حدیث نمبر: 10624
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , قََالَ : أَخْبَرَنِي زِيَادٌ , أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہئے کہ سوار پیدل کو چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ کو سلام کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6233، م: 2160
حدیث نمبر: 10625
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حُبَيْبٌ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ " , وَقَالَ بِبَغْدَادَ : " وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ ، وَالصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ " , وَقَالَ رَوْحٌ بِبَغْدَادَ : وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہئے کہ سوار پیدل کو چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ کو سلام کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6231، م: 2160، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10626
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , قََالَ : حَدَّثَ بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ ، فَإِنَّهَا شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ، إِلَّا مِنَ السَّامِ " , قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : الْمَوْتُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
حدیث نمبر: 10627
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ , أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَمِّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُكْنَى بِكُنْيَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3539، م: 2134، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن، وعمه
حدیث نمبر: 10628
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَقُّ الضِّيَافَةِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا أَصَابَ بَعْدَ ذَلِكَ , فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت (مہمان نوازی) تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ بھی ہے وہ صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10629
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمْ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ , فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو جب تک کھانا مکمل نہ کرلے اسے نہ چھوڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10630
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ , وَزَادَ فِيهِ : وَكَانَ الْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ إِذَا بَزَغَ الْفَجْرُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10631
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ , وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور ایک خوشی آخرت میں ہوگی جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10632
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ لَيَحْفِرُونَ السَّدَّ كُلَّ يَوْمٍ ، حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ ، قَالَ : الَّذِي عَلَيْهِمْ ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا ، فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ كَأَشَدِّ مَا كَانَ ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ ، وَأَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْعَثَهُمْ إِلَى النَّاسِ ، حَفَرُوا ، حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ ، قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ : ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَيَسْتَثْنِي ، فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ ، فَيَحْفِرُونَهُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ ، فَيُنَشِّفُونَ الْمِيَاهَ ، وَيَتَحَصَّنَ النَّاسُ مِنْهُمْ فِي حُصُونِهِمْ ، فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ ، فَتَرْجِعُ وَعَلَيْهَا كَهَيْئَةِ الدَّمِ ، فَيَقُولُونَ : قَهَرْنَا أَهْلَ الْأَرْضِ ، وَعَلَوْنَا أَهْلَ السَّمَاءِ ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي أَقْفَائِهِمْ فَيَقْتُلُهُمْ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ دَوَابَّ الْأَرْضِ لَتَسْمَنُ شَكَرًا مِنْ لُحُومِهِمْ وَدِمَائِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاجوج ماجوج روزانہ سد سکندری میں سوراخ کرتے ہیں اور جب اتنا سوراخ کرلیتے ہیں کہ جس سے سورج کی شعاعیں دیکھ سکیں تو ان کا سردار کہتا ہے کہ اب واپس لوٹ چلو کل تم اسے گرا دوگے لیکن وہ اگلے دن واپس آتے ہیں تو وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک وہ اپنی مدت کو نہیں پہنچ جاتے اور جب اللہ کا ارادہ ہوگا کہ اب انہیں لوگوں پر مسلط کردیں تو وہ اس میں سوراخ کریں گے اور جب اتنا سوراخ کرچکیں گے کہ جس سے سورج کی شعاعیں دیکھ سکیں تو ان کا سردار کہے گا کہ اب واپس چلو کل تم ان شاء اللہ اسے گرادوگے چنانچہ جب وہ اگلے دن واپس آئیں گے تو وہ دیوار اسی حالت پر ہوگی جس پر وہ اسے چھوڑ کر گئے ہوں گے اور وہ اسے گرا کر لوگوں پر چڑھ دوڑیں گے۔ وہ پانی کے چشموں سے پانی چوس کر ختم کردیں گے لوگ ان کے خوف سے اپنے اپنے قلعوں میں بند ہوجائیں گے پھر وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے جو ان پر خون آلود کرکے لوٹا دئیے جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر بھی غالب آگئے اور آسمان والوں پر بھی چھاگئے اس کے بعد اللہ ان کی گردنوں میں گدی کے پاس ایک کیڑا مسلط کردیں گے جو ان سب کی موت کا سبب بن جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ان کے گوشت اور خون سے زمین کے کیڑے مکوڑے اور جانور خوب سیراب ہو کر انتہائی صحت مند ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي الإسناد انقطاع، لم يثبت سماع قتادة من عبدالرحمن
حدیث نمبر: 10633
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ " , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ , وَأَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع كسابقه
حدیث نمبر: 10634
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دونوں دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع كسابقه
حدیث نمبر: 10635
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ , فَلَا يَرْفُثْ , وَلَا يَجْهَلْ , وَلَا يُؤْذِي أَحَدًا , فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ أَوْ آذَاهُ , فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10635
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 10636
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَضْحَكُ مِنْ رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ , فَيُدْخِلُهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ " , قِيلَ : كَيْفَ يَكُونُ ذَاكَ ؟ قَالَ : " يَكُونُ أَحَدُهُمَا كَافِرًا , فَيَقْتُلُ الْآخَرَ , ثُمَّ يُسْلِمُ فَيَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دو آدمیوں پر ہنسی آتی ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو شہید کردیا ہو لیکن پھر دونوں ہی جنت میں داخل ہوجائیں لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کس طرح ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی تو شہید ہو کر جنت میں داخل ہوگیا پھر اللہ نے دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر اسے بھی اسلام کی طرف ہدایت دے دی اور وہ بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کرکے شہید ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10636
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2826، م: 1890
حدیث نمبر: 10637
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنَا زِيَادٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ , وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ , وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي , وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7137، م: 1835
حدیث نمبر: 10638
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , عَنْ هَمَّامٍ , عَنْ قَتَادَةَ , وَعَبْدِ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , الْمَعْنَى , عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُمْطِرَ عَلَى أَيُّوبَ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ , وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : فَرَاشٌ ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُهُ ، فَقَالَ : يَا أَيُّوبُ ، أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ ، قَالَ : يَا رَبِّ ، وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ , أَوْ قَالَ : مِنْ فَضْلِكَ " , قَالَ : عَبْدُ الصَّمَدِ : قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنْ لَا غِنًى بِي عَنْ فَضْلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوب (علیہ السلام) پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب (علیہ السلام) انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب ! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار ! آپ کے فضل سے کون مستغنی رہ سکتا ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 279
حدیث نمبر: 10639
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَذْكُرُونَ الْكَمْأَةَ ، قَالُوا : تُرَاهَا جُدَرِيَّ الْأَرْضِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ , وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجو رہے اور زہر کی شفا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10639
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، ثم هو منقطع بين شهر و بين أبى هريرة
حدیث نمبر: 10640
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عِمْرَانُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا : طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَالدَّجَّالَ ، وَالدُّخَانَ ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھ واقعات رونما ہونے سے قبل اعمال صالحہ میں سبقت کرلو سورج کا مغرب سے طلوع ہونا دجال کا خروج دھواں چھاجانا دابۃ الارض کا خروج تم میں سے کسی خاص آدمی کی موت یا سب کی عمومی موت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10640
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2947
حدیث نمبر: 10641
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ تم لوگ گزشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلا ہو جاؤ گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تم بھی داخل ہو جاؤ گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10641
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7319، وهذا إسناد ضعيف، جذ إبراهيم لا يعرف
حدیث نمبر: 10642
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا وَهُوَ يُحَدِّثُ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ : " إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الزَّرْعِ , فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ ؟ قَالَ : بَلَى , وَلَكِنْ أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ , قَالَ : فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ , فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ , قَالَ : فَيَقُولُ لَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ : دُونَكَ يَا ابْنَ آدَمَ , فَإِنَّهُ لَا يُشْبِعُكَ شَيْءٌ " , قَالَ : فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : وَاللَّهِ لَا تَجِدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا , فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ , وَأَمَّا نَحْنُ , فَلَسْنَا بِأَصْحَابِهِ , قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو کے دوران فرمایا اس وقت ایک دیہاتی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا " کہ ایک جنتی نے اللہ سے درخواست کی اسے کھیتی باڑی کی اجازت دی جائے پروردگار عالم نے اس سے فرمایا کیا تو اپنی خواہشات پوری نہیں کرپارہا ؟ اس نے عرض کیا کہ کیوں نہیں لیکن یہ بھی میری خواہش ہے چنانچہ اس نے بیج بویا اور پلک جھپکتے ہی وہ اگ آیا برابر ہوگیا اور کٹ کر پہاڑوں کے برابر اس کے ڈھیر لگ گئے اللہ نے اس سے فرمایا اے ابن آدم یہ لے تیرا پیٹ کوئی چیز نہیں بھر سکتی یہ سن کر وہ دیہاتی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اسے دیکھیں گے تو وہ کوئی قریشی یا انصاری ہی ہوگا کیونکہ یہی لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں ہم تو یہ کام نہیں کرتے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10642
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3348
حدیث نمبر: 10643
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَنَا , فَاخْتَلَفَ النَّاسُ فِيهَا وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ , فَالْيَوْمُ لَنَا , وَلِلْيَهُودِ غَدًا , وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ , لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ , وَلِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا گیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور پرسوں کا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10643
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 856
حدیث نمبر: 10644
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أُمِّ بُرْثُنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ : " الْيَوْمُ لَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10644
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10645
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی اسی دن وہ جنت میں داخل ہوئے اور اسی دن جنت سے باہر نکالے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10645
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 854، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10646
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى كُلِّ بَابِ مَسْجِدٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ مَجِيءَ الرَّجُلِ , فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ , فَالْمُهَجِّرُ كَالْمُهْدِي جَزُورًا , وَالَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي الْبَقَرَةَ , وَالَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي الشَّاةَ , وَالَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي الدَّجَاجَةَ , وَالَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي الْبَيْضَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے آجاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں چنانچہ جمعہ کی نماز میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والاگائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے پھر مرغی پھر انڈہ صدقہ کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے اور جب امام نکل آتا ہے اور منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ کر ذکر سننے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10646
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3211، م: 850
حدیث نمبر: 10647
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي , أُتِيتُ بِقَدَحَيْنِ قَدَحِ لَبَنٍ ، وَقَدَحِ خَمْرٍ , فَنَظَرْتُ إِلَيْهِمَا فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ , فَقَالَ جِبْرِيلُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ , لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج کے موقع پر میرے پاس دو برتن لائے گئے جن میں سے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی مجھ سے کہا گیا کہ ان میں جسے چاہیں منتخب کرلیں میں نے دودھ اٹھالیا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھ سے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ فطرت صحیحہ کی طرف آپ کی رہنمائی ہوئی اگر آپ شراب اٹھالیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3394، م: 168، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، لكنه توبع
حدیث نمبر: 10648
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لَمْ يَرْفَعْهُ , قَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ , حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ الشُّحُومَ , فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا ثَمَنَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن وہ اسے بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهو هنا موقوف لكن صح مرفوعا، خ: 2224، م: 1583
حدیث نمبر: 10649
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَنَاجَشُوا , وَلَا تَدَابَرُوا , وَلَا تَنَافَسُوا , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ , وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ , دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ , وَلَا تَشْتَرِطْ امْرَأَةٌ طَلَاقَ أُخْتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خریدوفروخت میں ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو دنیا میں ایک دوسرے سے ریس نہ کرو ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ رکھو کوئی آدمی اپنے بھائی کے بھاؤ پر اپنا بھاؤ نہ کرے کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے کے ذریعے رزق عطاء فرمائے اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کی شرط نہ لگائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10649
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 2563
حدیث نمبر: 10650
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا , وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا , قَالَ : إِنْ شِئْتُمْ دَلَلْتُكُمْ عَلَى مَا إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ , أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس پر عمل کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو ؟ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 54
حدیث نمبر: 10651
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تم سے اللہ کے نام پر مانگے اسے دے دیا کرو اور جو تمہاری دعوت کرے اسے قبول کرلیا کرو اگر مجھے صرف ایک دستی کی دعوت دی جائے تو میں قبول کرلوں گا اور اگر ایک پائے کی دعوت دی جائے تب قبول کرلوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5178
حدیث نمبر: 10652
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ , فَيَقُولُ : لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي , فَيَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً " , قَالَ " وَكُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، فَيَقُولُ : لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي ، قَالَ : فَيَكُونُ لَهُ شُكْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر جہنمی کو جنت میں اس کا متوقع ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے اور وہ تمنا کرتا ہے کہ کاش مجھے بھی اللہ نے ہدایت سے سرفراز کیا ہوتا اور وہ اس کے لئے باعث حسرت بن جاتا ہے اسی طرح ہر جنتی کو جہنم میں اس کا متوقع ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں یہاں ہوتا اور پھر وہ اس پر شکر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10652
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6569
حدیث نمبر: 10653
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ , لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ , وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ " , قَالَ أَبِي , وَحَدَّثَنَاه عَنْ شَرِيكٍ أَيْضًا يَعْنِي أَسْوَدَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2803، م: 1876، إسناده الأول: صحيح، والثاني: ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10654
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ ، وَهُوَ خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین مالدار مسلمانوں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10655
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : أَقْبَلَ سَعْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ فِي وَجْهِ سَعْدٍ لَخَبَرًا " , قَالَ : قُتِلَ كِسْرَى ، قَالَ : يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ كِسْرَى ، إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ هَلَاكًا الْعَرَبُ ، ثُمَّ أَهْلُ فَارِسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ سعد کے چہرے میں خیروبرکت کے آثار ہیں پھر فرمایا کسریٰ قتل ہوگیا اللہ کسریٰ پر اپنی لعنت نازل فرمائے جو عرب کو پھر اہل فارس کو ہلاک کرنے والوں میں سب سے پہلا شخص ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف داود
حدیث نمبر: 10656
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَبْشًا ، فَيُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ ، قَالَ : فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، قَالَ : ثُمَّ يُنَادَ أَهْلُ النَّارِ : تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيُذْبَحُ , ثُمَّ يُقَالُ : خُلُودٌ فِي الْجَنَّةِ , وَخُلُودٌ فِي النَّارِ " , حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , مِثْلَهُ , أَنَّهُ زَادَ فِيهِ : " يُؤْتَى عَلَى الصِّرَاطِ فَيُذْبَحُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن موت کو مینڈھے کی شکل میں لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہ کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ جی ہاں ! پھر اہل جہنم کو پکار کر آواز دی جائے گی کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے جی ہاں چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کر دیا جائے گا اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو۔ اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہو گے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10657
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ زَادَ فِيهِ : يُؤْتَى عَلَى الْصِّرَاطِ فَيُذْبَحُ»
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10658
حَدَّثَنَا ابْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ , فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ , خَرَجَ إِلَى الْبَرِّيَّةِ , فَلَمَّا رَأَتْ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَى ، فَوَضَعَتْهَا ، وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ ، ثُمَّ قَالَتْ : اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا فَنَظَرَتْ ، فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدْ امْتَلَأَتْ ، قََالَ : وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا ، قََالَ : فَرَجَعَ الزَّوْجُ , قََالَ : أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا ؟ قَالَتْ امْرَأَتُهُ : نَعَمْ مِنْ رَبِّنَا , قَامَ إِلَى الرَّحَى , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا , لَمْ تَزَلْ تَدُورُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . " شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " وَاللَّهِ ، لَأَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ صَبِيرًا , ثُمَّ يَحْمِلَهُ يَبِيعَهُ فَيَسْتَعِفَّ مِنْهُ , خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا يَسْأَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس آیا اس نے اس پر پریشانی کے حالات دیکھے تو وہ جنگل کی طرف نکل گیا یہ دیکھ کر اس کی بیوی چکی کی طرف بڑھی اور اسے لا کر رکھا اور تنور کو دہکایا اور کہنے لگی کہ اے اللہ ہمیں رزق عطاء فرما اس نے دیکھا تو ہنڈیا بھر چکی تھی تنور کے پاس گئی تو وہ بھی بھرا ہوا تھا تھوڑی دیر میں اس کا شوہر واپس آگیا اور کہنے لگا کیا میرے بعد تمہیں کچھ حاصل ہوا ہے ؟ اس کی بیوی نے کہا ہاں ہمارے رب کی طرف سے چنانچہ وہ اٹھ کرچکی کے پاس گیا اور اسے اٹھالیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ چکی اس کی جگہ سے نہ اٹھاتا تو وہ قیامت تک گھومتی ہی رہتی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری موجودگی میں فرمایا بخدا ! یہ بات بہت بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی پہاڑ پر جائے لکڑیاں باندھے اور اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے عفت حاصل کرے بہ نسبت اس کے کہ کسی آدمی کے پاس جا کر سوال کرے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، أنظر، خ: 1470، م: 1042
حدیث نمبر: 10659
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا كَامِلٌ , وَأَبُو الْمُنْذِرِ , حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، قََالَ أَسْوَدُ : قََالَ : أَخْبَرَنَا الْمَعْنَى , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ، " فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ , وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ ، أَخَذَهُمَا بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ أَخْذًا رَفِيقًا ، وَيَضَعُهُمَا عَلَى الْأَرْضِ ، فَإِذَا عَادَ عَادَا , حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ ، أَقْعَدَهُمَا عَلَى فَخِذَيْهِ ، قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرُدُّهُمَا , فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ , فَقَالَ لَهُمَا : " الْحَقَا بِأُمِّكُمَا " ، قَالَ : فَمَكَثَ ضَوْءُهَا حَتَّى دَخَلَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں گئے تو حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہ کود کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر چڑھ گئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے سے سر اٹھایا تو انہیں اپنا ہاتھ پیچھے کرکے آہستہ سے پکڑ لیا اور انہیں زمین پر اتار دیا اور ساری نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سجدے میں جاتے تو یہ دنوں ایساہی کرتے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوگئے اور انہیں اپنی ران پر بٹھالیا میں کھڑا ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ان دونوں کو چھوڑ آؤں ؟ اسی لمحے ایک روشنی کو ندی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا اپنی امی کے پاس چلے جاؤ او وہ روشنی اس وقت تک رہی جب تک وہ اپنے گھر میں داخل نہ ہو گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10660
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بِإِسْنَادِهِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ , قََالَ : حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّهِمَا .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10661
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيُهِلَّنَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ بِالْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ ، أَوْ لَيُثَنِّيَهُمَا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا ضرور ہوگا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:1252
حدیث نمبر: 10662
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , وَحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقَدَّمُوا قَبْلَ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ , إِلَّا رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَيَصِلُهُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082
حدیث نمبر: 10663
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ فِي سَفَرٍ , فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي , قََالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : صَدَقَ , وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ ، وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ " , فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ , فَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللَّهِ , صَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سفر میں تھے لوگوں نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے کے لئے بلا بھیجا وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے قاصد سے کہلا بھیجا کہ میں روزے سے ہوں چنانچہ لوگوں نے کھانا کھانا شروع کردیا جب وہ کھانے سے فارغ ہونے کے قریب ہوئے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور کھانا شروع کردیا لوگ قاصد کی طرف دیکھنے لگے اس نے کہا مجھے کیوں گھورتے ہو انہوں نے خود ہی مجھ سے کہا تھا کہ میں روزے سے ہوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سچ کہہ رہا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ماہ رمضان کے مکمل روزے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیناپورے سال روزہ رکھنے کے برابر ہے چنانچہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں میں جب روزہ کھولتاہوں (نہیں رکھتا) تو اللہ کی تخفیف کے سائے تلے اور رکھتا ہوں تو اللہ کی تضعیف (ہر عمل کا بدلہ دگنا کرنے) کے سائے تلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح