حدیث نمبر: 10504
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ , خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 648، م: 649
حدیث نمبر: 10505
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ , وَفَرْحَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10506
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ , فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 10507
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ , وَمَسْجِدِي , وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے ایک تو مسجد حرام دوسرے میری یہ مسجد ( مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1189، م: 1397
حدیث نمبر: 10508
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ , وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص انصار سے محبت کرتا ہے اللہ اس سے محبت کرتا ہے اور جو انصار سے بغض رکھتا ہے اللہ اس سے نفرت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10509
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا الْهِجْرَةُ ، لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شِعْبَةً ، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبَةً ، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَتَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری وادی میں تو میں انصار کے ساتھ ان کی وادی میں چلوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3779، م: 76
حدیث نمبر: 10510
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الْمُزَفَّتِ وَالْمُقَيَّرِ وَالنَّقِيرِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ ، وَقَالَ : كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزفت، مقیر، نقیر، دباء اور حنتم کی ممانعت کی ہے، نیز فرمایا ہے ہر نشہ آو رچیز حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1993
حدیث نمبر: 10511
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اصل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1426
حدیث نمبر: 10512
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان کا تعلق جنت سے ہے اور فحش کلامی جفاء کا حصہ ہے اور جفاء کا تعلق جہنم سے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10513
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَقُولُ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث متواتر، وهذا إسناد حسن، خ: 110، م:3
حدیث نمبر: 10514
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَلْبُ الْكَبِيرِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ حُبِّ الْحَيَاةِ ، وَحُبِّ الْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6420، م: 1046
حدیث نمبر: 10515
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 10516
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر سودا مت کیا کرو کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے تجارت نہ کرے ایک دوسرے سے بغض، حسد اور دھوکہ سے اجتناب کرو اور بندگان خدا ! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 10517
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ , وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُوتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فُتِلَتْ فِي يَدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے جوامع الکلم دئیے گئے ہیں اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاکیزگی کا ذریعہ بنادیا گیا ہے اور ایک مرتبہ سوتے ہوئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6998، م: 523
حدیث نمبر: 10518
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا ، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ ، إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لیں، جب وہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا الاّ یہ کہ اس کلمہ کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 21
حدیث نمبر: 10519
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي بِهِمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا رَفَعَ ، فَإِذَا انْصَرَفَ , قَالَ : أَنَا أَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھاتے ہوئے ہر رفع و خفض میں تکبیر کہتے تھے اور جب فارغ ہوتے تو فرماتے کہ میں نماز کے اعتبار سے تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 785، م: 392
حدیث نمبر: 10520
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ ، مَا لَمْ يَقُمْ أَوْ يُحْدِثْ ، تَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتا ہے پھر اپنے مصلی پر ہی بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے مسلسل کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ ! اس پر رحم فرما بشرطیکہ وہ بےوضو نہ ہوجائے یا وہاں سے اٹھ نہ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 477، م: 649
حدیث نمبر: 10521
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الصَّلَاةِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ ! ولید بن ولید۔ سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ۔ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر سجدے میں چلے جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4560، م:675
حدیث نمبر: 10522
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ إِمَامًا ، فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّهُ يَقُومُ وَرَاءَهُ الضَّعِيفُ وَالْكَبِيرُ وَذُو الْحَاجَةِ ، وَإِذَا صَلَّى لِنَفْسِهِ ، فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بیمار سب ہی ہوتے ہیں۔ البتہ جب تنہا نماز پڑھے تو جتنی مرضی لمبی پڑھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 703، م:467
حدیث نمبر: 10523
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوَدِدْتُ أَنْ أُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ ، ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلَ ، ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلَ ، ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلَ ، وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ، مَا تَخَلَّفْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ أَوْ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ ، وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي ، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي ، أَوْ يَقْعُدُوا بَعْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کرلوں پھر زندگی عطا ہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں۔ اور اگر مسلمانوں پر مشقت نہ ہوتی تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی لشکر سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ سب کو سواری مہیا کردوں اور ان کے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ میری پیروی کرسکیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی دلی رضامندی نہ ہو اور وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے رک جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7226، م:1876
حدیث نمبر: 10524
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ إِضَاءَةً فِي السَّمَاءِ " , فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ , قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " , ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ " قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار آدمی جنت میں داخل ہوں گے جن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اپنی چادر اٹھاتے ہوئے کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ سے دعاء کردیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کردی کہ اے اللہ اسے بھی ان میں شامل فرما پھر ایک انصاری آدمی نے کھڑے ہو کر بھی یہی عرض کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6542، م:216
حدیث نمبر: 10525
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ ، نِسَاءُ قُرَيْشٍ : أَحْنَاهُ عَلَى يَتِيمٍ فِي صِغَرِهِ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی اپنی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5082، م: 2527
حدیث نمبر: 10526
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ وَأَصْحَابُهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، فَقُلْتُ : هَلَكَتْ دَوْسٌ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طفیل بن عمرودوسی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ قبیلہ دوس کے لوگ نافرمانی اور انکار پر ڈٹے ہوئے ہیں اس لئے آپ ان کے خلاف بددعا کیجئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی جانب رخ کرکے دونوں ہاتھ اٹھالیے لوگ کہنے لگے کہ قبیلہ دوس کے لوگ تو ہلاک ہوگئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ! قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور انہیں یہاں پہنچا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2937، م: 2524
حدیث نمبر: 10527
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ ، هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا ، وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان، حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 10528
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جو کچھ میں جانتا ہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ وبکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6637
حدیث نمبر: 10529
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ " . قَالَ : " وَبَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً ، فَأَعْيَا فَرَكِبَهَا ، فَالْتَفَتَتْ إِلَيْهِ " , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بنی اسرائیل سے روایات بیان کرسکتے ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور ایک آدمی ایک بیل کو ہانک کرلیے جا رہا تھا راستے میں وہ اس پر سوار ہوگیا اور اسے مارنے لگا پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10530
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ، وَهَذَا يَوْمُهُمْ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ , الْيَوْمَ لَنَا , ولِلْيَهُودِ غَدًا , وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پر سوں کا دن (ا تو ار) ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 855
حدیث نمبر: 10531
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ " , فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ مَنْ أَبِي , يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَبُوكَ حُذَافَةُ بْنُ قَيْسٍ " , فَرَجَعَ إِلَى أُمِّهِ , فَقَالَتْ : وَيْحَكَ مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ , فَقَدْ كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ , وَأَهْلَ أَعْمَالٍ قَبِيحَةٍ , فَقَالَ لَهَا : إِنْ كُنْتُ لَأُحِبُّ أَنْ أَعْلَمَ مَنْ أَبِي , مَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم سے پہلے لوگ کثرت سوال اور انبیاء (علیہم السلام) کے سامنے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوتے تھے اس لئے تم لوگ مجھ سے زیادہ سوال مت کیا کرو الاّ یہ کہ میں خود ہی تمہیں کچھ بتادوں حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے اسی اثناء میں پوچھا یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ بن قیس ہے یہ سن کر وہ ماں کے پاس آئے وہ کہنے لگی کہ تمہیں یہ سوال پوچھنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ہم زمانہ جاہلیت میں رہتے اور اعمال قبیحہ کے مرتکب ہوتے تھے انہوں نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ مجھے یہ معلوم ہو کہ میرا باپ کون ہے اور عام آدمی کون ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 10532
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا ، مِائَةً غَيْرَ وَاحِدٍ ، مَنْ أَحْصَاهَا كُلَّهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک کم سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6410، م: 2677
حدیث نمبر: 10533
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فقال : اللهُمَّ اغْفِرْ لي وَلمحمدٍ , وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا , فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ : " لَقَدْ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا " , ثُمَّ وَلَّى حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَشَجَ يَبُولُ , فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا بُنِيَ هَذَا الْبَيْتُ لِذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ ، وَإِنَّهُ لَا يُبَالُ فِيهِ " , ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأَفْرَغَهُ عَلَيْهِ ، قَالَ : يَقُولُ الْأَعْرَابِيُّ : بَعْدَ أَنْ فَقِهَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ , بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي , فَلَمْ يَسُبَّ , وَلَمْ يُؤَنِّبْ , وَلَمْ يَضْرِبْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی مسجد نبوی میں آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں تشریف فرما تھے وہ یہ دعا کرنے لگا کہ اے اللہ ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور اس میں کسی کو ہمارے ساتھ شامل نہ فرما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تو نے وسعت والے اللہ کو پابند کردیا تھوڑی ہی دیرگذری تھی کہ اس دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر اس کے پاس گئے اور فرمایا یہ مساجد اللہ کے ذکر اور نماز کے لئے بنائی جاتی ہیں ان میں پیشاب نہیں کیا جاتا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اسے پانی پر بہادیا اس کے بعدجب اس دیہاتی کو سمجھ آئی تو وہ کہا کرتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں وہ کھڑے ہو کر میرے پاس آئے انہوں نے مجھے گالی نہیں دی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی اور مارا پیٹا نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد،خ 6010
حدیث نمبر: 10534
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ يُنَجِّيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ " , قَالَ : قُلْنَا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ , وَلَكِنْ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے البتہ تم سیدھی راہ اختیار کئے رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3254، م: 2834
حدیث نمبر: 10535
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ ، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ : أَنْ يَحْتَبِيَ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ , وَلَيْسَ بَيْنَ فَرْجِهِ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ , وَعَنِ الصَّمَّاءِ اشْتِمَالِ الْيَهُودِ " , وَوَصَفَ لَنَا مُحَمَّدٌ جَعَلَهَا مِنْ أَحَدِ جَانِبَيْهِ , ثُمَّ رَفَعَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سودے میں دو سودے کرنے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے اور وہ یہ کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرہ سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2145، م:1511
حدیث نمبر: 10536
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُقْضَى دَفْنُهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ , أَحَدُهُمَا أَوْ أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی نماز جنازہ ایمان اور ثواب کی نیت سے پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1325، م:945
حدیث نمبر: 10537
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا , غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ , وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا , غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے، اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے، اسی طرح جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرے اس کے گزشتہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2014، م: 760
حدیث نمبر: 10538
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَكَتْ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ , فَقَالَتْ : أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا , فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ , فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ حَرِّهَا , وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ زَمْهَرِيرُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جہنم کی آگ نے اپنے پروردگار سے اجازت چاہی اللہ نے اسے سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی (ایک مرتبہ سردی میں اور ایک مرتبہ گرمی میں) چنانچہ شدید ترین گرمی جہنم کی تپش کا ہی اثر ہوتی ہے اور شدید ترین سردی بھی جہنم کی ٹھنڈک کا اثر ہوتی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 537، م: 617
حدیث نمبر: 10539
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِرَاءٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10540
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ ، الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ . يَتْرُكُ الطَّعَامَ لِشَهْوَتِهِ مِنْ أَجْلِي ، وَيَتْرُكُ الشَّرَابَ لِشَهْوَتِهِ مِنْ أَجْلِي ، هُوَ لٍي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کی ہر نیکی کو اس کے لئے دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزے کے (جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار میری وجہ سے اپنی خواہشات اور کھانے کو ترک کرتا ہے روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10541
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ , لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5788، م: 2087
حدیث نمبر: 10542
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ ، وَلَوْ مِنْ تَوْرِ أَقِطٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کیا کرو اگرچہ وہ پنیر کے ٹکڑے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:352
حدیث نمبر: 10543
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ ، وَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ ، خَطَرَ بَيْنَ أَحَدِكُمْ وَبَيْنَ نَفْسِهِ حَتَّى يُنْسِيَهُ صَلَاتَهُ ، فَلَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے تاکہ وہ بھول جائے اس لئے جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو سلام پھیر کر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ:608،م:389