حدیث نمبر: 10584
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَمْ تَدَعْهَا تُصِيبُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ، وَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا حَتَّى مَاتَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10584
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
حدیث نمبر: 10585
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ , فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَصِلْ , وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے نہ ہو تو اسے کھالینا چاہئے اور اگر روزے سے ہو تو ان کے حق میں دعا کرنی چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1431
حدیث نمبر: 10586
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قََالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اشْتَرَى مُصَرَّاةً ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ , فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ , لَا سَمْرَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہوکر) ایسی بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 10587
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبَهِيمَةُ عَقْلُهَا جُبَارٌ , وَالْمَعْدِنُ عَقْلُهَا جُبَارٌ , وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 10588
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اخْتَصَمَتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ , فَقَالَتْ الْجَنَّةُ : أَيْ رَبِّ مَا لَهَا يَدْخُلُهَا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ ؟ ! وَقَالَتْ النَّارُ : يَا رَبِّ مَا لَهَا يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ ؟ ! قَالَ لِلْجَنَّةِ : أَنْتِ رَحْمَتِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ , وَقَالَ لِلنَّارِ : أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ مِنْكِ مَنْ أَشَاءُ , وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُنَّ مِلْؤُهَا , قَالَ : فَأَمَّا الْجَنَّةُ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَظْلِمُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا , وَإِنَّهَا يُنْشَأُ لَهَا مِنْ خَلْقِهِ مَا شَاءَ , وَأَمَّا النَّارُ , فَيُلْقَوْنَ فِيهَا , وَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ , وَيُلْقَوْنَ فِيهَا , وَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ , حَتَّى يَضَعَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا قَدَمَهُ , فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ , وَتَقُولُ : قَطْ قَطْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا جنت کہنے لگی کہ پروردگار میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے ؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے ؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے رحم کروں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا چنانچہ جنت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا اور جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے ؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس۔ بس بس۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10588
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4849، م: 2846
حدیث نمبر: 10589
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ , فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي طَهُورِهِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا فَيَغْسِلَهَا , فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278
حدیث نمبر: 10590
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ , لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ , وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا , وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " , قَالَ : وَقَالَ : " الرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَالرُّؤْيَا تَحْزِينًا مِنَ الشَّيْطَانِ , وَالرُّؤْيَا مِنَ الشَّيْءِ يُحَدِّثُ بِهِ الْإِنْسَانُ نَفْسَهُ , فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ , فَلَا يُحَدِّثْهُ أَحَدًا , وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ " , قَالَ : وَأُحِبُّ الْقَيْدَ فِي النَّوْمِ , وَأَكْرَهُ الْغُلَّ , الْقَيْدُ : ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخرزمانے میں مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہوا کرے گا اور تم میں سے سب سے زیادہ سچاخواب اسی کا ہوگا جو بات کا سچا ہوگا اور مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہے اور خواب کی تین قسمیں ہیں اچھے خواب تو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں بعض خواب انسان کا تخیل ہوتے ہیں اور بعض خواب شیطان کی طرف سے انسان کو غمگین کرنے کے لئے ہوتے ہیں جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنا شروع کردے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خواب میں " قید " کا دکھائی دینا پسند ہے لیکن " بیڑی " ناپسند ہے کیونکہ قید کی تعبیر دین میں ثابت قدمی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10590
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7017، م: 2263
حدیث نمبر: 10591
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ ، فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام کے بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10591
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
حدیث نمبر: 10592
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَنْبَأَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْحَرِّ , فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّم " , أَوْ " مِنْ فَيْحِ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10592
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 10593
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : كُنَّا عِنْدَهُ فَإِمَّا تَفَاخَرُوا ، وَإِمَّا تَذَاكَرُوا ، فَقَالَ : الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ مِنَ النِّسَاءِ , فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَوَلَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي تَدْخُلُ الْجَنَّةَ , وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ , وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ , لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ , يُرَى مُخُّ سُوقَيْهِمَا مِنْ وَرَاءِ الْحُلَلِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , مَا فِيهَا مِنْ أَعْزَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے اس بات پر آپس میں جھگڑا کیا کہ جنت میں مردوں کی تعداد زیادہ ہوگی یا عورتوں کی ؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہنے لگے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہروں والا ہوگا اس کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے باہر سے نظر آجائے گا اور جنت میں کوئی شخص کنوارہ نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10593
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3254، م:2834
حدیث نمبر: 10594
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , قََالَ : قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " الْفَأْرُ مِمَّا مُسِخَ ، وَسَأُنَبِّئُكُمْ بِآيَةِ ذَلِكَ إِذَا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهَا لَبَنُ اللِّقَاحِ ، لَمْ تُصِبْ مِنْهُ ، وَإِذَا وُضِعَ لَبَنُ الْغَنَمِ " ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ كَعْبٌ : أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ " أَفأُنْزِلَتْ عَلَيَّ التَّوْرَاةُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چوہا ایک مسخ شدہ قوم ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ میں نے کہا کہ کیا مجھ پر تورات نازل ہوئی ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10594
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997
حدیث نمبر: 10595
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءٍ , غُسِلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ , أَوَّلُهَا بِالتُّرَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے اور پہلی مرتبہ مٹی سے مانجھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 172، م: 279
حدیث نمبر: 10596
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " مَنْ أَفْلَسَ بِمَالِ قَوْمٍ ، فَرَأَى رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559، وسعيد بن أبى عروبة رواية یزید عنہ قبل اختلاط،ثم ھو متابع
حدیث نمبر: 10597
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ كَتَمَ عِلْمًا يَعْلَمُهُ ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَجَّمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10598
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " الضُّعَفَاءُ الْمَظْلُومُونَ ، قَالَ : أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ؟ " , قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ هُمْ الَّذِينَ لَا يَأْلَمُونَ رُءُوسَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جنتی کمزور اور مظلوم لوگ ہوں گے کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جہنمی ہر بیوقوف اور متکبر آدمی ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، دون قوله: «هم الذين لا يألمون رؤوسهم» ، وهذه زيادة منكرة، فقد تفرد بها البراء ، وهو ضعيف
حدیث نمبر: 10599
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَزَالُ نَفْسُ ابْنِ آدَمَ مُعَلَّقَةً بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی جان اس وقت تک لٹکی رہتی ہے جب تک کہ اس پر قرض موجود ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح إن ثبت سماع سعد لهذا الحديث من أبى سلمة
حدیث نمبر: 10600
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجَ رَجُلٌ يَزُورُ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى , فَأَرْصَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا , فَلَمَّا مَرَّ بِهِ , قَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : أُرِيدُ فُلَانًا , قَالَ لِلْقَرَابَةِ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلِنِعْمَةٍ لَهُ عِنْدَكَ تَرُبُّهَا ؟ قَالَ : لَا , قَالَ : فَلِمَ تَأْتِيهِ , قَالَ : إِنِّي أُحِبُّهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ , أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّكَ بِحُبِّكَ إِيَّاهُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے لئے جو دوسری بستی میں رہتا تھا روانہ ہوا اللہ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھا دیا جب وہ فرشتے کے پاس سے گذرا تو فرشتے نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ فلاں آدمی سے ملاقات کے لئے جارہاہوں فرشتے نے پوچھا کیا تم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے ؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا کہ کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جسے تم پال رہے ہو ؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا پھر تم اس کے پاس کیوں جا رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں اس سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا کہ میں اللہ کے پاس سے تیری طرف قاصد بن کر آیا ہوں کہ اس کے ساتھ محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2567
حدیث نمبر: 10601
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10602
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ , عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10602
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10603
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : عَبْدِي أَمَتِي , وَلْيَقُلْ : فَتَايَ وَفَتَاتِي " , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ نہ کہے " عبدی، امتی " بلکہ یوں کہے میرا جوان میری جوان۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10603
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249
حدیث نمبر: 10604
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10605
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ , وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ , وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا , وَلَا عَلَى خَالَتِهَا , وَلَا تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا ، وَلْتَنْكِحْ , فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے یا بیع میں دھوکہ نہ دے یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔ کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10605
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
حدیث نمبر: 10606
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الَّذِي يَسْمَعُ الْحِكْمَةَ ، ثُمَّ لَا يُخْبِرُ عَنْ صَاحِبِهِ إِلَّا بِشَرِّ مَا سَمِعَ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيَ غَنَمٍ , فَقَالَ : أَجْزِرْنِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ , فَقَالَ : اخْتَرْ , فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی مثال جو کسی مجلس میں شریک ہو اور وہاں حکمت کی باتیں سنے لیکن اپنے ساتھی کو اس میں سے چن چن کر غلط باتیں ہی سنائے اس شخص کی سی ہے جو کسی چرواہے کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ اے چرواہے ! اپنے ریوڑ میں سے ایک بکری میرے لئے ذبح کردے وہ اسے جواب دے کہ جا کر ان میں سے جو سب سے بہتر ہو اس کا کان پکڑ کرلے آؤ اور وہ جا کر ریوڑ کے کتے کا کان پکڑ کرلے آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على ولجهالة أوس
حدیث نمبر: 10607
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : خَطَبَنَا , وَقَالَ مَرَّةً : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ , " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَيْكُمْ الْحَجَّ فَحُجُّوا " , فَقَالَ رَجُلٌ : أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ ، حَتَّى قَالَهَا : ثَلَاثًا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ لَوَجَبَتْ , وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ " . ثُمَّ قَالَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ , فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ , فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ , فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ , وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ , فَدَعُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا لوگو اللہ نے تم پر بیت اللہ کا حج فرض قرار دیا ہے لہٰذا اس کا حج کیا کرو ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سکوت فرمایا سائل نے اپنا سوال تین مرتبہ دہرایا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں " ہاں " کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا اور تم میں اس کی ہمت نہ ہوتی پھر فرمایا جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کیونکہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاو اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔ اور جب کسی چیز سے روکوں تو اسے چھوڑ دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10607
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7288، م:1737
حدیث نمبر: 10608
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ , أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ الْجَنَّةَ نُزُلًا كُلَّمَا غَدَا وَرَاحَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح یا شام جس وقت بھی مسجد جاتا ہے اللہ اس کے لئے جنت میں مہمان نوازی کی تیاری کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10608
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 10609
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْرَضَ مِنْ رَجُلٍ بَعِيرًا , فَجَاءَ يَتَقَاضَاهُ بَعِيرَهُ ، فَقَالَ : " اطْلُبُوا لَهُ بَعِيرًا فَادْفَعُوهُ إِلَيْهِ " ، فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ نَجِدْ إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّ بَعِيرِهِ ، فَقَالَ : " أَعْطُوهُ , فَإِنَّ خِيَارَكُمْ أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ تلاش کرکے لے آؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ دے دو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہتر ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10609
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601
حدیث نمبر: 10610
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ , أَنَّى لِي هَذِهِ ، فَيَقُولُ : بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جنت میں ایک نیک آدمی کے درجات کو بلند کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار ! میرے یہ درجات کہاں سے ؟ اللہ فرمائے گا کہ تیرے حق میں تیری اولاد کے استغفار کی برکت سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10610
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10611
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ , وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لینا اونٹوں کے باڑے میں مت پڑھنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10611
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10612
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُولُوا لِلْعِنَبِ : الْكَرْمَ , فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ الصَّالِحُ " , حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِنَحْوِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انگور کے باغ کو " کرم " نہ کہا کرو، کیونکہ اصل کرم تو مرد مومن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6182، م: 2247، وهذا الإسناد فيه محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 10613
حَدَّثَنَا يَزِيدُ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِنَحْوِهِ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10613
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4182، م:2247
حدیث نمبر: 10614
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَهِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُدْخِلُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ " , قِيلَ : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ " , وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہہ کر اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10614
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ھذا الحدیث لہ إسنادان : الأول: حسن، والثانی : صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 10615
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , سَمِعَ أَبَاهُ , قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا ، قَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا , فَأَحِبُّوهُ , فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاوَاتِ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ فُلَانًا , فَأَحِبُّوهُ ، فَيُلْقَى حُبُّهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَيُحَبُّ , وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا , قَالَ : يَا جِبْرِيلُ ، إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا , فَأَبْغِضُوهُ , فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاوَاتِ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ فُلَانًا , فَأَبْغِضُوهُ , فَيُوضَعُ لَهُ الْبُغْضُ لِأَهْلِ الْأَرْضِ , فَيُبْغَضُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) سے کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ جبرائیل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جبرائیل (علیہ السلام) آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ سارے آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد زمین والوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تب بھی جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے کہ اے جبریل ! میں فلاں بندے سے نفرت کرتا ہوں تم بھی اس سے نفرت کرو اور جبرائیل (علیہ السلام) آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے نفرت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے نفرت کرو۔ چنانچہ سارے آسمان والے اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں پھر یہ نفرت زمین والوں کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10615
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح،خ: 7485، م:2637
حدیث نمبر: 10616
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أُمِّ بُرْثُنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَنَا , فَاخْتَلَفُوا فِيهَا , وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا , فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ , فَالْيَوْمُ لَنَا , ولِلْيَهُودِ غَدًا , وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) کا ہے اور پر سوں کا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م:856
حدیث نمبر: 10617
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا جُهَيْرُ بْنُ يَزِيدَ الْعَبْدِيُّ , عَنْ خِدَاشِ بْنِ عَيَّاشٍ , قََالَ : كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ بِالْكُوفَةِ , فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ , قََالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ , فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ شَهَادَةً لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ , فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
خداش بن عیاش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کوفہ کے ایک حلقہ درس میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں ایک آدمی احادیث بیان کررہا تھا اس نے کہا کہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے متعلق ایسی گواہی دے جس کا وہ اہل نہ ہو تو اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن أبى هريرة، ولضعف خداش
حدیث نمبر: 10618
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صَفِيَّةَ , وَقَالَ يَعْقُوبُ : صُبَيَّةَ , وَهُوَ الصَّوَابُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي , لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ , وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ , فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ , هَبَطَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ , يَقُولُ قَائِلٌ : أَلَا دَاعٍ يُجَابُ ؟ أَلَا سَائِلٌ يُعْطِيهِ ؟ أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرَ لَهُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔ کیونکہ تہائی یا نصف رات گذرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطاء کروں ؟ ہے کوئی گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کروں ؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں ؟ ہے کوئی پکارنے والا کہ اس کی پکار کو قبول کروں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1145، م: 758، وهذا إسناد ضعيف، عطاء المدني، ومحمد بن إسحاق مدلسان وقد عنعنا
حدیث نمبر: 10619
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ , عَنْ أَنَسٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَال : يَعْنِي الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ : " إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا , تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا , وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا , تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بُوعًا أَوْ بَاعًا , وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي بُوعًا أَوْ بَاعًا أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے فرمایا بندہ جب بھی ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7537، م:2675
حدیث نمبر: 10620
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي السَّلِيلِ , عَنْ أَبِي حَسَّانَ , قََالَ : تُوُفِّيَ ابْنَانِ ليِ , فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا تُحَدِّثُنَاهُ تُطَيِّبُ بِنَفْسِنَا عَنْ مَوْتَانَا ؟ قَالَ : نَعَمْ , " صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ , يَلْقَى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ أَوْ أَبَوَيْهِ , فَيَأْخُذُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ أَوْ يَدِهِ كَمَا آخُذُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا , فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحسان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں رکا میرا ایک بیٹا فوت ہوگیا تھا جس کا مجھے بہت غم تھا میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث سنی ہے جو ہمیں اپنے مردوں کے حوالے سے خوش کردے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں کے چھوٹے بچے (جو بچپن ہی میں فوت ہوجائیں) جنت کے ستون ہوتے ہیں۔ جب ان میں سے کوئی بچہ اپنے والدین سے ملے گا تو ان کے کپڑے کا کنارہ پکڑ لے گا جیسے میں نے تمہارے کپڑے کا کنارہ پکڑا ہوا ہے اور اس وقت تک ان سے جدا نہ ہوگا جب تک اللہ اسے اور اس کے باپ کو جنت میں داخل نہ کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2635
حدیث نمبر: 10621
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا عَوْفٌ , عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ , قََالَ عَوْفٌ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غُفِرَ لِامْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْهَثُ , قَدْ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ , فَنَزَعَتْ خُفَّهَا , فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا , فَنَزَعَتْ لَهُ مِنَ الْمَاءِ , فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک فاحشہ عورت نے سخت گرمی کے ایک دن میں ایک کتے کو ایک کنوئیں کے چکر کاٹتے ہوئے دیکھا جس کی زبان پیاس کی وجہ سے لٹک چکی تھی اس نے موزے کو اتار کر اس میں پانی بھر کر اسے پلادیا اور اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3351، م: 2245
حدیث نمبر: 10622
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا عَوْفٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ , إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ وَإِيَّاهُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ الْجَنَّةَ , وَقَالَ : يُقَالُ لَهُمْ : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ , قَالَ : فَيَقُولُونَ : حَتَّى يَجِيءَ أَبَوَانَا " , قَالَ : ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَيَقُولُونَ : مِثْلَ ذَلِكَ , فَيُقَالُ لَهُمْ : " ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَبَوَاكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مسلمان میاں بیوی جن کے تین نابالغ بچے فوت ہوگئے ہوں اللہ ان بچوں اور ان کے ماں باپ کو اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا ابتداء ان بچوں سے کہا جائے گا کہ جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ وہ کہیں گے کہ جب تک ہمارے والدین نہیں آتے ہم جنت میں نہیں جائیں گے یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوں گے بالآخر ان سے کہا جائے گا کہ جاؤ تم اور تمہارے والدین جنت میں داخل ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1251، م: 2632
حدیث نمبر: 10623
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ صَلَاتَيْنِ , وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ , وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ : نَهَى عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ , وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ , وَعَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ , وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ تُفْضِي بِفَرْجِكَ إِلَى السَّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی نماز، دو قسم کی خریدوفروخت اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز سے منع فرمایا ہے اور لباس یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرا سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے اور بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 584، 2145، م:1511