حدیث نمبر: 10227
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ : شَيْخٌ زَانٍ ، وَمَلِكٌ كَذَّابٌ ، وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوگا نہ ان پر نظر کرم فرمائے گا اور نہ ان کا تزکیہ فرمائے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا جھوٹا حکمران بڈھا زانی شیخی خورا فقیر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 107
حدیث نمبر: 10228
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَنْ بَيْعِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُلَامَسَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھو کر یا کنکری پھینک کر خریدوفروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2146، م: 1511
حدیث نمبر: 10229
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ الْأَزْدِيِّ ، عَنِ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2283
حدیث نمبر: 10230
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشْعَرُ كَلِمَةٍ قَالَتْهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شاعر نے جو سب سے زیادہ سچا شعر کہا ہے وہ لبید کا یہ شعر ہے کہ یاد رکھو اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل (فانی) ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3841، م: 2256، وهذا إسناد ضعيف ، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 10231
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَظْهَرُ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ ، وَيُرْفَعُ الْعِلْمُ " ، فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : " يُرْفَعُ الْعِلْمُ " ، قَالَ عُمَرُ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ يُنْزَعُ مِنْ صُدُورِ الْعُلَمَاءِ ، وَلَكِنْ يَذْهَبُ الْعُلَمَاءُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب فتنوں کا دور دورہ ہوگا ہرج (قتل) کی کثرت ہوگی اور علم اٹھالیا جائے گا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ علماء کے سینوں سے علم کو کھینچ نہیں لیا جائے گا بلکہ علماء کو اٹھا لیا جائے گا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
حدیث نمبر: 10232
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا إِذَا فَقُهُوا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور وہ فقہیہ ہوں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10233
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً ، قَالَ : " ارْكَبْهَا " ، قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : " ارْكَبْهَا وَيْحَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لئے جارہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1689، م: 1322
حدیث نمبر: 10234
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً ، لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ يَدْعُو فِيهَا خَيْرًا ، إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 10235
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے تجارت نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 10236
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الْغُبَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمْ الشَّاةَ أَوْ اللِّقْحَةَ ، فَلَا يُحَفِّلْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری یا اونٹنی کو بیچنا چاہے تو اس کے تھن نہ باندھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 10237
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رزق اتنا مقرر فرما کہ گذارہ ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6460، م: 1055
حدیث نمبر: 10238
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَمِسْعَرٌ , عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ هِشَامٌ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَوَقَفَهُ مِسْعَرٌ , قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ ، أَوْ تَكَلَّمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کو یہ چھوٹ دی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 2528، م: 127، وله هنا إسنادان، الأول: مرفوع والثاني: موقوف
حدیث نمبر: 10239
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ، إِنْ شَاءَ رَدَّهَا ، وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دیئے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے ( اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10239
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 10240
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُكُمْ إِسْلَامًا أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا إِذَا فَقُهُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10241
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى الْمِلَّةِ " ، وَقَالَ مَرَّةً : كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُشْرِكَانِهِ " قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَنْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین یہودی عیسائی یا مشرک بنا دیتے ہیں کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ جو بچے پہلے ہی مرجائیں ان کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا کرتے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10241
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1358 ، م: 2658
حدیث نمبر: 10242
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قََالَ : أَرَى أَبَا حَازِمٍ ذَكَرَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ ، إِنْ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِلَّا تَرَكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنانہ ہوتی تو سکوت فرمالیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5409، م: 2064
حدیث نمبر: 10243
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے صرف ایک دستی کی دعوت دی جائے تو میں قبول کرلوں گا اور اگر ایک پائے کی دعوت دی جائے تب بھی قبول کرلوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5178
حدیث نمبر: 10244
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا ، لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ ، وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا كَانَ تِرَةً عَلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ کریں اور جدا ہوجائیں وہ ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10245
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قََالَ : حَدَّثَنَا سفيان , المعني , وَأَبُو نُعَيْمٍ , قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " قُرَيْشٌ ، وَالْأَنْصَارُ ، وَأَشْجَعُ ، وَغِفَارٌ ، وَأَسْلَمُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَجُهَيْنَةُ مَوَالِي اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، لَا مَوْلَى لَهُمْ غَيْرَهُ " ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : مَوَالِيَّ ، لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش ٫ انصار٫ حہینہ٫ مزینہ٫ اسلم٫ غفار اور اشجع نامی قبائل میرے موالی ہیں اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ان کا کوئی مولیٰ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10245
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3504، م: 2520
حدیث نمبر: 10246
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ فَوْقَكُمْ ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (دنیا کے معاملے میں) اپنے سے نیچے والے کو دیکھا کرو اپنے سے اوپر والے کو مت دیکھا کرو اس طرح تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر سمجھنے سے بچ جاؤگے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10246
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6490، م: 2963
حدیث نمبر: 10247
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ قَرْيَتِهِ ، يَزُورُ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى ، فَأَرْصَدَ اللَّهُ لَهُ مَلَكًا ، فَجَلَسَ عَلَى طَرِيقِهِ ، فَقَالَ : لَهُ أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ أُرِيدُ أَخًا لِي ، أَزُورُهُ فِي اللَّهِ فِي هَذِهِ الْقَرْيَة ، قَالَ لَهُ : هَلْ لَهُ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : فَإِنِّي رَسُولُ رَبِّكَ إِلَيْكَ أَنَّهُ قَدْ أَحَبَّكَ بِمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے لئے جو دوسری بستی میں رہتا تھا روانہ ہوا اللہ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھا دیا جب وہ فرشتے کے پاس سے گذرا تو فرشتے نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ فلاں آدمی سے ملاقات کے لئے جارہاہوں فرشتے نے پوچھا کیا تم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے ؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا کہ کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جسے تم پال رہے ہو ؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا پھر تم اس کے پاس کیوں جا رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں اس سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا کہ میں اللہ کے پاس سے تیری طرف قاصد بن کر آیا ہوں کہ اس کے ساتھ محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2567
حدیث نمبر: 10248
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 10249
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
حدیث نمبر: 10250
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جانور سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10250
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 10251
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَجَسَّسُوا ، وَلَا تَنَافَسُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان اللہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10251
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6724، م: 2563
حدیث نمبر: 10252
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ ، وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، وَلَا يَمْنَعْ فَضْلَ مَاءٍ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلَأَ ، وَمِنْ حَقِّ الْإِبِلِ أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ يَوْمَ وِرْدِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص پتھر سے استنجاء کرے تو طاق عدد میں پتھر استعمال کرے جب کوئی کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ مار دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے اور زائد پانی استعمال کرنے سے کسی کو روکا نہ جائے کہ اس کے ذریعے زائد گھاس روکی جاسکے اور اونٹ کا حق ہے کہ جب اسے پانی کے گھاٹ پر لایا جائے تب اسے دوہا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10252
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 161، 2345، م: 237، 1566
حدیث نمبر: 10253
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي ، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْ مَلَئِهِ الَّذِينَ يَذْكُرُنِي فِيهِمْ ، وَإِنْ تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا ، وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا ، وَإِذَا جَاءَنِي يَمْشِي جِئْتُهُ أُهَرْوِلُ لَهُ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھے کسی مجلس میں بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر محفل میں اسے یاد کرتا ہوں اگر وہ ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10253
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7405، م: 2675
حدیث نمبر: 10254
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَزَالُ أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي أَمْوَالَهُمْ وَأَنْفُسَهُمْ ، إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس وقت تک قتال کرتا رہوں گا جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لیں جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا الاّ یہ کہ اس کلمہ کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب کتاب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10254
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 21
حدیث نمبر: 10255
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ سُؤَالِهِمْ ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، وَلَكِنْ مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10255
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 10256
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ,قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ " ، قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ ، وَلَكِنْ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ لیکن صراط مستقیم کے قریب رہو راہ راست پر رہو اور خوشخبری قبول کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10256
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 10257
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ مَا أُعْطِيكُمْ وَلَا أَمْنَعُكُمْ ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ ، أَضَعُهُ حَيْثُ أُمِرْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا ! میں تمہیں کچھ دیتا ہوں یا تم سے روکتا نہیں ہوں میں تو تقسیم کنندہ ہوں۔ جہاں حکم ہوتا ہے رکھ دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10257
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3117
حدیث نمبر: 10258
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى ، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سب سے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء (علیہم السلام) باپ شریک بھائی ہیں اور ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10258
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3442، م: 2365
حدیث نمبر: 10259
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً ، يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : وَظِلٍّ مَمْدُودٍ سورة الواقعة آية 30 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو لمبے اور طویل سائے میں ہوں گے۔ اس کے آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا چیزیں چھپائی گئی ہیں۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10259
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3252، م: 2826
حدیث نمبر: 10260
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَابُ قَوْسٍ ، أَوْ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ ، خَيْرٌ مِمَّا تَطْلُعُ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَتَغْرُبُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہوگی جن پر سورج طلوع و غروب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10260
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2793
حدیث نمبر: 10261
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِمَامًا عَادِلًا ، وَحَكَمًا مُقْسِطًا ، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ ، وَيُرْجِعُ السَّلْمَ ، وَيَتَّخِذُ السُّيُوفَ مَنَاجِلَ ، وَتَذْهَبُ حُمَةُ كُلِّ ذَاتِ حُمَةٍ ، وَتُنْزِلُ السَّمَاءُ رِزْقَهَا ، وَتُخْرِجُ الْأَرْضُ بَرَكَتَهَا ، حَتَّى يَلْعَبَ الصَّبِيُّ بِالثُّعْبَانِ فَلَا يَضُرُّهُ ، وَيُرَاعِي الْغَنَمَ الذِّئْبُ فَلَا يَضُرُّهَا ، وَيُرَاعِي الْأَسَدُ الْبَقَرَ فَلَا يَضُرُّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عادل امام اور منصف حکمران بن کر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ موقوف کردیں گے اور تلواریں درانتیاں بنالی جائیں گی ہر ڈنک والی چیز کا ڈنک ختم ہوجائے گا آسمان اپنارزق اتارے گا زمین اپنی برکت اگلے گی حتیٰ کے بچے سانپوں سے کھلیتے ہوں گے اور وہ سانپ انہیں نقصان نہ پہنچائیں گے بھیڑ یا بکری کی حفاظت کرے گا اور اسے نقصان نہ پہنچائے گا اور شیر گائے کی دیکھ بھال کرے گا اور اسے نقصان نہ پہنچائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10261
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 2476، م: 155
حدیث نمبر: 10262
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُصَيْنٍ الْأَسْلَمِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَبِيحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ تَغْدُو بِأَجْرٍ ، وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ ، مَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعِتَاقَةِ الْأَحْمَرِ ، وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعِتَاقَةِ الْأَسْوَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہترین صدقہ وہ دودھ دینے والی بکری ہے جو صبح و شام اجر کا سبب بنتی ہے دودھ دینے والی اونٹنی کا صدقہ کسی رنگت والے کو آزاد کرنے کی طرح ہے اور دودھ دینے والی بکری کا صدقہ کسی سیاہ فام کو آزاد کرنے کی طرح ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10262
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، محمد بن عبدالله مجهول، وعبيد الله مثله، وفليح يضعف فى التفرد، وهذا الحديث تفرد به الإمام أحمد
حدیث نمبر: 10263
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ وَلَّى وَلَهُ حُصَاصٌ ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ ، أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ لِيُنْسِيَهُ صَلَاتَهُ ، فَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَلِّمْ ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے تاکہ وہ بھول جائے اس لئے جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو سلام پھیر کر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10263
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فليح قد خالف فيه من هو أوثق منه، انظر، خ: 608، م: 389
حدیث نمبر: 10264
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10264
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2179
حدیث نمبر: 10265
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْعَلَاءِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ , وَمَكَّةُ مَحْفُوفَتَانِ بِالْمَلَائِكَةِ ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكٌ ، لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ فرشتوں کی حفاظت میں ہیں اور ان کے تمام سوراخوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے اس لئے یہاں دجال یا طاعون داخل نہیں ہوسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10265
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1880، م: 1379، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمر بن العلاء الثقفي وأبيه
حدیث نمبر: 10266
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُومُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِهِ ، وَلَكِنْ أَفْسِحُوا يَفْسَحْ اللَّهُ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے بلکہ کشادگی پیدا کرلیا کرو اللہ تمہارے لئے کشادگی فرمائے گا۔ اور جو جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی گرمی اور مشقت سے اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ ہی اسے دے دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10266
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن