حدیث نمبر: 10305
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔
حدیث نمبر: 10306
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ . وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص امام بن کر نماز پڑھایا کرے تو ہلکی نماز پڑھایا کرے کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بیمار سب ہی ہوتے ہیں۔ البتہ جب تنہا نماز پڑھے تو جتنی مرضی لمبی پڑھے۔
حدیث نمبر: 10307
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ ، تَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے فرشتے کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما۔ اے اللہ اس پر رحم فرما۔
حدیث نمبر: 10308
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَتْ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ ، لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک بندہ نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ اسے اپنے گھر جانے سے نماز کے علاوہ کسی اور چیز نے نہ روکا ہو۔
حدیث نمبر: 10309
قَرَأْتُ عَلَى قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ وَصَلَاةِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ ، فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ : كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ؟ فَيَقُولُونَ : تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات اور دن کے فرشتے تمہارے درمیان باری باری رہتے ہیں اور نماز فجر اور نماز عصر کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں پھر جو فرشتے تمہارے درمیان رہ چکے ہوتے ہیں آسمانوں پر چڑھ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ باوجودیکہ ہر چیز جانتا ہے ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ کہتے ہیں کہ جس وقت ہم ان سے رخصت ہوئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تھے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 10310
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، وَقَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ ، لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ " , قَالَا جَمِيعًا : " لَا مُكْرِهَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعاء کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرما دے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعاء کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10311
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُو بِهَا ، وَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فِي الْآخِرَةِ " ، قَالَ إِسْحَاقُ : " فَأَرَدْتُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعاء ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی وہ دعاء قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔
حدیث نمبر: 10312
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي أَزْهَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ ، فَيَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ فَمَا يُسْتَجَابُ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری دعاء ضرور قبول ہوگی بشرطیکہ جلدبازی نہ کی جائے جلدبازی سے مراد یہ ہے کہ آدمی یوں کہنا شروع کردے کہ میں نے تو اپنے رب سے اتنی دعائیں کیں وہ قبول ہی نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 10313
قَرَأْتُ عَلَى قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ . وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَنْزِلُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ ، فَيَقُولُ : مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزانہ جب رات کا تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطاء کروں ؟
حدیث نمبر: 10314
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ " قَرَأَ لَهُمْ : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 فَسَجَدَ فِيهَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سورت انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا نماز کے بعد فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سورت میں سجدہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 10315
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً ، قَالَ : " ارْكَبْهَا " ، فَقَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ " ، فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ ، قَالَ إِسْحَاقُ : " ارْكَبْهَا وَيْلَكََ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کرلیے جارہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے دوبارہ عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر سوار ہونے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 10316
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا يُسَاوِمْ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا ، وَلِتُنْكَحَ ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے یا بیع میں دھوکہ نہ دے یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔ کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے
حدیث نمبر: 10317
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قََالَ : قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا ، قَالَ : يُرِيدُ الْمَدِينَةَ ، قَالَ : فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَاءَ سَاكِنَةً مَا ذَعَرْتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر میں مدینہ منورہ میں ہر نوں کو دیکھ بھی لوں تب بھی انہیں نہ ڈراؤں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 10318
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ الْجُنْدُعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ، فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : " هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعِي آنِفًا ؟ " ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا ، قَالَ : " إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیں کوئی نماز پڑھائی اور اس میں جہراً قرأت فرمائی نمار سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے ؟ ایک آدمی نے کہا جی یارسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا ؟
حدیث نمبر: 10319
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، هِيَ خِدَاجٌ ، هِيَ خِدَاجٌ ، غَيْرُ تَمَامٍ " ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ ، قَالَ : فَغَمَزَ ذِرَاعِي ، وَقَالَ : يَا فَارِسِيُّ , اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے میں نے عرض کیا اے ابوہریرہ ! اگر کبھی میں امام کے پیچھے ہوں ؟ انہوں نے میرے بازو میں چٹکی بھر کر فرمایا اے فارسی اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔
حدیث نمبر: 10320
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ " ، قَالَ أَيُّوبُ : أُنْبِئْتُ أَنَّ رَجُلًا شَرِبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ ، فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے راوی حدیث ایوب کہتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک آدمی نے مشکیزے کے منہ سے اپنا منہ لگا کر پانی پیا تو اس میں سے سانپ نکل آیا۔
حدیث نمبر: 10321
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ مُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ ، قََالَ : قُلْتُ يَعْنِي لِأَبِي هُرَيْرَةَ : هَلْ سَمِعْتَ مِنْ خَلِيلِكَ شَيْئًا تُحَدِّثُنِيهِ ؟ قََالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَخَيْرُ الطِّيَرِ الْفَأْلُ ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور الو (کو منحوس سمجھنے کی) کوئی حقیقت نہیں بہترین شگون فال ہے اور نظر لگنا برحق ہے۔
حدیث نمبر: 10322
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنَ الْغُرَمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 10323
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , وَبْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قََالَ : ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : " فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قراءت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قراءت کریں گے۔
حدیث نمبر: 10324
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , وَيَزِيدُ , قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلَقَّوْا الْجَلَبَ ، فَمَنْ تَلَقَّى مِنْهُ شَيْئًا ، فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ إِذَا أَتَى السُّوقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر خریداری کرنے سے منع فرمایا ہے جو شخص اس طرح کوئی چیز خریدے تو بیچنے والے کو بازار اور منڈی میں پہنچنے کے بعد اختیار ہوگا (کہ وہ اس بیع کو قائم رکھے یا فسخ کردے)
حدیث نمبر: 10325
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ غَلَّاقٍ الْعَيْشِيِّ ، قََالَ : نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : وَمَاتَ ابْنٌ لِي فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : هَلْ سَمِعْتَ مِنْ خَلِيلِكَ شَيْئًا نُطَيِّبُ بِأَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا ؟ قََالَ : نَعَمْ سَمِعْتُهُ , قََالَ : " صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
خالد بن غلاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں رکا میرا ایک بیٹا فوت ہوگیا تھا جس کا مجھے بہت غم تھا میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث سنی ہے جو ہمیں اپنے مردوں کے حوالے سے خوش کردے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں کے چھوٹے بچے (جو بچپن ہی میں فوت ہوجائیں) جنت کے ستون ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 10326
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قََالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ لَقِيَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، فَقَالَ : " اكْشِفْ لِي عَنْ بَطْنِكَ , حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ مِنْه ، قَالَ : فَكَشَفَ لَهُ عَنْ بَطْنِهِ فَقَبَّلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عمیر بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ راستے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی وہ کہنے لگے کہ مجھے دکھاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے جسم کے جس حصے پر بوسہ دیا تھا میں بھی اس کی تقبیل کا شرف حاصل کروں اس پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیض اٹھائی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔
حدیث نمبر: 10327
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 10328
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ " ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
حدیث نمبر: 10329
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ ، مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں گالی گلوچ کرنے والے دو آدمی جو کچھ بھی کہیں اس کا گناہ گالی گلوچ کی ابتداء کرنے والے پر ہوگا جب تک کہ مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے۔
حدیث نمبر: 10330
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي مُصْعَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ " ، قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے
حدیث نمبر: 10331
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قََالَ : تُوُفِّيَ ابْنَانِ لِي ، فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدِيثًا تُحَدِّثُنَاهُ يُطَيِّبُ بِأَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا ؟ قَالَ : نَعَمْ , " صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ ، يَلْقَى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ أَوْ قَالَ : أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ أَوْ يَدِهِ ، كَمَا آخُذُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا ، فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ ، وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحسان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں رکا میرا ایک بیٹا فوت ہوگیا تھا جس کا مجھے بہت غم تھا میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث سنی ہے جو ہمیں اپنے مردوں کے حوالے سے خوش کردے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں کے چھوٹے بچے ( جو بچپن ہی میں فوت ہوجائیں) جنت کے ستون ہوتے ہیں۔ جب ان میں سے کوئی بچہ اپنے والدین سے ملے گا تو ان کے کپڑے کا کنارہ پکڑ لے گا جیسے میں نے تمہارے کپڑے کا کنارہ پکڑا ہوا ہے اور اس وقت تک ان سے جدا نہ ہوگا جب تک اللہ اسے اور اس کے باپ کو جنت میں داخل نہ کردے۔
حدیث نمبر: 10332
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِكُمْ ، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا عَجَّلْتُمُوهُ إِلَيْهِ ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا أَلْقَيْتُمُوهُ عَنْ عَوَاتِقِكُمْ " ، أَوْ قَالَ ، " عَنْ ظُهُورِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنازے لے جانے میں جلدی سے کام لیا کرو کیونکہ اگر میت نیک ہو تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر میت گناہ گار ہو تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔
حدیث نمبر: 10333
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ ، فَمَاتَ ، فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ ، وَمَنْ خَرَجَ مِنْ أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا ، لَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا ، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا ، فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِي ، وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ ، يَدْعُو لِلْعَصَبَةِ ، أَوْ يَغْضَبُ لِلْعَصَبِيَّةِ ، أَوْ يُقَاتِلُ لِلْعَصَبِيَّةِ ، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص امیر کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حال میں مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوئی اور جو شخص کسی جھنڈے کے نیچے بےمقصد لڑتا ہے (قومی یا لسانی) تعصب کی بناء پر غصہ کا اظہار کرتا ہے اسی کی خاطر لڑتا ہے اور اسی کے پیش نظر مدد کرتا ہے اور مارا جاتا ہے تو اس کا مرنا بھی جاہلیت کے مرنے کی طرح ہوا
حدیث نمبر: 10334
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ رَبَاحٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ : مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ ، وَخَالَفَ الطَّاعَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 10335
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی " من " (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور اس کا پانی زہر کی شفاء ہے۔
حدیث نمبر: 10336
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّمَا مُسْلِمٍ جَلَدْتُهُ " ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : " أَوْ سَبَبْتُهُ ، أَوْ لَعَنْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا ، وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذاء پہنچائی ہو یا اسے لعنت کی ہو اسے اس شخص کے لئے باعث تزکیہ و اجر اور قیامت کے دن اپنے قرب کا سبب بنا دے۔
حدیث نمبر: 10337
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ ، فَحَدِيدَتُهُ بِيَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى فِيهَا ، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے آپ کو کسی تیزدھار آلے سے قتل کرلے (خودکشی کرلے) اس کا وہ تیزدھار آلہ اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر اپنے پیٹ میں گھونپتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور جو شخص اپنے آپ کو پہاڑ سے نیچے گرا کر خودکشی کرلے وہ جہنم میں بھی پہاڑ سے نیچے گرتا رہے گا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
حدیث نمبر: 10338
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ : الْخِتَانُ ، وَالِاسْتِحْدَادُ ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ ، وَقَصُّ الشَّارِبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں (١) ختنہ کرنا (٢) زیرناف بال صاف کرنا (٣) بغل کے بال نوچنا۔ (٤) ناخن کاٹنا (٥) مونچھیں تراشنا۔
حدیث نمبر: 10339
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، ثُمَّ طَلَعَتْ ، فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی ایک رکعت پڑھ لے اور سورج نکل آئے تو اس کے ساتھ دوسری رکعت بھی شامل کرلے۔
حدیث نمبر: 10340
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , الْمَعْنَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَامْشُوا إِلَيْهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے اقامت ہوجائے تو اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔
حدیث نمبر: 10341
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : وَسُئِلَ عَنِ الْإِنَاءِ يَلَغُ فِيهِ الْكَلْبُ , قََالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " يُغْسَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے اور پہلی مرتبہ مٹی سے مانجھے۔
حدیث نمبر: 10342
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ بِثَلَاثٍ , لَسْتُ بِتَارِكِهِنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَنَوْمٍ عَلَى وَتْرٍ ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى " ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّ الْحَسَنَ أُوهِمَ ، فَجَعَلَ رَكْعَتَيْ الضُّحَى لِلْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں سفروحضر میں انہیں کبھی نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کی دو رکعتوں کی بعد میں حسن کو وہ اس کی جگہ " غسل جمعہ " کا ذکر کرنے لگے۔
حدیث نمبر: 10343
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , أَوْ سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً ، لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي ، يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 10344
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَرَكَ كَنْزًا فَإِنَّهُ يُمَثَّلُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ ، لَهُ زَبِيبَتَانِ ، فَمَا زَالَ يَطْلُبُهُ ، يَقُولُ : وَيْلَكَ مَا أَنْتَ ؟ قَالَ : يَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ الَّذِي تَرَكْتَ بَعْدَكَ ، قَالَ : فَيُلْقِمُهُ يَدَهُ فَيَقْضَمُهَا ، ثُمَّ يُتْبِعُهُ بِسَائِرِ جَسَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن خزانے والے کا خزانہ ایک گنجا سانپ بن جائے گا مالک اس سے بھاگے گا اور وہ اس کے پیچھے پیچھے ہوگا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا خزانہ ہوں واللہ وہ اس کے پیچھے لگا رہے گا یہاں تک کہ ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے منہ میں لقمہ بنالے گا۔
…