حدیث نمبر: 10187
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَشُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَار ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلَا عَبْدِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982
حدیث نمبر: 10188
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , وَأَبِي رَزِين ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ , قََالَ : " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ ، فَلَا يَمْشِ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک پاؤں میں جوتی اور دوسرا خالی لے کر نہ چلے یا تو دونوں جوتیاں پہنے یا دونوں اتار دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2098
حدیث نمبر: 10189
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُمْنَى ، وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُسْرَى ، لِيَنْعَلْهُمَا جَمِيعًا ، أَوْ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے نیز یہ بھی فرمایا کہ دونوں جوتیاں پہنا کرو یا دونوں اتار دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097
حدیث نمبر: 10190
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الصَّمَّاءِ ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ يُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سودے میں دو سودے کرنے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے اور وہ یہ کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرہ سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 584، م: 1511
حدیث نمبر: 10191
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134
حدیث نمبر: 10192
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى , عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً , فَقَالَ : " ارْكَبْهَا " ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : " ارْكَبْهَا " ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ رَاكِبَهَا وَفِي عُنُقِهَا نَعْلٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص کے پاس سے گذرتے ہوئے اسے دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لئے جارہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔ پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس پر سوار ہوگیا جبکہ اونٹ کے گلے میں جوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1706، م: 1322
حدیث نمبر: 10193
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَمَا مَنَعَنِي مِنَ الدُّخُولِ عَلَيْكَ إِلَّا كَلْبٌ كَانَ فِي الْبَيْتِ ، وَتِمْثَالُ صُورَةٍ فِي سِتْرٍ كَانَ عَلَى الْبَابِ ، قَالَ : فَنَظَرُوا ، فَإِذَا جَرْوٌ لِلْحَسَنِ أَوْ الْحُسَيْنِ كَانَ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمْ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِالْكَلْبِ فَأُخْرِجَ ، وَأَنْ يُقْطَعَ رَأْسُ الصُّورَةِ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الشَّجَرَةِ ، وَيُجْعَلَ السِّتْرُ مُنْتَبَذَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں رات کو آپ کے پاس آیا تھا اور تو کسی چیز نے مجھے آپ کے گھر میں داخل ہونے سے نہ رو کا البتہ گھر میں ایک آدمی کی تصویر تھی۔ دراصل گھر میں ایک پردہ تھا جس پر انسانی تصویر بنی ہوئی تھی تلاش کرنے پر پتہ چلا کہ ایک کتے کا پلہ تھا جو حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کی چارپائی کے نیچے گھسا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے نکال دیا گیا اور تصویر کا سر کاٹ دیا گیا تاکہ وہ درخت کی طرح ہوجائے اور پردے کے تکیے بنالیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10194
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّوَاءِ الْخَبِيث " ، يَعْنِي السُّمَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ادویات یعنی زہر کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10195
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ ، فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص زہر پی کر خودکشی کرلے اس کا وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر پھانگتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیش رہے جو شخص اپنے آپ کو کسی تیزدھار آلے سے قتل کرلے (خودکشی کرلے) اس کا وہ تیزدھا رآلہ اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر اپنے پیٹ میں گھونپتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور جو شخص اپنے آپ کو پہاڑ سے نیچے گرا کر خودکشی کرلے وہ جہنم میں بھی پہاڑ سے نیچے گرتا رہے گا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1365، م: 109
حدیث نمبر: 10196
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ : دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک وشبہ نہیں مظلوم کی دعاء مسافر کی دعا اور باپ کی اپنے بیٹے کے متعلق دعاء۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وإسناده ضعيف لجهالة أبي جعفر
حدیث نمبر: 10197
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ ، مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6155، م: 2257
حدیث نمبر: 10198
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، غَيْرُ تَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نماز میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 395
حدیث نمبر: 10199
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلَّى الضُّحَى إِلَّا مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سوائے ایک مرتبہ کے کبھی چاشت کی نماز پڑھنے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 10200
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ الزَّعَافِرِيُّ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الشَّفَاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " مقام محمود " کی تفسیر میں فرمایا اس سے مراد شفاعت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود
حدیث نمبر: 10201
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ " ، قَالَ رَجُلٌ : إِنَّهَا لَكَافِيَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا حَرًّا فَحَرًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری یہ آگ " جسے بنی آدم جلاتے ہیں " جہنم کی آگ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخدا ! یہ ایک جزء بھی کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کی آگ اس سے ٢٩ درجے زیادہ تیز ہے اور ان میں سے ہر درجہ اس کی حرارت کی مانند ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3265، م: 2843
حدیث نمبر: 10202
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جِدَالٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10202
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10203
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ حِينِ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِي فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً ، وَرِجْلٌ تَمْحُو سَيِّئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے گھر سے میری مسجد کے لئے نکلے تو اس کے ایک قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرا قدم اس کے گناہ مٹاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 477، م: 666
حدیث نمبر: 10204
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، قََالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَوْقَ الْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ مِمَّ تَتَوَضَّأُ ؟ قََالَ : مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کے اوپر دیکھا تو وہ وضو کررہے تھے میں نے پوچھا کہ کس چیز سے وضو کررہے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے تھے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آگ پر پکی ہوئے چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10204
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 352
حدیث نمبر: 10205
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَوَّلَ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ : الشَّهِيدُ ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ ، وَفَقِيرٌ عَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَوَّلَ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ : سُلْطَانٌ مُتَسَلِّطٌ ، وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ ، وَفَقِيرٌ فَخُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے تین گروہوں میں " شہید " وہ عبد مملوک جو اپنے رب کی عبادت بھی خوب کرے اور اپنے آقا کا بھی حق ادا کرے وہ عفیف آدمی جو زیادہ عیال دار ہونے کے باوجود اپنی عزت نفس کی حفاظت کرے " شامل تھے اور جو تین گروہ سب سے پہلے جہنم میں داخل ہوں گے ان میں حکمران جو زبردستی قوم پر مسلط ہوجائے شامل ہے نیز وہ مالدار آدمی جو مال کا حق ادانہ کرے اور وہ فقیر جو فخر کرتا پھرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عامر العقيلي، وأبيه
حدیث نمبر: 10206
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَخْلَدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی عورت کی پچھلی شرمگاہ میں مباشرت کرے وہ ملعون ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10206
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد فيه الحارث روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان فى الثقات
حدیث نمبر: 10207
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , قََالَ : قََالَ مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ : عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10207
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5788، م: 2087
حدیث نمبر: 10208
قََالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَبَطَتْ امْرَأَةٌ هِرًّا أَوْ هِرَّةً ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَتْرُكْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ، فَأُدْخِلَتْ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10208
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
حدیث نمبر: 10209
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ زَمْعَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ الْمَكِّيَّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِأَصْحَابِهِ عَلَى النَّجَاشِيِّ ، فَكَبَّرَ أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1245، م: 951، وهذا إسناد ضعيف، لضعف زمعة
حدیث نمبر: 10210
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنْ صُلْبِهِ ، لَمْ يَدْخُلْ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے نابالغ فوت ہوگئے ہوں ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اس کے باوجود جہنم میں داخل ہوجائے الاّ یہ کہ قسم پوری کرنے کے لئے جہنم میں جانا پڑے (ہمشہ جہنم میں نہیں رہے گا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1251، م: 2632، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 10211
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " خَيْرُكُمْ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کا سب سے بہترین زمانہ وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ سب سے بہتر ہے (اب یہ بات اللہ زیادہ جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ بعد والوں کا ذکر فرمایا یا تین مرتبہ) اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو موٹاپے کو پسند کرے گی اور گواہی کے مطالبے سے قبل ہی گواہی دینے کے لئے تیار ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2534
حدیث نمبر: 10212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ أَوْ إِلَى ذِرَاعٍ لَأَجَبْتُ ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ . قَالَ : " وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ طَعَامًا قَطُّ ، إِنْ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ ، وَإِلَّا تَرَكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے صرف ایک دستی کی دعوت دی جائے تو میں اسے قبول کرلوں گا اور اگر ایک پائے کی دعوت دی جائے تب بھی قبول کرلوں گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی کھانے میں عیب نکالتے ہوئے نہیں دیکھا اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنا نہ ہوتی تو سکوت فرمالیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10212
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2568، م: 2064
حدیث نمبر: 10213
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ ، وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجاناعورتوں کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10213
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
حدیث نمبر: 10214
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , الْمَعْنَى , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ ، فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، فَسَمِعَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا ، فَعَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ فِيهِ هَذَا ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا ، فَهُوَ يُهْلِكُهُ فِي الْحَقِّ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا ، فَعَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ فِيهِ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف دو آدمیوں پر ہی حسد کیا جاسکتا تھا ایک تو وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن کی دولت عطاء فرما رکھی ہو اور وہ دن رات اس کی تلاوت میں مصروف رہتا ہو دوسرے آدمی کو پتہ چلے تو وہ کہے کہ کاش ! مجھے بھی اس شخص کی طرح دولت نصیب ہوجائے اور میں بھی اسی کی طرح عمل کرنے لگوں اور دوسرا وہ آدمی جسم اللہ نے مال و دولت عطاء فرما رکھا ہو اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا رہتا ہو دوسرے آدمی کو پتہ چلے تو وہ کہے کہ کاش ! مجھے بھی اس شخص کی طرح دولت نصیب ہوجائے اور میں بھی اسی کی طرح عمل کرنے لگوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10214
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5026
حدیث نمبر: 10215
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قََالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي سَعِيدٍ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ " ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10215
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، أنظر ما قبله
حدیث نمبر: 10216
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10216
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6810، م: 57
حدیث نمبر: 10217
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَوْ جُعِلَ لِأَحَدِهِمْ أَوْ لِأَحَدِكُمْ مِرْمَاتَانِ حَسَنَتَانِ ، أَوْ عَرْقٌ مِنْ شَاةٍ سَمِينَةٍ ، لَأَتَوْهَا أَجْمَعُونَ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا يَعْنِي الْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، ثُمَّ آتِيَ أَقْوَامًا يَتَخَلَّفُونَ عَنْهَا أَوْ عَنِ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو یقین ہو اسے خوب موٹی تازی ہڈی یا دو عمدہ کھر ملیں گے تو وہ ضرور نماز میں میرے ساتھ (دوسری روایت کے مطابق نماز عشاء میں بھی) شرکت کرے میرا دل چاہتا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کردے پھر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز باجماعت شرکت نہیں کرتے اور ان کے گھروں میں آگ لگا دوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10217
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 657، م: 651
حدیث نمبر: 10218
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا ابْنُ آدَمَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، إِلَى سَبْعِ مِائَةِ حَسَنَةٍ " . يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " إِلَّا الصَّوْمَ هُوَ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ الطَّعَامَ مِنْ أَجْلِي ، وَالشَّرَابَ مِنْ أَجْلِي ، وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي ، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " . " وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ . " وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ حِينَ يَخْلُفُ مِنَ الطَّعَامِ ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کی ہر نیکی کو اس کے لئے دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزے کے (جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار میری وجہ سے اپنی خواہشات اور کھانے کو ترک کرتا ہے روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10219
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَقَاطَعُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمْ اللَّهُ "
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ کیا کرو دھوکہ اور حسد نہ کیا کرو اور بندگان اللہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو جیسا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10219
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2563
حدیث نمبر: 10220
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ . وَأَبُو أَحْمَدَ , قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا "
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10220
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 6155، م: 2257
حدیث نمبر: 10221
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ ، فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ " . " وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " ، قَالَ شُعْبَةُ : قَالَ سُلَيْمَانُ , وَحَدَّثَنِي أَبُو رَزِينٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ عَلَيْهِ بُرْدَانِ ، فَقُلْتُ : لِشُعْبَةَ مِثْلَ حَدِيثِهِ ؟ فَقَالَ شُعْبَةُ : لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ مِثْلَهُ فِي الْكَلْبِ يَلَغُ فِي الْإِنَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک پاؤں میں جوتی اور دوسراپاؤں خالی لے کر نہ چلے (جوتیاں پہنے یا دونوں اتار دے) ۔ اور جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10221
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 10222
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً ، وَأَلْيَنُ قُلُوبًا ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ ، وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ، وَالْخُيَلَاءُ وَالْكِبْرُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَصْحَابِ الشَّاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے غروروتکبر اونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے اور سکون و وقار بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10222
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 10223
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى ، أَنْ تَتَصَدَّقَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کردے) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقہ کرنے میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5355
حدیث نمبر: 10224
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " عَبْدِي عِنْدَ ظَنِّهِ بِي ، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي ، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ وَأَطْيَبَ ، وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا ، وَإِنْ تَقَرَّبَ ذِرَاعًا ، تَقَرَّبْتُ بَاعًا ، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي ، أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھے کسی مجلس میں بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر محفل میں اسے یاد کرتا ہوں اگر وہ ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7405، م: 2675
حدیث نمبر: 10225
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ ، فَأَبَتْ فَبَاتَ وَهُوَ عَلَيْهَا سَاخِطٌ ، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کس ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں تاآنکہ صبح ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3237، م: 1436
حدیث نمبر: 10226
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ : رَجُلٌ مَنَعَ بْنَ السَّبِيلِ فَضْلَ مَاءٍ عِنْدَهُ ، وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ يَعْنِي كَاذِبًا ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يُوفِ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوگا نہ ان پر نظر کرم فرمائے گا اور نہ ان کا تزکیہ فرمائے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ایک تو وہ آدمی جس کے پاس صحرائی علاقے میں زائد پانی موجود ہو اور وہ کسی مسافر کو دینے سے انکار کردے دوسرا وہ آدمی جو کسی حکمران سے بیعت کرے اور اس کا مقصد صرف دنیا ہو اگر مل جائے تو وہ اس حکمران کا وفادار رہے اور نہ ملے تو اپنی بیعت کا وعدہ پورا نہ کرے اور تیسرا وہ آدمی جو نماز عصر کے بعد جھوٹی قسم کھا کر کوئی سامان تجارت فروخت کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2379، م: 108