حدیث نمبر: 7399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ ، وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، بَيْدَ أَنَّ كُلَّ أُمَّةٍ أُوتِيَتْ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ، ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ ، فَلِلْيَهُودِ غَدًا ، وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " . قَالَ أَحَدُهُمَا : " بَيْدَ أَنَّ " ، وَقَالَ الْآخَرُ : " بَايْدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا : تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 876، م: 855.
حدیث نمبر: 7400
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ يَذْكُرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ ، فَصَلُّوا أَرْبَعًا ، فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَيْءٌ ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ . قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : لَا أَدْرِي هَذَا الْحَدِيثُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمْ لَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم جمعہ کے بعد نوافل پڑھنا چاہو تو پہلے چار رکعتیں پڑھو۔ اگر تمہیں کسی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعتیں مسجد میں پڑھ لو اور دو رکعتیں واپس آ کر پڑھ لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 881.
حدیث نمبر: 7401
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ، وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي أُمِرُوا بِهِ ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ ، فَجَعَلَهُ اللَّهُ لَنَا عِيدًا ، فَالْيَوْمَ لَنَا ، وَغَدًا لِلْيَهُودِ ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا : تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہمارے لئے عید بنا دیا اب یہ ہمارا دن ہے اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 876، 855.
حدیث نمبر: 7402
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا ، أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ، وَخِيَارُهُمْ ، خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمام مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور ان میں سب سے بہترین وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7403
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا ، وَطَهُورًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے جوامع الکلم دئیے گئے ہیں اور میرے لئے روئے زمین کو مسجد اور پاکیزگی بخش قرار دے دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6998، م: 523.
حدیث نمبر: 7404
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الثَّيِّبُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ إِذْنُهَا ؟ قَالَ : " أَنْ تَسْكُتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہر دیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! (کنواری لڑکی شرماتی ہے) تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی کی علامت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6970، م: 1419.
حدیث نمبر: 7405
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَ رَبِّهِ ، فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ ? ! أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ ؟ ! إِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَتَنَخَّعْ عَنْ يَسَار ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ، فَلْيَتْفُلْ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ " فَوَصَفَ الْقَاسِمُ فَتَفَلَ فِي ثَوْبِهِ ، ثُمَّ مَسْحَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : تم میں سے کسی کا کیا معاملہ ہے کہ اپنے رب کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے اور پھر تھوک بھی پھینکتا ہے ؟ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ کوئی آدمی اس کے سامنے رخ کر کے کھڑا ہو جائے اور اس کے چہرے پر تھوک دے ؟ جب تم میں سے کوئی شخص تھوک پھینکنا چاہے تو اسے بائیں جانب یا پاؤں کی طرف تھوکنا چاہئے اور اگر اس کا موقع نہ ہو تو اس طرح اپنے کپڑے میں تھوک لے راوی حدیث قاسم نے کپڑے میں تھوک کر اسے کپڑے سے مل کر دکھایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح وإسناد قوي، خ: 416، م: 550.
حدیث نمبر: 7406
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، غَيْرُ تَمَامٍ " . قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ : إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ ، فَغَمَزَ ذِرَاعِي ، وَقَالَ : يَا فَارِسِيُّ ، اقْرَأْهَا فِي نَفْسِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ ! اگر کبھی میں امام کے پیچھے ہوں ؟ انہوں نے میرے بازو میں چٹکی بھر کر فرمایا : اے فارسی ! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 395.
حدیث نمبر: 7407
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " لَتُنَبَّأَنَّ أَنْ تَتَصَدَّقَ ، وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ ، تَأْمُلُ الْبَقَاءَ ، وَتَخَافُ الْفَقْرَ ، وَلَا تَمَهَّلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ ، قُلْتَ : لِفُلَانٍ كَذَا ، وَلِفُلَانٍ كَذَا ، أَلَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تجھے اس کا جواب ضرور ملے گا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو تمہیں فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگو کہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ توفلاں (ورثاء) کا ہو چکا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1419، م: 1032.
حدیث نمبر: 7408
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کی تین ٹانگوں کا رنگ سفید ہو اور چوتھی کا رنگ باقی جسم کے رنگ کے مطابق ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1875.
حدیث نمبر: 7409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ ، أُعَلِّمُكُمْ ، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ ، فَلَا تَسْتَقْبِلُوهَا ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا ، وَلَا يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ " . وَكَانَ يَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ ، وَيَنْهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہارے لئے باپ کی طرح ہوں اس لئے تمہیں سمجھانا میری ذمہ داری ہے جب تم بیت الخلاء جایا کرو تو قبلہ کی جانب منہ کر کے یا پشت کر کے مت بیٹھا کرو نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لید اور بوسیدہ ہڈی سے استنجاء کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے اور فرمایا : کہ کوئی شخص دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تین پتھروں سے استنجاء کرنے کا حکم دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7410
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَصَلَّى ، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ ، فَصَلَّتْ ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ ، وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَصَلَّتْ ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا ، فَصَلَّى ، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے جو رات کو اٹھ کر خود بھی نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی نماز پڑھنے کے لئے جگائے اور اگر وہ انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے اور اس عورت پر اللہ رحمتوں کا نزول ہو جو رات کو اٹھ کر خود بھی نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی نماز پڑھنے کے لئے جگائے اور اگر وہ انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7411
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ ، وَبَيْعِ الْغَرَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں مار کر بیع کرنے سے اور دھوکہ کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1513.
حدیث نمبر: 7412
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ ، وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ، أَوْ شَطْرِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 887، م: 252.
حدیث نمبر: 7413
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الزُّرَقِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ ، فَإِنَّهَا تَجِيءُ بِالرَّحْمَةِ ، وَالْعَذَابِ ، وَلَكِنْ سَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا ، وَتَعَوَّذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہوا کو برا بھلا نہ کہا کرو کیونکہ وہ تو رحمت اور زحمت دونوں کے ساتھ آتی ہے البتہ اللہ سے اس کی خیر مانگا کرو اور اس کے شر سے پناہ مانگا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7414
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، تُسَافِرُ يَوْمًا إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی ایسی عورت کے لئے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339.
حدیث نمبر: 7415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي ذَكْوَانُ أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ شَكّ ، يَعْنِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا ، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1190، م: 1394.
حدیث نمبر: 7416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " ثَلَاثٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُ : الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالنَّاكِحُ الْمُسْتَعْفِفُ ، وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الْأَدَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین آدمی ایسے ہیں کہ جن کی مدد کرنا اللہ کے ذمے واجب ہے (١) اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا (٢) اپنی عفت کی حفاظت کی خاطر نکاح کرنے والا (٣) وہ عبد مکاتب جو اپنا بدل کتابت ادا کرنا چاہتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7417
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَنَامُ عَيْنِي ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَجُلٌ : كَمْ يَكْفِي رَأْسِي فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَة ؟ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا " ، قَالَ : إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ ، قَالَ : " كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا کہ غسل ت میں میرے سر کے لئے کتنا پانی کافی ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر ہاتھ سے تین مرتبہ پانی ڈالتے تھے وہ کہنے لگا کہ میرے بال بہت گھنے ہیں ؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بھی بہت زیادہ گھنے اور عمدہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7419
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَصَدَّقُوا " ، قَالَ رَجُلٌ : عِنْدِي دِينَارٌ ، قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ " ، قَالَ : عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ ، قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجِكَ " ، قَالَ : عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ ، قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ " ، قَالَ : عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ ، قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ " ، قَالَ : عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ ، قَالَ : " أَنْتَ أَبْصَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صدقہ و خیرات کیا کرو ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر میرے پاس صرف ایک دینار ہو تو ؟ فرمایا : اسے اپنی ذات پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو ؟ فرمایا : اپنی بیوی پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو ؟ فرمایا : اسے اپنے بچے پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو ؟ فرمایا : اسے اپنے خادم پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو ؟ فرمایا : تم زیادہ بہتر سمجھتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7420
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَتَجَنَّبْ الْوَجْهَ ، وَلَا يَقُلْ : قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ ، وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے اور یہ نہ کہے کہ اللہ تمہارا اور تم سے مشابہت رکھنے والے کا چہرہ ذلیل کرے کیونکہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 2559، م: 2612.
حدیث نمبر: 7421
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " الَّذِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھا کہ کون سی عورت سب سے بہتر ہے ؟ فرمایا : وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے جب حکم دے تو اس کی بات مانے اور اپنی ذات اور اس کے مال میں جو چیز اس کے خاوند کو ناپسند ہو اس میں اپنے خاوند کی مخالفت نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7422
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنَا مَعَ عَبْدِي حِينَ يَذْكُرُنِي ، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ ، وَإِنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا ، اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَإِنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا ، اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا ، فَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " . وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ : " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ارشادباری تعالیٰ ہے بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھے کسی مجلس میں بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر محفل میں اسے یاد کرتا ہوں اگر وہ ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہو جاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتاہوں۔ ابن نمیر کی حدیث میں آغاز اس طرح ہے کہ میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7405، م: 2675.
حدیث نمبر: 7423
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ " ، قَالَ : قُلْنَا : مَضَتْ ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ ، وَبَقِيَ ثَمَانٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، بَلْ مَضَتْ مِنْهُ ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ ، وَبَقِيَ سَبْعٌ ، اطْلُبُوهَا اللَّيْلَةَ " . قَالَ يَعْلَى فِي حَدِيثِهِ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مہینے کے کتنے دن گزرگئے ؟ ہم نے عرض کیا کہ بائیس دن گزر گئے اور آٹھ دن رہ گئے فرمایا : نہیں بائیس دن گزر گئے اور سات دن رہ گئے شب قدر کو آج کی رات میں تلاش کرو (کیونکہ مہینہ ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7424
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، هُوَ شَكَّ يعنى الأعمش قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ ، فُضُلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ ، تَنَادَوْا : هَلُمُّوا إِلَى بُغْيَتِكُمْ ، فَيَجِيئُونَ ، فَيَحُفُّونَ بِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ اللَّهُ : أَيَّ شَيْءٍ تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : تَرَكْنَاهُمْ يَحْمَدُونَكَ ، وَيُمَجِّدُونَكَ ، وَيَذْكُرُونَكَ ، فَيَقُولُ : هَلْ رَأَوْنِي ؟ فَيَقُولُونَ : لَا ، فَيَقُولُ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي ؟ فَيَقُولُونَ : لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا أَشَدَّ تَحْمِيدًا ، وَتَمْجِيدًا ، وَذِكْرًا ، فَيَقُولُ : فَأَيَّ شَيْءٍ يَطْلُبُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : يَطْلُبُونَ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ : وَهَلْ رَأَوْهَا ؟ قَالَ : فَيَقُولُونَ : لَا ، فَيَقُولُ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا ، وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا ، قَالَ : فَيَقُولُ : وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَتَعَوَّذُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : مِنَ النَّارِ ، فَيَقُولُ : وَهَلْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا هَرَبًا ، وَأَشَدَّ مِنْهَا خَوْفًا ، قَالَ : فَيَقُولُ : إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ، قَالَ : فَيَقُولُونَ : فَإِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ ، لَمْ يُرِدْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ ، فَيَقُولُ : هُمْ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے جو لوگوں کا نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں اس کام پر مقرر ہیں کہ وہ زمین میں گھومتے پھریں یہ فرشتے جہاں کچھ لوگوں کو ذکر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دے کر کہتے ہیں کہ اپنے مقصود کی طرف آؤ چنانچہ وہ سب اکھٹے ہو کر آ جاتے ہیں اور ان لوگوں کو آسمان دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ ( پھر جب وہ آسمان پر جاتے ہیں تو) اللہ ان سے پوچھتا ہے کہ میرے بندوں کو تم کیا کرتے ہوئے چھوڑ کر آئے ہو ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں اس حال میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ آپ کی تعریف وتحمید بیان کررہے تھے اور آپ کا ذکر کررہے تھے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے ؟ وہ کہتے ہیں نہیں اللہ پوچھتا ہے کہ اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو کیا ہوتا ؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ آپ کو دیکھ لیتے تو اور زیادہ شدت کے ساتھ آپ کی تحمید اور تمجید اور ذکر میں مشغول رہتے اللہ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز کو طلب کر رہے تھے ؟ وہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ جنت طلب کر رہے تھے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے ؟ وہ کہتے ہیں نہیں اللہ پوچھتا ہے کہ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا ؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو وہ اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کی حرص اور طلب کرتے اللہ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے ؟ وہ کہتے ہیں کہ جہنم سے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جہنم کو دیکھا ہے ؟ وہ کہتے ہیں نہیں اللہ پوچھتا ہے کہ اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا ؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو اور زیادہ شدت کے ساتھ اس سے دور بھاگتے اور خوف کھاتے اللہ فرماتا ہے کہ تم گواہ رہو میں نے ان سب کے گناہوں کو معاف فرما دیا فرشتے کہتے ہیں کہ ان میں تو فلاں گنہگار آدمی بھی شامل تھا جو ان کے پاس خود نہیں آیا تھا بلکہ کوئی ضرورت اور مجبوری اسے لے آئی تھی اللہ فرماتا ہے کہ یہ ایسی جماعت ہے جن کے ساتھ بیٹھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689.
حدیث نمبر: 7425
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 7426
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا يَبْتَغُونَ مَجَالِسَ الذِّكْر " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689.
حدیث نمبر: 7427
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا ، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ ، مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا ، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ ، وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ ، وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَنْ عِنْدَهُ ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ دنیا و آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا جو شخص کسی تنگدست کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے اللہ دنیا و آخرت میں اس کے لئے آسانیاں پیدا کرے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے اور جو شخص طلب علم کے لئے کسی راستے پر چلتا ہے اللہ اس کی برکت سے اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے جب بھی لوگوں کی کوئی جماعت اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرے اور آپس میں اس کا ذکر کرے اس پر سکینہ کا نزول ہوتا ہے رحمت الہٰی ان پر چھا جاتی ہے اور فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ اپنے پاس موجود فرشتوں کے سامنے ان کا تذکرہ فرماتا ہے اور جس کے عمل نے اسے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جاسکے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2699.
حدیث نمبر: 7428
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا الْعَبْدُ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ " . قَالَ : فَحَدَّثْتُهُمَا كَعْبًا ، قَالَ كَعْبٌ : لَيْسَ عَلَيْهِ حِسَابٌ ، وَلَا عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کے حقوق کو ادا کرتا ہو تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث کعب احبار کو سنائی تو کعب نے اس پر اپنی طرف سے یہ اضافہ کیا کہ اس کا اور دنیا سے بےرغبت مومن کا کوئی حساب نہ ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666.
حدیث نمبر: 7429
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ ، مَا تَرَكَ غِنًى " . تَقُولُ امْرَأَتُكَ : أَطْعِمْنِي ، وَإِلَّا فطَلِّقْنِي ، وَيَقُولُ خَادِمُكَ : أَطْعِمْنِي ، وَإِلَّا فَبِعْنِي ، وَيَقُولُ وَلَدُكَ : إِلَى مَنْ تَكِلُنِي ؟ قَالُوا : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَذَا شَيْءٌ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ ، أَمْ هَذَا مِنْ كِيسِكَ ؟ قَالَ : بَلْ هَذَا مِنْ كِيسِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کرے) تمہاری بیوی کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤور نہ مجھے طلاق دے دو خادم کہتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کردو اولاد کہتی ہے کہ آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں ؟ لوگوں نے پوچھا اے ابوہریرہ ! یہ آخری جملے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے ہیں یا یہ آپ کی تھیلی میں سے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ! بلکہ یہ میری تھیلی میں سے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5355.
حدیث نمبر: 7430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَنْ صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ ، وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ، وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ ، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ ، لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ ، وَحُطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةٌ ، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، كَانَ فِي صَلَاةٍ ، مَا كَانَتْ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ ، وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِهِمْ ، مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ ، يَقُولُونَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آدمی جو نماز جماعت کے ساتھ پڑھتا ہے وہ گھر میں یا بازار میں پڑھی جانے والی انفرادی نماز سے بیس درجوں سے کچھ او پر فضیلت رکھتی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرتا ہے اور خوب اچھی طرح کرتا ہے پھر مسجد میں آتا ہے جہاں اس کا مقصد سوائے نماز کے کوئی اور نہیں ہوتا اور نماز ہی اسے اٹھا کر لاتی ہے تو وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے اس کے ہر قدم کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اسی طرح وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔ _x000D_ پھر جب وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعا کرتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما اے اللہ اس پر خصوصی توجہ فرما بشرطیکہ وہ کسی کو تکلیف نہ پہنچائے یا بےوضو نہ ہو جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 477، م: 649.
حدیث نمبر: 7431
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَقَالَ عَثْرَةً ، أَقَالَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی لغزش کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے معاف فرما دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7432
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا ، وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " . قَالَ أَبُو مُعَاوِيَة يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ : " رَأْسُ الْكُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل اور رقیق القلب ہیں ایمان اور حکمت اہل یمن میں بہت عمدہ ہے جبکہ ابومعاویہ نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ کفر کا مرکز مشرق کی جانب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52.
حدیث نمبر: 7433
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِقَوْمٍ سُودِ الرُّءُوسِ قَبْلَكُمْ ، كَانَتْ تَنْزِلُ النَّارُ مِنَ السَّمَاءِ ، فَتَأْكُلُهَا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ ، أَسْرَعَ النَّاسُ فِي الْغَنَائِمِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالا طَيِّبًا سورة الأنفال آية 68 - 69 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے کسی کالے سر والی قوم کے لئے مال غنیمت کو حلال قرار نہیں دیا گیا بلکہ آسمان سے ایک آگ اترتی تھی اور وہ اس سارے مال غنیمت کو کھا جاتی تھی جب غزوہ بدر کا موقع آیا تو لوگ مال غنیمت کے حصول میں جلدی دکھانے لگے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر اللہ نے پہلے سے فیصلہ نہ کر رکھا ہوتا تو تم نے جو مال غنیمت حاصل کیا اس کی وجہ سے تمہیں بہت بڑا عذاب چھوتا اب جو تم نے مال غنیمت حاصل کیا ہے اسے حلال و طیب سمجھ کر کھالو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747.
حدیث نمبر: 7434
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَطَاعَنِي ، فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ ، وَقَالَ وَكِيعٌ : الْإِمَامَ ، فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ عَصَى الْأَمِيرَ ، فَقَدْ عَصَانِي " ، وَقَالَ وَكِيعٌ : " الْإِمَامَ ، فَقَدْ عَصَانِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی در حقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2957، م: 1835.
حدیث نمبر: 7435
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي ، عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً ، ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ ، لَا يَتَغَوَّطُونَ ، وَلَا يَبُولُونَ ، وَلَا يَتَمَخَّطُونَ ، وَلَا يَبْزُقُونَ ، أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ ، وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ ، وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ ، أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، عَلَى طُولِ أَبِيهِمْ ، سِتِّينَ ذِرَاعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں میری امت کا جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا اس کے بعد درجہ بدرجہ لوگ ہوں گے یہ لوگ پیشاب پاخانہ نہیں کریں گے۔ نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کے پسینے سے مشک کی مہک آئے گی۔ ان کی انگیٹھیوں میں عود مہک رہا ہوگا۔ ان سب کے اخلاق ایک شخص کے اخلاق کی مانند ہوں گے وہ سب اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر اور ساٹھ ہاتھ لمبے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3254، م: 2834.
حدیث نمبر: 7436
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ ، فَتُقْطَعُ يَدُهُ ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ ، فَتُقْطَعُ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوری کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہو وہ ایک انڈہ چوری کرتا ہے (اور بعد میں عادی مجرم بننے کی وجہ سے) اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور ایک رسی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6783، م: 1687.
حدیث نمبر: 7437
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَاصَل رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَهَاهُمْ ، وَقَالَ : " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أَظَلُّ عِنْدَ رَبِّي ، فَيُطْعِمُنِي ، وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھے لوگوں کو پتہ چلا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے لوگوں کو منع کرتے ہوئے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103.
حدیث نمبر: 7438
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ ، حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278.