حدیث نمبر: 10465
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي ، يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " ، وَقَالَ بِيَدِهِ ، فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ أَصَابِعَ ، قُلْنَا : يُزَهِّدُهَا يُزَهِّدُهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے۔ کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس ساعت کا مختصر ہونا بیان فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 10466
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً وَاحِدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرسکے تب بھی اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس نیکی کو کر گذرے تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرے تو وہ گناہ اس کے نامہ اعمال میں درج نہیں کیا جاتا اور اگر وہ اس پر عمل کرلے تو صرف ایک گناہ ہی لکھا جاتا ہے۔ اگر اس نے اس پر عمل نہ کیا ہو تو وہ گناہ نہیں لکھا جاتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10466
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7501، م: 130
حدیث نمبر: 10467
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ : عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، فَقَالَ الَّذِي قَضَى عَلَيْهِ : أَيُعْقَلُ مَنْ لَا شَرِبَ ، وَلَا أَكَلَ ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ ؟ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ، نَعَمْ ، فِيهِ غُرَّةٌ : عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنوہذیل کی دو عورتوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک نے دوسری کو جو امید سے تھی پتھر دے مارا اور اس عورت کو قتل کردیا اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرا ہوا پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے میں قاتلہ کے خاندان والوں پر مقتولہ کی دیت اور اس کے بچے کے حوالے سے ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا اس فیصلے پر ایک شخص نے اعتراض کرتے ہوئے (مسجع کلام میں) کہا کہ اس بچے کی دیت کا فیصلہ کیسے عقل میں آسکتا ہے جس نے کچھ کھایا پیا اور نہ بولا چلایا اس قسم کی چیزوں کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے بقول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شخص شاعروں کی طرح (مقفی عبارتیں) بول رہا ہے ہاں اس میں غرہ یعنی غلام یا باندی ہی واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10467
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5758، م: 1681
حدیث نمبر: 10468
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قََالَ : وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُقْضَى دَفْنُهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ ، أَحَدُهُمَا أَوْ أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ " ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : فَذَكَرْتُ لِابْنِ عُمَرَ فَتَعَاظَمَهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : ابْنُ عُمَرَ ، لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے چھوٹا قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث معلوم ہوئی تو انہوں نے اسے بہت اہم سمجھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ دریافت کرنے کے لئے ایک آدمی کو بھیجا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابوہریرہ سچ کہتے ہیں، اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس طرح تو ہم نے بہت سے قیراط ضائع کردئیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 10469
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قََالَ : وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " أَنَا الرَّحْمَنُ ، وَهِيَ الرَّحِمُ ، شَقَقْتُ لَهَا اسمًا مِنَ اسْمِي ، مَنْ يَصِلُهَا أَصِلُهُ ، وَمَنْ يَقْطَعُهَا أَقْطَعُهُ ، فَأَبُتُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے میں رحمان ہوں اور یہ رحم ہے جسے میں نے اپنے نام سے مشتق کیا ہے جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے توڑے گا میں اسے توڑ کر پاش پاش کردوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10469
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5988، م: 2554
حدیث نمبر: 10470
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قََالَ : وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ مَعَادِنُ ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10470
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3496، م: 2526
حدیث نمبر: 10471
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فِي مَنَاقِبِ الْخَيْرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " ، ثُمَّ مَرُّوا عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فِي مَنَاقِبِ الشَّرِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ إِنَّكُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا لوگ اس کے عمدہ خصائل اور اس کی تعریف بیان کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی اسی اثناء میں ایک اور جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کے برے خصائل اور اس کی مذمت بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی پھر فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10471
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10472
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيِّرُوا هَذَا الشَّيْبَ ، وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد فرمایا بالوں کا سفید رنگ بدل لیا کرو اور یہودونصاری کی مشابہت اختیار نہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10472
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5899، م: 2103
حدیث نمبر: 10473
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ ابْنِ دَارَّةَ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قََالَ : إِنَّا لَبِالْبَقِيعِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ إِذْ سَمِعْنَاهُ , يَقُولُ : أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قََالَ : فَتَدَاكَّ النَّاسُ عَلَيْهِ ، فَقَالُوا : إِيهٍ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، قََالَ : يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِكُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَقِيَكَ يُؤْمِنُ بِي ، وَلَا يُشْرِكُ بِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن وارہ " جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ ہم جنت البقیع میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ہم نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں لوگوں میں اس چیز کو سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے کون بہرہ مند ہوگا لوگ ان پر جھک پڑے اور اصرار کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی آپ پر رحمتیں نازل ہوں بیان کیجئے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہر اس بندہ مسلم کی مغفرت فرما جو تجھ سے اس حال میں ملے کہ وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہو اور تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10473
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10474
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُهَجِّرُ يُرِيدُ الْجُمُعَةَ كَمُقَرِّبِ الْقُرْبَانِ ، فَمُقَرِّبٌ جَزُورًا ، وَمُقَرِّبٌ بَقَرَةً ، وَمُقَرِّبٌ شَاةً ، وَمُقَرِّبٌ دَجَاجَةً ، وَمُقَرِّبٌ بَيْضَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کی نماز میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا بکری قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے پھر مرغی پھر انڈہ صدقہ کرنے والے کی طرح۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10474
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3211، م: 850، وهذا إسناد ضعيف لجهالة هلال
حدیث نمبر: 10475
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ ، قََالَ أَبِي : حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي ، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10475
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1190، م: 1394، وهذا إسناد ضعيف لجهالة هلال
حدیث نمبر: 10476
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَثَلَ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس علم کی مثال جس سے فائدہ نہ پہنچے اس خزانے کی سی ہے جسے اللہ کے راستہ میں خرچ نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم لين
حدیث نمبر: 10477
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُجَمِّعٍ أَبُو الْمُنْذِرِ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَبْلَى كُلُّ عَظْمٍ مِنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ ، وَفِيهِ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کی ہر ہڈی بوسیدہ ہوجاتی ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے کہ اسی سے انسان کو قیامت کے دن جوڑ کر کھڑا کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4814، م: 2955، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو، وإبراهيم
حدیث نمبر: 10478
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنِ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَبْلَى كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ ، وَفِيهِ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کی ہر ہڈی بوسیدہ ہوجاتی ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے کہ اسی سے انسان کو قیامت کے دن جوڑ کر کھڑا کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي، وإبراهيم
حدیث نمبر: 10479
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ , وَهِشَامٌ , عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانے کو برا بھلامت کہا کرو کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6181، م: 2246، وإسناده ضعيف لضعف علي وقد توبع
حدیث نمبر: 10480
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى ، غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص چاشت کی دو رکعتوں کی پابندی کرلیا کرے اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف النهاس، وشداد لم يسمع من أبي ھریرہ
حدیث نمبر: 10481
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ , وَهِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا ، مَنْ أَحْصَاهَا كُلَّهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک کم سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6410، م: 2677، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي، وقد توبع
حدیث نمبر: 10482
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ , وَهِشَامٌ , عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3539، م: 2134، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي، وقد توبع
حدیث نمبر: 10483
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ : أَنْ " لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں سفروحضر میں انہیں کبھی نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کی دو رکعتوں کی بعد میں حسن کو وہ اس کی جگہ " غسل جمعہ " کا ذکر کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي، وليث
حدیث نمبر: 10484
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنِ الْحَذَّاءِ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2355، م: 1710، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم
حدیث نمبر: 10485
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي الثَّوْبِ ؟ قَالَ : " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص نے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 365، م: 515، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي
حدیث نمبر: 10486
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ الْجُمُعَةَ , فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کی نماز پڑھ لے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 881، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 10487
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَتَمَ عِلْمًا يَعْلَمُهُ , جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَجَّمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10488
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ , عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ , أَقَامَ عَلَيْهِ الْحَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے اپنے کسی غلام پر ایسے کام کی تہمت لگائی جس سے وہ بری ہو قیامت کے دن اس پر اس کی حد جاری کی جائے گی، ہاں ! اگر وہ غلام ویسا ہی ہو جیسے اس کے مالک نے کہا تو اور بات ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6858، م: 1660
حدیث نمبر: 10489
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ حَجَّاجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ , وَمَهْرِ الْبَغِيِّ , وَعَسْبِ الْفَحْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم فروشی کی کمائی اور کتے کی قیمت اور سانڈ کی جفتی پر دینے کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2283
حدیث نمبر: 10490
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنِ الْحَجَّاجِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ , وَكَسْبِ الْحَجَّامِ , وَمَهْرِ الْبَغِيِّ " , قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَمَنْ إِذًا ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگانے والے کی اور جسم فروشی کی کمائی اور کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10491
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ , رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر رفع یدین فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10492
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : تَرَكَ النَّاسُ ثَلَاثَةً مِمَّا كَانَ يَعْمَلُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا , ثُمَّ سَكَتَ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ هُنَيَّةً يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ , فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمل فرماتے تھے لیکن اب لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر رفع یدین کرتے تھے ہر جھکنے اور اٹھنے کے موقع پر تکبیر کہتے تھے اور قرأت سے کچھ پہلے سکوت فرماتے اور اس میں اللہ سے اس کا فضل مانگتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 744، 788، م: 392، 598
حدیث نمبر: 10493
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ , قََالَ : لَمَّا حَضَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ الْمَوْتُ , قََالَ : لَا تُتْبِعُونِي بِمِجْمَرٍ , وَأَسْرِعُوا بِي , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ : أَسْرِعُوا بِي , وَإِذَا وُضِعَ الْكَافِرُ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ : وَيْلَاهُ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا موقع قریب آیا تو وہ فرمانے لگے مجھ پر کوئی خیمہ نہ لگانا میرے ساتھ آگ نہ لے کر جانا اور مجھے جلدی لے جانا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کسی نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے جلدی آگے بھیجو مجھے جلدی آگے بھیجو اور اگر کسی گناہ گار آدمی کو چارپائی پر رکھاجائے تو وہ کہتا ہے ہائے افسوس ! مجھے کہاں لئے جاتے ہو ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1314، م: 944
حدیث نمبر: 10494
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ , اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ , لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ , قَالَ : لَا مُكْرِهَ لَهُ " . قَالَ عَبْد اللَّهِ : كَذَا كَانَ فِي كِتَابِ أَبِي مُبَيَّضٌ , " وَلَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ , لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعاء کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرمادے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔ اور زائد پانی روک کر نہ رکھاجائے کہ اس سے گھاس روکی جاسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2353، 7477، م: 1566، 2679
حدیث نمبر: 10495
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ إِذَا كَانَ زَوْجُهَا شَاهِدًا إِلَّا بِإِذْنِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت " جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو " (ماہ رمضان کے علاوہ) کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5195، م: 1026
حدیث نمبر: 10496
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا حَزْمٌ , قََالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ وَاسِعٍ , عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا , نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ , وَمَنْ سَتَرَ عَلَى أَخِيهِ , سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ , مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، والواسطة المبهمة، هو الأعمش أو محمد بن المنكدر وكلاهما ثقة ، م: 2699
حدیث نمبر: 10497
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ , عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنِ الزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِ , قَالُوا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ , فَلَا يَضَعَنَّ يَدَهُ فِي الْغِسْلِ حَتَّى يَغْسِلَهَا , فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھونہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 162، م: 278، له هنا إسنادان، الأول: متصل حسن، والثاني: مرسل
حدیث نمبر: 10498
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِضَالَّتِهِ فِي فَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے " جب وہ توبہ کرتا ہے " اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جو کسی کو اپنی سواری ملنے پر ہوتی ہے جو جنگل میں گم ہوگئی ہو اور اس پر اس کے کھانے پینے کی چیزیں بھی موجود ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده حسن، م: 2747
حدیث نمبر: 10498M
قََالَ : وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " إِذَا جَاءَنِي عَبْدِي شِبْرًا جِئْتُهُ بِذِرَاعٍ ، وَإِذَا جَاءَنِي بِذِرَاعٍ جِئْتُهُ بِبَاعٍ , وَإِذَا جَاءَنِي يَمْشِي جِئْتُهُ أُهَرْوِلُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے فرمایا بندہ جب بھی ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10498M
حدیث نمبر: 10499
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَجَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ , لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ , اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ , مَا لَمْ يَقُمْ , أَوْ يُحْدِثْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتا ہے پھر اپنے مصلی پر ہی بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے مسلسل کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ ! اس پر رحم فرما بشرطیکہ وہ بےوضو نہ ہوجائے یا وہاں سے اٹھ نہ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 477، م: 649، محمد بن إسحاق وإن كان مدلسا وقد عنعنه، لكنه توبع
حدیث نمبر: 10500
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ " , وَقَالَ : " أَرَأَيْتَكُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ , فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ " , قَالَ : " وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ بِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا اور خوب سخاوت کرنے والا ہے اسے کسی چیز سے کمی نہیں آتی اور وہ رات دن خرچ کرتا رہتا ہے تم یہی دیکھ لو کہ اس نے جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے کتنا خرچ کیا ہے لیکن اس کے دائیں ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کوئی کمی نہیں آئی اور اس کا عرش پانی پر ہے اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے جس سے وہ جھکاتا اور اٹھاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4684، م: 993
حدیث نمبر: 10501
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرٍّ أَوْ هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا ، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا ، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ , حَتَّى مَاتَتْ فِي رِبَاطِهَا هَزْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کے وجہ سے داخل ہوگئی، جسے اس نے باندھ دیا تھا، خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی یہاں تک کہ وہ رسی میں بندھے بندھے مرگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3318، م: 2243 وله إسنادان عن ابن إسحاق وهو مدلس، وقد عنعنه
حدیث نمبر: 10502
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ , فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3618، م: 2918
حدیث نمبر: 10503
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ؟ قَالَ : " أَوَكُلُّكُمْ لَهُ ثَوْبَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص نے پکار کر پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 365، م: 515