حدیث نمبر: 7439
قَالَ : وَقَالَ وَكِيعٌ : عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وَأَبِي رَزِينٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ : " ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 7440
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حَتَّى يَغْسِلَهَا مَرَّةً ، أَوْ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے ایک یا دو مرتبہ ہاتھ دھونے کے حکم کے ساتھ بھی ایک دوسری سند سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 7441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَافِيَةُ رَأْسِ أَحَدِكُمْ حَبْلٌ فِيهِ ثَلَاثُ عُقَدٍ ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ ، فَذَكَرَ اللَّهَ ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا " قَالَ : فَيُصْبِحُ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ ، قَدْ أَصَابَ خَيْرًا ، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ، أَصْبَحَ كَسْلَانَ خَبِيثَ النَّفْسِ ، لَمْ يُصِبْ خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شیطان تم میں سے کسی ایک کے سر کے جوڑ کے پاس تین گرہیں لگاتا ہے ہر گرہ پر وہ یہ کہتا ہے کہ رات بڑی لمبی ہے آرام سے سوجا اگر بندہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرلے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے وضو کرلے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ اس کا دل مطمئن اور وہ چست ہوتا ہے ورنہ وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کا دل گندہ اور وہ خود سست ہوتا ہے۔ اور اسے کوئی خیر حاصل نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1142، م: 776.
حدیث نمبر: 7442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ : رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ ، يَمْنَعُهُ مِنَ ابْنِ السَّبِيلِ ، وَرَجُلٌ بَايَعَ الْإِمَامَ ، لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا ، فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ " ، قَالَ : " وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا سِلْعَةً بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا ، فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کے آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوگا نہ ان پر نظر کرم فرمائے گا اور نہ ان کا تزکیہ فرمائے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ایک تو وہ آدمی جس کے پاس صحرائی علاقے میں زائد پانی موجود ہو اور وہ کسی مسافر کو دینے سے انکار کردے۔ دوسرا وہ آدمی جو کسی حکمران بیعت کرے اور اس کا مقصد صرف دنیا ہو اگر مل جائے تو وہ اس حکمران کا وفادار رہے اور نہ ملے تو اپنی بیعت کا وعدہ پورا نہ کرے اور تیسرا وہ آدمی جو نماز عصر کے بعد کوئی سامان تجارت فروخت کرے اور خریدار کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ اس نے وہ چیز اتنی قیمت میں لی ہے اور خریدار اسے سچا سمجھ لے حالانکہ وہ اپنی بات میں سچا نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7442
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2379، م: 108.
حدیث نمبر: 7443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . وَابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مَوْلُودٌ يُولَدُ ، إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ " . وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً : " عَلَى الْمِلَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر ہی پیدا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7443
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أسانيده صحيحة، خ: 1358، م: 2658.
حدیث نمبر: 7444
حدثنا عبدُ الله ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُولَدُ مَوْلُودٌ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ ، وَيُنَصِّرَانِهِ " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی بنا دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7444
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
حدیث نمبر: 7445
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ ، حَتَّى يُبِينَ عَنْهُ لِسَانُهُ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ ، أَوْ يُشَرِّكَانِهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ مَا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مشرک بنا دیتے ہیں ؟ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے (مرجانے والے کے ساتھ) کیا ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7445
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
حدیث نمبر: 7446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ ، مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ " ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : هَلْ أَنَا وَمَالِي إِلَّا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر کے مال نے مجھے جتنا نفع پہنچایا ہے اتنا کسی کے مال نے نفع نہیں پہنچایا یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ روپڑے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اور میرا مال آپ ہی کا تو ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7446
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وابن رزين ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ ، فَلَا يَمْشِي فِي نَعْلِهِ الْأُخْرَى ، حَتَّى يُصْلِحَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔ اور جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف دوسری جوتی پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7447
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5856، 172، م: 2097، 279.
حدیث نمبر: 7448
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ ، فَحَدِيدَتُهُ بِيَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ ، فَسُمُّهُ بِيَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَهُوَ يُرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے آپ کو کسی تیز دھار آلے سے قتل کرلے (خودکشی کرلے) اس کا وہ تیز دھار آلہ اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر اپنے پیٹ میں گھونپتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا جو شخص زہر پی کر خود کشی کرلے اس کا وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر پھانکتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیش رہے گا اور جو شخص اپنے آپ کو پہاڑ سے نیچے گرا کر خود کشی کرلے وہ جہنم میں بھی پہاڑ سے نیچے گرتا رہے گا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1365، م: 109.
حدیث نمبر: 7449
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : " عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (دنیا کے معاملے میں) اپنے سے نیچے والے کو دیکھا کرو اپنے سے اوپر والے کو مت دیکھا کرو اس طرح تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر سمجھنے سے بچ جاؤگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7449
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6490، م: 2963.
حدیث نمبر: 7450
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ هُوَ شَكَّ ، يعنى الأعمش ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ عُتَقَاءَ فِي كُلِّ يَوْمٍ ، وَلَيْلَةٍ لِكُلِّ عَبْدٍ مِنْهُمْ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دن اور ہر رات اللہ کی طرف سے کچھ لوگوں کو جہنم سے خلاصی نصیب ہوتی ہے اور ان میں سے ہر بندے کی ایک دعا ایسی ضرور ہوتی ہے جو قبول ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7450
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7451
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ أَخُو إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، وَكَانَ يُفَضَّلُ عَلَى أَخِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيد ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ، فَانْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الْكِبَرَ ، فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ " . قَالَ رِبْعِيٌّ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ قَالَ : " أَوْ أَحَدُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آدمی کی ناک خاک آلودہ ہو جس کے سامنے میرا تذکرہ کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے وہ آدمی ہلاک ہو جس کے پاس رمضان کا مہینہ آیا لیکن اس کی بخشش ہونے سے قبل ہی وہ ختم ہوگیا اور وہ شخص برباد ہو جس کے والدین پر اس کی موجودگی میں بڑھاپا آیا اور وہ اسے جنت میں داخل نہ کرا سکیں۔ (خدمت کرکے انہیں خوش نہ کرنے کی وجہ سے )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7451
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2551.
حدیث نمبر: 7452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُوتِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7452
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 162، م: 237.
حدیث نمبر: 7453
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَطْلُ ظُلْمُ الْغَنِيِّ ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ ، فَلْيَتْبَعْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7453
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2288، م: 1564.
حدیث نمبر: 7454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيٌّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً ، قَالَ : " ارْكَبْهَا وَيْحَكَ " ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : " ارْكَبْهَا وَيْحَكَ " ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : " ارْكَبْهَا وَيْحَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لئے جا رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7454
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1689، م: 1322.
حدیث نمبر: 7455
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيٌّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي فَرَسِهِ وَلَا عَبْدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7455
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1465، م: 982.
حدیث نمبر: 7456
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ تَجِيءُ الْأَعْرَابُ ، نقُولُ : يَا أَعْرَابِيُّ ، نَحْنُ نَبِيعُ لَكَ ، قَالَ : دَعُوهُ فَلْيَبِعْ سِلْعَتَهُ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
مولانا ظفر اقبال
مسلم بن ابی مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس وقت دیکھا جب ہم بچے تھے دیہاتی لوگ آتے تو ہم ان سے کہتے ہیں کہ اے دیہاتی ہم تمہارا سامان بیچ دیتے ہیں ؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ اسے چھوڑ دو اسے اپنا سامان خود فروخت کرنا چاہے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شہری کو کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7456
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413.
حدیث نمبر: 7457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبى سلمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7457
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6913، م: 1710، ابن جريج ثقة لكنه يدلس، وقد صرح هنا بالسماع.
حدیث نمبر: 7458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَلَمْ تَفُتْهُ ، وَمَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَلَمْ تَفُتْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پڑھ لے اس کی وہ نماز فوت نہیں ہوئی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پڑھ لے اس کی وہ نماز بھی فوت نہیں ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7458
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608.
حدیث نمبر: 7459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ثَلَاثٌ أَوْصَانِي بِهِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا أَدَعُهُنَّ أَبَدًا : الْوَتْرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ ، وَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرِ ، وَالْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا (١) سونے سے پہلے نمازوتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7459
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1187، م: 721، وهذا الإسناد فيه انقطاع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا ، وَمَنْ أَدرَكَ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7460
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608.
حدیث نمبر: 7461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلْيُصَلِّ إِلَى شَيْءٍ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ ، فَعَصًا ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَصًا ، فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اپنے سامنے کوئی چیز (بطور سترہ کے) رکھ لے اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی ہی کھڑی کرلے اور اگر لاٹھی بھی نہ ہو تو ایک لکیر ہی کھینچ لے اس کے بعد اس کے سامنے سے کچھ بھی گذرے اسے کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7461
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن عمرو وأبيه.
حدیث نمبر: 7462
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَلَقِيَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : أَرِنِي أُقَبِّلْ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ " ، قَالَ : فَقَالَ : " بْقَمِيصَةِ " ، قَالَ : فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ .
مولانا ظفر اقبال
عمیر بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ راستے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی وہ کہنے لگے کہ مجھے دکھاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے جسم کے جس حصے پر بوسہ دیا تھا میں بھی اس کی تقبیل کا شرف حاصل کروں اس پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیص اٹھائی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7462
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به عمير بن إسحاق، وأن حديثه ضعيف عند ما انفرد به.
حدیث نمبر: 7463
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7463
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408.
حدیث نمبر: 7464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " وَاللَّهِ لَأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي حَدِيثِهِ : " الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَمَا يَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ ، وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ ، . وَقَالَ أَبُو عَامِرٍ : وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا ! نماز میں میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوں ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز ظہر، عشاء اور نماز فجر کی آخری رکعت میں سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں مسلمانوں کے لئے دعا اور کفار پر لعنت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7464
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 797، م: 676.
حدیث نمبر: 7465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبى سلمة بن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عَلَى أَحَدٍ ، أَوْ يَدْعُوَ لِأَحَدٍ ، قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ ، فَرُبَّمَا ، قَالَ ، إِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " : " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " ، قَالَ : يَجْهَرُ بِذَلِكَ ، وَيَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا " ، حَيَّيْنِ مِنَ الْعَرَبِ ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے خلاف بد دعا یا کسی کے حق میں دعا کا ارادہ فرماتے تو رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا و لک الحمد کہنے کے بعد یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ ولید بن ولید۔ سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ۔ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا بلند آواز میں فرماتے تھے اور بعض اوقات نماز فجر میں عرب کے دو قبیلوں کا نام لے کر فرماتے تھے اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت نازل فرما یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں اللہ چاہے تو ان پر متوجہ ہو یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4560، م: 675.
حدیث نمبر: 7466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اسے کپڑے کے دونوں کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لینے چاہئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7466
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 360، م: 516.
حدیث نمبر: 7467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَحْتَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ . حَدَّثَنَاه الْخَفَّافُ ، عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7467
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: الحديث صحيح، خ: 5787، قد اختلف الرواة في إسناد هذا الحديث.
حدیث نمبر: 7468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ شِقْصٌ فِي مَمْلُوكٍ ، فَأَعْتَقَ نِصْفَهُ ، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ فِي ثَمَنِ رَقَبَتِهِ ، غَيْرَ مَشْقُوقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی کسی غلام میں شراکت ہو اور وہ اپنے حصے کے بقدر اسے آزاد کر دے تو اگر وہ مالدار ہے تو اس کی مکمل جان خلاصی کرانا اس کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ مالدار نہ ہو تو بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لئے غلام سے اس طرح کوئی محنت مزدوری کروائی جائے کہ اس پر بوجھ نہ بنے (اور بقیہ قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ مکمل آزاد ہوجائے گا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2492، م: 1503.
حدیث نمبر: 7469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ ضَمْضَمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ " . قَالَ يَحْيَى : وَالْأَسْوَدَانِ الْحَيَّةُ ، وَالْعَقْرَبُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں کو مارا جاسکتا ہے یحییٰ نے دو کالی چیزوں کی وضاحت سانپ اور بچھو سے کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7469
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7470
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُجُوِّزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ فِي أَنْفُسِهَا ، أَوْ وَسْوَسَتْ بِهِ أَنْفُسُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ ، أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو یہ چھوٹ دی گئی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7470
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2528، م: 127.
حدیث نمبر: 7471
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ . وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا ، بَاتَتْ تَلْعَنُهَا الْمَلَائِكَةُ " . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : " حَتَّى تَرْجِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں تاآنکہ وہ واپس آجائے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7471
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 5194، م: 1436.
حدیث نمبر: 7472
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً ، وَجَعَلَ ابْنُ عَوْنٍ يُرِينَا بِكَفِّهِ الْيُمْنَى ، فَقُلْنَا : يُزَهِّدُهَا لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي ، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7472
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852.
حدیث نمبر: 7473
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ جميعا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہذا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7473
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح،.خ: 533، م: 615، وهذا إسناد ضعيف، أبو الوليد لم يعرف.
حدیث نمبر: 7474
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَمَمْتُمْ ، فَخَفِّفُوا ، فَإِنَّ فِيكُمْ الْكَبِيرَ ، وَالضَّعِيفَ ، وَالصَّغِيرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بچے سب ہی ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7474
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 703، م: 467.
حدیث نمبر: 7475
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ حَبِيبٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " لَوْ رَأَيْتُ الْأَرْوَى تَجُوسُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يَعْنِي الْمَدِينَةَ مَا هِجْتُهَا ، وَلَا مَسِسْتُهَا ، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّمُ شَجَرَهَا أَنْ يُخْبَطَ ، أَوْ يُعْضَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر میں مدینہ منورہ میں پہاڑی بکرے کو گھومتا ہوا دیکھ بھی لوں تب بھی انہیں نہ ڈراؤں اور نہ ہاتھ لگاؤں کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے درختوں کے پتے توڑنے یا کانٹے کو حرام قرار دیتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7475
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1873، م: 1372، وهذا إسناد ضعيف، حبيب الهذلي مجهول.
حدیث نمبر: 7476
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُ أَحَدَكُمْ ، إِذَا أَشَارَ لِأَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ ، وَأُمِّهِ " . وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف خواہ وہ حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو کسی تیز دھار چیز سے اشارہ کرتا ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7072، م: 2616.
حدیث نمبر: 7477
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْجُلَاسِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ شَمَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَمَرَّ عَلَيْهِ مَرْوَانُ ، فَقَالَ 0 : بَعْضَ حَدِيثِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ حَدِيثَكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَقُلْنَا : الْآنَ يَقَعُ بِهِ ، قَالَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى جَنَائِزَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَنْتَ خَلَقْتَهَا ، وَأَنْتَ رَزَقْتَهَا ، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا تَعْلَمُ سِرَّهَا ، وَعَلَانِيَتَهَا جِئْنَا شُفَعَاءَ ، فَاغْفِرْ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عثمان بن شماس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان کا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذر ہوا تو وہ کہنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنی کچھ حدیثیں سنبھال کر رکھو تھوڑی دیر بعدوہ واپس آگیا ہم لوگوں نے اپنے دل میں سوچا کہ اب یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرے گا (کیونکہ ان کے درمیان کچھ ناراضگی تھی) مروان کہنے لگا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسے رزق دیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف، فيه ثلاث علل: اضطراب إسناده، وجهالة بعض رواته، ورواية بعضهم له موقوفا.
حدیث نمبر: 7478
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ زِيَادٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا كِسْرَى بَعْدَ كِسْرَى ، وَلَا قَيْصَرَ بَعْدَ قَيْصَرَ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَيُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کروگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 3618، م: 2918، وهذا إسناد ضعيف، زياد المخزومي مجهول.