حدیث نمبر: 10385
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قََالَ رَوْحٌ : وَخِلَاسٌ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ، ثُمَّ يُتَوَضَّأَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے وضو کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10385
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 239، م: 282، وإسناده من جهة ابن سيرين صحيح، ومن جهة خلاس، منقطع فإنه لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10386
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قََالَ : بَلَغَنِي , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ " الْوَلَدَ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ہے کہ بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10386
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6818، م: 1458، وهذا إسناد مرسل
حدیث نمبر: 10387
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 10388
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قََالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1203، م: 422، وهذا إسناد مرسل لأجل الحسن البصري، وهو تابعي
حدیث نمبر: 10389
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
حدیث نمبر: 10390
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1203، م: 422، وهذا إسناد منقطع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10391
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ , وَإِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ , قََالَ : أَخْبَرَنَا عَوْفٌ , الْمَعْنَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةَ مُسْلِمٍ احْتِسَابًا ، وَكَانَ مَعَهَا حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا ، وَيُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ مِنَ الْأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا وَرَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ " ، قَالَ إِسْحَاقُ : " إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا " ، وَقَالَ : " فَإِنْ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی نماز جنازہ ایمان اور ثواب کی نیت سے پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10391
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 10392
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قََالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا ، فَنَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَطْعَمَهُ وَسَقَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھے اور بھولے سے کچھ کھا پی لے تو اسے اپنا روزہ پھر بھی پورا کرنا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1933، م: 1155، وهذا إسناد مرسل
حدیث نمبر: 10393
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10393
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10394
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قََالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10394
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2355، م: 1710، وهذا إسناد مرسل
حدیث نمبر: 10395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10395
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 10396
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قََالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعْرَ ، وَحَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ ، خُنْسَ الْأُنُوفِ ، صِغَارَ الْأَعْيُنِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم بالوں کی جوتیاں پہننے والی قوم سے جنگ نہ کرلو اور ایک ایسی قوم سے جن کے چہرے چوڑے ناکیں چپٹی ہوئی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ان کے چہرے چپٹی ہوئی کمان کی مانند ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2929، م: 2912، وهذا إسناد مرسل
حدیث نمبر: 10397
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10398
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قََالَ : كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَلَقِيَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ , فَقَالَ : " أَرِنِي أُقَبِّلْ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ ، قَالَ : فَقَالَ بِقَمِيصِهِ ، قَالَ : فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عمیر بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ راستے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی وہ کہنے لگے کہ مجھے دکھاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے جسم کے جس حصے پر بوسہ دیا تھا میں بھی اس کی تقبیل کا شرف حاصل کروں اس پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیض اٹھائی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لتفرد عمير، وروايته عند انفراده ضعيفة
حدیث نمبر: 10399
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي وَقَرَّتْ عَيْنِي ، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ ، فَقَالَ : " كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ " ، قَالَ فَأَنْبِئْنِي بِعَمَلٍ إِنْ عَمِلْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : " أَفْشِ السَّلَامَ ، وَأَطِبْ الْكَلَامَ ، وَصِلْ الْأَرْحَامَ ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ، تَدْخُلْ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور آنکھوں کو قرار آجاتا ہے آپ مجھے ہر چیز کی اصل بتائیے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتادیجئے کہ اگر میں اس پر عمل کرلوں تو جنت میں داخل ہوجاؤں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلام پھیلاؤ اچھی بات کرو صلہ رحمی کرو اور راتوں کو جب لوگ سو رہے ہوں تم قیام کرو اور سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10400
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَهُوَ الْأَزْرَقُ قََالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ الْأَشْجَعِيَّ , يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : أُتِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ ، فَقِيلَ لَهُ : تُوُفِّيَ فُلَانٌ وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ دِرْهَمَيْنِ ، فَقَالَ : " كَيَّتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص نے آکر بتایا کہ فلاں آدمی فوت ہوگیا ہے اور اس نے دو دینار یا دو درہم چھوڑے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آگ کے دو انگارے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بلفظ الدينار، وهذا إسناد ضعيف، فيه شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 10401
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قََالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ ، إِلَّا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان عورت کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا سفر کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339
حدیث نمبر: 10402
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قََالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے خواتین اسلام کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6017، م: 1030
حدیث نمبر: 10403
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قََالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ ، يَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ ، وَإِنِّي قَدْ اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ ، أَوْ شَتَمْتُهُ ، أَوْ جَلَدْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً ، وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے اللہ میں بھی ایک انسان ہوں جیسے دوسرے لوگوں کو غصہ آتا ہے مجھے بھی آتا ہے (اے اللہ) میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذا پہنچائی ہو یا کوڑا مارا ہو اسے قیامت کے دن اس شخص کے لئے باعث کفارہ و قربت بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 10404
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قََالَ : وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا وَعَدْلًا فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ ، وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ ، وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ ، وَلَيَتْرُكَنَّ الْقِلَاصَ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا ، وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَاءُ وَالْبَغْضَاءُ وَالتَّحَاسُدُ ، وَلَيُدْعَوُنَّ إِلَى الْمَالِ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اونٹنیاں پھرتی پھریں گی لیکن کوئی ان کی طرف نہ بڑھے گا کینہ بغض اور حسد دور ہوجائے گا اور لوگوں کو مال کی طرف بلایا جائے گا لیکن اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2476، م: 155
حدیث نمبر: 10405
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا ، فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ ، فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ ، وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا ، فَلْيَبِعْهَا ، وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے کوڑوں کی سزا دے لیکن اسے عار نہ دلائے پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ یہی گناہ سرزد ہونے پر فرمایا کہ اسے بیچ دے خواہ اس کی قیمت صرف بالوں سے گندھی ہوئی ایک رسی ہی ملے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2152، م: 1703
حدیث نمبر: 10406
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قََالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ، عَزَّ جُنْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ " , قَالَ هَاشِمٌ : " أَعَزَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اسی نے اپنے لشکر کو غالب کیا اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں پر تنہا غالب آگیا اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4114، م: 2724
حدیث نمبر: 10407
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قََالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : انْتَدَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ " لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْإِيمَانُ بِي ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِي ، أَنَّهُ عَلَيَّ ضَامِنٌ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِإِيمَانِهِ مَا كَانَ إِمَّا بِقَتْلٍ ، وَإِمَّا بِوَفَاةٍ ، أَوْ أَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ ، نَالَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے میں نکلے کہ اگر وہ صرف میرے راستے میں جہاد کی نیت سے نکلا ہے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے پیغمبر کی تصدیق کرتے ہوئے روانہ ہوا ہے تو مجھ پر یہ ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اس حال میں اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دوں کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کرچکاہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
حدیث نمبر: 10408
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيَّةً ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ؟ قَالَ : أَقُولُ : " اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ أَنْقِنِي مِنْ خَطَايَايَ ، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد تکبیر اور قراءۃ کے درمیان کچھ دیر کے لئے سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان جو سکوت فرماتے ہیں یہ بتائیے کہ آپ اس میں کیا پڑھتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا فرمادے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھا ہے اے اللہ مجھے گناہوں سے ایسے پاک صاف فرمادے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف ہوجاتا ہے اے اللہ مجھے میرے گناہوں سے برف پانی اور اولوں سے دھو کر صاف فرمادے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 744، م: 598
حدیث نمبر: 10409
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ ، فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں اپنی عورتوں سے بےحجاب بھی نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام بھی نہ کرے وہ اس دن کی کیفیت لے کر اپنے گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1819، م: 1350
حدیث نمبر: 10410
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ مُنْذُ نَحْوٍ مِنْ أَرْبَعِينَ أَوْ خَمْسِينَ سَنَةً ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَأْكُلُونَ فِيهِ الرِّبَا " ، قَالَ : قِيلَ لَهُ : النَّاسُ كُلُّهُمْ ؟ قَالَ : " مَنْ لَمْ يَأْكُلْهُ مِنْهُمْ ، نَالَهُ مِنْ غُبَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں وہ سود کھانے لگیں گے کسی نے پوچھا کہ کیا سارے لوگ ہی سود کھانے لگیں گے ؟ فرمایا جو سود نہ بھی کھائے گا اسے اس کا اثر ضرور پہنچے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عباد ضعيف، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10411
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَرِيمُ الْبِئْرِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا مِنْ حَوَالَيْهَا كُلُّهَا ، لِأَعْطَانِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ ، وَابْنُ السَّبِيلِ أَوَّلُ شَارِبٍ ، وَلَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنوئیں کا حریم آس پاس کے چالیس گز پر مشتمل ہوتا ہے اور سب کا سب اونٹوں بکریوں اور مسافروں اور پہلے آکر پینے والوں کے لئے ہے اور کسی کو زائد پانی استعمال کرنے سے نہ روکاجائے کہ اس کے ذریعے زائد از ضرورت گھاس روکی جاسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، والرجل المبهم فى إسناده هو ابن سيرين
حدیث نمبر: 10412
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، قََالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْعُرْسِ ، يُطْعَمُهُ الْأَغْنِيَاءُ ، وَيُمْنَعُهُ الْمَسَاكِينُ ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5177، م: 1432
حدیث نمبر: 10413
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ ثُمَّ تَفَرَّقُوا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ ، كَأَنَّمَا تَفَرَّقُوا عَنْ جِيفَةِ حِمَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ اکھٹے ہوں اور اللہ کا ذکر کئے بغیر ہی جدا ہوجائیں وہ ایسے ہوتے ہیں گویا کہ کسی مردار گدھے سے جدا ہوئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 10414
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جِدَالٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10415
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ : قََالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ كَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ ، فَقَالَ : قَبْلَ أَنْ يَقُومَ سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ ثُمَّ أَتُوبُ إِلَيْكَ ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مجلس میں شریک ہو اور وہاں بیہودگی زیادہ ہوجائے تو اس مجلس سے اٹھتے وقت یوں کہہ لے سبحانک ربنا وبحمدک لاالہ الا انت استغفرک ثم اتوب الیک تو اس مجلس میں ہونے والے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10416
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قََالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2355 ، م: 1710
حدیث نمبر: 10417
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قََالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اخْتَلَفَتْ النَّاسُ فِي طُرُقِهِمْ أَنَّهَا سَبْعُ أَذْرُعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جب راستے کی پیمائش میں لوگوں کا اختلاف ہوجائے تو اسے سات گز رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
حدیث نمبر: 10418
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ , فَقَالَ : " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 365، م: 515
حدیث نمبر: 10419
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مغرب سے سورج نکلنے کا واقعہ پیش آنے سے قبل جو شخص بھی توبہ کرلے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4635، م: 157
حدیث نمبر: 10420
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ يَعْلَمُهُ فَكَتَمَهُ ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10421
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ طَعَامًا قَطُّ ، كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ ، وَإِذَا لَمْ يَشْتَهِهِ سَكَتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنا نہ ہوتی تو سکوت فرما لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2064
حدیث نمبر: 10422
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ : قََالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ , أَنَّ صَالِحًا مَوْلَى التَّوْءَمَةِ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَعَدَ الْقَوْمُ فِي الْمَجْلِسِ ، ثُمَّ قَامُوا وَلَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ ، كَانَتْ عَلَيْهِمْ فِيهِ حَسْرَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر نہ کریں اور یوں ہی اٹھ کھڑے ہوں وہ ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10423
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : " أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، ذُخْرًا مِن بَلْهَ مَا أَطْلَعَكُمْ عَلَيْهِ " ، ثُمَّ قَرَأَ : فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا وہ چیزیں ذخیرہ ہیں مگر اللہ نے تمہیں ان پر مطلع نہیں کیا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " کوئی نفس نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا چیزیں مخفی رکھی گئی ہیں "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2824
حدیث نمبر: 10424
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِلَّا وَقَبْلَهُ يَوْمٌ ، أَوْ بَعْدَهُ يَوْمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو الاّ یہ کہ اس کے ساتھ پہلے یا بعد کا ایک روزہ بھی ملا لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1985، م: 1144