حدیث نمبر: 10345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا أَوْ مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر بھر کے لئے کسی چیز کو وقف کردینا صحیح ہے اور اس شخص کی میراث بن جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10345
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2626، م: 1626
حدیث نمبر: 10346
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الْقُرْدُوسِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلَا يَسْتَامُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا ، وَلِتُنْكَحَ ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت کرے یا بیع میں دھوکہ دے یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10346
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
حدیث نمبر: 10347
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , " أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَارَءَا فِي دَابَّةٍ ، ليسَ لواحدٍ منهما بَيِّنةٌ ، فأَمَرَهما رسولُ الله صلي الله عليه وسلم أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ ، أَحَبَّا أَوْ كَرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان ایک جانور کے بارے جھگڑا ہوگیا لیکن ان میں سے کسی کے پاس بھی اپنی ملکیت ثابت کرنے کے لئے گواہ نہیں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوشی سے یا مجبورا قسم پر قرعہ اندازی کرنے کا حکم دیا (جس کے نام پر قرعہ نکل آئے وہ قسم کھالے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10347
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2674
حدیث نمبر: 10348
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ حَدَّثَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فِي صَوْمِهِ نَاسِيًا ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَطْعَمَهُ وَسَقَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص روزے کی حالت میں بھولے سے کچھ کھا پی لے تو وہ اپنے روزے کو مکمل کرلے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6669، م: 1155
حدیث نمبر: 10349
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ " ، يَعْنِي الدُّعَاءَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو دعوت پر پلایا جائے اسے دعوت ضرور قبول کرنی چاہئے اگر روزہ سے ہو تو ان کے لئے دعاء کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1150
حدیث نمبر: 10350
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ ، قََالَ : كُنْتُ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ جَالِسًا ، قََالَ : فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، فَقِيلَ لَهُ : هَذَا أَكْثَرُ عَامِرِيٍّ نَادَى مَالًا ، فَقَالَ : أَبُو هُرَيْرَةَ رُدُّوهُ إِلَيَّ ، فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : نُبِّئْتُ أَنَّكَ ذُو مَالٍ كَثِيرٍ ، فَقَالَ الْعَامِرِيُّ : إِي وَاللَّهِ ، إِنَّ لِي مِائَةً حُمْرًا وَمِائَةً أُدْمًا ، حَتَّى عَدَّ مِنْ أَلْوَانِ الْإِبِلِ ، وَأَفْنَانِ الرَّقِيقِ ، وَرِبَاطِ الْخَيْلِ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِيَّاكَ وَأَخْفَافَ الْإِبِلِ ، وَأَظْلَافَ الْغَنَمِ ، يُرَدِّدُ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، حَتَّى جَعَلَ لَوْنُ الْعَامِرِيِّ يَتَغَيَّرُ أَوْ يَتَلَوَّنُ ، فَقَالَ : مَا ذَاكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا رِسْلُهَا وَنَجْدَتُهَا ؟ قَالَ : " فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا ، فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ ، وَأَكْبَرِهِ وَأَسْمَنِهِ وَأَسَرِّهِ ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ فِيهِ بِأَخْفَافِهَا ، إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ ، وَإِذَا كَانَتْ لَهُ بَقَرٌ لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا ، فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ وَأَكْبَرِهِ وَأَسْمَنِهِ وَأَسَرِّهِ ، ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ فِيهِ كُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا ، وَتَنْطَحُهُ كُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا ، إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ حَتَّى يَرَى سَبِيلَهُ ، وَإِذَا كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا ، فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ وَأَكْبَرِهِ وَأَسْمَنِهِ وَأَسَرِّهِ ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ كُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا ، وَتَنْطَحُهُ كُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا يَعْنِي لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ , وَلَا عَضْبَاءُ , إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ أُولَاهَا ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ ، فَيَرَى سَبِيلَهُ " ، فَقَالَ الْعَامِرِيُّ : وَمَا حَقُّ الْإِبِلِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : أَنْ تُعْطِيَ الْكَرِيمَةَ ، وَتَمْنَحَ الْغَزِيرَةَ ، وَتُفْقِرَ الظَّهْرَ ، وَتُسْقِيَ اللَّبَنَ ، وَتُطْرِقَ الْفَحْلَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوعمر غدانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ بنو عامر کا ایک آدمی وہاں سے گذرا لوگوں نے انہیں بتایا کہ یہ شخص تمام بنوعمر میں سب سے زیادہ مالدار ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ لوگ اسے بلا لائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم بڑے مالدار ہو ؟ اس نے کہا بالکل میرے پاس سو سرخ اونٹ اور سو گندمی اونٹ ہیں اس طرح اس نے اونٹوں کے مختلف رنگ، غلاموں کی تعداد اور گھوڑوں کے اصطبل گنوانا شروع کردئیے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اونٹوں اور بکریوں کے کھروں سے اپنے آپ کو بچانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی کہ اس کا رنگ بدل گیا اور وہ کہنے لگا کہ اے ابوہریرہ ! اس سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا اور وہ کہنے لگا کہ اے ابوہریرہ ! اس سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ آدمی جو اونٹوں کا مالک ہو لیکن وہ تنگی اور آسانی میں ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا چنانچہ وہ اسے کھروں سے روند ڈالیں گے جوں ہی آخری اونٹ گذرے گا پہلے والا دوبارہ آجائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اور جس شخص کے پاس گائیں ہوں اور وہ تنگی اور آسانی میں ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا اور ہر کھر والی گائے اسے اپنے کھر سے اور ہر سینگ والی گائے اسے اپنے سینگ سے روندے اور چھیل دے گی جوں ہی آخری گائے گذرے گی پہلی گائے دوبارہ واپس یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو بکریوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مندحالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا پھر وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی ان میں سے کوئی بکری مڑے ہوئے سینگوں والی یا بےسینگ نہ ہوگی جوں ہی آخری بکری اسے روندتے ہوئے گذرے گی پہلے والی دوبارہ آجائے گی تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اس عامری نے پوچھا اسے ابوہریرہ ! اونٹوں کا حق کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا عمدہ اونٹ کسی کو دینا دودھ والا جانور ہدیہ کرنا پشت پر سوار کرانا دودھ پلانا اور مذکر کو مؤنث کے پاس جانے کی اجازت دینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10350
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1402، 2371، م: 987، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عمر
حدیث نمبر: 10351
قَالَ : وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10351
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 10352
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ حَدِيثٍ ذَكَرَهُ , عَنْ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي عُمَرَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10352
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10353
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ , قََالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُرْسِلَ عَلَى أَيُّوبَ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُهُ ، فَقَالَ : أَلَمْ أُغْنِكَ يَا أَيُّوبُ ؟ فَقَالَ : يَا رَبِّ ، وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ ، أَوْ قَالَ : مِنْ فَضْلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوب (علیہ السلام) پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب (علیہ السلام) انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب ! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار ! آپ کے فضل سے کون مستغنی رہ سکتا ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10353
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 279
حدیث نمبر: 10354
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ ، وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور اس کا پانی زہر کی شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 10355
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ ، فَمَاتَتْ ؟ فَقَالَ : " إِنْ كَانَ جَامِدًا ، فَخُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، وَكُلُوا مَا بَقِيَ ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا ، فَلَا تَأْكُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر چوہا گھی میں مرجائے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گراہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کرلو اور اگر گھی مائع کی شکل میں ہو تو اسے مت استعمال کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وأن معمرا قد أخطأ فى إسناده ومتنه، خ: 5538
حدیث نمبر: 10356
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا فَرَعَ ، وَلَا عَتِيرَةَ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَالْفَرَعُ : كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَذْبَحُونَ أَوَّلَ نِتَاجٍ يَكُونُ لَهُمْ ، وَالْعَتِيرَةُ : ذَبِيحَةُ رَجَبٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں ماہ رجب میں قربانی کرنے کی کوئی حیثیت نہیں اسی طرح جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5474، م: 1976
حدیث نمبر: 10357
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ضَمْضَمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ " ، قُلْتُ لِيَحْيَى : مَا يَعْنِي بِالْأَسْوَدَيْنِ ؟ قَالَ : الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں کو مارا جاسکتا ہے یحییٰ نے دو کالی چیزوں کی وضاحت سانپ اور بچھو سے کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10358
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ عَرَضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ فَلْيَقْبَلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ بن مانگے کچھ مال و دولت عطاء فرما دے تو اسے قبول کرلینا چاہئے کیونکہ یہ زرق ہے جو اللہ نے اس کے پاس بھیجا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عبد الملك: فلم نتبين من هو
حدیث نمبر: 10359
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قََالَ : سُئِلَ قَتَادَةُ ، عَنْ رَجُلٍ صَلَّى رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، ثُمَّ طَلَعَتْ الشَّمْسُ ، قََالَ : عَفَّانُ ثُمَّ طَلَعَ قَرْنُ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي خِلَاسٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُتِمُّ صَلَاتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتادہ رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر ایک آدمی نے فجر کی ایک رکعت ہی پڑھی تھی کہ سورج نکل آیا تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے اپنی سند سے یہ نقل کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا آدمی اپنی نماز مکمل کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
حدیث نمبر: 10360
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَأْتُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ جَاءَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَةِ كَذَا ، قَالَ حَمَّادٌ : أَظُنُّهُ قَالَ : خَمْسَ مِرَارٍ , جَاءَ فُلَانٌ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ ، وَجَاءَ فُلَانٌ فَأَدْرَكَ الصَّلَاةَ وَلَمْ يُدْرِكْ الْجُمُعَةَ ، أَوْ لَمْ يُدْرِكْ الْخُطْبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مسجد کے دروازے پر فرشتے لوگوں کے مراتب لکھتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں وقت آیا فلاں آدمی فلاں وقت آیا فلاں آدمی اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا فلاں آدمی آیا تو اسے صرف نماز ملی اور جمعہ نہیں ملا یہ اس وقت لکھتے ہیں جبکہ کسی کو خطبہ نہ ملا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف علي، وجهالة أوس
حدیث نمبر: 10361
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مَعَهَا عَصَا مُوسَى ، وَخَاتَمُ سُلَيْمَانَ ، فَتَجْلُو وَجْهَ الْمُؤْمِنِ بِالْعَصَا ، وَتَخْتِمُ أَنْفَ الْكَافِرِ بِالْخَاتَمِ ، حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْخِوَانِ لَيَجْتَمِعُونَ ، فَيَقُولُ هَذَا : يَا مُؤْمِنُ ، وَيَقُولُ هَذَا : يَا كَافِرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب دابۃ الارض کا خروج ہوگا جس کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی ہوگی وہ کافر کی ناک پر مہر سے نشان لگا دے گا اور مسلمان کے چہرے کو عصا کے ذریعے روشن کردے گا یہاں تک کہ لوگ ایک دسترخوان پر اکٹھے ہوں گے اور ایک دوسرے کو اے مومن اور اے کافر کہہ کر پکاریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف علي، وجهالة أوس
حدیث نمبر: 10362
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أُمِّ بُرْثُنٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَنَا ، فَاخْتَلَفُوا فِيهَا ، وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا ، فَالنَّاسُ لَنَا تَبَعٌ ، فَالْيَهُودُ غَدًا ، وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور پر سوں کا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 856
حدیث نمبر: 10363
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ ، أَوْ تَعْمَلْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو یہ چھوٹ دی گئی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2528، م: 127
حدیث نمبر: 10364
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شتير
حدیث نمبر: 10365
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , وَيَزِيدُ , قََالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ وَمَعَاطِنَ الْإِبِلِ ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں نماز پڑھنے کے لئے بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ نہ ملے تو بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لینا اونٹوں کے باڑے میں مت پڑھنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10366
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 10367
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانے کو برا بھلا مت کہا کرو کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6182، م: 2246
حدیث نمبر: 10368
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : عَبْدِي ، وَأَمَتِي ، لِيَقُلْ : فَتَايَ ، فَتَاتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ نہ کہے عبدی امتی بلکہ یوں کہے میرا جوان میری جوان۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249
حدیث نمبر: 10369
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْ قَالَ : قال أَبُو الْقَاسِمِ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ ، أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا ، وَهُوَ صَائِمٌ ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھے اور بھولے سے کچھ کھا پی لے تو اسے اپنا روزہ پھر بھی پورا کرنا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1933، م: 1155
حدیث نمبر: 10370
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ ، وَبَيْعَتَيْنِ : وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ ، وَأَنْ يَرْتَدِيَ فِي ثَوْبٍ يَرْفَعُ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ ، وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ : فَاللَّمْسُ وَالْإِلْقَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو قسم کی خریدوفروخت اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے لباس تو یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرا سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے الاّ یہ کہ وہ اس کے دو کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لے اور بیع ملامسہ اور پتھر پھینک کر بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ فائدہ بیع ملامسہ کا مطلب یہ ہے کہ خریدار یہ کہہ کردے کہ میں جس چیز پر ہاتھ رکھ دوں وہ اتنے روپے کی میری ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2145، م: 1511
حدیث نمبر: 10371
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6410، م: 2677
حدیث نمبر: 10372
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134
حدیث نمبر: 10373
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَيَزِيدُ , قََالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ حَيْثُ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَاهُمْ عَنْ الْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالْمَزَادَةِ , الْمَجْبُوبَةِ ، وَقالَ : انْتَبِذْ فِي سِقَائِكَ ، وَأَوْكِهِ ، وَاشْرَبْهُ حُلْوًا طَيِّبًا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي فِي مِثْلِ هَذِهِ ، قَالَ : " إِذَنْ تَجْعَلَهَا مِثْلَ هَذِهِ " ، قَالَ يَزِيدُ : وَفَتَحَ هِشَامٌ يَدَهُ قَلِيلًا ، فَقَالَ : " إِذَنْ تَجْعَلَهَا مِثْلَ هَذِهِ " ، وَفَتَحَ يَدَهُ شَيْئًا أَرْفَعَ مِنْ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بنوعبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حنتم، نقیر، مزفت اور توشہ دان سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے مشکیزے میں نبیذ بناؤ اس کا منہ بند کردو اور شیریں و پاکیزہ پی لو ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اتنی سی کی اجازت دے دیجئے (راوی نے ہاتھ سے اشارہ کرکے دکھایا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعد میں تم اسے اتنا بنا لوگے (راوی نے پہلے کی نسبت ہاتھ کو زیادہ کھول کر اشارہ کرکے دکھایا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1993
حدیث نمبر: 10374
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَجَسَّسُوا ، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَنَافَسُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان خدا ! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6724، م: 2563، وإسناده ضعيف لجهالة حيان
حدیث نمبر: 10375
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ : حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قََالَ : لَا أَعْلَمُ هَذَا إِلَّا مَا حَدَّثَنَاهُ أَبِي وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ الْهَرْجَ " ، قَالَ : قِيلَ : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے " ہرج " کی کثرت ہوگی کسی نے پوچھا کہ ہرج کا کیا معنی ہے ؟ فرمایا قتل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7061، م: 2672، إسناده ضعيف، حيان والد سليم: مجهول
حدیث نمبر: 10376
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ ، فَإِنْ كَانَ صَدَقَةً لَمْ يَأْكُلْ ، وَإِنْ كَانَ هَدِيَّةً أَكَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدمت میں جب آپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تناول فرما لیتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرما دیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
حدیث نمبر: 10377
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10378
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَفَّانُ : يَوْمَ الْقِيَامَةِ : " يَا ابْنَ آدَمَ ، حَمَلْتُكَ عَلَى الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ ، وَزَوَّجْتُكَ النِّسَاءَ ، وَجَعَلْتُكَ تَرْبَعُ ، وَتَرْأَسُ ، فَأَيْنَ شُكْرُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے ابن آدم میں نے تجھے گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار کرایا عورتوں سے تیرا نکاح کروایا اور میں نے تجھے سیادت عطاء کی ان تمام چیزوں کا شکر کہاں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2968
حدیث نمبر: 10379
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ : " أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا ، فَقَالَ : يَا رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا ، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ " ، ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَ : فَيَقُولُ : اعْمَلْ مَا شِئْتَ ، قَدْ غَفَرْتُ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی گناہ کرتا ہے پھر کہتا ہے کہ پروردگار ! مجھ سے گناہ کا ارتکاب ہوا مجھے معاف فرمادے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کا کام کیا اور اسے یقین ہے کہ اس کا کوئی رب بھی ہے جو گناہوں کو معاف فرماتا یا ان پر مواخذہ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو تین مرتبہ مزید دہرایا آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو جو چاہے کر میں نے تجھے معاف کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7507، م: 2758
حدیث نمبر: 10380
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قََالَ : كَانَ بِالْمَدِينَةِ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، قََالَ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ عَبْدًا أَصَابَ ذَنْبًا " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 10381
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الَّذِي يَعُودُ فِي هِبَتِهِ ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ ، حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ، ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ فَأَكَلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو ہدیہ دے کر واپس مانگ لے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو خوب سیراب ہو کر کھائے اور جب پیٹ بھر جائے تو اسے قے کردے اور اس قے کو چاٹ کر دوبارہ کھانے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة، وقد توبع
حدیث نمبر: 10382
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ حَدِيثِ خِلَاسٍ فِي الْهِبَةِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 10383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ شَابٌّ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ ، يَتَبَخْتَرُ فِيهَا ، مُسْبِلًا إِزَارَهُ ، إِذْ بَلَعَتْهُ الْأَرْضُ ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے کہ ایک آدمی اپنے قیمتی حلے میں ملبوس اپنے او پر فخر کرتے ہوئے تکبر سے چلا جارہا تھا کہ اسی اثناء میں اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5789، م: 2088، وهذا إسناد منقطع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10384
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَجُلٍ قَتَلَهُ نَبِيُّهُ ، وَقَالَ رَوْحٌ : قَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ ، وَاشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ ، لَا مُلْكَ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آدمی پر اللہ کا شدید غضب نازل ہوتا ہے جسے کسی نبی نے جہاد فی سبیل اللہ میں اپنے ہاتھ سے قتل کیا ہو اور اس آدمی پر اللہ کا شدید غضب نازل ہوتا ہے جو اپنے آپ کو شہنشاہ کہلواتا ہے اللہ کے علاوہ کسی کی بادشاہی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع كسابقه