حدیث نمبر: 10544
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا لِنِصْفِ اللَّيْلِ الْآخِرِ أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ , فَيَقُولُ : مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ، أَوْ يَنْصَرِفَ الْقَارِئُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطا کروں ؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔ یا یہ کہ قاری نماز فجر سے واپس ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: «أو ينصرف القارئ . . . . » ،خ:1145، م:758، وإسناد الحدیث حسن، فیہ محمد بن عمرو، صدوق لہ أوھام۔
حدیث نمبر: 10545
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ ، وَفِيهِ أُهْبِطَ مِنْهَا ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُؤْمِنٌ يُصَلِّي وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ يُقَلِّلُهَا , يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے سب سے بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی، اسی دن وہ جنت میں داخل اور اتارے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی قائم ہوگی۔ اور اس دن ایک گھڑی (بہت مختصر) ایسی بھی آتی ہے جو اگر کسی نماز پڑھتے ہوئے بندہ مسلم کو مل جائے اور وہ اس میں اللہ سے کچھ مانگ لے اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6400، م: 852، 854
حدیث نمبر: 10546
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ , أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کا سر یا اس کی شکل گدھے جیسی بنادے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 691، م: 427
حدیث نمبر: 10547
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ , ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ , ثُمَّ إِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ , فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پئے تو پھر کوڑے مارو سہ بارہ پئیے تو پھر کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پئیے تو اس کی گردن اڑادو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده قوي
حدیث نمبر: 10548
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ زِيَادٍ الْمَخْزُومِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، أَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ ، كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ ضَوْءِ كَوْكَبٍ فِي السَّمَاءِ , ثُمَّ هِيَ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں تو ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے جنت میں جائیں گے جنت میں میری امت کا جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا۔ اس کے بعد درجہ بدرجہ لوگ ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد
حدیث نمبر: 10549
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً , عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا ، وَمَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَلَا يُعْجِبُهُمْ أَنْ يُسْتَمَعَ حَدِيثُهُمْ , أُذِيبَ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ , وَمَنْ تَحَلَّمَ كَاذِبًا , دُفِعَ إِلَيْهِ شَعِيرَةٌ وَعُذِّبَ حَتَّى يَعْقِدَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا , وَلَيْسَ بِعَاقِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تصویر بناتا ہے اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا (اور اس سے کہا جائے گا کہ) اس میں روح پھونکے لیکن وہ اس میں روح پھونک نہ سکے گا جو شخص لوگوں کی بات چوری چھپے سنے اور انہیں اس کا سننا اچھا نہ لگتا ہو تو اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے اسے اس طرح عذاب میں مبتلا کیا جائے گا کہ اسے جو کا دانہ جائے گا اور اس میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ اس میں گرہ لگا نہیں سکے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7558، م: 2111
حدیث نمبر: 10550
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي هَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ ، إِلَّا السَّامَ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا السَّامُ ؟ قَالَ : " الْمَوْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں سام کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! سام سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
حدیث نمبر: 10551
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ لَأَنْ يَرَانِي ، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَهُ مِثْلُ أَهْلِهِ وَمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے کسی پر ایک دن ایسا بھی آئے گا جب اس کے نزدیک مجھے دیکھنا اپنے اہل خانہ اور اپنے مال و دولت سے زیادہ محبوب ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3589، م: 2364
حدیث نمبر: 10552
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّوْمُ جُنَّةٌ ، فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا ، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ , وَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَهُ , أَوْ قَاتَلَهُ , فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1894، م:1151
حدیث نمبر: 10553
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبِي يحدث , قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6724، م: 2563، وهذا إسناد ضعيف، حيان والد سليم: مجهول
حدیث نمبر: 10554
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ , عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : " لِكُلِّ عَمَلٍ كَفَّارَةٌ ، وَالصَّوْمُ لِي , وَأَنَا أَجْزِي بِهِ . " وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے روزہ کے علاوہ ہر عمل کا کفارہ ہے روزہ خاص میرے لئے ہیں اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا، روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10555
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ , قََالَ أَبِي وَهُوَ أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : قََالَ : قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قََالَ : أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ فَأَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ ، إِلَى مَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ ، فَمَا كَانَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کا تہبند پنڈلی کی مچھلی تک ہوتا ہے یا نصف پنڈلی تک یا ٹخنوں تک پھر جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5787
حدیث نمبر: 10556
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , قََالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَنَّ سُنَّةَ ضَلَالٍ فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا ، كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ , وَمَنْ سَنَّ سُنَّةَ هُدًى فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا , كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کے لئے گمراہی کا طریقہ رائج کرے گا لوگ اس کی پیروی کریں تو اسے اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور ان کے گناہ میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے گی اور جو شخص لوگوں کے لئے ہدایت کا طریقہ رائج کرے لوگ اس کی پیروی کریں تو اسے اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور ان کے ثواب میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2674، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10557
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ ، وَهُوَ لَا يَأْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ ، فَلَا بَأْسَ بِهِ , وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ , قَدْ أَمِنَ أَنْ يَسْبِقَ , فَهُوَ قِمَارٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ریس میں ایسا گھوڑا شامل کردے جس کے بارے میں یہ یقین نہ ہو کہ وہ آگے بڑھ جائے گا تو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو شخص ایسا گھوڑا شامل کردے جس کے آگے بڑھ جانے ( اور جیت جانے) کا یقین ہو تو یہ جوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف فى الزهري
حدیث نمبر: 10558
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُ أَحَدَكُمْ إِذَا أَشَارَ بِحَدِيدَةٍ , وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف " خواہ وہ حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو " کسی تیز دھار چیز سے اشارہ کرے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7072، م:2616
حدیث نمبر: 10559
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِثَلَاثٍ وَلَسْتُ بِتَارِكِهِنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ : أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ ، وَأَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَأَنْ لَا أَدَعَ رَكْعَتَيْ الضُّحَى ، فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کی دو رکعتیں ترک نہ کرنے کی کیونکہ یہ رجوع کرنے والوں کی نماز ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف، سليمان مجهول
حدیث نمبر: 10560
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قََالَ : يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ مُحَمَّدٍ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ , عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ , وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخِرَيْ امْرِئٍ أَبَدًا " , وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ : فِي مَنْخِرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کے خوف سے رویاہو وہ جہنم میں کبھی داخل نہ ہوگا یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس چلا جائے اور کسی مسلمان کے نتھنوں میں کبھی بھی میدان جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہوسکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10560
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10561
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَا شَيْءَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے اس کے لئے کوئی ثواب نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10561
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاختلاط صالح
حدیث نمبر: 10562
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹی بات اور کام اور جہالت نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10562
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1903
حدیث نمبر: 10563
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ أَبِحَلَالٍ أَخَذَ الْمَالَ أَمْ بِحَرَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں آدمی کو اس چیز کی کوئی پرواہ نہ ہوگی کہ وہ حلال طریقے سے مال حاصل کررہا ہے یا حرام طریقے سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:2059
حدیث نمبر: 10564
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , وَأَبُو عَامَرٍ , قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ عَجْلَانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ , وَقَالَ أَبُو عَامَرٍ مَوْلَى حَكِيمٍ ، وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ مَوْلَى حَمَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ََقَال : " لَا تَسَابَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ ، فَإِنْ شَتَمَكَ أَحَدٌ ، فَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ , وَإِنْ كُنْتَ قَائِمًا فَاقْعُدْ " . " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ , أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزے کی حالت میں گالی گلوچ نہ کرو اگر کوئی تم میں سے کرے تو اسے کہہ دو کہ میں روزے کی حالت میں ہوں اور اگر کوئی تم سے کرے تو اسے کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں اور اگر کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10564
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10565
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى مَا وَرَائِي , كَمَا أَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ , فَسَوُّوا صُفُوفَكُمْ , وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ , وَسُجُودَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور سامنے کی چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے تم اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو اور اپنے رکوع و سجود کو خوب اچھی طرح ادا کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10565
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423
حدیث نمبر: 10566
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ , فَقَالَ : " ارْكَبْهَا " , قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کا حکم پوچھا (جبکہ انسان حج کے لئے جارہاہو اور اس کے پاس کوئی دوسری سواری نہ ہو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10566
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1689، م: 1322
حدیث نمبر: 10567
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عَجْلَانَ , وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قََالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ الْمَعْنَى , عَنْ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَمْلُوكِ : " يَصْنَعُ طَعَامَكَ وَيُعَانِيهِ ، فَادْعُهُ ، فَإِنْ أَبَى فَأَطْعِمْهُ فِي يَدِهِ , وَإِذَا ضَرَبْتُمُوهُمْ , فَلَا تَضْرِبُوهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک دو لقمے ہی اسے دے دے اور اگر تم اپنے غلاموں کو مارو تو چہروں پر مارنے سے اجتناب کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10567
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2557، 2559، م: 1663، 2612
حدیث نمبر: 10568
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , وَقَفَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ , فَيَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ , فَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي كَبْشًا ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي دَجَاجَةً ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَيْضَةً ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ وَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، طَوَوْا صُحُفَهُمْ , وَجَلَسُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے آجاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں چنانچہ جمعہ کی نماز میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے پھر مرغی پھر انڈہ صدقہ کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے اور جب امام نکل آتا ہے اور منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ کر ذکر سننے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10568
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3211، م:850
حدیث نمبر: 10569
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ أَبِي الْوَلِيدِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ عَلَيْكُمْ أَنْ تُطْعِمُوهُ لُقْمَةً لُقْمَةً , إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جو لوگوں سے بھی کچھ نہ مانگے اور دوسروں کو بھی اس کی ضروریات کا علم نہ ہو کہ لوگ اس پر خرچ ہی کردیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 1479، م: 1039
حدیث نمبر: 10570
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا ، يَمُرُّ بِي ثَالِثَةٌ عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ ، إِلَّا شَيْءٌ أُعِدُّهُ لِغَرِيمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10570
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 10571
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عُمَيْرٍ , قََالَ : شَكَوْتُ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَوْمًا مَنَعُونِي مَاءً , فَقَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ : الْمَسْعُودِيُّ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ بَعْدَ أَنْ يُسْتَغْنَى عَنْهُ , وَلَا فَضْلُ مَرْعَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھاجائے اور نہ ہی زائد گھاس سے روکا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه المسعودي: مختلط وهو متابع
حدیث نمبر: 10572
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَأَى رَجُلًا قَدْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَقَدْ أُذِّنَ فِيهِ , فَقَالَ : " أَمَّا هَذَا ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء محاربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز عصر کی اذان کے بعد ایک آدمی اٹھا اور مسجد سے نکل گیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس آدمی نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10572
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي هذا الإسناد " المسعودي" وإن كان قد اختلط، متابع
حدیث نمبر: 10573
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ مِنْ أَخِيهِ , مِنْ عِرْضِهِ أَوْ مَالِهِ , فَلْيَتَحَلَّلْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ حِينَ لَا يَكُونُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ , وَإِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ , أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ , وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ , أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَجُعِلَتْ عَلَيْهِ " , حدثنا عبد الله ، حدثني أبي قال : وَقَالَ بِبَغْدَادَ : " قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَيْسَ هُنَاكَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی مال یا آبرو کے حوالے سے ظلم کیا ہو تو ابھی جا کر اس سے معافی مانگ لے اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جہاں کوئی درہم اور دینار نہ ہوگا اگر اس کی نیکیاں ہوئیں تو اس کی نیکیاں دے کر ان کا بدلہ دلوایا جائے گا اگر اس کے گناہوں کا فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو حقداروں کے گناہ لے کر اس پر لاد دئیے جائیں گے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کے استاذ نے بغداد میں یہ روایت سناتے وقت یہ فرمایا تھا کہ اس دن کے آنے سے پہلے جبکہ وہاں کوئی دینار اور درہم نہ ہوگا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2449
حدیث نمبر: 10574
وَحَدَّثَنَاه رَوْحٌ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، وَقَالَ : " مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ حِينَ لَا يَكُونُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10574
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح،انظر ما قبله
حدیث نمبر: 10575
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ , وَلَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَاحِدٍ ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے خواتین اسلام ! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔ اور کسی ایسی عورت کے لئے " جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو " حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10575
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1088، 2017، م:1339,1030
حدیث نمبر: 10576
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ , عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصَّلَاةُ إِلَى الصَّلَاةِ الَّتِي قَبْلَهَا كَفَّارَةٌ , وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي قَبْلَهَا كَفَّارَةٌ , وَالشَّهْرُ إِلَى الشَّهْرِ الَّذِي قَبْلَهُ كَفَّارَةٌ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ قَالَ : فَعَرَفْنَا أَنَّهُ أَمْرٌ حَدَثَ : إِلَّا مِنَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ , وَنَكْثِ الصَّفْقَةِ , وَتَرْكِ السُّنَّةِ " , قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الشِّرْكُ بِاللَّهِ قَدْ عَرَفْنَاهُ , فَمَا نَكْثُ الصَّفْقَةِ , وَتَرْكُ السُّنَّةِ , قَالَ : " أَمَّا نَكْثُ الصَّفْقَةِ : فَأَنْ تُعْطِيَ رَجُلًا بَيْعَتَكَ ، ثُمَّ تُقَاتِلَهُ بِسَيْفِكِ ، وَأَمَّا تَرْكُ السُّنَّةِ : فَالْخُرُوجُ مِنَ الْجَمَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک فرض نماز اگلی نماز تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے اسی طرح ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک۔ ایک مہینہ (رمضان) دوسرے مہینے (رمضان) تک بھی درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا سوائے تین گناہوں کے، میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کسی خاص وجہ کی بناء پر فرمایا ہے۔ (بہرحال ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) سوائے اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے۔ معاملہ توڑنے کے اور سنت چھوڑنے کے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا مطلب تو ہم سمجھ گئے معاملہ توڑنے سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاملہ توڑنے سے مراد یہ ہے کہ تم کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کرو۔ پھر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوجاؤ اور تلوار پکڑ کر اس سے قتال شروع کردو اور سنت چھوڑنے سے مرادجماعت مسلمین سے خروج ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10576
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: «إلا من ثلاث» ، م: 233، وإسناده ضعيف لجهالة الرجل الأنصاري الراوي عن أبى هريرة
حدیث نمبر: 10577
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ , وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ , وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایسی نعمتیں ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10577
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3244، م: 2824
حدیث نمبر: 10578
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : " اسْتَقْرَضْتُ عَبْدِي فَلَمْ يُقْرِضْنِي ، وَسَبَّنِي عَبْدِي وَلَا يَدْرِي , يَقُولُ : وَا دَهْرَاهُ وَا دَهْرَاهُ , وَأَنَا الدَّهْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے بندے سے بندے سے قرض مانگا لیکن اس نے نہیں دیا اور میرا بندہ مجھے انجانے میں برا بھلا کہتا ہے اور یوں کہتا ہے ہائے زمانہ۔ ہائے زمانہ حالانکہ زمانے کا خالق بھی تو میں ہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10578
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6181، م: 2246
حدیث نمبر: 10579
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کفر کا مرکز مشرق کی طرف ہے فخروتکبر اونٹوں اور گھوڑوں کے مالکوں میں ہوتا ہے اور سکون و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3499، م: 52
حدیث نمبر: 10580
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عن النبي صلي الله عليه وسلم قََالَ : " إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَيْهِ الَسَلاَّم قََالَ : أَطُوفُ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ , فَتَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يَضْرِبُ بِالسَّيْفِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَسْتَثْنِ , قََالَ : فَطَافَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ , فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ غَيْرُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ , وَلَدَتْ نِصْفَ إِنْسَانٍ " , قََالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّهُ كَانَ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، لَوَلَدَتْ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يَضْرِبُ بِالسَّيْفِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان نے فرمایا آج رات میں سو عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا۔ ان میں سے ہر ایک عورت کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس موقع پر وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئے چنانچہ ان کی بیویوں میں سے صرف ایک بیوی کے یہاں ایک نامکمل بچہ پیدا ہوا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو ان کے یہاں حقیقتا سو بیٹے پیدا ہوتے اور وہ سب کے سب اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2819، م: 1654
حدیث نمبر: 10581
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا , تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مغرب سے سورج نکلنے کا واقعہ پیش آنے سے قبل جو شخص بھی توبہ کرلے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4635، م: 157
حدیث نمبر: 10582
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ . وَرَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ , وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی بدشگونی کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور بہترین فال اچھی چیز ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده جيد، م: 1611
حدیث نمبر: 10583
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ ، قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ ، فَنَزَعَتْ مُوقَهَا ، فَغُفِرَ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک فاحشہ عورت نے سخت گرمی کے ایک دن میں ایک کتے کو ایک کنوئیں کے چکر کاٹتے ہوئے دیکھا جس کی زبان پیاس کی وجہ سے لٹک چکی تھی اس نے موزے کو اتار کر اس میں پانی بھر کر اسے پلادیا اور اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3321، م: 2245