حدیث نمبر: 10664
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ , حَدَّثَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ يَطُوفُ فِي مِنًى أَنْ : " لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ , فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو منیٰ میں گھوم پھر کر یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ ان ایام میں روزہ نہ رکھوایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح
حدیث نمبر: 10665
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , وَهِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ , أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھے اور بھولے سے کچھ کھا پی لے تو اسے اپنا روزہ پھر بھی پورا کرنا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1933، م: 1155
حدیث نمبر: 10666
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ , وَالْإِمَامُ ضَامِنٌ , اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ , وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10667
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1993
حدیث نمبر: 10668
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا : حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ , وَمَا أَخَّرْتُ , وَمَا أَسْرَرْتُ , وَمَا أَعْلَنْتُ , وَإِسْرَافِي , وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي , أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ , لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعاء فرمایا کرتے تھے اے اللہ میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر سب گناہوں اور حد سے تجاوز کرنے کو معاف فرما اور ان گناہوں کو بھی معاف فرما جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10669
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ ، إِمَّا مُسِيءٌ فَيَسْتَغْفِرُ ، أَوْ مُحْسِنٌ فَيَزْدَادُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیکو کار ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی نیکیوں میں اور اضافہ ہوجائے اور اگر وہ گناہگار ہے تو ہوسکتا ہے کہ توبہ کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7235، م: 2682
حدیث نمبر: 10670
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنِ الْحَسَنِ , قََالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةُ رَحْمَةٍ ، وَإِنَّهُ قَسَمَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَوَسِعَتْهُمْ إِلَى آجَالِهِمْ ، وَذَخَرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً لِأَوْلِيَائِهِ ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَابِضٌ تِلْكَ الرَّحْمَةَ الَّتِي قَسَمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى التِّسْعَةِ وَالتِّسْعِينَ فَيُكَمِّلُهَا مِائَةَ رَحْمَةٍ لِأَوْلِيَائِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ : وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ , وَخِلَاسٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام زمین والوں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ نے اپنے اولیاء کے لئے رکھ چھوڑی ہیں پھر اللہ اس ایک رحمت کو بھی لے کر ان ننانوے رحمتوں کے ساتھ ملا دے گا اور قیامت کے دن اپنے اولیاء پر پوری سور حمتیں فرمائے گا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10670
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2752، وله إسنادان، الأول: مرسل، والثاني: صحيح من جهة ابن سيرين، ومنقطع من خلاس فإنه لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10671
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خلاس لم يسمع من أبى هريرة، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10672
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10673
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَقَالَ : الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ , مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اقرع بن حابس نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسن رضی اللہ عنہ کو چوم رہے ہیں وہ کہنے لگے کہ میرے تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو کبھی نہیں چوما ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5997، م:2318
حدیث نمبر: 10674
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ يُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ , فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ , ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) سے کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو اور جبرائیل آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ سارے آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد زمین والوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3209، م: 2637
حدیث نمبر: 10675
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قََالَ : سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ فَرَاهِيجَ , قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ , حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10676
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ , وَمَنْ سَتَرَ عَنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2699
حدیث نمبر: 10677
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُنْجِي أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ " , قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ , فَسَدِّدُوا , وَقَارِبُوا , وَاغْدُوا , وَرُوحُوا , وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ , وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے لہذا تم راہ راست پر رہو۔ لیکن صراط مستقیم کے قریب رہو صبح وشام نکلو رات کا کچھ وقت عبادت کے لئے رکھو اور میانہ روی اختیار کرو منزل مقصد تک پہنچ جاؤگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10677
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5973، م:2816
حدیث نمبر: 10678
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَخِلَاسٌ , وَمُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : " يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا سورة الأحزاب آية 69 ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مُوسَى كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سِتِّيرًا , لَا يَكَادُ يُرِي مِنْ جِلْدِهِ شَيْئًا اسْتِحْيَاءً مِنْهُ , قَالَ : فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , قَالُوا : مَا يَتَسَتَّرُ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بِجِلْدِهِ , إِمَّا بَرَصًا وَإِمَّا أُدْرَةً ، وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّةً : أُدْرَةً وَإِمَّا آفَةً ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ مِمَّا قَالُوا ، وَإِنَّ مُوسَى خَلَا يَوْمًا , فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ , ثُمَّ اغْتَسَلَ ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَى ثَوْبِهِ لِيَأْخُذَهُ , وَإِنَّ الْحَجَرَ عَدَا بِثَوْبِهِ , فَأَخَذَ مُوسَى عَصَاهُ وَطَلَبَ الْحَجَرَ , وَجَعَلَ يَقُولُ : ثَوْبِي حَجَرُ , ثَوْبِي حَجَرُ , حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا كَأَحْسَنِ الرِّجَالِ خَلْقًا , وَأَبْرَأَهُ مِمَّا كَانُوا يَقُولُونَ لَهُ , وَقَامَ الْحَجَرُ , فَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ , قَالَ : فَوَاللَّهِ إِنَّ فِي الْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَاثًا ، أَوْ أَرْبَعًا ، أَوْ خَمْسًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اے اہل ایمان ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت پہنچائی پھر اللہ نے انہیں ان کی کہی ہوئی بات سے بری کردیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑے شرم وحیاء اور پردے والے تھے اسی وجہ سے ان کے جسم پر کسی آدمی کی نظر نہیں پڑتی تھی، بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے انہیں اذیت دی اور وہ کہنے لگے کہ یہ جو اتنا پردہ کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے جسم میں کوئی عیب ہے برص کا یا غدود پھولے ہونے کا (یا کوئی بیماری) اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی کہی ہوئی باتوں سے بری کردیں چنانچہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غسل کرنے کے لئے گئے تو اپنے کپڑے حسب معمول اتار کر پتھر پر رکھ دئیے وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پیچھے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے پاس پہنچ کر رک گیا انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو برہنہ دیکھا تو جسمانی طور پر وہ انتہائی حسین اور ان کے لگائے ہوئے عیب سے بری تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے اپنے کپڑے لے کر اسے مارنا شروع کردیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ واللہ ! اس پتھر پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مار کی وجہ سے چار پانچ نشان پڑگئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10678
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 278، م: 339، وله إسنادان، الأول: منقطع لأن الحسن لم يسمع من أبى هريرة، والثاني: صحيح من جهة ابن سيرين، ومنقطع من جهة خلاس لأنه لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10679
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ , عَنْ مُجَاهِدٍ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ : وَاللَّهِ ، إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ ، وَإِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ , وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمْ الَّذِي يَخْرُجُونَ مِنْهُ , فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي , فَلَمْ يَفْعَلْ , فَمَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ , مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي , فَلَمْ يَفْعَلْ , فَمَرَّ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَ مَا فِي وَجْهِي , وَمَا فِي نَفْسِي , فَقَالَ : " أَبَا هُرَيْرَةَ " , فَقُلْتُ لَهُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ : " الْحَقْ " وَاسْتَأْذَنْتُ , فَأَذِنَ لِي ، فَوَجَدْتُ لَبَنًا فِي قَدَحٍ ، فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا اللَّبَنُ ؟ " , فَقَالُوا : أَهْدَاهُ لَنَا فُلَانٌ أَوْ آلُ فُلَانٍ , قَالَ : " أَبَا هُرَيْرَةَ " ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " انْطَلِقْ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ ، فَادْعُهُمْ لِي " , قَالَ : وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَمْ يَأْوُوا إِلَى أَهْلٍ , وَلَا مَالٍ , إِذَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةٌ , أَصَابَ مِنْهَا وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مِنْهَا , قَالَ : وَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ , وَكُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنَ اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّى بِهَا بَقِيَّةَ يَوْمِي وَلَيْلَتِي , فَقُلْتُ : أَنَا الرَّسُولُ , فَإِذَا جَاءَ الْقَوْمُ كُنْتُ أَنَا الَّذِي أُعْطِيهِمْ , فَقُلْتُ : مَا يَبْقَى لِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ ؟ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ بُدٌّ , فَانْطَلَقْتُ فَدَعَوْتُهُمْ , فَأَقْبَلُوا , فَاسْتَأْذَنُوا , فَأَذِنَ لَهُمْ , فَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ , ثُمَّ قَالَ : " أَبَا هِرٍّ ، خُذْ فَأَعْطِهِمْ " , فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ , فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِمْ , فَيَأْخُذُ الرَّجُلُ الْقَدَحَ , فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى , ثُمَّ يَرُدُّ الْقَدَحَ , فَأُعْطِيهِ الْآخَرَ , فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى , ثُمَّ يَرُدُّ الْقَدَحَ , حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهِمْ , وَدَفَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخَذَ الْقَدَحَ , فَوَضَعَهُ فِي يَدِهِ , وَبَقِيَ فِيهِ فَضْلَةٌ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَنَظَرَ إِلَيَّ وَتَبَسَّمَ ، فَقَالَ : " أَبَا هِرٍّ " , قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " بَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ " ، فَقُلْتُ : صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَاقْعُدْ فَاشْرَبْ " , قَالَ : فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ , ثُمَّ قَالَ لِيَ : " اشْرَبْ " , فَشَرِبْتُ , فَمَا زَالَ يَقُولُ لِيَ : " اشْرَبْ " , فَأَشْرَبُ ، حَتَّى قُلْتُ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَجِدُ لَهَا فِيَّ مَسْلَكًا , قَالَ : " نَاوِلْنِي الْقَدَحَ " ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ الْقَدَحَ ، فَشَرِبَ مِنَ الْفَضْلَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے اللہ کی قسم ہے میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ کو زمین پر سہارا دے لیتا تھا اور بھوک کے غلبے کی وجہ سے پیٹ پر پتھرباندھ لیتا تھا ایک روز میں مسلمانوں کے راستہ میں جا کر بیٹھ گیا اسی راستہ سے لوگ جایا کرتے تھے تھوڑی دیر میں ادھر سے ابوبکر رضی اللہ عنہ گزرے میں نے ان سے قرآن کی ایک آیت دریافت کی اور صرف اس لئے دریافت کی تھی کہ مجھے باتیں کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے جائیں گے لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے کھانا نہ کھلایا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گزرے میں نے ان سے بھی قرآن کی ایک آیت دریافت کی اور صرف اس لئے دریافت کی کہ مجھے باتیں کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے جائیں گے لیکن وہ بھی گزر گئے اور کھانا نہ کھلایا۔ اخیر میں حضور گرامی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور مجھے دیکھ کر مسکرائے میرے دل کی بات اور چہرہ کی علامات پہچان گئے پھر فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں نے عرض کیا جی حضور فرمایا (گھرآکر) ملنا یہ فرما کر تشریف لے گئے اور میں پیچھے پیچھے چل دیاحضور صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے مجھے اجازت دی اور میں بھی اندر پہنچ گیا وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک پیالہ دودھ رکھا ہوا ملا فرمایا یہ کہاں سے آیا ؟ عرض کیا گیا فلاں شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں بھیجا تھا فرمایا ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا جی حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا اہل صفہ کو جا کر بلا لاؤ اہل صفہ درحقیقت اسلام کے مہمان تھے ان کا گھربار اور مال نہ تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب صدقہ کا مال آتا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے خود کچھ نہ کھاتے تھے بلکہ ان کو بھیج دیتے تھے۔ اور تحفہ آتا تو خود بھی اس میں سے کچھ لیتے تھے اور ان کے پاس بھی بھیج دیتے تھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ار شاد پر ذراسی گھبراہٹ ہوئی اور میں نے کہا کہ اہل صفہ کے مقابلہ میں اس دودھ کی مقدار ہی کیا ہے ؟ بہتر تو یہ تھا کہ میں اس میں سے پی لیتا تاکہ قوت حاصل ہوجاتی اب اہل صفہ آئیں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو حکم دیں گے اور میں حسب الحکم ان کو دوں گا اور ممکن نہیں ہے کہ میرے حصہ میں اس دودھ کی کچھ مقدار پہنچے لیکن چونکہ خداو رسول کی تعمیل حکم سے کوئی چارہ نہ تھا اس لئے میں جا کر اہل صفہ کو بلا لایا سب لوگ آگئے باریاب ہونے کی اجازت چاہی اجازت دے دی گئی سب لوگ گھر میں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پیالہ لے کر ان کو دے دو میں پیالہ لے کر ایک آدمی کو دینے لگا وہ جب سیر ہو کر پی لیتا تو مجھے واپس دے دیتا اور میں دوسرے کو دے دیتا وہ بھی سیر ہو کر مجھے واپس دے دیتا تھا اسی طرح سب سیر ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پیالہ پہنچنے کی نوبت پہنچی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ لے کر میرے ہاتھ پر رکھ دیا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے پھر فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں نے عرض کیا جی حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا میں اور تم بس دو آدمی رہ گئے ہیں میں نے جواب دیا حضور نے سچ فرمایا فرمایا بیٹھ کر پی لو میں نے بیٹھ کر پیا فرمایا اور پیو میں نے اور پیا اس طرح برابر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرماتے جاتے تھے کہ پیو اور میں برابر پیتا رہا یہاں تک کہ میں نے عرض کیا قسم ہے اس اللہ کی جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے اب گنجائش نہیں ہے فرمایا تو اب مجھے دکھاؤ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیالہ دے دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور بسم اللہ کہہ کر بقیہ دودھ پی لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10679
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6246
حدیث نمبر: 10680
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا , فَتَفَرَّقُوا عَنْ غَيْرِ ذِكْرٍ , إِلَّا تَفَرَّقُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ , وَكَانَ ذَلِكَ الْمَجْلِسُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کچھ لوگ کسی جگہ اکٹھے ہوں اور اللہ کا ذکر کئے بغیر ہی جدا ہوجائیں تو یہ ایسے ہی ہے جیسے مردار گدھے کی لاش سے جدا ہوئے اور وہ مجلس ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10681
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : إِنَّ أَوْفَقَ الدُّعَاءِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِي , وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي يَا رَبِّ , فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي , إِنَّكَ أَنْتَ رَبِّي , إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذَّنْبَ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ مکمل دعاء یہ ہے کہ آدمی یوں کہے اے اللہ آپ میرے رب اور میں آپ کا عبد ہوں میں نے اپنی جان پر ظلم کیا مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے پروردگار ! تو میرے گناہوں کو معاف فرما تو ہی میرا رب ہے اور تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10682
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيُّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10683
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ , فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ , حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہہ لے اس کے سارے گناہ مٹادئیے جائیں گے خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10683
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6405، م: 2691
حدیث نمبر: 10684
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي , وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7505، م: 2675
حدیث نمبر: 10685
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا ، مِائَةً غَيْرَ وَاحِدٍ ، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح لكنه موقوف وصح مرفوعا، خ: 6410، م: 2677
حدیث نمبر: 10686
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمِثْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10687
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ بْنِ شِهَابٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ , " فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ , أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ , أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا " , قَالَ : لَا أَجِدُ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّي ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ، قَال : " خُذْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرلیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک غلام آزاد کردو یا دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں ؟ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک ٹو کرا آیا جس میں کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے صدقہ کردو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضرورت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے ہنسے کہ دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور فرمایا جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھالیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح،خ: 2709، م: 1111
حدیث نمبر: 10688
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ يَلْطِمُ وَجْهَهُ وَيَنْتِفُ شَعَرَهُ , وَيَقُولُ : مَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ هَلَكْتُ , فقال له رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " , قَالَ : أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : " أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً ؟ " , قَالَ : لَا , قَالَ : " أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ " , قَالَ : لَا , قَالَ : " أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " , قَالَ : لَا , وَذَكَرَ الْحَاجَةَ ، قَالَ : فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزِنْبِيلٍ وَهُوَ الْمِكْتَلُ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَحْسَبُهُ تَمْرًا ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ الرَّجُلُ ؟ " , قَالَ : " أَطْعِمْ هَذَا " , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَحَدٌ أَحْوَجُ مِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ , قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ , قَالَ : " أَطْعِمْ أَهْلَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے ہلاک کردیا ؟ اس نے کہا کہ میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرلیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک غلام آزاد کردو اس نے کہا کہ میرے پاس غلام نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو اس نے کہا مجھ میں اتنی طاقت نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا بیٹھ جاؤ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک بڑا ٹوکرا آیا جس میں کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضروت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھا لیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10688
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10689
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَسِمُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے یا بیع میں دھوکہ نہ دے یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔ کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10689
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
حدیث نمبر: 10690
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا , وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 10691
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا , وَالصَّوْمُ لِي , وَأَنَا أَجْزِي بِهِ , إنه يذر طَعامَهُ وشَرابَهُ مِن أَجْلِي ، فالصوم لي ، وأَنَا أَجْزي به ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ میرے لئے ہوا اور اس کا بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا روزہ دار میری وجہ سے اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے لہٰذا روزہ میرے لئے ہوا اور اس کا بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10691
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10692
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ , إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي , وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " . " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَرِحَ بِصَوْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے روزہ ڈھال ہے اور روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10693
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " . " يَذَرُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي , فَالصِّيَامُ لِي , وَأَنَا أَجْزِي بِهِ , كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ , إِلَّا الصِّيَامَ , فَهُوَ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی خواہشات پر عمل کرنا میری وجہ سے چھوڑتا ہے لہٰذا روزہ میرے لئے ہوا اور میں اس کا بدلہ بھی خود ہی دوں گا اور روزہ کے علاوہ ہر نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو گنا تک ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1101
حدیث نمبر: 10694
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ , أَخْبَرَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ, فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : " لَسْتُمْ مِثْلِي , إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " ، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ ، وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ، ثُمَّ يَوْمًا ، ثُمَّ رُئِيَ الْهِلَالُ ، فَقَالَ : " لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ " , كَالْمُنَكِّلِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے مت رکھا کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی باز نہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن تک مسلسل روزہ رکھا پھر چاند نظر آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاند نظر نہ آتا تو میں مزید کئی دن تک اسی طرح کرتا گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نکیر فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1965، م: 1103، وفي هذا الإسناد صالح، وإن كان ضعيفا، قد توبع
حدیث نمبر: 10695
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا بْنُ جُرَيْجٍ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " التَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ , فَأَيُّكُمْ تَثَاءَبَ فَلْيَكْتُمْ مَا اسْتَطَاعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمائی شیطان کا اثر ہوتی ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ممکن ہو اسے روکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2994
حدیث نمبر: 10696
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنِ بْنِ شِهَابٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر وضو کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10696
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 887، م: 252
حدیث نمبر: 10697
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ هَلَكَ النَّاسُ ، فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ تباہ ہوگئے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:2623
حدیث نمبر: 10698
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , قََالَ : سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اقامت ہونے کے بعد وقتی فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 710
حدیث نمبر: 10699
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ سُمَيٍّ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ ، يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي بَلَغَنِي ، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ ، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ ، حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ ، فَشَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ ، فَغَفَرَ لَهُ " ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا ؟ فَقَالَ : " فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی راستے میں چلا جا رہا تھا کہ اسے پیاس نے شدت سے ستایا اسے قریب ہی ایک کنواں مل گیا اس نے کنوئیں میں اتر کر اپنی پیاس بجھائی اور باہر نکل آیا اچانک اس کی نظر ایک کتے پر پڑی جو پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا تھا اس نے اپنے دل میں سوچا کہ اس کتے کو بھی اسی طرح پیاس لگ رہی ہوگی جیسے مجھے لگ رہی تھی چنانچہ وہ دوبارہ کنوئیں میں اترا اپنے موزے کو پانی سے بھرا اور اسے منہ سے پکڑ لیا اور باہر نکل کر کتے کو وہ پانی پلا دیا اللہ نے اس کے اس عمل کی قدر دانی فرمائی اور اسے بخش دیا صحابہ رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جانوروں میں بھی ہمارے لئے اجر رکھا گیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر تر جگر رکھنے والی چیز میں اجر رکھا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2363، م: 2244
حدیث نمبر: 10700
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ , وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں سب سے بدترین شخص وہ ہے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتاہو اور ان لوگوں کے پاس دوسر ارخ لے کر آتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3494، م: 2526
حدیث نمبر: 10701
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَحَسَّسُوا , وَلَا تَجَسَّسُوا , َلَا تَنَافَسُوا , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا تَدَابَرُوا , وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان اللہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6724، م: 2563
حدیث نمبر: 10702
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ ، وَلَكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے اصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10702
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6114، م: 2609
حدیث نمبر: 10703
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا عَلَى الْبَادِئِ ، حَتَّى يَعْتَدِيَ الْمَظْلُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں گالی گلوچ کرنے والے دو آدمی جو کچھ بھی کہیں اس کا گناہ گالی گلوچ کی ابتداء کرنے والے پر ہوگا جب تک کہ مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10703
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2587