حدیث نمبر: 10704
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بيِ ، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7505، م: 2675
حدیث نمبر: 10705
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کیونکہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 10706
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ شَاةً طُبِخَتْ , فقال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطِنِي الذِّرَاعَ " , فَنَاوَلَهَا إِيَّاهُ ، فَقَالَ : " أَعْطِنِي الذِّرَاعَ " , فَنَاوَلَهَا إِيَّاهُ , ثُمَّ قَالَ : " أَعْطِنِي الذِّرَاعَ " , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّكَ لَوْ الْتَمَسْتَهَا لَوَجَدْتَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بکری کا گوشت پکایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ایک دستی دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی دے دی گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمالی اس کے بعد فرمایا مجھے ایک اور دستی دو وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی تناول فرمالیا اور فرمایا کہ مجھے ایک اور دستی دو کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ایک بکری میں دو ہی تو دستیاں ہوتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو تلاش کرتا تو ضرور نکل آتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10706
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 10707
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ , فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ , فَقَالَ : هَاهْ , فَإِنَّ ذَلِكَ شَيْطَانٌ يَضْحَكُ مِنْ جَوْفِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی سے نفرت کرتا ہے۔ لہٰذا جب آدمی جمائی لینے کے لئے منہ کھول کر ہاہا کرتا ہے تو وہ شیطان ہوتا ہے جو اس کے پیٹ میں سے ہنس رہا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10707
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3289، م: 2995
حدیث نمبر: 10708
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ : دَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ , وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ , وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک وشبہ نہیں مظلوم کی دعاء اور باپ کی اپنے بیٹے کے متعلق دعاء اور مسافر کی دعا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10708
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وإسناده ضعيف لجهالة أبى جعفر
حدیث نمبر: 10709
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَمْرُ فِي هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور انگور۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10709
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:1985
حدیث نمبر: 10710
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَمْرُ فِي هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور انگور۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10710
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10711
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ الضَّمْرِيِّ الْمَدَنِيِّ , قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ , يَقُولُ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلَا أَمَةٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ , وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مرد و عورت اس منبر کے قریب جھوٹی قسم کھائے اگرچہ ایک تر مسواک ہی کے بارے میں کیوں نہ ہو اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10711
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10712
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10712
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 10713
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَر , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُغِيثٍ , أَوْ مُعَتِّبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ فِي الشَّفَاعَةِ ؟ قَالَ : لَقَدْ ظَنَنْتُ لَتَكُونَنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَنِي مِمَّا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ ، " شَفَاعَتِي لِمَنْ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا , يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ , وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھا کہ شفاعت کے بارے آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہی گمان تھا کہ اس چیز کے متعلق میری امت میں سب سے پہلے تم ہی سوال کروگے کیونکہ میں علم کے بارے تمہاری حرص دیکھ رہا ہوں اور میری شفاعت ہر اس شخص کے لئے ہوگی جو خلوص دل کے ساتھ لا الہ الہ اللہ کی گواہی دیتا ہو اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10713
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6570، وهذا إسناد منقطع، يزيد لم يسمعه من معاوية
حدیث نمبر: 10714
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ ثَابِتٍ الزُّرَقِيِّ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ : أَخَذَتْ النَّاسَ الرِّيحُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ , فَاشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ , فَقَالَ عُمَرُ : لِمَنْ حَوْلَهُ مَا الرِّيحُ ؟ فَلَمْ يَرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا , فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ , فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُ , فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ , وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ , فَلَا تَسُبُّوهَا , وَسَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا , وَعُوذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج پر جارہے تھے کہ مکہ مکرمہ کے راستے میں تیز آندھی نے لوگوں کو آلیا لوگ اس کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہوگئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا آندھی کے متعلق کون شخص ہمیں حدیث سنائے گا ؟ کسی نے انہیں کوئی جواب نہ دیا مجھے پتہ چلا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس نوعیت کی کوئی حدیث دریافت فرمائی ہے تو میں نے اپنی سواری کی رفتار تیز کردی حتیٰ میں نے انہیں جالیا اور عرض کیا کہ امیرالمومنین ! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے آندھی کے متعلق کسی حدیث کا سوال کیا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آندھی یعنی تیز ہوا اللہ کی مہربانی ہے کبھی رحمت لاتی ہے اور کبھی زحمت جب تم اسے دیکھا کرو تو اسے برا بھلا نہ کہا کرو بلکہ اللہ سے اس کی خیرطلب کیا کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10714
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10715
حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , قََالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى , اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 437، م: 530، وهذا إسناد ضعيف الضعف صالح
حدیث نمبر: 10716
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى , اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 437، م: 530
حدیث نمبر: 10717
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ نَهَى أَنْ " يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا , وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 10718
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ , فَلْيَسْتَنْثِرْ , وَمَنْ اسْتَنْجَى , فَلْيُوتِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہئے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 161، م: 237
حدیث نمبر: 10719
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ , وَعُدِّلَتْ الصُّفُوفُ قِيَامًا , فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ , فَقَالَ لَنَا : " مَكَانَكُم " , ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ , ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، فَكَبَّرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی اور لوگ صفیں درست کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور چلتے ہوئے اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آیا کہ انہوں نے تو غسل ہی نہیں کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تم یہیں رکو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے جب واپس آئے تو ہم اسی طرح صفوں میں کھڑے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرما رکھا تھا اور سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہہ کر ہمیں نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 640، م: 605
حدیث نمبر: 10720
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ : أَنْصِتْ , فَقَدْ لَغَوْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 10721
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سرانجام دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1384، م: 2659
حدیث نمبر: 10722
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , قََالَ : قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يَقُولُ النَّاسُ : أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ , فَلَقِيتُ رَجُلًا , فَقُلْتُ : " بِأَيِّ سُورَةٍ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَارِحَةَ فِي الْعَتَمَةِ , فَقَالَ : لَا أَدْرِي , فَقُلْتُ : أَلَمْ تَشْهَدْهَا ؟ قَالَ : بَلَى , قُلْتُ : وَلَكِنِّي أَدْرِي , قَرَأَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا .
مولانا ظفر اقبال
سعید مقبری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت کثرت سے حدیثیں بیان کرتے ہیں میں دور نبوت میں ایک آدمی سے ملا اس سے میں نے پوچھا کہ آج رات عشاء کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی سورت پڑھی تھی ؟ اس نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں میں نے کہا کہ کیا آپ نماز میں شریک نہیں تھے ؟ اس نے کہا کیوں نہیں میں نے کہا کہ میں جانتاہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں سورت پڑھی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1223
حدیث نمبر: 10723
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَى يَوْمٍ خَيْرٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ , هَدَانَا اللَّهُ لَهُ وَأَضَلَّ النَّاسَ عَنْهُ , فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ , هُوَ لَنَا , وَلِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ , وَلِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ , إِنَّ فِيهِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُؤْمِنٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا , إِلَّا أَعْطَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ سے بہترین کسی جن پر سورج طلوع یا غروب نہیں ہوتا لوگ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں ہفتہ یہودیوں کا ہے اور اتوار عیسائیوں کا ہے۔ اور جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 876، 6400، م: 852، 855
حدیث نمبر: 10724
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَظْهَرَ الْفِتَنُ , وَيَكْثُرَ الْكَذِبُ , وَيَتَقَارَبَ الْأَسْوَاقُ , وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ , وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " , قِيلَ : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک فتنوں کا ظہور، جھوٹ کی کثرت، مارکیٹوں کا قریب ہونا، زمانہ قریب آجانا اور " ہرج " کی کثرت نہ ہوجائے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہرج سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا قتل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
حدیث نمبر: 10725
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 , قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ , يَا بَنِي هَاشِمٍ , أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ , يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ , أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ , يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ , أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ , فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا , غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے " تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک قریش کے ہر بطن کو بلایا اور فرمایا اے گروہ قریش ! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنوکعب بن لؤی اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے پچاؤ اے گروہ بنوعبد مناف اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنوہاشم ! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں البتہ قرابت داری کا جو تعلق ہے اس کی تری میں تم تک پہنچاتا رہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2753، م: 204
حدیث نمبر: 10726
حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ , عَنْ خَالِدٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي , وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کینت نہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3539، م:2134
حدیث نمبر: 10727
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ , عَنْ سَيَّارٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ عَلْقَمَةَ ، قََالَ : كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ , فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ , فَقَالَتْ : أَنْتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّ " امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْهُ , يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ عَبْد اللَّهِ : كَذَا , قَالَ أَبِي : ، فَقَالَتْ : هَلْ تَدْرِي مَا كَانَتْ الْمَرْأَةُ ؟ إِنَّ الْمَرْأَةَ مَعَ مَا فَعَلَتْ , كَانَتْ كَافِرَةً , وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَنْ يُعَذِّبَهُ فِي هِرَّةٍ , فَإِذَا حَدَّثْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَانْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے پوچھا کہ یہ حدیث آپ ہی نے بیان کی ہے کہ ایک عورت کو صرف ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوا جسے اس نے باندھ کر رکھا تھا اور نہ خود کھلاتی تھی اور نہ اسے چھوڑتی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ عورت کون تھی ؟ وہ عورت اس کام کے ساتھ ساتھ کافرہ تھی ایک مسلمان اللہ کی نگاہوں میں اس سے بہت معزز ہے کہ اللہ اسے صرف ایک بلی کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کرے اس لئے جب آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کیا کریں تو خوب غور و فکر کرلیا کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3318، م: 2243
حدیث نمبر: 10728
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , سَمِعَ ذَكْوَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا , فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 110، م: 3
حدیث نمبر: 10729
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ , فَاجْلِدُوهُ , فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ " , فَقَالَ : فِي الرَّابِعَةِ " فَاقْتُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پئے تو پھر کوڑے مارو، سہ بارہ پیئے تو پھر کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پیئے تو اسے قتل کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10730
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ , قَالَ : وَتَلَا : وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ سورة الحج آية 47 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین مالدار مسلمانوں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی اور تمہارے رب کا ایک دن تمہاری شمار کے ایک ہزار سال کے برابر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شتير فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 10731
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَهَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , يَرْفَعُهُ , قََالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا , لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ , أَوْ حَتَّى تَرْجِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں (تاآنکہ وہ واپس آجائے) یا صبح ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5194، م: 1436
حدیث نمبر: 10732
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2559، م: 2612
حدیث نمبر: 10733
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي زِيَادٍ الطَّحَّانِ , سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ " , قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا ایک آدمی نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5673، م: 2816، وهذا إسناد فيه أبو زياد، لا يعرف
حدیث نمبر: 10734
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ , حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي الْقَطَّانَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ : " إِنَّهَا لَيْلَةُ سَابِعَةٍ أَوْ تَاسِعَةٍ وَعِشْرِينَ , إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فِي الْأَرْضِ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ یہ ستائیسویں یا انتیسویں شب ہوتی ہے اور اس رات میں زمین پر آنے والے فرشتوں کی تعداد کنکریوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 10735
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ , حَدَّثَنَا حَرْبٌ , وَأَبَانُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , حَدَّثَنَي أَبُو سَلَمَةَ , أَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغَارُ , وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ , وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔ اور غیرت الٰہی کا یہ حصہ ہے کہ انسان ایسی چیزوں سے اجتناب کرے جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5223، م:2761
حدیث نمبر: 10736
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ , قََالَ : سَمِعْتُ كُمَيْلَ بْنَ زِيَادٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ " , قُلْتُ : بَلَى , قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " , قَالَ : أَحْسِبُهُ قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں فرمایا یوں کہا کرو لاحول ولاقوۃ الاباللہ " اس پر اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سر تسلیم خم کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10737
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي بْنَ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ , أَنَّ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ أَرْسَلَ مَعَهُ إِلَى مَرْوَانَ بِكِسْوَةٍ , فَقَال مَرْوَانُ : انْظُرُوا مَنْ تَرَوْنَ بِالْبَابِ ؟ قََالَ : أَبُو هُرَيْرَةَ , فَأَذِنَ لَهُ , فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ وُلُّوا هَذَا الْأَمْرَ أَنَّهُمْ خَرُّوا مِنَ الثُّرَيَّا وَأَنَّهُمْ لَمْ يَلُوا شَيْئًا " . قََالَ : زِدْنَا يَا قََالَ : زِدْنَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَجْرِي هَلَاكُ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى يَدَيْ أُغَيْلِمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن شریک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ضحاک بن قیس نے ان کے ہاتھ کچھ کپڑے مروان کو بھجوائے مروان نے کہا دیکھو دروازے پر کون ہے لوگوں نے کہا کہ اے ابوہریرہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان یہ تمنا کرے گا کاش وہ ثریا ستارے کی بلندی سے گر جاتا لیکن کاروبار حکومت میں سے کوئی ذمہ داری اس کے حوالے نہ کی جاتی ، اس نے مزید فرمائش کی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ عرب کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھوں ہوگی مروان کہنے لگا واللہ وہ تو بدترین نوجوان ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، يزيد لم نقف له على ترجمة
حدیث نمبر: 10738
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي بَلْجٍ , قََالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ ، فَلْيُحِبَّ الْعَبْدَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو یہ بات محبوب ہو کہ وہ ایمان کا ذائقہ چکھے اسے چاہئے کہ کسی شخص سے صرف اللہ کی رضاء کے لئے محبت کیا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10739
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى , أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ , عَنِ الْقَعْقَاعِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَدْعُو هَكَذَا بِأُصْبُعَيْهِ يُشِيرُ ، فَقَالَ : " أَحِّدْ أَحِّدْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ دعاء کرتے ہوئے دو انگلیوں سے اشارہ کررہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ایک انگلی سے اشارہ کرو ایک انگلی سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10740
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ , عَنِ الْقَعْقَاعِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَجْرُوحٍ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِهِ , إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالْجُرْحُ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ جُرِحَ , اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ , وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2803، م: 1876
حدیث نمبر: 10741
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ , حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَيَّاتِ : " مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ , فَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا خِيفَتَهُنَّ ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپوں کے متعلق فرمایا ہم نے جب سے ان کے ساتھ جنگ شروع کی ہے کبھی صلح نہیں کی جو شخص خوف کی وجہ سے انہیں چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 10742
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ , قََالَ بْنُ عَجْلَانَ , عَنِ الْقَعْقَاعِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ الْجَمْعِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی جو نماز جماعت کے ساتھ پڑھتا ہے وہ انفرادی نماز سے پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 648، م: 649
حدیث نمبر: 10743
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَشُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ " , قَالَ شُعْبَةُ : " ثُمَّ جَهَدَهَا " , وَقَالَ هِشَامٌ : " ثُمَّ اجْتَهَدَ , فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 291، م: 348