حدیث نمبر: 10744
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو صَالِحٍ , قََالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ , وَذَكَرَ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ قَدْ فَارَقَنِي عَلَى أَنَّهُ لَا يَشْرَبُ النَّبِيذَ " .
مولانا ظفر اقبال
شعیب بن حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ کو حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے فرمایا وہ مجھ سے اس شرط پر جدا ہوئے ہیں کہ نبیذ نہیں پئیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: شعیب ثقة
حدیث نمبر: 10745
سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ : أَشْهَدُ عَلَى سُفْيَانَ أَنِّي سَأَلْتُهُ , أَوْ سُئِلَ عَنِ النَّبِيذِ , فَقَالَ : " كُلْ تَمْرًا , وَاشْرَبْ مَاءً , يَصِيرُ فِي بَطْنِكَ نَبِيذًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن سعدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ میں نے یا کسی اور نے ان سے نبیذ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کھجوریں کھا کر اوپر سے پانی پی لے پیٹ میں جا کر وہ خود ہی نبیذ بن جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إبراهيم ثقة، وسفيان: هو الثوري
حدیث نمبر: 10746
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ : كَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَضْرِبُ فِي الريح. معنى هذا الأثر : إذا وجد من رجل ريح شراب)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: معنی ھذا الأثر: إذا وجد من رجل ریح شراب
حدیث نمبر: 10747
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , يَعْنِي , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ، ثُمَّ اجْتَهَدَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " , قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : ثُمَّ جَهَدَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 291، م: 348
حدیث نمبر: 10748
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اسے کپڑے کے دونوں کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لینے چاہئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 360، م: 516
حدیث نمبر: 10749
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَحَثَّ عَلَيْهِ , فَقَالَ رَجُلٌ : عِنْدِي كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَمَا بَقِيَ فِي الْمَجْلِسِ رَجُلٌ , إِلَّا قَدْ تَصَدَّقَ بِمَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بِهِ ، كَانَ لَهُ أَجْرُهُ كَامِلًا ، وَمِنْ أُجُورِ مَنْ اسْتَنَّ بِهِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنْ اسْتَنَّ شَرًّا فَاسْتُنَّ بِهِ , فَعَلَيْهِ وِزْرُهُ كَامِلًا , وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِي اسْتَنَّ بِهِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کے لئے گمراہی کا طریقہ رائج کرے گا لوگ اس کی پیروی کریں تو اسے اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور ان کے گناہ میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے گی اور جو شخص لوگوں کے لئے ہدایت کا طریقہ رائج کرے لوگ اس کی پیروی کریں تو اسے اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور ان کے ثواب میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2674
حدیث نمبر: 10750
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ اللَّمْسِ وَالنِّبَاذِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی خریدو فروخت بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2145، م: 1511
حدیث نمبر: 10751
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً ، ثُمَّ طَلَعَتْ الشَّمْسُ , فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو طلوع آفتاب سے قبل نماز فجر کی ایک رکعت مل جائے تو اس کے ساتھ دوسری رکعت بھی شامل کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10751
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
حدیث نمبر: 10752
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , قََالَ : سَمِعْتُ أَبِي , يَذْكُرُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ , فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ , فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ الْمَاءَ حَتَّى أَرْوَاهُ , فَشَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ , فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی کی نظر ایک کتے پر پڑی جو پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا تھا اس نے اپنے موزے کو پانی سے بھرا اور اسے منہ سے پکڑ لیا اور باہر نکل کر کتے کو وہ پانی پلادیا اللہ نے اس کے اس عمل کی قدر دانی فرمائی اور اسے جنت میں داخل فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10752
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 173، م: 2244
حدیث نمبر: 10753
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَوْكٍ , فَنَحَّاهُ عَنِ الطَّرِيقِ , فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ , فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اللہ نے اس کی قدردانی فرمائی اور اسے جنت میں داخل فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 652، م: 1914
حدیث نمبر: 10754
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ . وَالخَفَّافُ , قال : أَخْبَرَنا هشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ قَنَتَ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِينَ يُوسُفَ " , وَقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ : " كَسِنِي يُوسُفَ " , وَقَالَ فِيهَا كُلِّهَا : " نَجِّ نَجِّ " , وَقَالَ أَبُو عَامِرٍ كُلِّهَا : " اللَّهُمَّ نْجِّ نْجِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10754
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4560، م: 675
حدیث نمبر: 10755
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا بِيَوْمَيْنِ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو، البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10755
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082
حدیث نمبر: 10756
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : إِذَا بَقِيَ ثُلُثُ اللَّيْلِ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : " مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرْ لَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَرْزِقُنِي أَرْزُقْهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَكْشِفُ الضُّرَّ أَكْشِفْهُ ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ " , قَالَ أَبُو عَامِرٍ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں ؟ کون ہے جو مجھ کو رزق طلب کرے کہ میں اسے رزق عطا کروں ؟ کون ہے جو مصائب دور کرنے کی درخواست کرے کہ میں اس مصائب دور کروں ؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1145، م: 758، وهذا إسناد ضعيف الجهالة أبى جعفر، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10757
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : أَبُو عَامِرٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الْإِيمَانِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ ، وَغَزْوَةٌ لَيْسَ فِيهَا غُلُولٌ ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل اللہ پر ایسا ایمان ہے جس میں کوئی شک نہ ہو اور ایسا جہاد ہے جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حج مبرور اس سال کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10757
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 26، م: 83، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى جعفر
حدیث نمبر: 10758
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عن أَبي مُزَاحمٍ ، عن أبي هريرة , قََالَ : عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَبِي مُزَاحِمٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً وَصَلَّى عَلَيْهَا ، فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ انْتَظَرَ حَتَّى يَقْضِيَ قَضَاءَهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ قَالَ : " أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دو قیراط کی وضاحت دریافت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے ایک احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10758
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1325، م: 945، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى مزاحم
حدیث نمبر: 10759
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , أَخْبَرَنَا يَعْنِي هِشَامٌ , عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي عَلِيٍّ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , رَفَعَهُ , قََالَ : عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " وَيْلٌ لِلْوُزَرَاءِ , لَيَتَمَنَّى أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا ، يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ , وَأَنَّهُمْ لَمْ يَلُوا عَمَلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امراء چوہدریوں اور حکومتی اہلکاروں کے لئے ہلاکت ہے یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ ان کی چوٹیاں ثریا ستارے سے لٹکی ہوتیں اور یہ آسمان و زمین کے درمیان تذبذب کا شکار ہوتے لیکن ذمہ داری پر کام نہ کیا ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10759
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10760
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي بْنَ الْمُغِيرَةِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قََالَ : بَلَغَنِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ بِالْحَسَنَةِ الْوَاحِدَةِ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ , قَالَ : فَقُضِيَ أَنِّي انْطَلَقْتُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا , فَلَقِيتُهُ ، فَقُلْتُ : بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّكَ تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ الْحَسَنَةَ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ " , قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَا , بَلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِيهِ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ , ثُمَّ تَلَا يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 40 , فَقَالَ : إِذَا قَالَ : أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 40 , فَمَنْ يَقْدُرُ قَدْرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان نہدی رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ فرماتے ہیں ایک نیکی پر بڑھاچڑھا کر دس لاکھ نیکیوں کا ثواب بھی مل سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہورہا ہے ؟ بخدا ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ ایک نیکی کو دوگنا کرتے کرتے بیس لاکھ نیکیوں کے برابر بنا دیتا ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ اللہ اسے دوگنا کردیتا ہے اور اس پر اجر عظیم عطاء فرماتا ہے جب اللہ نے اجر کو عظیم کہا ہے تو اس کی مقدار کون جان سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10760
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف علي
حدیث نمبر: 10761
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ ، سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10761
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2699
حدیث نمبر: 10762
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ سُهَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَهُوَ شَهِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے طاعون میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے اور اللہ کے راستہ میں مرنا بھی شہادت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10762
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 653، م: 1914
حدیث نمبر: 10763
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , قََالَ : عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ , قََالَ : أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ : " اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا , وَبِكَ أَمْسَيْنَا , وَبِكَ نَحْيَا , وَبِكَ نَمُوتُ , وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت یہ دعاء کرتے تھے کہ اے اللہ ہم نے آپ کے نام کے ساتھ صبح کی آپ کے نام کے ساتھ ہی شام کریں گے آپ کے نام ہی سے ہم زندگی اور موت پاتے ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹ آنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10763
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10764
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , أَخْبَرَنِي مَنْ , سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيَرْعَفَنَّ عَلَى مِنْبَرِي جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَةِ بَنِي أُمَيَّةَ , يَسِيلُ رُعَافُهُ " ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي مَنْ رَأَى عَمْرَو بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَعَفَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى سَالَ رُعَافُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میرے اس منبر پر بنو امیہ کے ظالموں میں سے ایک ظالم قابض ہوجائے گا۔ اور اس کی نکسیر چھوٹ جائے گی راوی کہتے ہیں کہ عمرو بن سعید کو دیکھنے والوں نے بتایا ہے کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر بیٹھا تو اس کی نکسیر پھوٹ پڑی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10764
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف علي، ولإبهام الراوي عن أبى هريرة
حدیث نمبر: 10765
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ , حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَزَلَ بَيْنَ ضَجَنَانِ , وَعُسْفَانَ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : إِنَّ لِهَؤُلَاءِ صَلَاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْكَارِهُمْ وَهِيَ الْعَصْرُ , فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً ، وَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ ، فَيُصَلِّيَ بِبَعْضِهِمْ ، وَتَقُومَ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى وَرَاءَهُمْ ، وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ، ثُمَّ تَأْتِي الْأُخْرَى فَيُصَلُّونَ مَعَهُ ، وَيَأْخُذُ هَؤُلَاءِ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ لِتَكُونَ لَهُمْ رَكْعَةً رَكْعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا مشرکین نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان لوگوں کو اپنی نماز عصر اپنے آباؤ اجداد اور اپنی بیویوں سے بھی زیادہ محبوب ہے اس لئے تم اس وقت اکٹھے ہو کر حملہ کردینا تاکہ وہ ایک دفعہ ہی میں شکست خوردہ ہوجائیں ادھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو دو گروہوں میں کھڑا کرنے کے لئے کہا تاکہ ایک گروہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا دیں اور دوسرا ان کے پیچھے دشمن کے سامنے ڈٹا رہے اور وہ اپنا حفاظتی سامان اور اسلحہ اپنے ساتھ رکھے پھر دوسرا گروہ آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ لے اور پہلا گر وہ اپنا حفاظتی سامان اور اسلحہ اپنے ساتھ رکھے اس طرح ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہوجائے گی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں رکعتیں مکمل ہوجائیں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10765
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 10766
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ يَعْنِي الْعَنْبَرِيَّ , عَنِ الْقَلُوصِ , أَنَّ شِهَابَ بْنَ مُدْلِجٍ نَزَلَ الْبَادِيَةَ ، فَسَابَّ ابْنُهُ رَجُلًا ، فَقَالَ : يَا بْنَ الَّذِي تَعَرَّبَ بِهَذِهِ الْهِجْرَةِ ، فَأَتَى شِهَابٌ الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ النَّاسِ رَجُلَانِ رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَهْبِطَ مَوْضِعًا يَسُوءُ الْعَدُوَّ ، وَرَجُلٌ بِنَاحِيَةِ الْبَادِيَةِ يُقِيمُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَيُؤَدِّي حَقَّ مَالِهِ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ " , فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ , قَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ , فَأَتَى بَادِيَتَهُ فَأَقَامَ بِهَا .
مولانا ظفر اقبال
قلوص کہتے ہیں کہ شہاب بن مدلج ایک دیہات میں پہنچے وہاں پڑاؤ کیا اس دوران ان کے بیٹے نے کسی کو گالی دے دی وہ کہنے لگا کہ اے اس شخص کے بیٹے جو ہجرت کے بعد عرب بنا پھر شہاب مدینہ منورہ پہنچے وہاں ان کی ملاقات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں میں دو آدمی سب سے افضل ہیں ایک تو وہ آدمی جو راہ اللہ میں جہاد کرے یہاں تک کہ ایسی جگہ جا اترے جس سے دشمن کو خطرہ ہو اور دوسرا وہ آدمی جو کسی دیہات کے کنارے میں رہتا ہو پانچ نمازیں پڑھتا اپنے مال کا حق ادا کرتا ہو اور موت تک اپنے رب کی عبادت کرتا رہے۔ یہ سن کر شہاب اپنے دونوں گھٹنوں کے بل جھکے اور کہنے لگے کہ اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا آپ نے یہ حدیث خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ! اس پر شہاب اپنے گاؤں واپس آکر وہیں مقیم ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10766
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 1889، وهذا إسناد ضعيف لجهالة القلوص
حدیث نمبر: 10767
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الوَزَّاعِ , عَنْ أَبِي أُمَيْنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , وَسَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا لَنَا : " انْطَلِقُوا إِلَى مَسْجِدِ التَّقْوَى , فَانْطَلَقْنَا نَحْوَهُ ، فَاسْتَقْبَلْنَاهُ يَدَاهُ عَلَى كَاهِلِ أَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ، فَثُرْنَا فِي وَجْهِهِ , فَقَالَ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , وَأَبُو هُرَيْرَةَ , وَسَمُرَة .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہمیں بتایا کہ وہ مسجد تقویٰ (مسجدقباء) کی طرف گئے ہیں ہم وہاں روانہ ہوگئے راستے میں ہمارا سامنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ حضرت ابوبکر صدیق و عمر رضی اللہ عنہ کے کندھوں پر تھے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر ! یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا کہ عبداللہ بن عمر ابوہریرہ اور سمرہ ہیں رضی اللہ عنہ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10767
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى هلال ولجهالة أبى أمين
حدیث نمبر: 10768
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , قََالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , وَعَذَابِ النَّارِ , وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ , وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " , قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ : " وَشَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میں عذاب جہنم عذاب قبر، زندگی اور موت کی آزمائش اور مسیح دجال کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10768
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
حدیث نمبر: 10769
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الْأَذَانَ , فَإِذَا قُضِيَ الْأَذَانُ أَقْبَلَ , فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ , فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ يَخْطِرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ أَوْ قَالَ : نَفْسِهِ يَقُولُ : اذْكُرْ كَذَا ، اذْكُرْ كَذَا , لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ , حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى , فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ صَلَّى , ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا , فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے پھر جب اقامت شروع ہوتی ہے تو دوبارہ بھاگ جاتا ہے اور اقامت مکمل ہونے پر پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کرو فلاں بات یاد کرو اور وہ باتیں یاد کراتا ہے جو اسے پہلے یاد نہ تھیں حتی کہ انسان کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتی پڑھی ہیں جب کسی کے ساتھ ایسا ہو تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10769
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1231، م: 389
حدیث نمبر: 10770
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ ، كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدْ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثَدْيَيْهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا , فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ حَتَّى تَغْشَى أَنَامِلَهُ ، وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ ، قَلَصَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ وَأَخَذَتْ بِمَكَانِهَا , قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِإِصْبَعَيْهِ فِي جُبَّتِهِ ، فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلَا تُوَسَّعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنجوس اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن کے جسم پر چھاتی سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک لوہے کے دو جبے ہوں خرچ کرنے والا جب بھی کچھ خرچ کرتا ہے تو اسی کے بقدر اس جبے میں کشادگی ہوتی جاتی ہے اور وہ اس کے لئے کھلتا جاتا ہے اور کنجوس آدمی کی جکڑ بندی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دو انگلیوں سے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا ہے کاش ! تم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ دیکھ سکتے جسے وہ کشادہ کر رہے تھے لیکن وہ ہو نہیں رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10770
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5797، م:1021
حدیث نمبر: 10771
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ : دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ , وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ , وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک و شبہ نہیں مظلوم کی دعاء مسافر کی دعا اور باب کی دعا اپنے بیٹے کی متعلق دعاء۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10771
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وإسناده ضعيف أبو جعفر: مجهول
حدیث نمبر: 10772
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنِ الْعَلَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح ہوں گے اعمال صالحہ کی طرف سبقت کرلو اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مومن اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے سازوسامان کے عوض فروخت کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10772
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 118
حدیث نمبر: 10773
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعُنُ الشَّيْطَانُ بِإِصْبَعِهِ فِي جَنْبِهِ حِينَ يُولَدُ إِلَّا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ , ذَهَبَ يَطْعُنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان کچوکے لگاتا ہے جس کی وجہ سے ہر پیدا ہونے والا بچہ روتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ایسا نہیں ہوا شیطان انہیں کچوکے لگانے کے لئے گیا تو تھا لیکن وہ کسی اور درمیان میں حائل چیز ہی کو لگا آیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10773
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3286، م: 2366
حدیث نمبر: 10774
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُ فَاصْبِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دشمن سے سامنا ہونے کی تمنا نہ کرو اور جب سامنا ہوجائے تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10774
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: معلقا: 3026، م: 1741
حدیث نمبر: 10775
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَسُرَيْجٌ , الْمَعْنَى , قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ خَامَةِ الزَّرْعِ مِنْ حَيْثُ أَتْتَهَا الرِّيحُ كَفَتْهَا ، فَإِذَا سَكَنَتْ اعْتَدَلَتْ ، وَكَذَلِكَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ يَتَكَفَّأُ بِالْبَلَاءِ ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ صَمَّاءُ مُعْتَدِلَةٌ ، يَقْصِمُهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی مثال کھیتی کی طرح ہے کہ کھیت پر بھی ہمیشہ ہوائیں چل کر اسے ہلاتی رہتی ہیں اور مسلمان پر بھی ہمیشہ مصیبتیں آتی ہیں اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو خود حرکت نہیں کرتا بلکہ اسے جڑ سے اکھیڑ دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10775
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5644، م: 2809
حدیث نمبر: 10776
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ , وَلَكِنْ افْسَحُوا يَفْسَحْ اللَّهُ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی دوسرے شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے بلکہ کشادگی پیدا کرلیا کرو اللہ تمہارے لئے کشادگی فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10776
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10777
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ , وَيُتَّقَى بِهِ , فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى وَعَدَلَ , فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا , وَإِنْ أَمَرَ بِغَيْرِ ذَلِكَ , فَإِنَّ عَلَيْهِ مَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حکمران ڈھال ہوتا ہے اس کے پیچھے لڑا جاتا ہے اور اس کے ذریعے تقویٰ اختیار کیا جاتا ہے اگر وہ تقویٰ اور انصاف پر مبنی حکم دیتا ہے تو اس پر اسے ثواب ملے گا اور اگر اس کے علاوہ کوئی غلط حکم دیتا ہے تو اس پر اس کا وبال ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10777
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2957، م: 1841
حدیث نمبر: 10778
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ رَقِيَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ ، فَوَجَدَهُ يَتَوَضَّأُ ، فَرَفَعَ فِي عَضُدَيْهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ , فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ هِيَ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوء " ، مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ ، لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
نعیم بن عبداللہ ایک مرتبہ مسجد کی چھت پر چڑھ کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے جو کہ وضو کررہے تھے انہوں نے اپنے بازوؤں کو کہنیوں سے بھی اوپر تک دھویا ہوا تھا پھر وہ میری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن میری امت کے لوگ وضو کے نشانات سے روشن اور چمکدار پیشانی والے ہوں گے اس لئے تم میں سے جو شخص اپنی چمک بڑھا سکتا ہو اسے ایسا کرلینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10778
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:246
حدیث نمبر: 10779
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَسُرَيْجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ مَعْمَرٍ وَهُوَ أَبُو طُوَالَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً ؟ رَجُلٌ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً بَعْدَهُ ؟ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غَنَمٍ أَوْ غُنَيْمَةٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ , وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ , وَيَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں مخلوق میں سب سے بہتر آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے اللہ کے راستہ میں نکل پڑا ہو اور جہاں ضرورت ہو وہ اس پر سوار ہوجائے کیا میں تمہیں اس کے بعد والے درجے پر فائز آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا کیوں نہیں فرمایا وہ آدمی جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہو نماز قائم کرتا اور زکوٰۃ ادا کرتا ہو اللہ کی عبادت کرتا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:1889
حدیث نمبر: 10780
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَسُرَيْجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي بْنَ مَعْمَرٍ أَبُو طُوَالَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : " أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي ؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ میرے جلال کی قسم ! آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہیں۔ جگہ عطاء کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:2566
حدیث نمبر: 10781
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ , أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجُعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتَنَ " , وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ , مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ , وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ , النَّاسُ بَنُو آدَمَ , وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ کی نگاہوں میں وہ اس بکری سے بھی زیادہ حقیر ہوں گے جس کے جسم سے بدبو آنا شروع ہوگئی ہو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا تعصب اور اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرنا دور کردیا ہے اب یا تو کوئی شخص متقی مسلمان ہوگا یا بدبخت گناہگار ہوگا سب لوگ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم (علیہ السلام) کی پیدائش مٹی سے ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10782
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي ، وَلَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ بِالْفَلَاةِ ، وَمَنْ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا , وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا , وَإِذَا أَقْبَلَ إِلَيَّ يَمْشِي أَقْبَلْتُ أُهَرْوِلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جو تم میں سے کسی کو جنگل میں اپنا گمشدہ سامان (یا سواری) ملنے سے ہوتی ہے اگر وہ ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتاہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح،خ5755،5717 م: 2747،2223،2220
حدیث نمبر: 10783
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ , حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ , أَخْبَرَنِي أَبِي , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ هَذَا , بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَرَّ بِالْمُسْلِمِينَ شَهْرٌ قَطُّ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْهُ , وَمَا مَرَّ بِالْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ قَطُّ أَشَرُّ لَهُمْ مِنْهُ , بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَيَكْتُبُ أَجْرَهُ وَنَوَافِلَهُ , وَيَكْتُبُ إِصْرَهُ وَشَقَاءَهُ , مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ , وَذَاكَ لِأَنَّ الْمُؤْمِنَ يُعِدُّ فِيهِ الْقُوَّةَ مِنَ النَّفَقَةِ لِلْعِبَادَةِ , وَيُعِدُّ فِيهِ الْمُنَافِقُ ابْتِغَاءَ غَفَلَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَوْرَاتِهِمْ , فَهُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ " , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ , حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ " , فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مہینہ تم پر سایہ فگن ہوا ہے پیغمبر اللہ قسم کھاتے ہیں کہ مسلمانوں پر ماہ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ سایہ فگن نہیں ہوتا اور منافقین پر رمضان سے زیادہ سخت کوئی مہینہ نہیں آتا اللہ تعالیٰ اس کے آنے سے پہلے اس کا اجر اور نوافل لکھنا شروع کردیتا ہے اور منافقین کا گناہوں پر اصرار اور بدبختی بھی پہلے سے لکھنا شروع کردیتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں عبادت کے لئے طاقت مہیا کرتے ہیں اور منافقین لوگوں کی غفلتوں اور عیوب کو تلاش کرتے ہیں گویا یہ مہینہ مسلمان کے لئے غنیمت ہے جس پر گناہ گار لوگ رشک کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعیف لضعف کثیر