپ (کی طرف نسبت) سے اعراض کرنا کفر ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحیح،خ:6767،م:62
حدیث نمبر: 10814
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ دَخَلَ مَسْجِدَنَا هَذَا , يَتَعَلَّمُ خَيْرًا أَوْ يُعَلِّمُهُ , كَانَ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَمَنْ دَخَلَهُ لِغَيْرِ ذَلِكَ , كَانَ كَالنَّاظِرِ إِلَى مَا لَيْسَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہماری مسجد میں خیر سیکھنے سکھانے کے لئے داخل ہو وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور جو کسی دوسرے مقصد کے لئے آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسی چیز کو دیکھنے لگے جسے دیکھنے کا اسے کوئی حق نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف، اختلف فى إسناد على سعيد المقبري، وأبو صخر: مختلف فيه
حدیث نمبر: 10815
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ , أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ أَخْبَرَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ , إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی مجھے سلام کرتا ہے اللہ تعالیٰ میری روح کو واپس لوٹا دیتا ہے اور میں خود اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10816
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي بْنَ أَبِي أَيُّوبَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِ مِنْ نَفْسِهِ , مَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ , وَلَا ضَيَاعَ عَلَيْهِ , فَلْيُدْعَ لَهُ وَأَنَا وَلِيُّهُ , وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِلْعَصَبَةِ مَنْ كَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص قرض یا بچے چھوڑ کر جائے اس کی نگہداشت میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده جيد، خ: 6745، م: 1619
حدیث نمبر: 10817
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ , عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا , أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 10818
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى , وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى , وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " . فَقِيلَ : مَنْ أَعُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " امْرَأَتُك مِمَّنْ تَعُولُ , تَقُولُ : أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَارِقْنِي , وَجَارِيَتُكَ تَقُولُ : أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي , وَوَلَدُكَ يَقُولُ : إِلَى مَنْ تَتْرُكُنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کرے) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم صدقہ کرنے میں ان لوگوں سے ابتداء کیا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ذمہ داری والے افراد کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا تمہاری بیوی کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ مجھے طلاق دے دو خادم کہتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کردو اولاد کہتی ہے کہ آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: القسم الأول من الحدیث صحیح،وأماالقسم الثانی فھو قولہ: امرأتک تقول۔۔۔۔۔۔ فالصحیح أنہ موقوف،خ:5355
حدیث نمبر: 10819
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , وَأَبُو عُبَيْدَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ خَلَقَ كَخَلْقِي ! فَلْيَخْلُقُوا بَعُوضَةً , وَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً " , قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : يَخْلُقُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ایک مکھی یا ایک جو کا دانہ پیدا کرکے دکھائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسنادحسن، خ: 7559، م: 2111
حدیث نمبر: 10820
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ , وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص انصار سے محبت کرتا ہے اللہ اس سے محبت کرتا ہے اور جو انصار سے بغض رکھتا ہے اللہ اس سے نفرت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح الغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10821
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُهُ عَلَى الصَّلَاةِ إِذَا حَجَّ أَوْ اعْتَمَرَ , " فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ , فَيُكَبِّرُ خَلْفَ الرُّكُوعِ وَخَلْفَ السُّجُودِ , فَإِذَا انْصَرَفَ قََالَ : إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں بعض اوقات مروان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے نماز پڑھانے کے لئے چھوڑ جاتا تھا جب وہ حج یا عمرے کے لئے جاتا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رکوع اور سجدے سے پہلے تکبیر کہتے اور نماز سے فارغ ہو کر فرماتے کہ میں نماز میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 785، م: 392
حدیث نمبر: 10822
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کرلیں جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں تو سمجھ لیں کہ انہوں نے مجھ سے اپنی جان مال کو محفوظ کرلیا سوائے اس کے حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 21
حدیث نمبر: 10823
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ سُهَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ , ثُمَّ رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2179