حدیث نمبر: 10147
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2355، م: 1710، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو، وهو متابع
حدیث نمبر: 10148
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قََالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ ، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ : أَنْ يَشْتَمِلَ أَحَدُكُمْ الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , أَوَيَحْتَبِيَ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سودے پر دوسرے سودے کرنے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرا سا بھی کپڑا نہ اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2145، م: 1511
حدیث نمبر: 10149
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 734، م: 414
حدیث نمبر: 10150
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قََالَ : حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قََالَ : أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ نُسَلِّمُ عَلَيْهِ ، قََالَ : قُلْنَا : حَدِّثْنَا ، فَقَالَ : صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثَلَاثَ سِنِينَ مَا كُنْتُ سَنَوَاتٍ قَطُّ أَعْقَلَ مِنِّي فِيهِنَّ ، وَلَا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَعِيَ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِنَّ ، وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَقُولُ بِيَدِهِ : " قَرِيبٌ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعْرُ ، وَتُقَاتِلُونَ قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ حُمْرَ الْوُجُوهِ ، كَأَنَّهَا الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سلام کے لئے حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ کی کوئی حدیث سنائیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں تین سال رہا جماعت صحابہ میں ان تین سالوں کے درمیان کوئی حفظ حدیث کا مجھ سے زیادہ شیدائی کوئی نہیں رہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے قریب تم لوگ ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور تم ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے سرخ ہوں گے یوں محسوس ہوتا ہوگا کہ ان کے چہرے چپٹی کمانیں ہیں۔ واللہ تم میں سے کوئی آدمی رسی لے اور اس میں لکڑیاں باندھ کر اپنی پیٹھ پر لادے اور اس کی کمائی خود بھی کھائے اور صدقہ بھی کرے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس جا کر سوال کرے اس کی مرضی ہے کہ اسے دے یا نہ دے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقہ میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں۔ اور روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3591، م: 2912
حدیث نمبر: 10151
وَاللَّهِ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَيَبِيعَهُ ، وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ ، وَيَتَصَدَّقَ مِنْهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا فَيَسْأَلَهُ ، يُؤْتِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1470، م: 1042
حدیث نمبر: 10152
وَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10153
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . وَابْنُ جَعْفَرٍ , قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6750 ، م: 1458
حدیث نمبر: 10154
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ . وَإِسْمَاعِيلُ , قََالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْهِفَّانِيِّ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْعَقْرَبِ ، وَالْحَيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی " دو کالی چیزوں یعنی سانپ اور بچھو کو " مارا جاسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10155
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ ، تَزِيدُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 648، م: 649
حدیث نمبر: 10156
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِيهِ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی جان اس وقت تک لٹکی رہتی ہے جب تک کہ اس پر قرض موجود ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10157
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيهِ : عَنْ أَبِيهِ , مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عمر لم يسمع من ابي هريرة، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 10158
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تک قتال کرتا رہوں گا جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لیں جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا الاّ یہ کہ اس کلمہ کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب کتاب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 21
حدیث نمبر: 10159
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ " , فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 10160
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنِ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کی تین ٹانگوں کا رنگ سفید ہو اور چوتھی کا رنگ باقی جسم کے رنگ کے مطابق ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1875
حدیث نمبر: 10161
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَصْحَبُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ وَلَا كَلْبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م 2113، وهذا إسناد ضعيف، شريك، وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 10162
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , وَحَجَّاجٌ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا بْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ ، وَسَتَصِيرُ حَسْرَةً وَنَدَامَة قَالَ حَجَّاجٌ : يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، نِعْمَتِ الْمُرْضِعَةُ ، وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب تم لوگ حکمرانی کی خواہش اور حرص کروگے لیکن یہ حکمرانی قیامت کے دن باعث حسرت و ندامت ہوگی پس وہ بہترین دودھ پلانے اور بدترین دودھ چھڑانے والی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7148
حدیث نمبر: 10163
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَج ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ ، فَإِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انگور کے باغ کو کرم نہ کہا کیونکہ اصل کرم تو مرد مومن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6183، م: 2247
حدیث نمبر: 10164
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَدَرِ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ ، إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ سورة القمر آية 48 - 49 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مشرکین قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسئلہ تقدیر میں جھگڑتے ہوئے آئے اس مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی جس دن آگ میں ان کے چہروں کو جھلسایا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا کہ عذاب جہنم کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو ایک مقررہ اندازے سے پیدا کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 2656
حدیث نمبر: 10165
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي اللَّيْثِيَّ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ سَمِعَهُ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، فَقَالَ : " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ " ، فَلَمَّا مَضَى , قَالَ : " اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا وہ سفر پر جانا چاہ رہا تھا کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور ہر بلندی پر تکبیر کہنے کی وصیت کرتا ہوں جب اس شخص نے واپسی کے لئے پشت پھیری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور سفر کو آسان فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10166
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا كِسْرَى بَعْدَ كِسْرَى ، وَلَا قَيْصَرَ بَعْدَ قَيْصَرَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کروگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3618، م: 2918، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد المخزومي
حدیث نمبر: 10167
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَكِيمٍ الْأَثْرَمِ ، عَنِ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَتَى حَائِضًا ، أَوْ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا ، أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی حائضہ عورت سے یا کسی عورت کی پچھلی شرمگاہ میں مباشرت کرے یا کسی کاہن کی تصدیق کرے تو گویا اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی شریعت سے برأت ظاہر کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 10168
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ يَوْمًا وَاحِدًا وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ ، إِلَّا بِإِذْنِهِ ، إِلَّا رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت " جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو " ماہ رمضان کے علاوہ کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5195، م: 1026
حدیث نمبر: 10169
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُلَامَسَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھو کر یا کنکری پھینک کر خریدوفروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2146، م: 1511
حدیث نمبر: 10170
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خِيَارُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہترین ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601
حدیث نمبر: 10171
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي تَلْبِيَتِهِ : " لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا کہ لبیک الہ الحق۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا سے بےرغبت مومن کا کوئی حساب نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10172
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کرے) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقہ کرنے میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5355
حدیث نمبر: 10173
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَلَاكَهَا فِي فِيهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كِخْ كِخْ , إِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے صدقہ کی کھجور لے کر منہ میں ڈال لی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے نکالو کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069
حدیث نمبر: 10174
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دِينَارًا أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدِينَارًا أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ ، وَدِينَارًا تَصَدَّقْتَ بِهِ ، وَدِينَارًا أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِك ، أَفْضَلُهَا الدِّينَارُ الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دینار جو تم اللہ کے راستہ میں خرچ کرو اور وہ دینار جو مساکین میں تقسیم کرو اور وہ دینار جس سے کسی غلام کو آزاد کراؤ اور وہ دینار جو اپنے اہل خانہ پر خرچ کرو ان میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار پر ہوگا جو تم اپنے اہل خانہ پر خرچ کروگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 995
حدیث نمبر: 10175
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ ، الْحَسَنَةُ عَشَرَةُ أَمْثَالِهَا ، إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ " . يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " إِلَّا الصَّوْمَ ، فَإِنَّهُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي " . " وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، الصَّوْمُ جُنَّة ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کی ہر نیکی کو اس کے لئے دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھادیا جاتا ہے سوائے روزے کے (جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ (دو مرتبہ فرمایا) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10176
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، قََالَ : قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10177
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا ، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا ، أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس پر عمل کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو ؟ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 54
حدیث نمبر: 10178
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَلِيحٍ الْمَدَنِيُّ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَة ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي صَالِحٍ , وَقَالَ مَرَّةً : قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَدْعُ اللَّهَ ، غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے ناراض ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل أبي صالح
حدیث نمبر: 10179
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ أَبِي سَعْدٍ الْحِمْصِيِّ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : دُعَاءٌ حَفِظْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَدَعُهُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ ، وَأَتَّبِعُ نَصِيحَتَكَ ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَك ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دعائیں سنی ہیں میں جب تک زندہ ہوں انہیں ترک نہیں کروں گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ مجھے اپنا شکر ادا کرنے والا کثرت سے اپنا ذکر کرنے والا اپنی نصیحت کی پیروی کرنے والا اور اپنی وصیت کی حفاظت کرنے والا بنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف الفرج
حدیث نمبر: 10180
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ , يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قعدہ اخیرہ سے فارغ ہوجائے تو اسے چاہئے کہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے عذاب قبر سے عذاب جہنم سے زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
حدیث نمبر: 10181
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
حدیث نمبر: 10182
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَم ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میں جانتاہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ بکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6637
حدیث نمبر: 10183
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعْدَانُ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ سَعْدٍ أَبِي مُجَاهِدٍ الطَّائِيِّ ، عَنِ أَبِي مُدِلَّةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّائِمُ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کی دعاء رد نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا الإسناد ضعيف لجهالة أبي مدلة
حدیث نمبر: 10184
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقَدَّمُوا شَهْرَ رَمَضَانَ بِصِيَامِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ، إِلَّا رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082
حدیث نمبر: 10185
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَحَّرُوا ، فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کے کھانے میں برکت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبي ليلى
حدیث نمبر: 10186
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا خَادِمِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1464، م: 982 ، وهذا إسناد فيه انقطاع، أن مكحولا لم يسمع من عراك هذا الحديث بعينه