حدیث نمبر: 10425
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ , وَيَعْلَى ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا ، فَإِنَّهُ لَنْ يُنَجِّيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّه ، وَلَا أَنْتَ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَفَضْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صراط مستقیم کے قریب رہو اور راہ راست پر رہو ! کیونکہ تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا ایک آدمی نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 10426
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10427
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ , وَيَعْلَى ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجِدُ شَرَّ النَّاسِ ، وَقَالَ يَعْلَى : تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ " ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ ، وَهَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6058، م: 2526
حدیث نمبر: 10428
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ ، فَلَا يَرْفُثْ ، وَلَا يَجْهَلْ ، فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 10429
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ ، وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ ، فَخُذُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ ، فَانْتَهُوا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 10430
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رُؤْيَا الْمُسْلِمِ ، أَوْ تُرَى لَهُ ، جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کا خواب جو وہ خود دیکھے یا کوئی دوسرا اس کے لئے دیکھے اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263
حدیث نمبر: 10431
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا ، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا ، إِنْ شِئْتُمْ دَلَلْتُكُمْ عَلَى أَمْرٍ ، إِنْ فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ " ، قَالُوا : أَجَلْ ، قَالَ : " أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس پر عمل کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو ؟ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 54
حدیث نمبر: 10432
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ عَلَى الطَّرِيقِ غُصْنُ شَجَرَةٍ يُؤْذِي النَّاسَ فَأَمَاطَهَا رَجُلٌ ، فَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اس کی برکت سے وہ جنت میں داخل ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 652، م: 1914
حدیث نمبر: 10433
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ الْوِصَالِ " ، قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : " إِنِّي لَيْسَ مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أَظَلُّ عِنْدَ رَبِّي ، يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي ، اكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103
حدیث نمبر: 10434
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے دو چیزیں کفر ہیں ایک تو نوحہ کرنا اور دوسرا کسی کے نسب پر طعنہ مارنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 67
حدیث نمبر: 10435
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّمَا مُسْلِمٍ سَبَبْتُهُ ، أَوْ لَعَنْتُهُ ، أَوْ جَلَدْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں (اے اللہ) میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) برا بھلا کہا ہو یا لعنت کی ہو یا کوڑا مارا ہو اسے اس شخص کے لئے باعث تزکیہ و رحمت بنادے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 10436
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , وَيَعْلَى ، قََالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : عَبْدِي ، فَكُلُّكُمْ عَبْدٌ ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ : فَتَايَ ، وَلَا يَقُلْ : رَبِّي ، فَإِنَّ رَبَّكُمْ اللَّهُ ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ : سَيِّدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ نہ کہے عبدی کیونکہ تم سب بندے ہو بلکہ یوں کہے میرا جوان اور تم میں سے کوئی شخص اپنے آقا کے متعلق یہ نہ کہے کہ میرا رب کیونکہ تم سب کا رب اللہ ہے بلکہ میرا سردار میرا آقا کہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249
حدیث نمبر: 10437
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا ، فَيَأْتِيَ الْجَبَلَ فَيَحْتَطِبَ مِنْهُ ، فَيَبِيعَهُ فَيَأْكُلَ وَيَتَصَدَّقَ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بات بہت بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی رسی پکڑے لکڑیاں باندھے اور اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کردے بہ نسبت اس کے کہ لوگوں سے سوال کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1480، م: 1042
حدیث نمبر: 10438
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : أَنَا الدَّهْرُ ، الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي لِي ، أُجَدِّدُهَا وَأُبْلِيهَا ، وَآتِي بِمُلُوكٍ بَعْدَ مُلُوكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانے کو برا بھلا مت کہو کیونکہ اللہ فرماتا ہے حالانکہ زمانہ پیدا کرنے والا تو میں ہوں دن رات میرے ہاتھ میں ہیں اور میں ہی دن رات کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور میں ہی یکے بعد دیگرے بادشاہوں کو لاتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6181، م: 2246
حدیث نمبر: 10439
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ ، وَالشِّغَارُ : أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ : زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي ، أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي ، قَالَ : وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ، وَعَنِ الْحَصَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وٹے سٹے کے نکاح سے جس میں مہر مقرر کئے بغیر ایک دوسرے کے رشتے کے تبادلے ہی کو مہر سمجھ لیا جائے منع فرمایا ہے نیز دھوکے کی تجارت اور کنکریاں مار کر بیچنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1416، 1513
حدیث نمبر: 10440
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب ایمان مدینہ منورہ کی طرف ایسے سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1876، م: 147
حدیث نمبر: 10441
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قََالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ صَلَاتَيْنِ وَلِبْسَتَيْنِ وَبَيْعَتَيْنِ : نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَعَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ ، وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَتُفْضِي بِفَرْجِكَ إِلَى السَّمَاءِ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ : وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُلَامَسَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی نماز، دو قسم کی خریدوفروخت اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے لباس تو یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرہ سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے اور بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 584، 2145، م: 825، 1511
حدیث نمبر: 10442
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَوْ عَلَى النَّاسِ ، لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ ، وَلَا يَجِدُونَ مَا يَتَحَمَّلُونَ عَلَيْهِ ، فَيَخْرُجُونَ فَوَدِدْتُ أَنْ أُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّه ، فَأُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ میں انہیں سواری مہیا کروں اور وہ خود بھی سواری نہیں رکھتے کہ نکل پڑیں مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کرلوں پھر زندگی عطا ہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10442
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
حدیث نمبر: 10443
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قََالَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ " يُصَلِّي بِالْمَدِينَةِ نَحْوًا مِنْ صَلَاةِ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ؟ قَالَ : وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ صَلَاتِي ؟ قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ إِلَّا خَيْرًا ، إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ ، قَالَ : نَعَمْ , وَأَجْوَزُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوخالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مدینہ منورہ میں قیس بن ابی حازم کی طرح نماز پڑھاتے تھے ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح نماز پڑھایا کرتے تھے ؟ (جیسے آپ ہمیں پڑھاتے ہیں) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہیں میری نماز میں کیا چیز اوپری اور اجنبی محسوس ہوتی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں اسی کے متعلق آپ سے پوچھنا چاہ رہا تھا فرمایا ہاں بلکہ اس سے بھی مختصر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10443
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10444
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے۔ ایک کھجور اور ایک انگور۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10444
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1985
حدیث نمبر: 10445
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَكْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ ، لِأَنَّ الرَّجُلَ يَشْتَغِلُ فِيهِ عَنْ صِيَامِهِ وَصَلَاتِهِ وَعِبَادَتِهِ ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ ، فَلْيُعَجِّلْ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر بھی عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی کو اس کے کھانے پینے اور نیند سے روک دیتا ہے اس جب تم میں سے کوئی شخص اپنی ضرورت کو پورا کرچکے تو وہ جلد از جلد اپنے گھر کو لوٹ آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10445
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1804، م: 1927، وهذا إسناد ضعيف، أبو عبدالله البكري، مجهول
حدیث نمبر: 10446
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ حَدِيثًا , ثُمَّ قَالَ : " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ؟ لَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَؤُهُنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے پاس تین صحت حاملہ اونٹنیاں لے کر لوٹے ؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں (ہر شخص چاہتا ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی قرآن کریم کی تین آیتیں نماز میں پڑھتا ہے اس کے لئے وہ تین آیتیں تین حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10446
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 802
حدیث نمبر: 10447
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى ، غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص چاشت کی دو رکعتوں کی پابندی کرلیا کرے اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10447
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف النهاس، وشداد لم يسمع من ابي هريره
حدیث نمبر: 10448
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ النِّسَاءَ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ ، لَا يَسْتَقِمْنَ عَلَى خَلِيقَةٍ ، إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا ، وَإِنْ تَتْرُكْهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کروگے تو اسے توڑ ڈالوگے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دوگے تو اس کے اس ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ اٹھا لوگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3331، م: 1468
حدیث نمبر: 10449
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , أَنَّ نُعَيْمًا الْمُجْمِرَ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ صَلَّى وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ ، فَلَمَّا قَالَ : " غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 , قَالَ : آمِينَ ، ثُمَّ كَبَّرَ لِوَضْعِ الرَّأْسِ ، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
نعیم المجمررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی انہوں نے سورت فاتحہ کی تلاوت کرتے ہوئے آخر میں جب " غیرالمغضوب علیہم ولاالضالین " کہا تو آمین کہا پھر سر جھکانے کے لئے تکبیر کہی پھر فارغ ہو کر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں نماز میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10449
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 795، م: 392، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين، لكنه توبع
حدیث نمبر: 10450
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ , وَشَهْرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ : أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ ، وَأَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَأَنْ لَا أَدَعَ رَكْعَتَيْ الضُّحَى " . قََالَ عَبْد اللَّهِ : وَجَدْتُ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ (٣) چاشت کی دو رکعتیں کبھی ترک نہ کرنے کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10450
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وشهر، وإن كان ضعيفا، قد توبع
حدیث نمبر: 10451
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ يَعْنِي رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ ، ثُمَّ أَفْطِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہیے۔ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عیدالفطر منالو اگر ابر چھاجائے تو تیس دن روزہ رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10451
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1914، م: 1082
حدیث نمبر: 10452
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ فُقِدَتْ ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ : الْفَأْرُ هِيَ أَمْ لَا ! أَلَا تَرَى أَنَّهَا إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ ، لَمْ تَطْعَمْهُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک جماعت گم ہوگئی کسی کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں گئی ؟ میرا تو خیال یہی ہے کہ وہ چوہا ہے کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10452
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997
حدیث نمبر: 10453
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنِي الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى ابْنِ آدَمَ ثَلَاثُ عُقَدٍ بِحَرِيرٍ إِذَا بَاتَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَإِنْ هُوَ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ ، فَذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَإِنْ قَامَ فَعَزَمَ فَصَلَّى انْحَلَّتْ الْعُقَدُ جَمِيعًا ، وَإِنْ هُوَ بَاتَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى يُصْبِحَ ، أَصْبَحَ وَعَلَيْهِ الْعُقَدُ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رات کے وقت ابن آدم کے سر کے جوڑ کے پاس تین گرہیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بندہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرلے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے وضو کرلے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور اگر وہ اس حال میں رات گذارے کہ اللہ کا ذکر کرے اور نہ ہی وضو اور نماز یہاں تک کہ صبح ہوجائے تو وہ ان تمام گرہوں کے ساتھ صبح کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10453
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1142، م: 776، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم سمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10454
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ , وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے موقوفاً بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10454
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: سیأتی ھذا لطريق برقم: 10457، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 10455
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قََالَ : بَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ ، فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ لَهُ ، فَجَعَلَ يَمِيسُ فِيهَا حَتَّى قَامَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَلْ عِنْدَكَ فِي حُلَّتِي هَذِهِ مِنْ فُتْيَا ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ ، وَقَالَ : حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَا رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ بُرْدَيْنِ ، فَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَ الْأَرْضَ فَبَلَعَتْهُ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُ لَيَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، اذْهَبْ أَيُّهَا الرَّجُلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے شاگردوں کے سامنے احادیث بیان فرما رہے تھے کہ ایک آدمی ایک ریشمی جوڑا پہنے ہوئے آیا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہو کر کہنے لگا کہ اے ابوہریرہ ! کیا میرے اس جوڑے کے متعلق آپ کے پاس کوئی فتویٰ ہے ؟ انہوں نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا مجھے صادق ومصدوق میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ ایک آدمی اپنے قیمتی حلے میں ملبوس اپنے او پر فخر کرتے ہوئے تکبر سے چلا جارہا تھا کہ اسی اثنا میں اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10455
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5789، م: 2088، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10456
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، وَلَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اسی طرح کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایسا نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10456
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10457
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ ، عُقِدَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثُ عُقَدٍ بِجَرِيرٍ ، فَإِنْ قَامَ فَذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، أُطْلِقَتْ وَاحِدَةٌ ، وَإِنْ مَضَى فَتَوَضَّأَ أُطْلِقَتْ الثَّانِيَةُ ، فَإِنْ مَضَى فَصَلَّى أُطْلِقَتْ الثَّالِثَةُ ، فَإِنْ أَصْبَحَ وَلَمْ يَقُمْ شَيْئًا مِنَ اللَّيْلِ وَلَمْ يُصَلِّ ، أَصْبَحَ وَهُوَ عَلَيْهِ " , يَعْنِي : الْجَرِيرَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رات کے وقت ابن آدم کے سر کے جوڑ کے پاس تین گرہیں لگ جاتی ہیں اگر بندہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرلے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے وضو کرلے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور اگر وہ اس حال میں رات گذارے کہ اللہ کا ذکر کرے اور نہ ہی وضو اور نماز یہاں تک کہ صبح ہوجائے تو وہ ان تمام گرہوں کے ساتھ صبح کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10457
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1142، م: 776، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة، وهو في هذه الرواية موقوف
حدیث نمبر: 10458
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قََالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْفِهِمَا جَمِيعًا ، أَوْ انْعَلْهُمَا جَمِيعًا ، فَإِذَا لَبِسْتَ فَابْدَأْ بِالْيُمْنَى ، وَإِذَا خَلَعْتَ فَابْدَأْ بِالْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں جوتیاں پہنا کرو یا دونوں اتار دیا کرو جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10458
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097
حدیث نمبر: 10459
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمَطْهَرَةِ : أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ، فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قََالَ : " وَيْلٌ لِلْعَقِبِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو وضو کررہے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اللہ تم پر رحم فرمائے وضو خوب اچھی طرح کرو کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10459
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 10460
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً ، لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي فِيهَا ، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ " ، وقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يُقَلِّلُهَا بِيَدِهِ ، قَالَ حَجَّاجٌ : قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے۔ کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس ساعت کا مختصر ہونا بیان فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10460
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 10461
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ ، فَهُوَ فِي النَّارِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : وَكَانَ سَعِيدٌ قَدْ كَبِرَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شلوار کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10461
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5787
حدیث نمبر: 10462
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قََالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ , قََالَ شُعْبَةُ كَتَبَ بِهِ إِلَيَّ فَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قال عبد الله : قال أبي , ولم يرفعه , , قََالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا ، إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (موقوفاً ) مروی ہے کہ جو بندہ مسلم ایک دن میں بارہ رکعت نفل کے طور پر پڑھ لے اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنادیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10462
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10463
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، قََالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ ، وَمَنْ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو از خود قے ہوجائے اس پر روزے کی قضاء واجب نہیں اور جو شخص جان بوجھ کر قے لے کر آئے اسے اپنے روزے کی قضاء کرنی چاہئے (کیونکہ اس کا روزہ ٹوٹ گیا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10463
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10464
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ؟ فَقَالَ : " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10464
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 365، م: 515